معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



398
6123
جی میں آتا ہے کہ اب خود سے جھگڑ لوں تھوڑا
تیری یادوں کے جزیرے میں بکھر لوں تھوڑا
​تو جو مل جائے تو شکوے بھی ہوں، باتیں بھی ہوں
تیری زلفوں کی طرح میں بھی سنور لوں تھوڑا
​آئینے سے تو ہمیشہ ہی ملاقات رہی
آج میں تیری نگاہوں میں اتر لوں تھوڑا

0
1
ہجر ایسے منائے ہیں ہم نے
دیپ سو سو جلائے ہیں ہم نے
بند آنکھوں کے پار خوشبو ہے
گئے موسم بلائے ہیں ہم نے
​تیرے ماتھے پہ چاند ٹانکا ہے
اور ستارے سجائے ہیں ہم نے

0
1
پھول کِھل جاتے ہیں تیرے ہی چلے آنے سے
پوچھتا رہتا ہوں اکثر یہی ویرانے سے
​تیری خوشبو مرے احساس پہ یوں چھاتی ہے
جیسے خوشبو کوئی اٹھے کسی مے خانے سے
​چاند بھی جھانک کے کھڑکی سے یہ کہتا ہے مجھے
رات روشن ہے تری زلف کے لہرانے سے

0
9
بَری اِمام بَمُقابلہ وَن کانسٹیٹوشن ایونیو!!!
——
کَچّی بَسْتی ڈَھہ جاتی ہے
اُونچی مَنزِل رَہ جاتی ہے
اُونچی مَنزِل قائِم و دائِم
کَچّی بَسْتی بَہہ جاتی ہے

0
2
دل میں جب اُترا تِرا ذکرِ بقا، عشق ہوا
میرا ہو جیسے وہ بس ایک خدا، عشق ہوا
عقل ٹھہری رہی دربارِ سبب میں خاموش
دل نے کیا سجدہ بلا چون و چرا، عشق ہوا
طور پر نور نے جب چاک کیے پردۂ شب
موسوی حرف میں چھپتا ہوا کیا، عشق ہوا

0
6
سرِ مژگاں تھکن ہے اور میں ہوں
عجب سی اک چبھن ہے اور میں ہوں
جدائی کا وہ لمحہ، وہ رفاقت
یہی بس اک جلن ہے اور میں ہوں
نہ کوئی ہم سخن ہے پاس میرے
مرا اپنا بدن ہے اور میں ہوں

0
3
شعلے تو بھڑکتے ہیں، بجھانے نہیں آتے
ہم کو تو ذرا سے بھی بہانے نہیں آتے
دامن میں چھپا لیتے ہیں ہم غم کے جزیرے
طوفاں کو ابھی گھر یہ مٹانے نہیں آتے
پھر وقت کی دہلیز پہ کیوں آنکھ لگی ہے؟
جب لوٹ کے بچھڑے وہ زمانے نہیں آتے

0
4
درد نے کر دیا اندر سے جو سیماب مجھے
کھا گیا اپنے ہی افکار کا گرداب مجھے
طاقِ افلاس پہ رکھا ہوا اک دیپ ہوں میں
جانچتی ہے مری دنیا مرے اسباب مجھے
کون کہتا ہے کہ تریاق میں ہے جامِ جم
سونپ رکھا ہے مقدر نے یہ زہراب مجھے

0
7
آئے ہو تم اب جا کر مرنے پہ میرے
عمر بھر جیسے پکارا ہی نہیں ہے

0
3
اس نے دیکھا ہے محبت کی نگاہوں سے مجھے
میں نے عشاق میں یوں درجۂ بالا پایا
محمد اویس قرنی

0
1
ہم کو چکر کمال دیتے ہیں
لوگ وعدوں پہ ٹال دیتے ہیں
گر ضرورت ہو اپنے یاروں کو
ہم کلیجہ نکال دیتے ہیں
بے وفائی کا ذکر چھڑ جائے
لوگ تیری مثال دیتے ہیں

0
2
ہم کو چکر کمال دیتے ہیں
لوگ وعدوں پہ ٹال دیتے ہیں
گر ضرورت ہو اپنے یاروں کو
ہم کلیجہ نکال دیتے ہیں
بے وفائی کا ذکر چھڑ جائے
لوگ تیری مثال دیتے ہیں

0
4
دیکھئے کیا واقعہ پھر رونما ہونے کو ہے
اب رئیسِ شہر پابندِ وفا ہونے کو ہے
دوستوں کی بدگمانی دشمنوں کی تلخیاں
کہہ رہی ہے خامشی جنگِ انا ہونے کو ہے
آسماں پر مائلِ پرواز جو برسوں رہا
پست اُس شہباز کا اب حوصلہ ہونے کو ہے

0
2
محبت میں ہیں امتحاں کیسے کیسے
بدلتے ہیں اب مِہر و باں کیسے کیسے
ابھی کل تلک جو ملے تھے خوشی سے
ہوئے آج وہ بد گماں کیسے کیسے
قفس کے در و بام رونے لگے ہیں
سنائے ہیں ہم نے بیاں کیسے کیسے

0
3
مٹ گئی اپنی ہی نظروں میں توانائی کہ بس
اب تو ہونے لگی خود سے بھی شناسائی کہ بس
اس نے دیکھا تھا محبت سے مجھے اک بار اور
پھر نہ لوٹی مرے چہرے کی وہ رعنائی کہ بس
عشق نے کر دیا ٹکڑے مرے پندار کا بت
ایسی کام آئی ہے یہ خاکِ جبیں سائی کہ بس

0
5
غزل
غزّہ میں قتلِ عام تو جاری ہے آج بھی
انسانیت کہ شرم سے عاری ہے آج بھی
روشن خیال لوگ ہیں دَورِ جدید کے
ظلمت مگر ضمیر پہ طاری ہے آج بھی
بے فیض کائنات کو تسخیر کر لیا

0
105
شوق میں اپنے ہی وہ، بن کر تماشا جل گیا
خواب جب بکھرے تو آنکھوں کا بھروسہ جل گیا
کس سے پوچھیں اب نشانِ کوئے جاناں اے فلک!
رہ روِ پُر شوق کا تو نقشِ پا بھی جل گیا
مصلحت نے جس جگہ ڈالی تھی اپنی اک نظر
اس جگہ تو غیرتِ دل کا تقاضا جل گیا

0
7
میری نِسبت مَدینے کے سُلطانؐ سے
اُنؐ کے صَدقے مُحبت ہے رَحمان سے
مَحوِ حَیرت ہیں قُدسی کہ معراج شَب
وہؐ رَوانہ ہوئے ہیں شَبستان سے
اُنؐ کے اَصحاب سارے سِتارے ہوئے
مُعجزہ یہ ہُوا نُورِ فَیضان سے

0
5
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

195
7851
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

398
6123
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ الفاظ صرف آوازیں ہیں، چند جملے ہیں جو لبوں سے نکل کر فضا میں بکھر جاتے ہیں۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔لفظ کبھی خالی نہیں ہوتے اپنا اثر رکھتے ہیں وہ ہمارے باطن کے عکاس ہوتے ہیں،لفظ ہماری سوچ، ہمارے تجربات، ہماری نیت اور ہمارے اندر چھپی دنیا کو آشکار کرتے ہیں۔جو کچھ ہم بولتے ہیں، وہ اچانک پیدا نہیں ہو جاتا۔ وہ ہمارے ذہن کی زمین میں بویا گیا  بیج ہوتا ہے، جو  خیال بنتا ہے، اور آخرکار لفظ کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ذہن ایک کھیت کی مانند ہے۔اگر اس میں علم کے بیج بوئے جائیں، مثبت سوچ کا پانی دیا جائے اور اچھی صحبت کی دھوپ اور چھاؤں ملے، تو ، سچائی اور حکمت کی فصل اگتی ہے۔لیکن اگر اسی زمین میں نفرت، حسد، بدگمانی اور جھوٹ کے کانٹے بو دیے جائیں، تو زبان سے نکلنے والے الفاظ تلوار سے زیادہ تیز اور  نیزوں کی طرح چبھنے لگتے ہیں۔ لفظوں کے ساتھ لہجہ  اندر کی کیفیت کا عکس ہوتا ہے۔جو دل میں سکون رکھتا ہے، اس کی شخصیت میں ٹھہراؤ ،زبان میں نرمی ہوتی ہے۔جو دل میں آگ رکھتا ہے، اس کے لفظ بھی جلانے لگتے ہیں۔کسی انسان کو جاننے کے لیے  اس کا ماضی، حال، لباس دیکھنا  یا

0
24