مری کیسی طبیعت ہو گئی ہے
مجھے زنداں سے الفت ہوگئی ہے
خرد سے ہو گیا بیگانہ یہ دل
محبت اک مصیبت ہو گئی ہے
حسیں چہرے پہ اس کے زلف کالی
قیامت پر قیامت ہو گئی ہے

0
7
اُس سے آنکھیں ملا رہا ہوں پھر سے
چاہت کے گُل کھلا رہا ہوں پھر سے
مجھ کو مدہوش کر رہی ہیں باتیں
باتوں سے دل بھلا رہا ہوں پھر سے

0
2
جدائی میں تیری وہی ہے سہارا
------یا
ہے جینے کا میرے وہی اک سہارا
سمے ساتھ تیرے جو مل کر گزارا
-----------
مری گر خطا تھی بتا کر تو جاتے

0
4
مشکلیں ہوتی ہیں آسان مدینے میں چلو!
خالی بھر جاتے ہیں دامان مدینے میں چلو!
درد و غم رنج و الم دور چلے جاتے ہیں
دل میں رہتا نہیں خلجان مدینے میں چلو!
بارشِ نور مدینے میں برستی رم جھم
پھول کا لگتا ہے گلدان مدینے میں چلو!

0
10
غزل
کلیوں کے جیسی نازکی قربان جائیے
رنگیں لبوں کی چاشنی قربان جائیے
پھُولوں کِیطرح کِھل اُٹھیں نازک ہتھیلیاں
رنگِ حِنا کی دِلکشی قربان جائیے
چَھن چَھن کے جھانکنے لگی نازک لباس سے

0
9
بس ایک ہی لیے میں نقصان رہتا ہوں
میں اپنے گھر میں بن کے مہمان رہتا ہوں
سب ہی حقیقتیں دیتی ہیں اذیتیں
ان سب حقیقتوں سے انجان رہتا ہوں
گھر تھاکبھی محبت کے شہر میں مرا
اس واسطے میں پیہم ویران رہتا ہوں

0
4
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

37
400
بعض اوقات شاعر الف کا وصال پچھلے لفظ کیساتھ ایسے کرتے ہیں کہ   پچھلے لفظ کے آخری حرف کی آواز الف میں ضم ہو جاتی ہے۔

5
381
ایک دن مثلِ پتنگِ کاغذی
لے کے دل سر رشتۂ آزادگی
خود بخود کچھ ہم سے کنیانے لگا
اس قدر بگڑا کے سر کھانے لگا
میں کہا اے دل ہوائے دلبراں
بس کہ تیرے حق میں کہتی ہے زباں

فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلن


0
38
 عروض ویب سائٹ لنکس:سائٹ پر کلام کے بحور کی فہرستدیوانِ غالبآسان عروض اور شاعری کی بنیادی باتیں (بیس اسباق)سائٹ اور شاعری پر مضامینتعاون برائے اخراجاتالف کا وصال - میر تقی میر کی مثاللغت میں غلط الفاظ کی نشاندہی یا نئے الفاظ کو شامل کریںلغات/فرہنگ:لغت کبیراردو انسائکلوپیڈیااملا نامہ فرہنگ آصفیہ مکمل (پی ڈی ایف 84 میگابائٹ)فیروز اللغات (پی ڈی ایف 53 میگابائٹ)بیرونی لنکس:فرہنگ قافیہA Desertful of Roses- Urdu Ghazals of Mirza Ghalibعلم عروض وڈیو اسباق - بھٹنا گر شادابؔ

120
محترم صارفین۔ ہم نہایت مسرت سے اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ #عروض سائٹ جو سن 2014 میں شروع ہوئی تھی اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔  چند چیدہ چیدہ نکات کی طرف ہم توجہ دلائیں گے:اب آپ شاعری کو پرکھنے کے علاوہ اپنی بیاض میں شاعری کو save بھی کر سکتے ہیں اور جب آپ اپنی شاعری سے مطمئن ہوں تو اس کو شائع کر سکتے ہیں۔ گفتگو یا بلاگ کے سیکشن کا بھی اضافہ کیا گیا ہے، جس سے آپ بلاگ پوسٹ بھی کر سکتے ہیں۔ یا پھر شاعری یا دیگر شعبوں کے بارے میں سوالات کر سکتے ہیں۔ایک دوسرے کو پیغامات بھیجنے کی بھی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ ان سب چیزوں سے مسفید ہونے کے لئے آپ  google یا facebook کے اکاونٹ کو استعمال کر کے برق رفتاری سے نیا اکاونٹ بنا سکتے ہیں۔تو دیر کس بات کی ہے۔ آپ اس سائٹ کو بھرپور انداز میں استعمال کریں، اور جہاں مسائل آئیں تو ہمیں آگاہ کریں۔آخری بات،پاکستان اور ہندوستان کے باسیوں کو جشنِ آزادی مبارک ہو! ☺

43
565
ہر انسان کے اندر کوئی نہ کوئی مزار ہوتا ہے “محبت کا مزار” جس پہ وہ دھمالیں ڈالتا ہے، قوالیاں گاتا ہے، نذرانے چڑھاتا ہےاور مرادیں مانگتا ہے بس فرق یہ ہے کہ وہ مرادیں، وہ دھمالیں، وہ نذرانے صاحبِ مزار کو ہی خوش کرنے اور اُسے پانے کے لیے ہوتی ہیں.. کُچھ لوگ تو اس مزار پہ سجدے تک کر دینے سے نہیں ہچکچاتے..کُچھ لوگوں کے اندر کئی مزار ہوتے ہیں وہ کبھی ایک کبھی دوسرے در پہ بھٹکتے رہتے ہیں اور سو میں سے کوئی دو فیصد لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی تڑپ دیکھ کر صاحبِ مزار اُنہیں مصافحے سے نواز دیتے ہیں ، مل جاتے ہیں..میرے  کوزہ گر مُجھے گوندھ پھرمیرے یار کی خاکِ پاک سےکہ مٹ سکیں ازل کے فاصلےمیری منزل سکندر نصیب ہوفیصل ملک

43
کیا زخم ہے وہ زخم کہ مرہم نہیں جس کا
کیا درد ہے جز دل کوئی محرم نہیں جس کا
کیا داغ ہے جلنا کوئی دم کم نہیں جس کا
کیا غم ہے کہ آخر کبھی ماتم نہیں جس کا
کس داغ میں صدمہ ہے فراقِ تن و جاں کا
وہ داغ ضعیفی میں ہے، فرزندِ جواں کا

مفعول مفاعیل مفاعیل فَعُولن


1
164
عشق تو ایک کرشمہ ہے فسوں ہے یوں ہے
یوں تو کہنے کو سبھی کہتے ہیں یوں ہے یوں ہے
جیسے کوئی درِ دل پر ہو ستادہ کب سے
ایک سایہ نہ دروں ہے نہ بروں ہے یوں ہے
تم محبت میں کہاں سود و زیاں لے آئے
عشق کا نام خِرد ہے نہ جَنوں ہے یوں ہے

فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن


1
156
اس نے سکوتِ شب میں بھی اپنا پیام رکھ دیا
ہجر کی رات بام پر ماہِ تمام رکھ دیا
آمدِ دوست کی نوید کوئے وفا میں عام تھی
میں نے بھی اک چراغ سا دل سرِ شام رکھ دیا
شدتِ تشنگی میں بھی غیرتِ مے کشی رہی
اس نے جو پھیر لی نظر میں نے بھی جام رکھ دیا

مفتَعِلن مفاعِلن مفتَعِلن مفاعِلن


6
249
کیا صرف مُسلمان کے پیارے ہیں حُسین
چرخِ نوعِ بَشَر کے تارے ہیں حُسین
انسان کو بیدار تو ہو لینے دو
ہر قوم پکارے گی، ہمارے ہیں حُسین

2
217
وہ تو پتھر پہ بھی گزرے نہ خدا ہونے تک
جو سفر میں نے نہ ہونے سے کیا ہونے تک
زندگی اس سے زیادہ تو نہیں عمر تری
بس کسی دوست کے ملنے سے جدا ہونے تک
ایک اِک سانس مری رہن تھی دِلدار کے پاس
نقدِ جاں بھی نہ رہا قرض ادا ہونے تک

فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن


2
76
ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے
تیرے ہونٹوں کے پھولوں کی چاہت میں ہم
دار کی خشک ٹہنی پہ وارے گئے
تیرے ہاتھوں کی شمعوں کی حسرت میں ہم
نیم تاریک راہوں میں مارے گئے
سولیوں پر ہمارے لبوں سے پرے

فاعِلن فاعِلن فاعِلن فاعِلن


142