معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



395
5824
اک امتحان سے سارے امتحان نکلے
اور امتحان بھی ایسے ہیں کہ جان نکلے
جتنے ثبوت تھے تیرے ہی نشان نکلے
حق میں ہمارے کس کے منہ سے زبان نکلے
جس طرح کی عنائت پروردگارِ نے کی
کس واسطے یہ آدم بھی مہربان نکلے

0
1
چشمِ نم بھی نہیں جامِ تر بھی نہیں
اس جہاں میں کہیں میرا گھر بھی نہیں
تجھ سا چہرا ملا نہ کہیں بھی مجھے
تیرے در سا ملا کوئ در بھی نہیں
یہ الگ بات تجھ سے محبت بھی ہے
یہ الگ بات تجھ کو قدر بھی نہیں

0
17
راحتیں آپ کی رکھیل میاں
قسمتوں میں ہے اپنی جیل میاں
طوق فولاد کا ہے گردن میں
ناک میں رسی و نکیل میاں
ہم کو آتی ہے عقل لاٹھی سے
سوچ لینے گئی جو تیل میاں

0
4
مَرْیَم نَواز کا با تَصْوِیر رَمَضان پَیکج!!!
——
سَرْکار کے پیسے ہیں تو کیا؟ یِہ اُدّھار کے پیسے ہیں تو کیا؟
تُم اَپنے نام سے دَان کرو، تُم اَپنی اُونچی شان کرو
پِھر چاہے سَحَری کرواؤ یا اِفْطاری سَب جائز ہے
تَصْوِیر ہَٹا لو ہَر شے سے، بَس اِتنا سا اِحْسان کرو

0
3
ان کی مسجد میں جب بھی آتے ہیں
باغِ جنت کا لطف پاتے ہیں
جو بھی لکھتے ہیں ان کی  مدحت میں
زیر لب آنسوؤں سے گاتے ہیں
جھولیاں بھر کے فیض سے ان کے
عرضیاں اور ڈال جاتے ہیں

0
4
تجھ پہ گزرے نہ کوئی شام قیامت کی طرح
تیرے آنگن میں رہے نور محبت کی طرح
تیرے ہونٹوں پہ رہے شوخئ مسکان سدا
کوئی آئے نہ بلا سر پہ اذیت کی طرح
کس طرح ذکر سے محروم کروں میں خود کو
تو مری روح میں شامل ہے عبادت کی طرح

0
5
رقیہ…
تم اک پری ہو،
پری بھی ایسی
جس کے ستر ہزار پر ہوں،
اور ہر پر میں ایک شفاعت،
ہر پر میں ایک دعا کی نمی،

0
5
آرام و راحتِ جاں الفت حضور کی
کرتے ہیں جن و انساں مدحت حضور کی
سدرہ نواز کر وہ عرشِ بریں پہ ہیں
کیسے دکھائے مولا عظمت حضور کی
منظر نظارے اُن کا عکسِ جمال ہیں
واحد خدا نے دیکھی صورت حضور کی

1
6
ایک بار دید ہوئی بار بار عار ہوا
تب سے لیکے آج تلک صرف انتظار ہوا
کوئی راز کہہ نہ سکا سامنے وہ کھُل کے کبھی
پہلے بے قرار کیا پھر وہ بے قرار ہوا
عقل مند ہو گئے وہ مشورے پسند نہیں
بچے اب سیانے ہوئے ختم اختیار ہوا

0
3
غمزدہ ہے دل ہمارا رب کے مہماں الوداع
اشک آنکھوں سے رواں ہیں ماہِ رمضاں الوداع
قلبِ عاشق کے لئے تُو بن کے آیا تھا بہار
تیرے جانے پر ہے دِل ویران و سُنساں الوداع
گیارہ ماہ تک اب رُلائے گا ہمیں غم ہجر کا
جا ترا اللہ حافظ اے مری جاں الوداع

0
4
ہر ایک شے ہے میسر مگر قرار نہیں
دلِ شکستہ کسی طرح رست گار نہیں
غمِ حیات کے انداز تو وہی ہیں مگر
تمہارے بعد مجھے خود پہ اعتبار نہیں
ہلاکتوں میں گھرا دور ہے تکاثر کا
کوئی فقیر نہیں کوئی خاکسار نہیں

0
9
﷽ﷺ
ماذاغ سرمہ والی سرکار کی بصر ہے
بانٹے یہ نورِ حق کو جاتی جدھر نظر ہے
قرآن ہیں جو ناطق پیارے حبیبِ یزداں
نورِ ہدا نبی ہیں صورت مگر بشر ہے
خلدِ بریں خدا کی آباد مصطفیٰ سے

0
1
وسعتِ کون و مکاں میں دشتِ امکاں خیمہ زن
چشمِ حیراں کے مقابل رازِ پنہاں خیمہ زن
ٹوٹ کر بکھری ہیں کلیاں آرزو کی شاخ سے
خلوتِ احساس میں اب دردِ ہجراں خیمہ زن
تند لہروں کی طنابیں کھینچتا ہے آسماں
بحرِ ہستی کے سفر میں شورِ طوفاں خیمہ زن

0
11
شہرِ جاناں، کوئے دل، ہر دردِ پنہاں معتبر
مسلکِ دیوانگی میں، عشقِ عریاں معتبر
​عہدِ نو کی جستجو میں لٹ گئی ہر آرزو
سازشِ عقل و خرد، یا جبرِ دوراں معتبر
​تیرگی کی حکمرانی میں بھٹکتی چشمِ تر
موجِ دریا، تند ساحل، شورِ طوفاں معتبر

0
10
صِرْف 11 اَرب رُوپے کا خُصُوصی لَگْژَری طَیّارَہ!!!
——
یِہ ہَم جو روز کھاتے ہیں یِہ سَب خَیْرات ہے بی بی
ہَم ایسے بِھیک مَنگوں کی یَہی اَوْقات ہے بی بی
فَقَط مَہنگے جَہازوں سے کوئی اُونچا نَہِیں اُڑتا
جو عِزَّت دے کہ ذِلَّت دے خُدا کی ذات ہے بی بی

0
4
جب بھی لاہور سے ہجرت کا سوال آتا ہے
مجھکو رہ رہ کے فقط تیرا خیال آتا ہے
تیرے پہلو نے بچا رکھی ہے عزت اپنی
ورنہ خورشید پہ بھی وقتِ زوال آتا ہے
مصر والوں کو بتانا ہے حسیں کا مطلب
اب سرِ بزم مرا زہرہ جمال آتا ہے

0
10
فلک پر ہمارا ستارہ نہیں ہے
ہمارے سفر کا کنارہ نہیں ہے
​دلوں میں بسی ہے اسی کی محبت
کہ اس کے سوا کچھ نظارہ نہیں ہے
​جھکی ہیں نگاہیں حیا سے تمہاری
ہماری طرف اک اشارہ نہیں ہے

0
19
غَزہ اَمْن بورڈ اِجْلاس: ٹَرَمْپ اور پِی اَیم!!!
——
وہ بَد کِرْدار، وہ وَحْشی دَرِنْدَہ
اُسی حَیوان کے گُن گا رَہے ہیں
جسے دُنیا مَلامَت کر رَہی ہے
ہَم اُس شَیطان کے گُن گا رَہے ہیں

0
2
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ الفاظ صرف آوازیں ہیں، چند جملے ہیں جو لبوں سے نکل کر فضا میں بکھر جاتے ہیں۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔لفظ کبھی خالی نہیں ہوتے اپنا اثر رکھتے ہیں وہ ہمارے باطن کے عکاس ہوتے ہیں،لفظ ہماری سوچ، ہمارے تجربات، ہماری نیت اور ہمارے اندر چھپی دنیا کو آشکار کرتے ہیں۔جو کچھ ہم بولتے ہیں، وہ اچانک پیدا نہیں ہو جاتا۔ وہ ہمارے ذہن کی زمین میں بویا گیا  بیج ہوتا ہے، جو  خیال بنتا ہے، اور آخرکار لفظ کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ذہن ایک کھیت کی مانند ہے۔اگر اس میں علم کے بیج بوئے جائیں، مثبت سوچ کا پانی دیا جائے اور اچھی صحبت کی دھوپ اور چھاؤں ملے، تو ، سچائی اور حکمت کی فصل اگتی ہے۔لیکن اگر اسی زمین میں نفرت، حسد، بدگمانی اور جھوٹ کے کانٹے بو دیے جائیں، تو زبان سے نکلنے والے الفاظ تلوار سے زیادہ تیز اور  نیزوں کی طرح چبھنے لگتے ہیں۔ لفظوں کے ساتھ لہجہ  اندر کی کیفیت کا عکس ہوتا ہے۔جو دل میں سکون رکھتا ہے، اس کی شخصیت میں ٹھہراؤ ،زبان میں نرمی ہوتی ہے۔جو دل میں آگ رکھتا ہے، اس کے لفظ بھی جلانے لگتے ہیں۔کسی انسان کو جاننے کے لیے  اس کا ماضی، حال، لباس دیکھنا  یا

0
6
اس سائٹ کو بنانے کے لئے درج ذیل #سافٹوئر اور #ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے:بیک انڈ پر  c# اور Net Core 3.1. کا استعمال کیا گیا ہے۔ کلائنٹ سائڈ پر JavaScript اور  JQuery  کا استعمال ہے - یوزر انٹرفیس اور سٹائلنگ کے لئے  Boostrap 4.5   کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس سائٹ پر نہائت خوبصورت مہرنستعلیق ویب فانٹ کا استعمال کیا گیا ہے جس کے لئے ہم  مشہور خطاط نصر اللہ مہر صاحب اور  ان کے صاحبزادے ذیشان نصر صاحب کے نہایت شکر گزار ہیں۔سائٹ کا لوگو بھی ذیشان نصر صاحب کا ڈیزائن کردہ ہے۔ اس کے علاوہ اردو محفل کے اراکین کا بھی شکریہ جو کہ مفید مشوروں سے نوازتے ہیں۔اردو کیبورڈ کے لئے yauk  اور  اردو ایڈیٹر کیبورڈ سے استفادہ کیا گیا ہے۔ورژن 1 کا سورس کوڈ گٹ ہب پر موجود ہے۔ 

16
774