معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



398
6148
اس کی چاہت صدا ہے قربانی
بندگی کا مزہ ہے قربانی
سنتِ حضرتِ خلیلؑ ہے یہ
راہِ صدق و صفا ہے قربانی
سر کو رب کے لیے جھکانے کو
کتنی عمدہ عطا ہے قربانی

0
6
لبوں پہ نامِ الہی، نگاہ میں تسلیم
خلیلؑ چل پڑے لے کر وفا کا عزمِ عظیم
فضا بھی ساکت و خاموش، وقت بھی حیران
یہ کس مقام پہ پہنچا ہے عشق کا ایمان
نہ تخت و تاج کی خواہش، نہ آرزوئے جہاں
اسی نے مانگ لیا تھا دلِ پدر کا گماں

0
2
1. جذبۂ الفت (مطلع)
یہ چراغِ شوق دل کی لو بڑھا دیتے ہیں
اہلِ الفت زخم پر بھی گل کھلا دیتے ہیں
2. بے وفائی کا رستہ
لوگ کیسے کیسے فتنے ہی بھڑکا دیتے ہیں
دل وفا سے لایعنی ہوں تو بھٹکا دیتے ہیں

0
4
ہوتی ہے سحر دھیرے دھیرے
ملتا ہے ثَمر دھیرے دھیرے
امبر کی کشادہ بانہوں میں
سوتا ہے قمر دھیرے دھیرے
کِینہ دلوں میں رکھنے والے
کرتے ہیں مَکر دھیرے دھیرے

0
4
جو موزوں مرے مجھ سے حالات ہوتے
بیاں خود پہ گزرے جو صدمات ہوتے
جواب ان کا جانے کہاں سے ملے گا
عجب سے ہیں دل میں سوالات ہوتے
نہیں چپ رہیں گے یہ آزاد پنچھی
کہاں قید سچے ہیں جذبات ہوتے

0
4
قتل پہ بچوں کے چپ ہوں میں اچھا پاکستانی ہوں
قاتل سے ہمدردی بھی ہے ایسا پاکستانی ہوں
تم نے یار کہیں دیکھی ہے اس جیسی نامردی بھی
عزت لوٹنے والوں کو بھی کہتا پاکستانی ہوں
ملک کو آگ لگا کر اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے پھر
نسل پرستی کی زنجیر میں جکڑا پاکستانی ہوں

0
3
دل کے بوجھ کو ہلکا کرنے، محفل ایک سجائی ہے
اصل میں ہم سب تنہا ہیں، یہ بھی کیسی تنہائی ہے؟
سامنے بیٹھے اپنوں سے اب بات نہیں کوئی کرتا ہے
ایکس کی اس نگری میں پر، ہر کوئی آہیں بھرتا ہے
لائکس اور کمنٹس کی خاطر، جذبوں کا بیوپار ہوا
اک تصویر کی خاطر بس ہر کوئی جان نثار ہوا

0
4
گناہوں پہ دل اب پشیمان ہے بس
خدایا ترا ہی یہ احسان ہے بس
زمانہ مخالف ہوا ہے تو کیا غم
بہت ہے اگر ساتھ رحمان ہے بس
ترا آسرا مجھ کو کافی ہے مولا
عدو اس حقیقت سے انجان ہے بس

0
4
خودی بہ زانو پہ اپنی ہمیں گنوانی ہو گی
غُلامی میں ہو تو ہر بات ماننی ہو گی

0
2
کس سے اب عرضِ مدعا کیجے
شہر کا شہر ہے خفا، کیجے
ہم تو خود سے بھی اب نہیں ملتے
آپ سے مل کے بھی کیا کیجے
عشق کا روگ تو پرانا ہے
درد بڑھ جائے تو دعا کیجے

0
6
نہ ہم نے کبھی آہ و ماتم کیا
مگر دل ہی دل میں تظلم کیا
کھلی آنکھ تو اڑ گئی رنگتیں
بہارِ چمن نے تبسم کیا
دلِ زار کو مے کدے کی تھی چاہ
زمانے نے رسوا سرِ خم کیا

0
4
شکایت کریں کس سے اب ہم یہاں؟
کہا تھا کہ تجھ سے یہ بہتر نہیں!
ترے واسطے سب سے لڑتے رہے
کہا سب نے، پر ہم نے مانا نہیں
ہوئے آج رسوا تو پتا چلا
زمانہ غلط تھا، یہ ممکن نہیں

0
5
بڑے نور والا یہ دربار ہے
کہ سلطاں یہاں شاہِ ابرار ہے
مرادوں سے اس جا بھریں جھولیاں
یہاں ہے جو داتا گُہر بار ہے
بڑی خیر والا مدینہ ہے یہ
شہے انبیا کا یہ گھر بار ہے

0
4
راستوں میں کوئی دیوار نہ ہو
زندگی ایسی بھی دشوار نہ ہو
ہے تمنا یہ بڑھاپے میں اب
دل محبت کا طلب گار نہ ہو
ہوں بہاریں نہ خزاں کے موسم
شوخیٔ رنگ یہ گلزار نہ ہو

0
5
ہاتھ چھو کر بھی وہ دوری کے زمانے مانگے
بے رخی دیکھ کہ ملنے کے بہانے مانگے
ہم تو مٹ کر بھی رہے مائلِ تسلیم و رضا
دل وہ ناداں کہ اب اُجڑے ہوئے دانے مانگے
اب جو آئے ہیں تو کیوں خوفِ زیاں ہے اتنا
کل یہی تھا کہ محبت کے خزانے مانگے

0
8
دل کے ملبے پہ نئے خواب اگا ہی دیں گے
لوگ ہر زخم کو تقدیر بنا ہی دیں گے
جن کے چہروں پہ وفاداری کے قصّے تھے کبھی
وقت آئے گا تو آئینہ دکھا ہی دیں گے
شہر خاموش ہے، دیواریں بھی سہمی سی ہیں
پھر کوئی شور کے معنی کو سزا ہی دیں گے

0
5
دلِ ناداں کو کوئی نقشِ قدم مل جائے
تیرے ملنے سے ہر اک رنج و الم مل جائے
ہم نے صحرا میں گزاری ہے جو عمرِ رفتہ
کاش اس دشت کو اب زلفِ صنم مل جائے
لوگ کہتے ہیں کہ دنیا میں اندھیرا ہے بہت
روشنی تجھ سے ملے، نورِ حرم مل جائے

0
4
محبتوں میں جو پتھر نگار ہوتا ہے
کب اس کو کانچ کی مورت سے پیار ہوتا ہے
یہ آنکھ صبح تلک بھی کیا سنواروں میں
نظر میں گردشِ لیل و نہار ہوتا ہے
نمازِ سحر اذانوں کے گونجتے سر میں
سماعتوں کو مری اک خمار ہوتا ہے

0
7
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

195
7869
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

398
6148
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ الفاظ صرف آوازیں ہیں، چند جملے ہیں جو لبوں سے نکل کر فضا میں بکھر جاتے ہیں۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔لفظ کبھی خالی نہیں ہوتے اپنا اثر رکھتے ہیں وہ ہمارے باطن کے عکاس ہوتے ہیں،لفظ ہماری سوچ، ہمارے تجربات، ہماری نیت اور ہمارے اندر چھپی دنیا کو آشکار کرتے ہیں۔جو کچھ ہم بولتے ہیں، وہ اچانک پیدا نہیں ہو جاتا۔ وہ ہمارے ذہن کی زمین میں بویا گیا  بیج ہوتا ہے، جو  خیال بنتا ہے، اور آخرکار لفظ کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ذہن ایک کھیت کی مانند ہے۔اگر اس میں علم کے بیج بوئے جائیں، مثبت سوچ کا پانی دیا جائے اور اچھی صحبت کی دھوپ اور چھاؤں ملے، تو ، سچائی اور حکمت کی فصل اگتی ہے۔لیکن اگر اسی زمین میں نفرت، حسد، بدگمانی اور جھوٹ کے کانٹے بو دیے جائیں، تو زبان سے نکلنے والے الفاظ تلوار سے زیادہ تیز اور  نیزوں کی طرح چبھنے لگتے ہیں۔ لفظوں کے ساتھ لہجہ  اندر کی کیفیت کا عکس ہوتا ہے۔جو دل میں سکون رکھتا ہے، اس کی شخصیت میں ٹھہراؤ ،زبان میں نرمی ہوتی ہے۔جو دل میں آگ رکھتا ہے، اس کے لفظ بھی جلانے لگتے ہیں۔کسی انسان کو جاننے کے لیے  اس کا ماضی، حال، لباس دیکھنا  یا

0
29