معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



398
6093
و لن تاجد لسنۃ اللّٰہِ تبدیلا ہے اشارہ
جو مر جائے شخص وہ تو نہیں آتا ہے دوبارہ

0
1
﷽ﷺ
توحید کے ساغر جو خوشیوں سے پلاتے ہیں
وہ ساقیِ کوثر ہیں کونین سجاتے ہیں
وحدت کے ملیں کاسے دلدار سے طالب کو
طاغوت کے جو نقشے ہستی سے مٹاتے ہیں
رحمت کے ابر اُن سے آتے ہیں غلاموں پر

0
اب اس سے نہیں غرض کہ ہارا کیا ہے
مل جائے محبت تو خسارا کیا ہے
یہ جان و دل سب کچھ تم پر فدا ہے
مجھ سے یہ نہ پوچھو کہ تمہارا کیا ہے
جس نے سہا ہو تنہا زمانے کا دکھ
وہ کیسے جانے کہ سہارا کیا ہے

0
1
دنیا کی یہ عارضی سی زندگانی ہے کیا؟
دل میں ہے خوف خدا تو حکمرانی ہے کیا؟
مال و زر کی چاہ میں کھو کر نہ رہ جانا کہیں
حرص کی اس آگ میں یہ کامرانی ہے کیا؟
قبر کی تنہائیوں کو یاد رکھنا ہر گھڑی
غفلتوں میں ڈوب کر یہ شادمانی ہے کیا؟

0
5
مومنو! اک دوسرے کی بدگمانی چھوڑ دو
جاہلوں والی ارے علت پرانی چھوڑ دو
دوسروں کے لفظ تو اپنی زباں سے مت سنا
ان کی ہر اک بات کی تم ترجمانی چھوڑ دو
وسوسہ ڈالے اگر شیطان تو انکار کر
ہر کسی کے واسطے زَبَاں چلانی چھوڑ دو

0
3
گم ہو گیا تھا بندہ ایک
شریک غم تھے لوگ انیک
خوب مشورہ ہوا بڑی بات کی گئی
یعنی اسی طرح سے بسر رات کی گئی
اک مشورہ یہ آیا کئی مشوروں کے بعد
پہلے رپٹ لکھاؤ تلاشیں گے اس کے بعد

0
5
ہم نے بزرگوں سے اتنا ہی سیکھا ہے
انسانوں سے اپنا خون کا رشتہ ہے
رنگ زبان کا فرق زیادہ بات نہیں
میری طرح تو بھی آدم کا بیٹا ہے
باغِ محمد کے سب پھول نرالے ہیں
دور تلک ان کی خوشبو کا چرچا ہے

0
1
آنکھ سجدے میں نم ہو کے اچھی ہوئی
رب کو محبوب ہے آنکھ بھیگی ہوئی
میری گردن جھکی ہی نہیں آج تک
شرم سے سامنے رب کے نیچی ہوئی
عشق کی ہے نشانی، نہ انکار کر
آنکھ جاگی ہوئی زلف بکھری ہوئی

0
یہ عدو گر نہ دِکھے پھر تو نظر ہے دشمن
غیر مسلم تو ہیں، داعش بھی مگر ہے دشمن
اے مسلمان ذرا جھانک گریباں میں بھی
پہلے اس کو تو پکڑ جو ترے گھر ہے دشمن
عزم، امید، وفا، رختِ سفر میں باندھو
ساتھ ہتھیار رکھو راستے پر ہے دشمن

0
ہاتھ میں جب نہیں ہے اپنی جان
پھر اکڑتا ہے کس لیے انسان
سب خدائی جہاں سے کھاتی ہے
میرے مالک کا ہے وہ دستر خوا ن
عارضی ہیں تمام ارض و سما
صرف باقی رہے گی رب کی شان

0
1
آزاد نظم
زندگی کے سفر پر میں تنہا چلا تھا مگر
راستے میں کئی اجنبی دوست بن کر ملے
زندگی کے سفر میں کئی موڑ آئے
کہیں پر پریشان حالی میں آ کر کسی اجنبی نے مرا ہاتھ تھاما
دلاسہ دیا

0
2
رات کیوں تجھ پہ آج بھاری ہے
دل تجھے کیسی بے قراری ہے
وصل کے چار دن نہیں پائے
ہجر میں زندگی گزاری ہے
تیری الفت کہاں پہ لے آئی
اب مری زندگی میں خواری ہے

0
مات ہو گی نہ زندگی میں ہمیں
رب نہ بھولے غمی خوشی میں ہمیں
ہے اطاعت فلاح کا رستہ
جو ملا حق کی روشنی میں ہمیں
جھوٹ دولت کما کے دے گا مگر
رب ملے گا تو راستی میں ہمیں

0
محافظ سو رہے ہیں جب چمن کے
چمن لوٹیں سپاہی انجمن کے
کدھر ہیں جان اپنی جو لٹائیں
گئے عاشق کہاں سَروُ و سمن کے
جنھوں نے ہم کو آزادی دلائی
بڑے پکے تھے وہ اپنی لگن کے

0
2
میں بھی کبھی کربلا، ایک نظر دیکھ لوں
عشقِ خدا میں فنا، دشت و نگر دیکھ لوں
رحمتِ عالم ہیں جو، ہیں جو نبی آخری
ان کے نواسے کا میں رختِ سفر دیکھ لوں
ہے یہی خواہش مری خواب میں میرے خدا
فاطمہ زہرا کا میں لختِ جگر دیکھ لوں

0
1
کہیں پہ بھوک سے لاچار زندگی دیکھی
تو مرگ پر کہیں دولت ہے ناچتی دیکھی
کوئی غریب مسافر کو پوچھتا بھی نہیں
تمہارے شہر میں آ کر یہ بے رخی دیکھی
ہمارے ساتھ کبھی خوش نہ رہ سکو گے تم
کئی برس ہوئے ہم نے نہیں خوشی دیکھی

0
ان حسینوں کے بھلے چہروں پہ جانا نہ کبھی
دل انھیں دے کے سکوں دل کا گنوانا نہ کبھی
جنتیں روٹھ نہ جائیں کہیں تجھ سے یارا
اپنے ماں باپ کو غلطی سے ستانا نہ کبھی
جب رضا رب کی ہے درکار تو خفیہ رکھنا
کر کے نیکی سرِ بازار جتانا نہ کبھی

0
1
گرد ہمارے یک دم یوں آزار ہوئے
شام ہوئی ہم جیون سے بیزار ہوئے
شب بیداری ہم کو پہاڑ سی لگتی تھی
ہجر کی رت میں رستے سب ہموار ہوئے
کل تک جو میری پہچان پہ نازاں تھے
آج وہ میرے ذکر پہ کیوں بیزار ہوئے

0
4
وہ جیسی تیسی بات کریں وہ حسنِ ادا ہو جاتی ہے
میں لہو سے بھی تحریر لکھوں لمحوں میں ہوا ہو جاتی ہے
اس ہجر کی بھٹی سے پک کر تب کچھ اشعار نکلتے ہیں
جب درد کی آنچ پہ جل جل کر مری روح فنا ہو جاتی ہے
جب تازہ لہو کی حاجت ہو ان راہِ وفا کے کانٹوں کو
ہم ننگے پاؤں آتے ہیں اور رسم ادا ہو جاتی ہے

0
2
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

195
7836
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

398
6093
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ الفاظ صرف آوازیں ہیں، چند جملے ہیں جو لبوں سے نکل کر فضا میں بکھر جاتے ہیں۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔لفظ کبھی خالی نہیں ہوتے اپنا اثر رکھتے ہیں وہ ہمارے باطن کے عکاس ہوتے ہیں،لفظ ہماری سوچ، ہمارے تجربات، ہماری نیت اور ہمارے اندر چھپی دنیا کو آشکار کرتے ہیں۔جو کچھ ہم بولتے ہیں، وہ اچانک پیدا نہیں ہو جاتا۔ وہ ہمارے ذہن کی زمین میں بویا گیا  بیج ہوتا ہے، جو  خیال بنتا ہے، اور آخرکار لفظ کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ذہن ایک کھیت کی مانند ہے۔اگر اس میں علم کے بیج بوئے جائیں، مثبت سوچ کا پانی دیا جائے اور اچھی صحبت کی دھوپ اور چھاؤں ملے، تو ، سچائی اور حکمت کی فصل اگتی ہے۔لیکن اگر اسی زمین میں نفرت، حسد، بدگمانی اور جھوٹ کے کانٹے بو دیے جائیں، تو زبان سے نکلنے والے الفاظ تلوار سے زیادہ تیز اور  نیزوں کی طرح چبھنے لگتے ہیں۔ لفظوں کے ساتھ لہجہ  اندر کی کیفیت کا عکس ہوتا ہے۔جو دل میں سکون رکھتا ہے، اس کی شخصیت میں ٹھہراؤ ،زبان میں نرمی ہوتی ہے۔جو دل میں آگ رکھتا ہے، اس کے لفظ بھی جلانے لگتے ہیں۔کسی انسان کو جاننے کے لیے  اس کا ماضی، حال، لباس دیکھنا  یا

0
21