معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



402
6314
بیکسوں نے جسے پُکارا ہے
یا نَبیؐ وہ کَرم تُمہارا ہے
جب سے چھوڑا تِرے وَسیلے کو
حال اَبتَر ہُوا ہمارا ہے
تیری حُرمت پہ پہرا دینا تھا
تیرے دشمن سے سب کا یارا ہے

0
4
جھوٹ کا تاج ترے سر سے اتر جائے گا
سچ یہ اک روز ترے سامنے آ جائے گا
وقت دیتا ہے گواہی بھی حقیقت کے لیے
ہر چھپا راز زمانے میں بکھر جائے گا
حق کی آواز کو دیوار نہ سمجھو ہرگز
حق ترے دل میں کسی دن بھی اتر جائے گا

0
5
آدمی اک دوسرے کا فخر بھی قوت بھی ہے
اسکے دل میں نوربھی ہے، اور کہیں ظلمت بھی ہے
بن کے رحمت یہ کبھی دکھ کا مداوا کر گیا
اور کبھی نفرت کی صورت سخت اک آفت بھی ہے
غم کی مرہم ہے کبھی یہ اپنے بھائی کے لیے
اور کبھی اس کی زباں ہی باعثِ وحشت بھی ہے

0
10
جو زینت جہاں کی درِ مصطفیٰ ہے
کرے اس کو تاباں نبی کی ضیا ہے
سدا عام بٹتے ہیں فیضان اس جا
خلق مصطفیٰ کی ازل سے گدا ہے
وہ لولاک والے ملی اُن کو کوثر
نبی اس کے قاسم جسے جو ملا ہے

0
3
زندگی کا سفر ہے بڑا مختصر
نیکیوں سے اسے کر ذرا معتبر
سن لے دنیا غلاظت کا انبار ہے
راہِ حق سے نہ ہونا کبھی بے خبر
مال و زر کے نہ پیچھے کھبی بھاگنا
ساتھ جائے گا بس نیکیوں کا ثمر

0
8
مجھے شاعر نہ سمجھو تم مرا دل درد کا گھر ہے
میں وہ ٹوٹا سا انساں ہوں جسے بس تیرا ہی غم ہے
محبت کے فریبوں میں مجھے برسوں رکھا تم نے
لبوں پر پیار تھا لیکن دلوں میں اک تماشا تھا
وفا کے نام پر تم نے کئی وعدے سجائے تھے
مگر ہر عہد کے پیچھے کوئی مطلب چھپایا تھا

0
5
اَلسّلام یا نُورِ عَینین اَلسّلام
اَلسّلام یا عِیدِ عِیدین اَلسّلام
اَلسّلام یا جَدِّ سِبطین اَلسّلام
اَلسّلام یا شَیخِ شَیخین اَلسّلام
اَلسّلام یا رُوحِ کَونین اَلسّلام
اَلسّلام یا شَاہِ قُطبین اَلسّلام

0
9
جو بانٹتا تھا روشنی اڑا دیا گیا
چراغ امن کا تھا جو بجھا دیا گیا
ترے لیے زمیں بلال کربلا بنی
ترے لہو کو خاک میں ملا دیا گیا
یہ کون لوگ ہیں یزید کی طرح بنے
نہ جانے کیوں انہی کو اسلحہ دیا گیا

0
5
•─═══﷽═══─•سورۂ فاتحہ کی منظوم ترجمانی(2)شاعر: مہر مہسلائی رحمہ اللہ════❁✿❁════تعارف:قرآنِ مجید کی پہلی سورت سورۂ فاتحہ اپنے اندر توحید، حمد، عبادت، استعانت اور ہدایت کی جامع تعلیمات سموئے ہوئے ہے۔ معروف شاعر”مہر مھسلائی“نے اس عظیم سورت کے مفاہیم کو نہایت سادہ، مؤثر اور دل نشین شعری قالب میں پیش کیا ہے، تاکہ عام قاری بھی اس کے پیغام کو آسانی سے سمجھ سکے۔ملاحظہ فرمائیے:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(اللہ کے نامِ پاک سے ہے آغاز ہمارے کاموں کا)(بے مثل محبت ہے جس کی جو رحم و کرم میں ہے یکتا)۔۔اصل مطلع۔۔آغاز ہمارے کاموں کاہے نام سے تیرے جگ داتاتو رحم و کرم کا سر چشمہ ہے فیض تیرا ہی لہراتاسب حمد تجھے ہی زیبا ہے، تو رب ہے سارے جہانوں کاسب سُورج چاند ستارُوں کا، سب جانوں کا بے جانوں کابے تھاہ سمندر رَحمت کا ، سَرچشمہ مہر و محبت کاخالق ہے عمل کی قوت کا ، اور مالک روزِ قیامت کاہم بندے تیرے اَے آقا ، تیری ہی عبادت کرتے ہیںتوفیقِ اطاعت ، جوشِ عمل کی تُجھ سے چاہت کرتے ہیںہاں راہ دِکھا اُس منزل کی ، جو منزلِ فتح و نصرت ہےاسلاف نے جس پر چل کر پائی دونوں جہاں کی نعمت ہےوہ راہ نہ ہو گُمراہوں کی ، جو تیرے غضب میں آئے ہیںناکامی اور ہلاکت

18
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

402
6314
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

196
7968