Circle Image

شہریار حیدر

@SheharyarHaider

شاعر، فوٹوگرافر، ڈیجیٹل پینٹ آرٹسٹ، انجینئر

یہ کب کہا ہے آئیں تو مہمان داری ہو
بس اتنی آرزو ہے زیارت تمہاری ہو
ممکن ہے اک ستارے ہوں چرخِ سخن کے ہم
اگلے برس یہاں پہ جب انجم شماری ہو
اس واسطے نہ کی گئی تجھ سے وفا پہ بات
ہم چاہتے نہیں تھے تجھے شرمساری ہو

3
اس کے سرخ ہونٹوں کا
ادھ کھلے گلابوں سے
رابطہ سا لگتا ہے
اس کی شوخ زلفوں کا
ابر سے گھٹاؤں سے
واسطہ سا لگتا ہے

0
9
عالم ہے اُن کے چہرے پہ یوں اضطراب کا
جیسے ہمارے ہاتھ میں ہو دل جناب کا
پھیلا دیا چمن میں تعصب ببول نے
ورنہ میں تم کو بھیجتا تحفہ گلاب کا
ممکن ہے، یہ زمین اگر ہم سفر نہ ہو
چہرہ اتر نہ جائے کہیں آفتاب کا

7
سب کو بے قراری ہے اور ہے ترے گھر کی
ہم نے بات سن لی ہے موسموں کی امبر کی
اس طرح طوالت کی ہم مثال دیتے ہیں
جیسے تیرا آنا ہو اور شب دسمبر کی
اس کو مل رہے ہیں سو اتنا شور تو ہو گا
جان تو نکلنی ہے ایک ایک نمبر کی

19
ہزاروں پھول کھلے دل میں یہ امنگ لے کر
کسی حسین کی زلفوں میں سج کے چمکیں گے
کسی کے قدموں میں بکھریں گے چین پائیں گے
کسی کے ہاتھ میں مہکیں گے اک جنم دن پر
کسی کے حجرے میں اچھے سے جگمگائیں گے
.

13
پیدا خیالِ یار کا ساماں کئے رکھا
دل نے ہمارے درد کا درماں کئے رکھا
چہرے پہ ذرہ بھر بھی تھکاوٹ نہ آنے دی
ہم نے تمہارے عشق کو آساں کئے رکھا
بوسے کے اردگرد لکیروں کو کھینچ کر
ماتھے پہ اک خراج کو چسپاں کئے رکھا

18
آنگن سے اور در سے تعارف نہ ہو سکا
اپنا ہی اپنے گھر سے تعارف نہ ہو سکا
اس کا مری ہنسی سے تعارف ہوا مگر
اشکوں سے چشمِ تر سے تعارف نہ ہو سکا
تیری بلائیں لیتا ہے لاہور اور یہاں
ہم ہیں کہ اس نگر سے تعارف نہ ہو سکا

0
9
پوشاک ہو کوئی یا کوئی اوڑھنی رہے
کچھ تو ہمارے گھر میں تری روشنی رہے
منسوب ہو رہی ہے کسی منفرد سے وہ
اور یہ بھی چاہتی ہے مجھے چاہتی رہے
ایسے نہیں ہیں تاک میں عشوہ زنوں کے دل
جیسے ہماری تاک میں یہ بے دلی رہے

8
چاندنی شب میں مسکراتا ہے
چاند کا ذہن کیوں بناتا ہے
یہ تمہارا خلوص ہے ورنہ
اس خرابے میں کون آتا ہے
ایک پیاسا ہے اُس پہ مرتا ہے
ایک دریا ہے سوکھ جاتا ہے

0
10
رستہ ترے فراق کا دیکھا تو ڈر گئے
مہکا ترا وصال تو حیرت سے مر گئے
سن کر تمہاری آنکھ کے غمزوں کی داستاں
غزلیں جوان ہو گئیں مضموں نکھر گئے
افسوس اپنے آپ پہ برسوں کے بعد ہم
یکجا کئے گئے تھے مگر پھر بکھر گئے

0
20
برسات کے نہ راگ کے آغاز سے ہوا
دل کو سکون آپ کی آواز سے ہوا
خود کو فدا کریں" یہ کہا نازنین نے"
حیرت ہے یار میں بھی بڑے ناز سے ہوا
اتنا نہیں دیا ہمیں نقصان غیر نے
جتنا ہمیں ہمارے ہی ہمراز سے ہوا

0
12
گزری ہے ایک عمر مری دل فگاری میں
تیکھے کماندار ہیں اس راہداری میں
مشکل ہے ایک آدھ ستارے کا فرق ہو
اتنے غلط نہیں ہیں ہم انجم شماری میں
ٹھہرائے پھر رہو ہو میاں گھر میں ایک دشت
اور چاہتے ہو پھول ہوں کھڑکی تمہاری میں

0
22
رہتی تھی یاد وصل کی، تجھ خوش خصال کے
آیا ہوں تیرے ہجر کو آنکھیں نکال کے
یہ دل ہے چونچلے تو کرے گا سویر شام
اب دیکھنا پڑیں گے ہمیں نونہال کے
وہ سوچتا وہی ہے جسے سوچتا ہوں میں
پر زاویے الگ ہیں مرے ہم خیال کے

13
آپ مانگیں تو دل فراہم ہو
یہ ضروری نہیں کہ موسم ہو
کیسے رغبت ہو ان کو پھولوں سے
جن کا ہونٹوں سے خیر مقدم ہو
یہ جو پتھر سا دل ملا ہے مجھے
تیری قربت ملے، تو نیلم ہو

18
عشق کرنے سے بھلا کیا مسئلہ ہو جائے گا
لوگ یوں ڈرتے ہیں جیسے حادثہ ہو جائے گا
صبح دم اٹھ کر مرے ماتھے پہ بوسہ دے اگر
تیرے یہ کرنے سے میرا ناشتہ ہو جائے گا
ایسی زیبائی ملی ہے اِس وطن کو دوستو
جس کو پورا دیکھ کر دل آئنہ ہو جائے گا

0
17
بات گر سرسری ہوئی ہوتی
شام تک واپسی ہوئی ہوتی
شرٹ پہنی تو یہ ملال آیا
آپ سے استری ہوئی ہوتی
اُس کو چھیڑا نہیں ہے تتلی نے
پھول کو گدگدی ہوئی ہوتی

0
10
اک ذرا سی بات پر یہ تلملاتی لڑکیاں
اہلِ طب کہتے ہیں اِن کو نفسیاتی لڑکیاں
کیا بنے اُس کیمرے کا جس میں دونوں قید ہوں
پھول کھلنے کے مناظر، مسکراتی لڑکیاں
سب عناصر ہی غضب ہیں رنگ کی ترسیل کے
مور، اڑتی تتلیاں اور انگڑاتی لڑکیاں

31
تیری حرمت پہ واروں سخن، اے وطن!
تو مری آرزو کا بدن، اے وطن!
تیری گلیوں کو "دِل" سے مزین کروں
اِن کے شایاں نہیں نسترن، اے وطن!
آج کہسار و گلزار و دریا ترے
ہیں بہاروں پہ سایہ فگن ،اے وطن!

124
یوں ڈر کے بگولوں سے تو ہجرت نہیں ہوتی
یہ دل ہے اسے دشت سے وحشت نہیں ہوتی
مل جائے اداسی تو یہ پوچھوں گا بٹھا کر
وہ کیوں مرے کاشانے سے رخصت نہیں ہوتی
خود آنکھ کو لے جانا پڑے گا ہمیں اک دن
اُن سے تو یہاں آنے کی زحمت نہیں ہوتی

2
102
دن تھک گیا تو شام میں تبدیل ہو گیا
منظر اٹھا اور آنکھ میں تحلیل ہو گیا
مرہم بنے یہ شوق تھا بیمار کا سو پھر
اک ہاتھ کھل کے شوق کی تکمیل ہو گیا
مسکن بنا رکھا ہے تو نے یار اس لئے
یہ دل ترے قیام سے قندیل ہو گیا

20
جب تلک تم آؤ گے لوٹ کر مکینوں میں
غزلیں بن چکی ہوں گے منفرد زمینوں میں
ہم کو بھیج دیتا ہے بے بسی کے پردے پر
اور بیٹھ جاتا ہے عشق فلم بینوں میں
کس قدر بہائے ہیں اشک یہ بتائیں گی
جان پڑنا باقی ہے اپنی آستینوں میں

21
کون ملتا ہے یہاں پر ساکنینِ ہجر سے
آہ! کب ہجرت کریں گے ہم زمینِ ہجر سے
عشق جوگی آ رہا ہے آج اپنے گاؤں میں
یاد کا اژدھا نکالے گا وہ بینِ ہجر سے
چار غزلیں بن گئی ہیں اُس قتالہ کے لئے
دیکھئے اب کیا بنائیں ہم مشینِ ہجر سے

15
مرے بے ربط جملوں کو توازن تک رسائی دے
ترا ہنسنا تخیل کو غزل سے آشنائی دے
گلے میں ہار سمجھوں کا تمہاری شوخ بانہوں کا
اگر دینا ہے تحفے میں مجھے کچھ بھی تو ٹائی دے
مرے دلکش کی خوبی ہے، عنایت کرتا رہتا ہے
کبھی بوسوں کے گل دستے ، کبھی دستِ حنائی دے

0
19
تیری صورت کو فراموش نہیں کر سکتا
کوئی چہرہ مجھے مدہوش نہیں کر سکتا
ایک شاعر ہوں مداری تو نہیں ہوں صاحب
تیرے رومال کو خرگوش نہیں کر سکتا
اتنی عجلت میں نہ پوچھو مجھے چائے پانی
اتنی عجلت میں تو کچھ نوش نہیں کر سکتا

0
17
اگر تیکھا نہیں کہتے تو سادہ باندھ سکتے ہیں
مگر ہم ان سے ملنے کا ارادہ باندھ سکتے ہیں
ہمارے ہاتھ آیا ہے فریبِ دوستی سو ہم
تمہیں اب اپنے پہلو سے زیادہ باندھ سکتے ہیں
بساطِ جان پر بیٹھے ہوئے اک بادشہ چہرے
تری چالوں سے ہم دل کا پیادہ باندھ سکتے ہیں

73
یوں فراہم نہ کر شہرِ جاں ،بے دلی
کس نے سوچا تھا ہوگی یہاں بے دلی
کوئی نسخہ وظیفہ ہے ان کیلئے
جن کی جاتی نہ ہوں ہچکیاں بے دلی
اس مصیبت کا اب اور کس سے کہیں
یار ہوتا نہیں مہرباں بے دلی

19
پہاڑ بات سناتے ہیں اک ندی کی ہمیں
جھلک دکھانے پڑی گی تری ہنسی کی ہمیں
بتاتے جاؤ ہمیں حل بھی اس مصیبت کا
وجہ بتانے جو آئے ہو بے کلی کی ہمیں
یہ اور بات سہولت نہیں ہے کھانے کو
ہوا تو چاہئے ہوتی ہے اُس گلی کی ہمیں

16
ممکن بنا رہا ہوں، مگر بن نہیں رہا
یعنی اسے بھلانے کا اب من نہیں رہا
کوئی ہمارے دشت کو گلشن کہے تو کیوں
یہ تو کسی بھی دور میں گلشن نہیں رہا
ہم پیچھے رہ گئے ہیں ، مگر وہ بھی اس لئے
اپنے یہاں کتب میں نیوٹن نہیں رہا

27
فنونِ بخیہ گری بھی، رفو بھی سامنے ہے
سو دوست سامنے ہے اور عدو بھی سامنے ہے
نہیں ہے ساقی، تو بادہ کشی کی کیا زحمت
وگرنہ ہاتھ میسر، سُبو بھی سامنے ہے

30
یار! ایسے پھول کا کیا بنے وکیل سے
جس کو رد کیا گیا، "ہونٹ" کی دلیل سے
شعبدے کی بات تھی اور میرے دوست لوگ
چاند لے کے آ گئے وہ بھی ایک جھیل سے
"عشق لا علاج ہے" ،آپ کے لباس میں
کون بات کر گیا آج یہ علیل سے؟

20
یہ کس نے آج صحرا کو پانی پلایا ہے
ٹیلے پہ تپتی ریت نے اک دل بنایا ہے
پھولوں کو یاد آ گئی تتلی کی چھیڑ چھاڑ
بادِ صبا نے باغ میں نغمہ سنایا ہے
ایسے میں تجھ کو یاد یہاں کیا کرے کوئی
دھرتی پہ روزگار نے اودھم مچایا ہے

231
رات کالی ہے، آگے مت جانا
دشت خالی ہے، آگے مت جانا
جس کو تم مانگتے ہو ،برسوں سے
خود سوالی ہے، آگے مت جانا
ہجر صدمے میں ہے ابھی اس کو
یاد گالی ہے، آگے مت جانا

48
ویسے بھی تو بیٹھنا بےکار ہوتا ہے میاں
ہونے دینا چاہئے گر پیار ہوتا ہے میاں
پھول بھی ترتیب میں رکھے ہوئے اچھے لگیں
کچھ نمائش کا بھی تو معیار ہوتا ہے میاں
یار آئے تو خبر ہوتی نہیں لاہور کو
اپنے گاؤں میں تو یہ تہوار ہوتا ہے میاں

76
تیرے در پر جو بیٹھے تھے سو دنیا پر چھائے تھے
ورنہ ہم بھی لوگوں جیسے لوگوں سے ہی آئے تھے
جب تک تم نے اُن کو دیکھا پھولوں نے زیبائش کی
تم نے آنکھیں پھیری تھیں تو پھر وہ بھی مرجھائے تھے
میرے ہاتھوں کی گلیوں میں جوگی رستہ بھول گیا
میں نے اس کو آڑے ترچھے سارے خط دکھلائے تھے

50
کیسے ہوائے شہرِ ستمگر کو سونپ دیں
بہتر ہے یہ چراغ کسی گھر کو سونپ دیں
چٹھی تو بھیج دیتے ہیں روزانہ آپ لوگ
ایسا کریں کے دل بھی کبوتر کو سونپ دیں
اب کے سمن، گلاب و ٹیولپ کی رائے ہے
خوشبو کا کام زلفِ معطر کو سونپ دیں

5
54
پھولوں کی جگہ ہاتھ سے اجگر نکل آتے
دل جن پہ بھی آتا وہ ستمگر نکل آتے
جس دن ترا آنا یہاں تازہ ہوا لاتا
اس شام مری چھت پہ کبوتر نکل آتے
گوگل نے وہاں بانٹا ہے عرفان وغیرہ
تم اینٹ اٹھاتے تو قلم ور نکل آتے

34
کتنے برسوں کی مشقت سے یہ افسانہ کُھلا
ہم بہت خوش ہیں کہ ہم پر دل کا ویرانہ کُھلا
آپ کو اس بات پر تھوڑا ٹھٹھکنا چاہئے
آج مرہم کے لئے اک ہاتھ بیگانہ کُھلا
اب کے رندوں سے ہماری یوں بھی منہ ماری ہوئی
اُن پہ ساغر بھی نہیں اور ہم پہ مے خانہ کُھلا

74
جس جوگی کی گہری آنکھیں ہر ناگن پر بھاری ہیں
اس جوگی کی کٹیا میں بھی یادوں نے پھنکارا ہے
آ بتلاؤں اس گاؤں کی سب سے شوخ قتالہ کا
اس کے ہونٹوں پر لالی ہے، سانسوں میں اکتارا ہے
یہ جس کو ہم شب کہتے ہیں، اُن زلفوں کی اترن ہے
یہ جس کو ہم دن کہتے ہیں، مکھڑے کا لشکارا ہے

122
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
لحد میں اہل ایماں کب بھلا غمگین ہوتے ہیں
سنا ہے اُن کی تسکیں کو وہاں یاسین ہوتے ہیں
خدایا نام لکھ دینا ہمارا ایسے لوگوں میں
جو سرکارِ مدینہ کے نگر تدفین ہوتے ہیں
اے زائر پہلے لازم ہے، مدینہ سے اُدھر جانا

1
47
ایک چہرے کی پرستار بھی ہو سکتی ہے
آنکھ، آنکھوں کی طلب گار بھی ہو سکتی ہے
پہلے ہوتا تھا کہ صحرا نہیں لیتا تھا کوئی
آج کل دشت پہ تکرار بھی ہو سکتی ہے
یوں سہولت بھی نہیں دے کہ میں ڈر جاتا ہوں۔
یہ سہولت ترا معیار بھی ہو سکتی ہے۔

0
58
وہ آئی تو لے کر آئی شہر کی چھیل چھبیلی شام
میں اور گاؤں جھیل رہے تھے برسوں سے شرمیلی شام
اُس کو ملنا بھول گیا ہے بارش کی سرشاری میں
اب ہم اپنے گھر میں بیٹھے دیکھ رہے ہیں گیلی شام
دن ڈھلنے پر ایک حسینہ میک اپ کر کے بیٹھی ہو
اچھا تو اس کو کہتے ہیں یہ ہے اک بھڑکیلی شام ؟

24
خامشی ہو وہ تری یا کہ سخن ،اچھا ہے
جو بھی ہے تجھ میں مرے یار وہ فن اچھا ہے
تو مسیحا ہے کہ مرہم ، یا شفا ہے، کیا ہے؟
تجھ کو چھو کر مری نظروں کا بدن اچھا ہے
ہم سے وہ چال چلا، جس کی تھی نیکی مشہور
جس کا سنتے تھے بہت چال چلن اچھا ہے

30
ہجر رُت میں گلاب جھیلے ہیں
ہم نے یوں بھی عذاب جھیلے ہیں
شہرِ لاہور تیری گلیوں نے
کیسے کیسے شباب جھیلے ہیں
عشق! استاد مان لے ہم کو
تجھ سے خانہ خراب جھیلے ہیں

30
فلک نشینوں کا وار ہوتے ہوئے بچی ہے
زمیں کی دھڑکن نثار ہوتے ہوئے بچی ہے
ابھی جو خوش ہے کہ دوستوں میں ہے اول اول
وہ دشمنوں میں شمار ہوتے ہوئے بچی ہے
تمہاری چپ کا یہ مسئلہ ہے کہ اب محبت
مروتوں کا شکار ہوتے ہوئے بچی ہے

29
یاد کرتا رہ گیا وہ اپنے پروانے کا نام
ویسے آتا تھا اسے بھی قیس دیوانے کا نام
خار کہتے ہیں یہاں اس خوبرو کے ہجر کو
پھول ہے اس گل بدن کے آ کے مل جانے کا نام
ساقیانِ شہر نے مل کر مری تائید کی
تیری آنکھوں پر رکھیں گے اپنے مے خانے کا نام

33
ایک پل میری آنکھوں سے اوجھل نہ ہو ،میری رنگوں کی دنیا سے کٹ جائے گی
یہ اداسی جو بندھی ہوئی ہے ابھی ،یہ بپھر جائے گی مجھ کو چٹ جائے گی
ایک میں ہوں کہ خود کو بھی کافی نہیں اور اسی ڈر میں گھر سے نکلتا نہیں
تو ہے مہتاب تجھ کو یہ ڈر بھی نہیں، تیری لو پورے عالم میں بٹ جائے گی
کیا یہ اچھا نہیں ہے میں دنیا نہ لوں ،تیرے در کی ہی چوکھٹ کا سائل رہوں
کیونکہ دنیا تو کتنی بڑی کیوں نہ ہو تیری چوکھٹ پہ جا کر سمٹ جائے گی

0
45
اے مری زمیں بتا، آسماں کو کیا ہوا؟
چاندنی کہاں گئی، کہکشاں کو کیا ہوا؟
سوچتے ہیں بیٹھ کر کہ دشمنوں سے کیا کہیں
گھاؤ کیوں نہیں بھرے، مہرباں کو کیا ہوا؟
یار سامنے ہے اور مجھ سے لفظ کھو گئے
بولنے کا وقت ہے اب زباں کو کیا ہوا؟

37
وہ دل جو اپنے پاس ہو اور بے قرار ہو
اُس سے فرار ہو بھی تو کتنا فرار ہو
ساقی ترے مے خانے میں مے ہو کہ یا نہیں
اب کے میں چاہتا ہوں کوئی غم گسار ہو
تم ہو قبائے حرف پہ اتری ہوئی پری
جو بھی تمہارے ساتھ ہو نغمہ نگار ہو

42
اے گل ترے درشن کے طلبگار ہیں دونوں
بلبل ہو کہ عاشق ہو ،گرفتار ہیں دونوں
کس کس کی محبت سے مدارت سے بنی ہے
ہم پر تو بہت بار ہیں, آزار ہیں دونوں
اس مرضِ محبت کا کوئی توڑ نہیں ہے
اور اس پہ یہ صورت ہے کہ بیمار ہیں دونوں

25
یہ جو یاقوت ہونٹوں پر سجاوٹ ڈالی جاتی ہے
ہماری نیند کے آگے رکاوٹ ڈالی جاتی ہے
ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اب خواہش چھپانے کو
کسی معصوم چہرے پر دکھاوٹ ڈالی جاتی ہے
تمہارے شہر میں یوں بھی گلے ملنے سے ڈرتے ہیں
یہاں مل کر کلیجوں میں کھچاوٹ ڈالی جاتی ہے

57
اپنا کیا ہے جس کو پرکھا ہر اک نے حیران کیا
پھول سےٹھوکر کھا کر آئے، پتھر نے احسان کیا
جانے کیسا منتر پھونکا یاد کی جادوگرنی نے
جو ہلکان نہیں ہوتے تھے اُن کو بھی ہلکان کیا
ان کو دیکھ کے پھینک آئے ہیں نیلم کو ہم نیلم میں
تم نے سرخی سے چمکا کر ہونٹوں کو مرجان کیا

36
تارے ہنستے بھی ملے،چاند چمکتا بھی ملا
دشت تو دشت تھا لیکن وہ مہکتا بھی ملا
بات کہنی تو نہیں چاہیے پر تیرے بعد
دل سلامت بھی رہا اور دھڑکتا بھی ملا
ایک دو شعر کسی آنکھ نے مجھ کو سونپا
ایک دو شعر مجھے یونہی بھٹکتا بھی ملا

1
58
موسم کی بات کیوں سنیں؟ کیا دل کشی کریں؟
دیکھیں تجھے یا شام کی منظر کشی کریں
صاحب ہمارے واسطے مے خانہ آپ ہیں
آنکھیں ذرا ملائیں تو ہم مے کشی کریں
ابرو سے یہ کہو کہ سنبھلنے کا وقت دیں
ہو جائے دل بحال تو لشکر کشی کریں

41
تم کو اندازہ نہیں ہے آنکھ کی یلغار کا
اس سے بے شک کام لے لو جان_ جاں تلوار کا
اک سراپے سے ملے ہیں ساری شکلوں کےسراغ
مستطیلیں، زاویے اور دائرہ پرکار کا
تیرا آنچل دیکھ کر یہ اب تلک سکتے میں ہے
دیکھ کیسے منہ کھلا ہے سامنے دیوار کا

32
جب اداسی پگھلنے لگتی ہے
آنکھ دریا اگلنے لگتی ہے
بستر_ ہجر چیخ اٹھتا ہے
یاد کروٹ بدلنے لگتی ہے
عین اس وقت یاد آتے ہو
جب طبیعت سنھبلنے لگتی ہے

40
دل سا دشمن جو کہ اپنا یا کسی کا نہ بنے
تجھ کو دیکھے تو ترے حسن کا دیوانہ بنے
بس کہیں ایک جگہ بیٹھ جا آنکھیں لے کر
کیا ضروری ہے ترے شہر میں مے خانہ بنے
عشق دیکھے جو ترے پاؤں، بنے وہ جوتا
جب ترے ہاتھ دکھاؤں تو وہ دستانہ بنے

30
جاتے نہیں وہاں جہاں جانے کا دل کرے
پھر کیا پتہ وہاں سے نہ آنے کا دل کرے
کھل کر بتا مجھے جو تمہارا کرے یہاں
ایسے نہیں بتا کہ فلانے کا دل کرے
تیری جھلک کے واسطے بننا پڑے اگر
ہر دم بنا رہوں یہ بہانے کا دل کرے

36
دیکھو کیسے جھوم رہا ہے سب جنگل سرشاری سے
لالے کا اک پھول کھلا ہے برسوں کی تیاری سے
غزلیں لکھیں، اشک بہائے، تاروں کی نگرانی کی
اور بھی ڈھیروں کام لیے ہیں ہم نے شب بیداری سے
تیرا دامن چاک نہیں ہے، ہم نے پھر بھی آنا ہے
جی کرتا ہے رنگ بکھیریں اس میں میناکاری سے

22
اپنی اقدار کی خاطر بھی اٹھاتے رہے دکھ
اور پھر یار کی خاطر بھی اٹھاتے رہے دکھ
آپ پھر آپ ہیں سنتے ہیں سمجھتے بھی ہیں
ہم تو دیوار کی خاطر بھی اٹھاتے رہے دکھ
اپنا معیار الگ تھا، جو کہ دنیا کا نہ تھا
اپنے معیار کی خاطر بھی اٹھاتے رہے دکھ

41
کیا آدمی ایسے چہرے پر قرباں بھی نہ ہو، پاگل بھی نہ ہو
وہ جس کی حسین سی آنکھوں میں کوئی تل بھی نہ ہو، کاجل بھی نہ ہو
تو کل جانے کا کہہ ڈالے تو آج کو پر لگ جاتے ہیں
تو کل آنے کا کہہ ڈالے تو ہم ایسوں کی کل بھی نہ ہو
ہم اسکا سامنا چاہتے ہیں اور ایسا سامنا چاہتے ہیں
مسجد بھی نہ ہو، مندر بھی نہ ہو، محفل بھی نہ ہو، مقتل بھی نہ ہو

20
گنگناتے رہو مسکراتے رہو
تم یونہی گاؤں میں آتے جاتے رہو
آؤ بیٹھو یہاں میرے پہلو میں تم
کس نے بولا ہے یوں ہچکچاتے رہو
حالِ دنیا سناؤ کسی اور کو
مجھ کو اپنی سناؤ سناتے رہو

57
کوئی اپنا نظر نہیں آتا
چاند کیونکر اتر نہیں آتا
ہم وہ جنگل ہیں جس کے حصے میں
کوئی تیکھا شجر نہیں آتا
اس کو جن کی اشد ضرورت ہے
ان میں میرا جگر نہیں آتا

54
وحشت ہے بے لگام, ستارو دعا کرو
اب ڈھل گئی ہے شام, ستارو دعا کرو
درپیش اس گھڑی میں کوئی حادثہ نہ ہو
اٹھنے لگا ہے جام, ستارو دعا کرو
اُس سے ہوائے کوچہء عشاق جب ملے
کہہ دے مرا سلام، ستارو دعا کرو

1
51
اس کو نہیں ہے ڈر کسی چشمِ سیاہ کا
یہ دل تو اک ملنگ ہے اُس خانقاہ کا
میں تو یہاں پہ رند ہوں ،مستی میں مست ہوں
زاہد سے جا کے پوچھ لیں مطلب گناہ کا
جس آنکھ نے سکھائی ہے مصرع گری ہمیں
حصہ اُسے بھی جاتا ہے شعروں پہ واہ کا

0
34
جب عشق کرامت کرتا ہے
ولیوں کی امامت کرتا ہے
کچھ لوگ ضمیر سے تنگ بھی ہیں
کیونکہ یہ ملامت کرتا ہے
یہاں جس نے "دل" سمجھانا ہو
وہ دشت علامت کرتا ہے

19
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
رضی اللہ تعالی عنہما
دل میں چلتی ہوئی پھلجھڑی نعت ہے
"آمد_ مصطفی کی خوشی نعت ہے"
وہ جو ساقی ہیں کوثر کے مے خانے کے
ان کے رندوں کی بادہ کشی نعت ہے

38
ذرا سی بات پر روتا تھا اور غمگین ہوتا تھا
یہ تب کی بات ہے جب دل بڑا مسکین ہوتا تھا
تمہیں جب بھی بلاتے تھے صنم کہہ کر بلاتے تھے
تمہارا نام لینا بھی ہمیں توہین ہوتا تھا
غزل میں دھاک بیٹھی ہے تمہارے نین نقشے کی
تمہاری آنکھ سے مصرع یہاں تضمین ہوتا تھا

1
63
جو بھی تمہارے آستاں کے روبرو نہ ہو
اس سے مری خیال میں بھی گفتگو نہ ہو
واعظ دعا کرو کہ اگر مے کدے سے ہم
اٹھنے لگیں تو گھات میں کوئی سبو نہ ہو
میں جانتا ہوں چار سو ہونا ہے اک سراب
سو تو نظر سے ہٹ کے مرے چار سو نہ ہو

32
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
دونوں عالم جھوم رہے ہیں آمد کی سرشاری میں۔
کعبے نے بھی جھنڈا تھاما، آنے کی تیاری میں۔
اے شہر_ سرکار ہمارے حال پہ تھوڑی شفقت رکھ۔
ہم کو تم درکار رہو گے دھڑکن کی ہمواری میں۔
مجھ کو آسانی پہنچی ہے اسم_ نبی کے صدقے میں۔

1
35
ہم سے بہتے ہوئے اشکوں کی روانی مت پوچھ
اور کچھ پوچھ محبت کی کہانی مت پوچھ
کوئی زلفیں تھیں کہ کندھوں سے کمر تک پہنچیں
کیسے بل کھائے ہوئے آئی جوانی مت پوچھ
شستہ اردو میں کہے صاف مکمل جملے
اس تکلم کی ہمیں بات بتانی مت پوچھ

51
یہ تو کہ جس کو چمن کا وزیر ہونا تھا
تجھے بھی دشت و جنوں کا اسیر ہونا تھا
تمہارا ساتھ میسر نہیں ہوا ورنہ
ہمارے گھر نے بھی جنت نظیر ہونا تھا
سو ہم نے نیند بھگائی قلم کا ساتھ دیا
کہ ہم کو شہر سخن کا امیر ہونا تھا

33
بیٹھے ہو میرے دل میں بسیرا کئے ہوئے
اور پوچھتے ہو کیا ہے اجالا کئے ہوئے
ہم کو وہ ایک یاد ابھی تک ستاتی ہے
مدت ہوئی ہے جس کا ازالہ کئے ہوئے
ہر اک سے بولتا ہے مرے بارے میں غلط
میں ہوں کہ اُس بشر کو فرشتہ کئے ہوئے

51
داغ_ آوارگی کو دھونا ہے
ہم کو اک دن کسی کا ہونا ہے
ایسی پہچان کیا کرے کوئی
جس کو پہچان کر بھی کھونا ہے
اُس کی باتوں پہ ہنس نہیں سکتے
میرے یارو! یہی تو رونا ہے

41
آسمانوں سے لوٹ آنا پڑا
اک پرندے کو گھر بنانا پڑا
میری حیرت کی انتہا نہ رہی
آپ کو آج مسکرانا پڑا
بس مجھے عشق ہی نہیں صاحب
دشت کا ہاتھ بھی بٹانا پڑا

34
کس قدر انقلاب دل میں ہے
آج کل اجتناب دل میں ہے
ہم پہ ظاہر ہے تیری بینائی
تیری خاطر گلاب دل میں ہے
تیرے غمزوں کا میری آنکھوں میں
اور تل کا جواب دل میں ہے

45
ہمارے ساتھ میں آئے تو کوئی بات بنے
تو اپنا ہاتھ تھمائے تو کوئی بات بنے
وہ ایک بات جو ہم سے چھپا کہ رکھتا ہے
ہمیں وہ بات بتائے تو کوئی بات بنے
یہ پھول، جھیل، سمندر، پہاڑ، کچھ بھی نہیں
تو اپنا کمرہ دکھائے تو کوئی بات بنے

63
جو سہاروں کی بات ہوتی ہے
عین یاروں کی بات ہوتی ہے
صبح تک چاند سے، چراغوں سے
ہم ستاروں کی بات ہوتی ہے
دل جسے دل لگا کے سنتا ہے
اپنے پیاروں کی بات ہوتی ہے

44
ہر پھول تک رسائی ہے ،خوشبو بھی پاس ہے
لیکن ترے بغیر مرا دل اداس ہے
زنداں سے خوب نبھتی ہے اس واسطے بھی دوست
مدت سے ہم کو جسم کی صورت یہ راس ہے
اِس کو کیا بھرے گا کوئی شربتِ ملن
یہ دل ہے دوست کونسا کوئی گلاس ہے

30
جہاں پر بٹ رہے ہوں خوشنما ٹکسال کے بوسے
وہاں پر کون لیتا ہے کسی کنگال کے بوسے
یہ اپنے گرد گھومے تو فقط اک دائرہ چومے
کہاں پرکار لیتی ہی سبھی اشکال کے بوسے
اگر تیری نظر کو دل پہ روکیں ہم تو اے دشمن
ترے لشکر نے لینے ہیں ہماری ڈھال کے بوسے

50
کسی نے ہم کو پکارا, تو وقت تھم سا گیا
ذرا سا وقت گزارا، تو وقت تھم سا گیا
وگرنہ میری کلائی میں چلتا رہتا تھا
گھڑی کا عکس اتارا تو وقت تھم سا گیا

25
ایک بت سے جو آشنائی ہوئی
پھر مخالف مرے خدائی ہوئی
تیرا سورج بجھا گیا ہے کون
اے مری شامِ غم، ستائی ہوئی
عمر بھر ہم کو مست رکھے گی
مے، تری آنکھ کی پلائی ہوئی

33
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
حضور آیا ہے اک دوانہ حضور سن لیں کلام اِس کا
حضور سن لیں درود اِس کا، حضور سن لیں سلام اِس کا
ہمیں یہیں پر ہی پلنے دیجے گلی سے اپنی جدا نہ کیجے
کہ کائناتوں سے ڈھیر آگے ہے ہم نے جانا مقام اِس کا
حضور یہ لٹ کہ آ گیا ہے حضور اس کو مدینہ کیجے

30
معبد کے مین ہال میں لگے گھڑیال نے
رات کے ایک بجنے کا اعلان کر دیا ہے
میری چھت سے اوپر
بہت اوپر
ایک ستارہ جگمگا رہا ہے
کہکشائیں رقص کرتے ہوئے آگے بڑھ رہی ہیں

52
اس کو میرا یقیں نہیں ہوتا
ایسا ہر گز کہیں نہیں ہوتا
کس نے معیار کو گھٹایا ہے
چاند زُہرہ جبیں نہیں ہوتا
فیصلہ ہم سفر پہ ہوتا ہے
راستہ دلنشیں نہیں ہوتا

24
کیوں کر اسے زمین کی رہ پر دھکیلا تھا؟
کیا آسماں میں چاند بہت ہی اکیلا تھا؟
اک تم کہ شہرِ وصل کے مہنگے وکیل تھے
اک میں کہ جیب میں کوئی پیسہ نا دھیلا تھا

17
ایسے جنجال ہیں محبت کے
پھول مرجھا گئے طبیعت کے
اپنی حالت عجیب حالت ہے
ہم نہیں اب کسی بھی حالت کے
کتنا دشوار ہے یہاں ہونا
کتنے آلام ہیں حقیقت کے

52
کیسے ہنستی ہوئی آنکھوں کو یوں رونے دیتا
عشق آسان نہیں تھا کہ میں ہونے دیتا
ہم کو بس ایک گلہ ہے ترے بخشے غم سے
کچھ بھی کرنے نہیں دیتا تھا تو سونے دیتا
تو بلائے تو انہیں بیگ میں رکھنا پڑ جائے
یہ وہ خدشہ ہے جو کپڑے نہیں دھونے دیتا

28
مان لیجے جناب تھی ہی نہیں
آپ کی آب و تاب تھی ہی نہیں
آنکھ تھی، جم کے ایستادہ تھی
مے کدے میں شراب تھی ہی نہیں
اس کو بس تھوڑی سی محبت تھی
درجنوں کے حساب تھی ہی نہیں

50
دل میں بیٹھا ہے کوئی چور ،نہیں جا سکتا
مجھ کو جانا ہے کہیں اور نہیں جا سکتا
وہ ستارہ ہو کہ جگنو ،یا ہو کوئی تتلی
تیرے کمرے سے کوئی بور نہیں جا سکتا
چاہے نقشے میں سبھی رنگ، لکیریں لے لے
اک ہتھیلی پہ یہ لاہور نہیں جا سکتا

33
میرے ہوتے ہوئے؟ لاحول، نہیں بن سکتا
یار! یہ دل ہے، یہ کشکول نہیں بن سکتا
ایسی آنکھوں کا کرے کون بھروسا جن سے
موڈ بن سکتا ہے، ماحول نہیں بن سکتا
تجھ کو میرا نہیں بننا ہے تو چھپتا مت پھر
بس مرے سامنے آ ،بول نہیں بن سکتا

28
اس کو رہنا ہے اگر کوئی حوالہ بن کر
تو مرے ساتھ رہے ہاتھ کا چھالا بن کر
تیری چمکار کو مدھم نہیں کرنے والا
تُو مرے گھر میں بھی رہ لے گی اجالا بن کر
جانے خدشات کو تکنیک سکھائی کس نے
اب یہ ذہنوں کو بھی لگ جاتے ہیں جالا بن کر

35
تیری خاطر تو یہ زحمت نہیں کرنے والا
کچھ بھی کر لے میں محبت نہیں کرنے والا
میں ترے ساتھ چلوں گا گھڑی کے چلنے تک
ایک دو دن کی مسافت نہیں کرنے والا
تجھ کو معلوم ہے میرا کہ میں اچھے دل سے
ملنے والا ہوں شرارت نہیں کرنے والا

37
اچھا سا ایک کارڈ اور موتیے کے پھول
ہم کو بھی یار آتے ہیں یہ پیار کے اصول
اک دن بہک کے ڈھونڈا ہتھوڑے کو فون سے
دیکھا تھا ایک خانے میں لکھا کہیں پہ ٹول
ویسے تو بار بار تجھے دیکھتے نہیں
لیکن ترے خیال کو ہم دے رہے ہیں طول

47
اگر وہ یاد ہونے لگ پڑے گا
تو دل آباد ہونے لگ پڑے گا
ترا خوشبو یہاں تھوڑے دنوں میں
بدن ایجاد ہونے لگ پڑے گا
اگر میں غم نہیں روکوں تو یہ غم
مرا ہمزاد ہونے لگ پڑے گا

36
اب میں اس کو ہنر سمجھتا ہوں
تیری آواز سوچ سکتا ہوں
جس تسلسل میں تیرے عارض ہیں
اُس تسلسل میں شعر کہتا ہوں
کوئی وہ نام جانتا ہی نہیں
کون جانے کہ کس پہ مرتا ہوں

74
رات تھم جائے، مقدر کا ستارا جاگے
چاند اترے تو مرے گھر میں اجالا جاگے
یہ جو کہتی ہے فقط عشق اسے کرنا ہے
ایک لڑکی میں غلط شے کا تقاضا جاگے
ورنہ پیسوں کا نشہ دھت کئے رکھتا ہے
کوئی مر جائے تو گاؤں کا مسیحا جاگے

72
دیکھ! انکار پر نہیں ملتا
عشق، اصرار پر نہیں ملتا
یہ بھی انعام ہے کہ بندوں کو
رزق کردار پر نہیں ملتا
ایک نقشہ تھا دل محلے کا
اب وہ رخسار پر نہیں ملتا

35
تم نے دیکھا تھا وہاں آنکھ دبانا میرا
اس کا مطلب ہے لگا ٹھیک نشانہ میرا
اس سے پہلے کے زمانے کا مجھے علم نہیں
اس سے آگے کا زمانہ ہے زمانہ میرا
مجھ سے ملتا ہے ترا غم یوں گرمجوشی سے
جیسے ملتا ہو کوئی یار پرانا میرا

56
صبر کو اختیار کرتے ہوئے
مر گئے انتظار کرتے ہوئے
عشق جی لے تو کتنا جی لے گا
دشت پر انحصار کرتے ہوئے
دیکھ یوں انگلیاں نہ جھڑ جائیں
میرے دکھ کو شمار کرتے ہوئے

38
اپنی تصویر بھیجتا ہوں تجھے
تجھ سے ہر روز مانگتا ہوں تجھے
اے مرے دل مزید کچھ دن میں
اسکے پہلو میں دیکھتا ہوں تجھے
میری خواہش ہے خواب اچھے ہوں
اپنے تکیے پہ کاڑھتا ہوں تجھے

78
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
خوبصورت جہان سے نکلا
رنگ ان کے مکان سے نکلا
ڈھونڈنے پر پتہ شفاعت کا
آپ کے خاندان سے نکلا
سب زمانوں کی سیر کرتا ہے

1
47
جانبِ دل کمان سے نکلا
تیر تل کے نشان سے نکلا
ہجر حیرت سے مر گیا جب وہ
یاد کے مرتبان سے نکلا
ہم پرندوں میں ڈھنگ اڑنے کا
تیری پہلی اڑان سے نکلا

40
تیری آنکھوں کو دیکھ سکتا ہے
چاند کمرے میں جھانک سکتا ہے
ایک معصوم دلربا چہرہ
میرے جانے کو روک سکتا ہے
تیرا ہنسنا کسی بھی مردے میں
اک نئی روح پھونک سکتا ہے

1
57
ہم جو آپس میں لڑے رہتے ہیں
پھول شاخوں پہ پڑے رہتے ہیں
اب تو الفاظ کی یہ حالت ہے
تیرے پہلو میں کھڑے رہتے ہیں
آپ آتے ہیں گزر جاتے ہیں
لوگ کونے میں کھڑے رہتے ہیں

39
اس کو معلوم نہیں تھا کہ تو صندل ہو گا
تجھ سے بچھڑا ہے پتہ ہو کہ تو پاگل ہو گا
یہ جو لگتا ہے کوئی شخص پکارے ہے مجھے
یہ مرے ذہن کا دھوکا ہے مسلسل ہو گا
چڑیا جس پیڑ میں رہنے کی جگہ ڈھونڈتی تھی
اس کو اندازہ نہیں تھا کہ وہ مقتل ہو گا

52
لوگ یوں بھی اداس ہیں میرے
میرے بس میں حواس ہیں میرے
تیری آنکھوں سے بھرنا چاہوں گا
یہ جو خالی گلاس ہیں میرے
مجھ سے زنداں میں ملنے آتے تھے
غم طبیعت شناس ہیں میرے

74
گنگناتے ہوئے گزرتی ہے
دل کو بھاتے ہوئے گزرتی ہے
کون ہیں وہ کہ زندگی جن کی
مسکراتے ہوئے گزرتی ہے
اس سے ملتا ہوں تو کوئی ساعت
جھلملاتے ہوئے گزرتی ہے

38
ہمسفر وہ ہو تو رستہ چل پڑے
زُہرہ سیدھا ،راوی الٹا چل پڑے
پھر گلا تو سوکھ جائے گا یہاں
اس کی آنکھوں سے جو چشمہ چل پڑے
تیری تصویریں لگائی ہوں اگر
ہوٹلوں کے بیچ ڈھابہ چل پڑے

55
تم نے دیکھی ہے وہ ناگن جس کے لب ہوں امرت جل؟
میں تو دیوانہ ہوں یارو، ایسی ہی اک ناگن کا
اُس نے لیٹے لیٹے اپنے کمرے میں انگڑائی لی
دیواروں سے خوشبو پھوٹی، چہرہ چمکا آنگن کا
دیکھا کچھ تو لگتا ہوں ناں میں تیرا اس رشتے سے
تیرے میرے بیچ رہا ہے جاناں، بندھن ان بن کا

50
اس کی آنکھوں کو اُسے جھیل بتاتا ہوں میں
وہ سمجھتا ہے کہ ہنستا ہوں، ستاتا ہوں میں
اس سے زیادہ مرے لفظوں کا نصیبا کیا ہو
اُس پہ لکھتا ہوں اسے روز سناتا ہوں میں
تو ہے روپوش تو پھر میں بھی یہیں بیٹھا ہوں
تو مرے سامنے آ، بھاگ کے آتا ہوں میں

85
کوئی اس شان سے پیتا رہا ہے
کہ ساقی جام ہی بھرتا رہا ہے
کسی کے وصل کے ڈنکے بجے ہیں
کسی کے ہجر کا چرچا رہا ہے
یہاں اک شخص کو ہم ڈھونڈتے ہیں
جسے وہ آدمی ملتا رہا ہے

55
مجھے یاد آ رہے ہیں وہ زمانے رنگ و بو کے
مرے اختیار میں جب تھے خزانے رنگ و بو کے
میں نے اس کو لکھ کے بھیجا مرے کان سُن پڑے ہیں
مجھے آ گیا سنانے وہ ترانے رنگ و بو کے
ترے ہاتھ کی ہتھیلی، ترا روم، تیرا بستر
وہاں آج تک مسلسل ہیں ٹھکانے رنگ و بو کے

50
مل کے بے اختیار بجتے ہیں
دھڑکنوں میں گٹار بجتے ہیں
تم یہ گھر میں نہیں سمجھ سکتے
کیسے دفتر میں چار بجتے ہیں
دکھ سپیکر ہیں دل کی مسجد کے
روز ہی پانچ بار بجتے ہیں

33
سوچا جو تیرا نام طبیعت سنبھل گئی
لیکن ترے خیال میں چائے ابل گئی
اب عشق بھی زمیں پہ بجاتا ہے تالیاں
اک وصل کے مدار میں پہلی شٹل گئی
کہہ دو یہ اپنے خواب سے چھکے پہ زور دے
اب دور تیز آ گیا ،سنگل ڈبل گئی

27
کیوں نہ آیا تُو میرے گاؤں میں؟
بیڑیاں پڑ گئیں تھیں پاؤں میں؟
اے ہرے پیڑ سرد موسم میں
کون بیٹھے گا تیری چھاؤں میں
تو محبت کرے تو پھر پوچھوں
کتنی حسرت ہے کچھ دعاؤں میں

61
رنگوں پہ مشتمل ہے, خوشبو پہ مشتمل ہے
جس کی زباں کا لہجہ اردو پہ مشتمل ہے
اس کو نہیں ضرورت جھومر کوئی سجائے
اس کی جبیں کا زیور ابرو پہ مشتمل ہے
مجھ کو بھی ہیں میسر زلفوں کے شوخ سائے
میرا بھی اب سرہانا بازو پہ مشتمل ہے

2
73
نجف میں جائیں بہاروں سے مل کے آئیں ہم
سخا کے، علم کے، دھاروں سے مل کے آئیں ہم
کرم رہا ہے کریموں کا اپنی حالت پر
سو ،جا کے اپنے سہاروں سے مل کے آئیں ہم
علی ولی (رضی اللہ تعالی عنہ) کے تصدق سے سب کو ملتا ہے
اگر چلو تو ہزاروں سے مل کے آئیں ہم

44
اب بھی نہ تیرے ہاتھ اُٹھے مغموم دیکھ کر
سو دکھ ہوا ہے یہ دلِ مرحوم دیکھ کر
ہم لوگ کیا کریں کہ وہ اب بھی نہیں ہے خوش
یہ شہر اپنے نام سے موسوم دیکھ کر
ویسے تو اس کی بات سے بچہ بھی نا دبے
ہم کو دبا رہا ہے وہ مظلوم دیکھ کر

50
دل میں مت وہم کو لاؤ، کہ یہ میرا دل ہے
اس میں دل کھول کے آؤ ،کہ یہ میرا دل ہے
تم نے دلجوئی تو کی خوب مگر بہتر ہے
اس کو غزلیں بھی سناؤ کہ یہ میرا دل ہے
دل میں ویسے تو رہو شان سے لیکن پیارے
اس میں رستے نہ بناؤ، کہ یہ میرا دل ہے

0
58
گر تجھے مجھ سے نفرتیں ہوں گی
پھر بھلا کیا وضاحتیں ہوں گی
تم سے ملنے کی حالتیں جاناں
میرے جینے کی صورتیں ہوں گی
تیری باتوں سے پھول نکلیں گے
تیرے ہونٹوں پہ نکہتیں ہوں گی

22
ہاتھ میں ہتھوڑا ہے تھیلے میں سرہانا ہے
یعنی کام کرنا ہے اور لیٹ جانا ہے
ہم پری جمالوں کی حالتوں سے واقف ہیں
اپنا حسن والوں سے واسطہ پرانا ہے
پھول اس کے چہرے کو دیکھ کر نکھرتے ہیں
ہم نے اس کو پھولوں کے سامنے بٹھانا ہے

0
36
آج تھک ہار کر سوچتے سوچتے
اس کو جانے دیا، دیکھتے دیکھتے
میکدے سے اٹھے تھوڑے مدہوش تھے
اس کے گھر چل دیئے، جھومتے جھومتے
رات پچھلے پہر اس کے گیسو کھلے
چاند شرما گیا ڈوبتے ڈوبتے

0
42
وطن کے پاسباں! اٹھو
چمن کے نگہباں! اٹھو
اٹھو! کہ اب گلستاں میں، بہاریں نوحہ کرتی ہیں،
خزائیں جم کے بیٹھی ہیں۔
اٹھو! کہ منصفوں نے اب فقط کچھ دام کی خاطر،
یہاں انصاف بیچا ہے۔

0
58
یوں تو سب کے کہنے سے وہ چلی گئی تھی پر
مجھ کو اپنے کمرے سے دیکھتی رہی ہو گی
میرے اٹھ کے آنے پر اپنے گھر کے لوگوں سے
اونچے اونچے لہجے میں بولتی رہی ہو گی
ڈھونڈتی رہی ہو گی میری حیراں آنکھوں کو
دیس دیس جھیلوں میں جھانکتی رہی ہو گی

0
31
ہم نے خواب دیکھے ہیں۔
پانیوں کے چہروں پر ایک چاند صورت کا،
نقش ہم بکھیریں گے۔
اک اداس لڑکی کی پر ملال زلفوں میں،
چاہت و محبت کے کچھ گلاب ٹانکیں گے۔
ہم نے خواب دیکھے ہیں۔

21
نیم وا دریچوں سے جھانکتی ہوئی آنکھوں
اور بکھرے بالوں پر
اب دھیاں نہیں جاتا
سرد سرد راتوں میں بارشوں کے موسم میں
اس کے ساتھ چلنے پر
کچھ گماں نہیں جاتا

27
بے سبب دسمبر کی سہمی سہمی شاموں میں،
دور جانے والوں کا تم ملال کرتے ہو-
بے وجہ لحافوں پر ہونٹ ثبت کرتے ہو-
سردیوں کے موسم میں الجھے الجھے رہتے ہو-
جن کو آنا ہوتا ہے,
وہ کہاں ٹھہرتے ہیں دھند سے یا بارش سے

35
میری جانب دیکھا کر
لوگوں کا مت سوچا کر
اوروں جیسی دکھتی ہے
یوں مت بال بنایا کر
میں تیرا تھا، تیرا ہوں
وہموں کا مت پیچھا کر

5
69
چھوڑو تم گلدانوں کو
سنبھالو مہمانوں کو
کھولو اپنی زلفوں کو
بھڑ کاؤ ارمانوں کو
اپنی آنکھیں دکھلا کر
چھلکا دو پیمانوں کو

0
53
یاد کچھ کیا دلائے گی چائے
اب تو بس جی جلائے گی چائے
میں کسی شام تیرے گھر آؤں
تو مجھے کیا پلائے گی چائے؟
انگلیاں رکھ کے میرے ہاتھوں پر
تو کسی دن گرائے گی چائے

0
31
میرے آثار دیکھتا ہو گا
وہ گلی میں ہی جھانکتا ہو گا
گر وہ آنکھیں نہ درمیاں آئیں
جام جیسا ہو بے مزہ ہو گا
عشق کو آج ہم دغا دیں گے
عقل والوں سے مشورہ ہو گا

0
43
تیری جانب بہتا ہوں
میں اک ایسا دریا ہوں
جس جانب سے نکلو گی
میں رستے میں پڑتا ہوں
تیرے بن یوں لگتا ہے
اک جنگل میں رہتا ہوں

0
17
یا تو اس پری وش سے کھل کے مل لیا جائے
یا ملن کی خواہش کو جاوداں رکھا جائے
یا تو اس کی کھڑکی میں پھول رکھ دیئے جائیں
یا پھر اپنے جیون کو خار کر لیا جائے
یا تو اب دسمبر میں سانس روک لی جائے
یا پھر اس کی یادوں کا سامنا کیا جائے

0
39
اے فضائے شامِ دسمبری مجھے اس قدر نہ ملول کر
کہ میں زندہ دل سا ہوں آدمی کوئی اور سنگ سمیٹ لوں
کوئی لمحہ ایسا ہو خواب سا ترے رنگ آئیں نظر مجھے
تو میں روک کر کسی موڑ پر ترے سارے رنگ سمیٹ لوں
تری شوخیاں ترے حوصلے سبھی آ کے مجھ سے یہ کہہ گئے
میں جو سادہ سادہ سا شخص ہوں ترا انگ انگ سمیٹ لوں

41
مجھ کو وہ شخص اگر آج پکارے، یارو!
میں تو لے آؤں یہاں چاند ستارے، یارو!
ان کو اشعار سناؤ جو مچل سکتے ہوں
سب کے آگے نہ نکالو یہ غبارے ،یارو!
گیسو اپنے وہ سنوارے تو سنوارے لیکن
اپنے لوگوں سے تعلق بھی سنوارے، یارو!

40
ٹپکا ہے ایک سوچ سے قطرہ نوید کا
آیا ہے جب خیال ہمیں روزِ دید کا
مطلب تمہاری دید بھی نشہ ہے مجھ کو دوست
یہ جو تقاضا کر رہا ہوں میں مزید کا
دل کے عوض میں دل تمہیں دے دوں تو کیسے دوں
اتنے میں تو یہ ہے نہیں میری خرید کا

1
56
بنتا ہے میَسیجز پہ بھلا زندگی کا گول؟
ہم سے نہ ہو سکے گا یہاں عاشقی کا رول
اس کو نشہ ہے سستی سیاست کا دوستو
تم اس کا غصہ مت کرو بکتا ہے اَول فَول
اب بھی تمہاری شکل کی کاپی نہیں بنی
ہم نے تو مٹی میں دیئے ہیں اپنے ہاتھ گھول

79
زمین زادو! فلک نژادو! کہاں گئے ہو؟
اگر خبر ہے، تو پھر بتا دو، کہاں گئے ہو؟
تمہارے جانے کے بعد نیندیں اجڑ گئی ہیں
ہمیں تھپک کر کہیں سلا دو ،کہاں گئے ہو؟
یہاں سبھی کے ہی سرپرستوں نے پھول بانٹے
ہمیں بھی رکھنے کو پھول لا دو، کہاں گئے ہو؟

8
59
منظر بدل گیا ہے نظارہ نہیں گیا
یہ دھرتی پھر گئی ہے، ستارہ نہیں گیا
دریا کے ساتھ ساتھ کنارا نہیں گیا
کشتی سے ہم کو پار اتارا نہیں گیا
اک بار آ گیا تو دوبارہ نہیں گیا
مجھ سے وہ بار بار پکارا نہیں گیا

51
ہم سے دیوار کی خواہش بھی مٹائی نہ گئی
تیری تصویر بنائی تو لگائی نہ گئی
میں نے جس دن سے ترے ہاتھ پکڑنا چاہے
میرے کانوں سے زمانے کی دہائی نہ گئی
میں نے سوچا تھا پکاروں نہیں تجھ کو لیکن
تجھ کو دیکھا ہے تو آواز دبائی نہ گئی

27
بیاباں میں شجر کاری کریں گے
ترے دل میں جنوں جاری کریں گے
تجھے دیکھیں گے افسانہ سناتے
زمانے پر غزل طاری کریں گے
ترے گیسو مری خواہش کی آ کر
اچانک سے گرفتاری کریں گے

57
اب قلم کا مشغلہ سبک خیز ہو گیا
یہ ترے فراق میں اور تیز ہو گیا
راہ سے ترے مکان منتقل تو ہو گیا
کیا ہوا اگر شجر کٹ کے میز ہو گیا
ہم نے جان بوجھ کر اپنے دام کم کئے
اتنا ٹارگٹ دیا کہ تجھ سے چیز ہو گیا

39
تمہارے صحن کے کنکربھی اُن کو دانے لگتے ہیں
کہ اِن کو دیکھ کر اکثر پرندے آنے لگتے ہیں
نتیجہ حشر میں نکلے گا، اس شرمائے جانے کا
ذرا سی بات ہوتی ہے تو وہ شرمانے لگتے ہیں
ابھی تک یاد میں کوئی گراموفون بجتا ہے
اسی پر اپنے بچپن کے سہانے گانے لگتے ہیں

34
آنے والی مشکل کم کر دیتی ہے
آیت پڑھ کے مجھ پر دم کر دیتی ہے
فیشن دینے والے اس کو لاتے ہیں
آنچل اوڑھے تو پرچم کر دیتی ہے
تیرے اس کلیے پر سب کو حیرت ہے
کانٹے چھوتی ہے مرہم کر دیتی ہے

47
آپ ہر گز نہیں، آپ کب آتے ہیں؟
میری کھڑکی میں تو ابن_ شب آتے ہیں
اس کے ہر دلعزیزوں کی فہرست میں
بس مجھے چھوڑ کر اور سب آتے ہیں
میں سمجھتا ہوں، آتے ہیں میرے لئے
اور وہ ہیں، کسی کے سبب آتے ہیں

63
ایک پر دوسرا لگا ہوا ہے۔
ہر طرف آئینہ لگا ہوا ہے۔
اے زمیں! تیرے امن چینل پر
جنگ پر تبصرہ لگا ہوا ہے
ایک لڑکی سے بے دھیانی میں۔
گال پر رائتہ لگا ہوا ہے۔

28
تیرے مکھڑے پہ تل اس طرح ثبت ہیں
جیسے ہوں کوئی کومل سے روشن دیے
جن کی اجلی سی لو میں بھٹکتے ہووے
اپنے سپنوں کی پگڈنڈیوں پر چلیں
اپنے منزل کے رستے کو ازبر کریں

57
کوئی بےکار سی فائل نہیں ہیں
سو تیری راہ میں حائل نہیں ہیں
ارے یہ سنگ پھر مرمر کہاں پر
اگر اُس صحن کی ٹائل نہیں ہیں
ہمارے پھول کا یہ معجزہ ہے
کہ ہم بندوق کے قائل نہیں ہیں

50
راہوں میں تیری یاد ہے حائل پڑی ہوئی
اس واسطے یہ جان ہے گھائل پڑی ہوئی
وہ کال لگ رہا ہے کہیں کٹ کٹا گئی
کب کی ہمارے ہاتھ سے ڈائل پڑی ہوئی
ہم نے اٹھایا یاد کا ملبہ گرا ہوا
اس نے اٹھائی پیر کی پائل پڑی ہوئی

2
60
دھڑکن کے آس پاس کی کوئی جگہ بھی دو
تم نے مدد تو بھیج دی لیکن دعا بھی دو
چپ چاپ بیٹھنے سے نکلتا نہیں ہے کام
بیٹھے ہو اس کے در پہ تو اس کو صدا بھی دو
ہے پھول تیرے ہاتھ میں کالر ہے میرے پاس
تم دیکھ تو رہی ہو مگر اب سجا بھی دو

1
45
تڑپ کہ اپنے حال کا سنا لیا تو کیا ہوا
جو ہم نے چھت پہ چاند کو بلا لیا تو کیا ہوا
سڑک کے ساتھ کھل رہا تھا ایک پھول تو اسے
کسی حسین زلف نے سجا لیا تو کیا ہوا
کسی کے غم میں نیند سے بگڑ گئی تو کیا کریں
کسی کے غم کو شان سے منا لیا تو کیا ہوا

47
اصل بات جان لی، شام پر لگا دیا
ہم نے تیری یاد کو، کام پر لگا دیا
مجھکو دیکھنا ہے یہ، کیسے شخص کیلئے
تو نے مجھ فقیر کو، دام پر لگا دیا
ایک قمقمہ تھا دل، اپنے پاس اور پھر
ہم نے وہ بھی آج ایک بام پر لگا دیا

28
یہ سارے شہروں کی سب دیواروں کو ایک کینوس خیال کر کے
میں اس کا چہرہ اتار دوں گا اسے یہ دھڑکا لگا رہے گا
تمہارے کمرے کی بند کھڑکی بھی اس حوالے سے سوچتی ہے
کہ چاند حجرے میں آ گیا تو کئی برس تک پڑا رہے گا
سو اس برس بھی وہ پھول لڑکی بہار رت سے لڑی رہے گی
یہ ہجر زادہ بھی اس کی رہ میں گلاب لے کر کھڑا رہے گا

68
اب یہی سوچ کر ہم ٹھکانہ کریں, کوئی جنگل ہو کچھ ہو کہیں تو رہیں
تو بھی آئے نہ آئے مگر دلنشیں, ہم سے ملنے وہاں چاندنی آئے گی
عکس پڑتا ہے چہرے کا یوں شال پر, مجھ کو لگتا ہے اب کے اسی حال پر
اس کی رنگت جو ڈر کر کبھی بھی اڑی, اس کی چنری میں بھی لازمی آئے گی
آؤ بارش کے موسم میں کھل کر ملیں, آؤ باتیں کریں آؤ کیفے چلیں
یونہی لیٹے رہے اپنے گھر پر پڑے, خاک باتوں میں پھر چاشنی آئے گی

3
61
ہم یوں اس کے بقُول ملتے ہیں
بال بکھرے، ملول ملتے ہیں
ہم کو ملتی نہیں ہے داد ان سے
آپ لوگوں کو پھول ملتے ہیں
یاد کے کیمیائی مادے سے
غم کے مالیکیول ملتے ہیں

60
اب ہم یہ غم کریں تو تمہارا نہیں کریں
اور بس میں پیار ہو تو دوبارا نہیں کریں
آپ آسمانِ شوق پہ تارے زمین سے
دیکھا کریں جناب اتارا نہیں کریں
یہ ہم فقیر لوگ بڑے مخمصے میں ہیں
مائل نہیں ادھر تو اشارا نہیں کریں

31
منظر تمہارے شہر کا دیکھا نہیں گیا
اب تک ہمارے گاؤں کا غصہ نہیں گیا
ہم کو ہمارے عشق سے فرصت نہیں ملی
ہم کو ہمارے کام سے روکا نہیں گیا
اک شام اس کی آنکھ میں دیکھا تھا غور سے
تب کا ہماری آنکھ سے نشہ نہیں گیا

62
کھڑے ہیں ساتھ لگ کے اپنے یار کے مزار سے
نہیں ہے اب خزاں کا ڈر نہیں شغف بہار سے
جو میرا ہاتھ دل پہ ہے تو اسکا ہاتھ آنکھ پر
ہمیں تو لڑنا پڑ رہا ہے عشقِ بے مہار سے
دوبارہ کب اڑیں گے ایک وصل کی اڑان پر
دوبارہ کب نکل سکیں گے ہجر کے مدار سے

8
100
میری آنکھوں میں اترے ہووے کیمرے۔
اس کی تصویر لے۔
ایسی تصویر لے۔
جس میں سارے زمانوں کی رنگت ملے۔
جس کو دیکھے پکاسو تو حیرت سے آنکھیں ملے۔
اور برش پھینک دے۔

31
تجربے بھی کیے سارے پرچے پڑھے کوئی ایسا تعامل نہیں مل سکا
اس کی آنکھوں سے آنکھیں نہیں مل سکیں اس کے دل سے مرا دل نہیں مل سکا.
تو نے جس کو ہواؤں کی زد پر کیا وہ دیا بجھ گیا اس کی چھٹی ہوئی
تو نے جس کو جہاں کے حوالے کیا پھر دوبارہ وہ پاگل نہیں مل سکا
ایک جنگل ہے رستے میں وہ دید کا اور دریا ہے آگے وہاں وصل کا
کوئی ایسا وہ دریا نہیں مل سکا کوئی ایسا وہ جنگل نہیں مل سکا

3
62
جسے گل سے ہے عقیدت ،جسے چاندنی پسند ہے
وہ ہمارے ساتھ مہکے، جسے شاعری پسند ہے
وہاں سب کے پاس دل ہے یا کوئی حسین تل ہے
ترے شہر میں وہ جائے جسے دلبری پسند ہے
یہاں عشق_ بے مروت ، یہاں دید کی ہے قلت
یہاں دشت میں وہ آئے جسے تشنگی پسند ہے

2
53
وصال رت کی حسین شامیں ہمارے گھر میں چمک رہی ہیں۔
جو اس نے مجھ سے کہی ہوئی ہیں وہ پھول باتیں مہک رہی ہیں۔۔
وہ اک مدینہ ہے جس کے ہونے سے سب مدینوں کی رونقیں ہیں
وہ ایک روضہ ہے جس کے حلیے میں کائناتیں دمک رہی ہیں
ہمارے آنگن کی ظلمتوں نے کسی بھی جگنو کا منہ نہ دیکھا۔
تمہارے کمرے میں پھیلنے کو افق سے کرنیں ڈھلک رہی ہیں۔

1
89
آج تو کریں گے ہم واک لیٹ نائٹ سے
چاند نے پہنچنا ہے آخری فلائٹ سے
اس کے ہاتھ کی روٹی چاشنی میں اول ہے
ذائقے چھلکتے ہیں ایک ایک بائٹ سے
یار میں اداسی کی آخری حدوں پر ہوں
مجھ کو شعر بھیجو تم چار پانچ ٹائٹ سے

3
98
حقیقت کو چھپایا جا رہا ہے۔
ہمیں الّو بنایا جا رہا ہے۔
مری آنکھیں فضیلت پا رہی ہیں۔
ترا حلیہ دکھایا جا رہا ہے۔
عجب ہے جو ہماری دوستی کو۔
بڑا ہٹ کر بتایا جا رہا ہے۔

47
چپکے چپکے اتنا برسو۔
من میں جل تھل ہو جائے۔
صحرا، جنگل ہو جائے۔
چپکے چپکے اتنا برسو
کاسہ چھاگل ہو جائے
پیاسا، پاگل ہو جائے

3
81
تیرے دل میں حقیر ہوتے ہیں
ورنہ ہم تو فقیر ہوتے ہیں
اس کی پھولوں پہ بادشاہت ہے
رنگ اس کے وزیر ہوتے ہیں
دیکھ حالت مرے نصیبوں کی
آڑی ترچھی لکیر ہوتے ہیں

2
60
خوش نصیبی کسی کا بھی مقدر ہو سکتی ہے۔
مثال کے طور پر تمہارا سیل فون
جو تمہاری انگلی کا لمس ملتے ہی دھڑک اٹھتا ہے
اور یہ گرم چائے کا کپ۔
جو دھند میں لپٹی سرد شاموں میں۔
تمہارے ہونٹوں سے لگتے ہی دمک اٹھتا ہے۔

42
شام کے ملجگے اندھیرے میں
تم نے جو اک چراغ بھیجا تھا
اس کی باد صبا کے پہرے میں
ایک جگنو نے دست بوسی کی

37
تو وہ بزدل نہیں
کوئی گھورے تجھے
اور تو چپ رہے
کوئی فقرے کسے
اور کڑھتی رہے
جو بھی گھورے تجھے، اس کو غرا کے تک

43
میں نے دن میں بات کی تو برا منا گئے
رات میرے خواب میں خوب چہچہا گئے
دل کے مرغزار میں کاسنی سے گل کھلے
وہ ہماری بات پر آج مسکرا گئے
عشقِ بے مراد کا اور بہار کا ہمیں
جب رہا نہ کچھ خیال دونوں پاس آ گئے

36
مت پوچھ تیرے بعد، کیا کیا جدا ہوا
یہ سب سے پہلی بات کہ رستہ جدا ہوا
میں نے تو جب سے دیکھا ہے اک مطمئن فقیر
اس دن کا میرے ہاتھ سے کاسہ جدا ہوا،
اس کو جو آج پینے کی فرصت نہیں ملی
کافی اداس، چائے سے نشہ جدا ہوا

47
میری بستی بس رہی ہے کھیتوں کھلیانوں کے بیچ
تم کہاں پر رہ رہے ہو تنگ دالانوں کے بیچ؟
ساغر و مینا کے منہ سے ہم نے یہ جانا فقط
شام سے کچھ چل رہا ہے تیرے مستانوں کے بیچ
ہم کو سورج سے گلہ ہے سب اندھیرے چھوڑ کر
اس نے کرنیں بانٹ دی ہیں اپنے دربانوں کے بیچ

28
کچھ بھی ہو جائے تُو مغرور نہ ہونے دینا
اپنی درگاہ سے مفرور نہ ہونے دینا
اپنی الفت کو بہشتوں سے زیادہ رکھنا
عبد رکھنا مجھے مزدور نہ ہونے دینا
میری عیبوں کی سیاہی کا تُو پردہ رکھنا
میں برا ہوں تو یہ مشہور نہ ہونے دینا

46
رضی اللہ تعالی عنہ
ہماری آنکھ میں یہ نم رہے گا
تمہارا غم ہمارا غم رہے گا
ہمارے ہاتھ میں تیرا علم ہے
ہمارے ساتھ یہ پرچم رہے گا
تری باتیں مہکتی ہی رہیں گی

42
سرکار(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے سب سے کہا، مجھے اس سے محبت ہے
اور دن کے نکلنے پر محفل میں علی (رضی اللہ تعالی عنہ) آئے
گر اس کو عطا سمجھو, پھر اس میں جھگڑنا کیا
سو ٹھیک ہے پھر کہنا، مشکل میں علی(رضی اللہ تعالیٰ عنہ) آئے
لمحے میں نجف پہنچا، روضے کی بلائیں لیں
حیران سا مل آیا، جب دل میں علی(رضی اللہ تعالیٰ عنہ) آئے

38
آتش بجھے گی دل کی ،وہ گلنار دیکھ کر
یہ نار سرد پڑتی ہے وہ نار دیکھ کر
ویسے علاج سستا ہے اس کے مریض کا
قیمت بڑھا رہا ہے وہ بیمار دیکھ کر
نظموں کے ہار کھل گئےلہجے کے وار سے
ہاتھوں سے پھول گر گئے تلوار دیکھ کر

0
37