معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



398
6097
موسمِ رنگ و بو آئے
رو برو جب بھی تو آئے
کون ہے تجھ سا مری جاں
اور جتنے خوب رو آئے
میکدے میں تیرے ساقی
ایک ہم ہی با وضو آئے

0
کر رہے تھے ایک دن یوں ہی وہ اعلان جی
کیوں کہیں ہیں آپ ان کو مری ہیں جان جی
عشق کرنا ہے کھٹن کہتے ہیں غالب میاں
پھر بھی کرتے کیوں بھلا آپ یہ سامان جی
میر کا کہنا ہے یہ عشق ہے نادم غذا
کر رہے ہیں پھر یہ کیوں مرنے کا اعلان جی

0
11
بھلا میں کوسوں کسی کو کیوں کر، ستم زدہ بھی, میں خود ستم گر
کسی کا میں نے ہے کیا بگاڑا، تو کیوں کرے کو ئی ظلم مجھ پر
ضرر ہی کیا ہے کہو تو اس میں، پھروں میں یونہی جو در بدر گر
رکھوں کسی سے میں کیوں عداوت، مرا عدو ہے مرا مقدّر
مجھے سمجھتے ہو تم بھی پاگل، جو دیکھتے ہو یوں ہو کے ششدر
کبھی بدلتا ہے وقت تیور تو چھوڑ جاتے ہیں لوگ اکثر

0
1
رخشندہ جبیں اے نورِ نظر
اے نورِ سحر تو رشکِ قمر
اک جلوہ ہوا جو تیرا ادھر
روپوش ہوا وہ چاند ادھر
ہوتا ہو جو ہو انجامِ سفر
تو تھام لے میرا ہاتھ مگر

0
6
لفظوں میں جھوٹ چھپا دیتے ہیں
لوگ باتوں سے دغا دیتے ہیں
چاشنی لہجوں سے دنیا والے
سُولی پر پیاسا چڑھا دیتے ہیں

0
1
آواز دے رہی ہیں تجھکو صدائیں دل کی
آکے سنو کبھی تم تنہائیاں غزل کی
لفظوں کی دھار دیکھو دل کا غبار دیکھو
حسنِ غزل میں پنہاں شاعر کا پیار دیکھو
محسوس ہو رہا ہے کوئی پری ہو جیسے
خوشبو بکھیرتی اک گل کی کلی ہو جیسے

0
6
فلک پر رات بھر مہتاب اور تاروں نے باتیں کیں
شب تنہائی مجھ سے گھر کی دیواروں نے باتیں کیں
شکایت غیر سے مجھ کو عبث معلوم ہوتی ہے
مگر جن پر میں نازاں تھا انہی یاروں نے باتیں کیں
خزاں میں گلستاں میں جب سبھی پھولوں کو موت آئی
بہار آنے تلک تتلی سے پھر خاروں نے باتیں کیں

0
2
مری تو جان بھی حاضر نچھاور مال و زر اس پر
اسے گر ہو ضرورت تو میں بیچوں گھر اسے دے دوں
میں اس کی زلف کا قیدی ہوں اس کے حکم کے تابع
اشارہ تو کرے وہ اک، اتاروں سر اسے دے دوں

0
1
نجم و قمر سحاب تھے جس شب چھپے ہوئے
ارمان ان سے دل کے کہے سب چھپے ہوئے
چشمِ سیہ کی برق تو سہہ لی تھی قلب پر
مر ہی گئے جو دیکھے حسیں لب چھپے ہوئے
قربت جو دیکھی مجھ سے تری مارے بغض کے
ظاہر ہوئے رقیب مرے سب چھپے ہوئے

3
بَنام اِقرار اُلحَسَن!!!
——
اَبھی تو تُم ہو زیرِ غَور شایَد
اَبھی لانا ہے لائے تو نَہِیں ہیں
اَبھی سے تُم ہُوئے جاتے ہو پاگَل
وہ دِن آنے ہیں آئے تو نَہِیں ہیں

0
2
بہت ہیں یاں بہترینِ چہرے
حسین و دل کش ترین چہرے
مگر ہے رب نے بنایا کمتر
تمہارے جیسے حسین چہرے

0
2
مجھ کو درِ رسول کی الفت نصیب ہو
دربار نور کی مجھے قربت نصیب ہو
تیری رضا کے واسطے ہر کام ہو مرا
اللہ مجھے خلوص کی نعمت نصیب ہو
روشن ہو دل درود کی خوشبو سے ہر گھڑی
اس ورد بے مثال کی عادت نصیب ہو

1
8
مجھے چاہے کافر کہہ دو اے میرے دشمنو
جو دل میں ہے وہ کہہ ڈالو اے میرے دشمنو
مری راہ میں کیوں کانٹے بچھا رہے ہو تم
قدر وقت کی کچھ کر لو اے میرے دشمنو
جو کچھ کرنا ہے کر گزرو اے میرے دشمنو
مجھے چاہے کافر کہہ دو اے میرے دشمنو

0
5
کون سے موڑ پہ یہ وقت ٹھہر جائے گا
جو بھی آیا ہے یہاں، چھوڑ کے گھر جائے گا
اتنی تلخی ہے مری زیست کے پیمانے میں
یاد کا زہر رگ و پے میں اتر جائے گا
دشتِ تنہائی میں بکھریں گے خیالوں کے گلاب
تیری یادوں کا دھواں بھی بے اثر جائے گا

0
8
تو یاد رکھے کہ بھول جائے ہے تیری مرضی
مری طرف سے ختم نہ ہو گی کبھی محبت
بلا تکلف تجھے اجازت ہے ہر ستم کی
سوائے تیرے کوئی کرے کیوں ہے کس کی جرات

0
خیال و خواب کی بستی کو جاوداں سمجھے
جو مٹ گیا اسے ہم اپنی داستاں سمجھے
وہ بے رخی کہ ٹھہر جائے نبضِ ہستی بھی
وہ التفات جسے ہم سکونِ جاں سمجھے
فریبِ عقل نے دی ہے عجب بصیرت بھی
کہ اپنے گھر کو ہی ہم سارا گلستاں سمجھے

0
4
ہار اور جیت کا جو امکان لیے پھرتے ہیں
کتنے سادہ ہیں نقصان لیے پھرتے ہیں
دل میں تیرا غم نازک بدن اور کچھ سانسیں
دیکھ ذرا ہم کیا سامان لیے پھرتے ہیں؟
سچ تو یہ ہے اس کو ضرورت ہی نہیں ورنہ
وہ مانگے تو سہی ہم جان لیے پھرتے ہیں

0
8
زخم دل کو ضیا سمجھتے ہیں
ہم کہ خود کو دیا سمجھتے ہیں
ہیں ادائیں سبھی محبت کی
یار کو پارسا سمجھتے ہیں
شوخیاں یاد ہیں ہمیں ساری
ہجر کو اک جزا سمجھتے ہیں

0
4
شر جو ہر سو پھیلاتا ہے
خود کو اچھا کہلاتا ہے
کانا پھوسی کی عادت سے
سب کو باہم لڑواتا ہے
کانوں کا جو کچا ٹھہرا
انگلی پر پھر نچواتا ہے

0
5
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

195
7843
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

398
6097
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ الفاظ صرف آوازیں ہیں، چند جملے ہیں جو لبوں سے نکل کر فضا میں بکھر جاتے ہیں۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔لفظ کبھی خالی نہیں ہوتے اپنا اثر رکھتے ہیں وہ ہمارے باطن کے عکاس ہوتے ہیں،لفظ ہماری سوچ، ہمارے تجربات، ہماری نیت اور ہمارے اندر چھپی دنیا کو آشکار کرتے ہیں۔جو کچھ ہم بولتے ہیں، وہ اچانک پیدا نہیں ہو جاتا۔ وہ ہمارے ذہن کی زمین میں بویا گیا  بیج ہوتا ہے، جو  خیال بنتا ہے، اور آخرکار لفظ کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ذہن ایک کھیت کی مانند ہے۔اگر اس میں علم کے بیج بوئے جائیں، مثبت سوچ کا پانی دیا جائے اور اچھی صحبت کی دھوپ اور چھاؤں ملے، تو ، سچائی اور حکمت کی فصل اگتی ہے۔لیکن اگر اسی زمین میں نفرت، حسد، بدگمانی اور جھوٹ کے کانٹے بو دیے جائیں، تو زبان سے نکلنے والے الفاظ تلوار سے زیادہ تیز اور  نیزوں کی طرح چبھنے لگتے ہیں۔ لفظوں کے ساتھ لہجہ  اندر کی کیفیت کا عکس ہوتا ہے۔جو دل میں سکون رکھتا ہے، اس کی شخصیت میں ٹھہراؤ ،زبان میں نرمی ہوتی ہے۔جو دل میں آگ رکھتا ہے، اس کے لفظ بھی جلانے لگتے ہیں۔کسی انسان کو جاننے کے لیے  اس کا ماضی، حال، لباس دیکھنا  یا

0
23