معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



415
6588
دل کا غبار ہنس کے اڑاؤ، نشے میں آؤ
اک شام زندگی کو مناؤ، نشے میں آؤ
دن بھر سنبھال رکھا ہے دنیا نے ہوش کو
اب ہوش کو بھی نیند سلاؤ، نشے میں آؤ
ہم سے خفا ہو، خیر، مگر اتنا تو کرو
نظریں اٹھا کے آنکھ ملاؤ، نشے میں آؤ

0
سوچی تھی کس نے خواب کی تعبیر اس طرح
سہنی پڑے گی ہر جگہ تحقیر اس طرح
مسمار کرکے کچے گھروندے عوام کے
اہرام ہوتے آئے ہیں تعمیر اس طرح
زخموں سے رستہ خون بھی محسوس ہو سکے
جنگوں کے باب کیجئے تحریر اس طرح

0
1
چہرے فریب کاروں کے پہچانتے نہیں
ہم جانتے ہیں آپ جنہیں جانتے نہیں
جن کو خدا بنا کہ پرستش کئے ہیں سب
ہم ریگِ زیرِ پا سا بھی گردانتے نہیں
رستے کھلے ہیں کتنے ہماری شکست سے
بے سود ہم بھی ہار کہیں مانتے نہیں

0
2
مجھے اپنی ذات کے دشت میں کسی ہم سفر کی تلاش ہے
جو مجھے مجھی سے ملا سکے، اسی رہ گزر کی تلاش ہے
نہ وہ علم جو مرے ذہن میں فقط اپنے سچ کا اسیر ہو
جو مرے یقیں کو پرکھ سکے، مجھے اس نظر کی تلاش ہے
مجھے اس رفیق کی آرزو جو مرے سکوت کو سن سکے
جو مری نگاہ میں غم پڑھے، مجھے اس بشر کی تلاش ہے

0
3
نبی جی آپ کا ہے ایک آسرا ہم کو
ملا نہ آپ سا کوئی بھی رہنما ہم کو
نبی رسول ہیں ہادی ہیں آپ پیغمبر
نبی نے سیدھ دکھایا ہے راستہ ہم کو
نماز روزا سکھایا زکات اور حج بھی
نبی نے دین سکھایا ہے برملا ہم کو

0
جیسی کرنی وَیسی بَھرنی پَڑتی ہے
گالی کے بدلے گالی دی جاتی ہے
تَھپَّڑ کا بَدلہ تو تَھپَّڑ ہوتا ہے
آنکھ کے بَدلے آنکھ نِکالی جاتی ہے
(مرزا رضی اُلرِّحمان)

0
4
دلوں کے درمیاں حائل فقط دیوار ہی تو ہے
جو لب پر آ نہیں پایا، وہ اک اقرار ہی تو ہے
ہم اپنی ذات کی پہچان دنیا سے طلب کرتے
مگر دنیا کی نظروں کا بھی اک معیار ہی تو ہے
جسے ہم زندگی بھر اپنی خوشیوں کا سبب سمجھے
وہی رشتہ ہماری روح کا آزار ہی تو ہے

0
8
دَرِ ہستی کھلے جب بھی، مِری حیرت پہ کھلتا ہے
سفر کا آخری رستہ، مِری وحشت پہ کھلتا ہے
​گلے مل کر بھی دل اپنا جدا ہی رہ گیا تجھ سے
جدائی کا نیا رستہ، عجب قربت پہ کھلتا ہے
​نہ سمجھے تھے جسے ہم عمر بھر قربت کے موسم میں
وہ نکتہ آخرش اک لمحۂ رخصت پہ کھلتا ہے

0
8
یہ ظلم کرکے نہ بھول جانا، خدا کو بھی ہے حساب دینا
پکڑ میں رب کی کبھی ہے آنا، خدا کو بھی ہے حساب دینا
بڑے بڑے تاجدار گزرے، یہیں پڑے ہیں مزار بن کے
ذرا اُنہی سے سبق یہ پانا، خدا کو بھی ہے حساب دینا
یہ عیش و عِشرت یہ مال و دولت،یہ شان و شوکت یہ جاہ و حَشمت
سبھی فریب نظر فسانہ، خدا کو بھی ہے حساب دینا

0
4
اپنی تنہائی کو یوں آباد کر لیتے ہیں ہم
بھولی بسری اک ہنسی کو یاد کر لیتے ہیں ہم
جب کبھی سچ بولنے سے ڈرنے لگتے ہیں تو ہم
پھر سے اپنے خوف کو فولاد کر لیتے ہیں ہم
جن سے ملنے کی کوئی صورت نہیں باقی رہی
بند آنکھوں میں انہیں آباد کر لیتے ہیں ہم

0
8
نہ مقصد نہ حسرت رہی زندگی میں
دکھوں نے مجھے ایسا پاگل کیا ہے

0
4
نفرت کو تشدد کو ہر سمت بڑھاتے ہیں
اعزاز گلستاں کو ہر آن مٹاتے ہیں
ہم اہل وطن مل کر رہتے ہیں یاں صدیوں سے
وہ ملک کے دشمن ہیں جو ہم کو لڑاتے ہیں

0
6
خُود کار چالان والے سی سی ٹی وی کیمروں کی وائرنگ خراب کرتا ہُوا عوام دوست کَوّا!!!
——
یِہ جُرمانے، یِہ شُرمانے ہمارے بَس سے باہَر ہیں
کوئی تو دل سے بھی ہمدرد ہے ہم کم نصیبوں کا
ہمارے حُکمرانوں سے یِہ کَوّا لاکھ بَہتر ہے
کم از کم اِس کے دل میں دَرد تو ہے ہم غریبوں کا

0
6
دل کا غبار ہنس کے اڑاؤ، نشے میں آؤ
اک شام زندگی کو مناؤ، نشے میں آؤ
دن بھر سنبھال رکھا ہے دنیا نے ہوش کو
اب ہوش کو بھی نیند سلاؤ، نشے میں آؤ
ہم سے خفا ہو، خیر، مگر اتنا تو کرو
نظریں اٹھا کے آنکھ ملاؤ، نشے میں آؤ

0
15
غزل
دل سے دل کی جب بہم ہونے لگی
گفتگو بھی کم سے کم ہونے لگی
نا سمجھ، حساس دل، بے فائدہ
ہنستے ہنستے، آنکھ نم ہونے لگی
پیش گوئی ہے بڑے طوفان کی

0
82
مرے مصطفیٰ سے بہتر کبھی تھا نہ ہے نہ ہوگا
شہِ انبیاء کا ہمسر کبھی تھا نہ ہے نہ ہوگا
کوئی بیہی خواہ ایسا کوئی خیر خواہ ایسا
جو دعا دے کھا کے پتھر کبھی تھا نہ ہے نہ ہوگا
یہ ہیں اعلیٰ الفتوں میں یہ ہیں بالا چاہتوں میں
کوئی مصطفیٰ سے اوپر کبھی تھا نہ ہے نہ ہوگا

0
6
آپﷺ کا نور ہے آپﷺ کے شہر میں
آپﷺ کے نور سے نور ہے دہر میں
آپﷺ ہیں خالقِ کُل کے نورِ ازل
آپﷺ سے روشنی ہے بَر و بحر میں
آپﷺ کے قلب میں نورِ قرآن ہے
آپﷺ پر نور اُترا شبِ قدر میں

0
8
کسی کے ساتھ چلنے کی مسرت اور ہوتی ہے
کسی کے ساتھ رکنے کی ضرورت اور ہوتی ہے
کسی کے لوٹ آنے سے پرانے دن نہیں آتے
وہی چہرہ بھی ہو لیکن طبیعت اور ہوتی ہے
کبھی جس شخص کو ہم زندگی اپنی سمجھتے ہیں
اسی کو چھوڑ دینے کی اذیت اور ہوتی ہے

0
10
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

415
6588
•─═══﷽═══─•سورۂ فاتحہ کی منظوم ترجمانی(2)شاعر: مہر مہسلائی رحمہ اللہ════❁✿❁════تعارف:قرآنِ مجید کی پہلی سورت سورۂ فاتحہ اپنے اندر توحید، حمد، عبادت، استعانت اور ہدایت کی جامع تعلیمات سموئے ہوئے ہے۔ معروف شاعر”مہر مھسلائی“نے اس عظیم سورت کے مفاہیم کو نہایت سادہ، مؤثر اور دل نشین شعری قالب میں پیش کیا ہے، تاکہ عام قاری بھی اس کے پیغام کو آسانی سے سمجھ سکے۔ملاحظہ فرمائیے:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(اللہ کے نامِ پاک سے ہے آغاز ہمارے کاموں کا)(بے مثل محبت ہے جس کی جو رحم و کرم میں ہے یکتا)۔۔اصل مطلع۔۔آغاز ہمارے کاموں کاہے نام سے تیرے جگ داتاتو رحم و کرم کا سر چشمہ ہے فیض تیرا ہی لہراتاسب حمد تجھے ہی زیبا ہے، تو رب ہے سارے جہانوں کاسب سُورج چاند ستارُوں کا، سب جانوں کا بے جانوں کابے تھاہ سمندر رَحمت کا ، سَرچشمہ مہر و محبت کاخالق ہے عمل کی قوت کا ، اور مالک روزِ قیامت کاہم بندے تیرے اَے آقا ، تیری ہی عبادت کرتے ہیںتوفیقِ اطاعت ، جوشِ عمل کی تُجھ سے چاہت کرتے ہیںہاں راہ دِکھا اُس منزل کی ، جو منزلِ فتح و نصرت ہےاسلاف نے جس پر چل کر پائی دونوں جہاں کی نعمت ہےوہ راہ نہ ہو گُمراہوں کی ، جو تیرے غضب میں آئے ہیںناکامی اور ہلاکت

54
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

196
8070