حق کی کسی بات پر مار دیا جائے گا
نیزے پہ چڑھا کے سر مار دیا جائے گا
جھوٹ پہ قائم ہیں دنیا کے سبھی واسطے
سچ تو خدا کے ہی گھر مار دیا جائے گا
عقل و خرد کی دکھانے کو کوئی رفعتیں
سارے کا سارا یہ شہر مار دیا جائے گا

0
5
گمشدہ تھا میں کہ تجھ سے آشنائی ہو گئی
رہگزر بھی مل گئی، منزل کُشائی ہو گئی
خوف، غم، شبہے، سبھی مجھ سے جدا یوں ہو گئے
سامنے میرے عیاں سب ماورائی ہو گئی

0
9
گمشدہ تھا میں کہ تجھ سے آشنائی ہو گئی
رہگزر بھی مل گئی، منزل کُشائی ہو گئی
خوف، غم، شبہے، سبھی مجھ سے جدا یوں ہو گئے
سامنے میرے عیاں سب ماورائی ہو گئی

0
4
کبھی ان کے اک اشارے پہ یہ دل دریدہ کرتے
کبھی ان کی چشمِ نرگس سے ہی مے کشیدہ کرتے
جو شناسِ عشق ہوتے کبھی در پہ غیر کے ہم
نہ تو سر جھکاتے اپنا نہ کمر خمیدہ کرتے
کسی راہزن سے رہبر، سے نہ دب کے کوئی رہتا
نہ ثنائے کذب ہوتی نہ کوئی قصیدہ کرتے

0
3
شبِ معراج میں جانا نبی کا
بتاتا ہے جو ہے رتبہ نبی کا
ہے رتبہ کس قدر اعلیٰ نبی کا
ہے عرشِ حق پہ نقشِ پانبی کا
شبِ معراج قربِ خاص میں بھی
سوال امت کی خاطر تھا نبی کا

0
2
اب میں احباب میں خاموش گنا جاتا ہوں
میرے ساتھی جو نہیں تنہا رہا جاتا ہوں
اپنے بچوں میں مجھے ماضی نظر آتا ہے
دیکھ کر ان کو میں بچپن میں چلا جاتا ہوں
صبحِ نو کی مجھے امّید جواں رکھتی ہے
اس طرح خود کو تسلّی تو دلا جاتا ہوں

0
5
مرے ہجر میں کیسا کرتی تھی محسوس
ترے گیت سنتا ہوں میں اب تُو بن کر
نور شیر

0
3
میرا نام حمیرا قریشی ہے میں شاعرہ و بلاگر ہوں 

3
53
کیا صرف مُسلمان کے پیارے ہیں حُسین
چرخِ نوعِ بَشَر کے تارے ہیں حُسین
انسان کو بیدار تو ہو لینے دو
ہر قوم پکارے گی، ہمارے ہیں حُسین

3
464
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

48
653
بعض اوقات شاعر الف کا وصال پچھلے لفظ کیساتھ ایسے کرتے ہیں کہ   پچھلے لفظ کے آخری حرف کی آواز الف میں ضم ہو جاتی ہے۔

6
590
جب تری جان ہو گئی ہوگی​
جان حیران ہو گئی ہو گی​
شب تھا میری نگہ کا بوجھ اس پر​
وہ تو ہلکان ہو گئی ہو گی​
اس کی خاطر ہوا میں خوار بہت​
وہ مِری آن ہو گئی ہو گی​

فاعِلاتن مفاعِلن فِعْلن


1
315
 عروض ویب سائٹ لنکس:سائٹ پر کلام کے بحور کی فہرستدیوانِ غالبآسان عروض اور شاعری کی بنیادی باتیں (بیس اسباق)سائٹ اور شاعری پر مضامینتعاون برائے اخراجاتالف کا وصال - میر تقی میر کی مثاللغت میں غلط الفاظ کی نشاندہی یا نئے الفاظ کو شامل کریںلغات/فرہنگ:لغت کبیراردو انسائکلوپیڈیااملا نامہ فرہنگ آصفیہ مکمل (پی ڈی ایف 84 میگابائٹ)فیروز اللغات (پی ڈی ایف 53 میگابائٹ)بیرونی لنکس:فرہنگ قافیہA Desertful of Roses- Urdu Ghazals of Mirza Ghalibعلم عروض وڈیو اسباق - بھٹنا گر شادابؔ

3
300
مرے ساتھ چلنا، ابھی  چھوڑ دو تم تمہارے خیالات کے میں،مطابق نہیں ہوں ہمیشہ سے لہجہ مرا تلخ سا ہےخلاصہ یہ ہے میں منافق نہیں ہوں

28
سراب کیا ہے؟ سراب یہی ہے کہ ایک لق و دق صحرا میں ایک پیاسا مسافر دور ایک چمکتی ہوئی چیز کو دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ یہ شاید ریت چمک رہی ہے۔ لیکن جب پاس جا کہ دیکھتا ہے تو وہاں پر ریت نہیں بلکہ پانی ہوتا ہے۔سفیان بلال

29
اس نے سکوتِ شب میں بھی اپنا پیام رکھ دیا
ہجر کی رات بام پر ماہِ تمام رکھ دیا
آمدِ دوست کی نوید کوئے وفا میں عام تھی
میں نے بھی اک چراغ سا دل سرِ شام رکھ دیا
شدتِ تشنگی میں بھی غیرتِ مے کشی رہی
اس نے جو پھیر لی نظر میں نے بھی جام رکھ دیا

مفتَعِلن مفاعِلن مفتَعِلن مفاعِلن


7
420
نہ انتظار کی لذت نہ آرزو کی تھکن
بجھی ہیں درد کی شمعیں کہ سو گیا ہے بدن
سُلگ رہی ہیں نہ جانے کس آنچ سے آنکھیں
نہ آنسوؤں کی طلب ہے نہ رتجگوں کی جلن
دلِ فریب زدہ دعوتِ نظر پہ نہ جا
یہ آج کے قد و گیسو ہیں کل کہ دار و رسن

مفاعِلن فَعِلاتن مفاعِلن فِعْلن


1
203
ایک دن مثلِ پتنگِ کاغذی
لے کے دل سر رشتۂ آزادگی
خود بخود کچھ ہم سے کنیانے لگا
اس قدر بگڑا کے سر کھانے لگا
میں کہا اے دل ہوائے دلبراں
بس کہ تیرے حق میں کہتی ہے زباں

فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلن


115
کیا زخم ہے وہ زخم کہ مرہم نہیں جس کا
کیا درد ہے جز دل کوئی محرم نہیں جس کا
کیا داغ ہے جلنا کوئی دم کم نہیں جس کا
کیا غم ہے کہ آخر کبھی ماتم نہیں جس کا
کس داغ میں صدمہ ہے فراقِ تن و جاں کا
وہ داغ ضعیفی میں ہے، فرزندِ جواں کا

مفعول مفاعیل مفاعیل فَعُولن


1
301
عشق تو ایک کرشمہ ہے فسوں ہے یوں ہے
یوں تو کہنے کو سبھی کہتے ہیں یوں ہے یوں ہے
جیسے کوئی درِ دل پر ہو ستادہ کب سے
ایک سایہ نہ دروں ہے نہ بروں ہے یوں ہے
تم محبت میں کہاں سود و زیاں لے آئے
عشق کا نام خِرد ہے نہ جَنوں ہے یوں ہے

فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن


1
267