معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



398
5966
دوستی اب ختم کرنا چاہتی ہے
خود کو بھی آخر مٹانا چاہتی ہے
اختلافات آ گئے ہیں درمیاں اب
پھر بھی میرا دم ہی بھرنا چاہتی ہے
جیت سکتی ہے وہ آسانی سے لیکن
میرے آگے ہار جانا چاہتی ہے

0
1
دوستی اب ختم کرنا چاہتی ہے
خود کو بھی شاید مٹانا چاہتی ہے
اختلافات آ گئے ہیں درمیاں اب
پھر بھی میرا دم بھرنا چاہتی ہے
جیت سکتی ہے وہ آسانی سے لیکن
میرے آگے ہار جانا چاہتی ہے

0
1
دل ٹوٹ جائے اور دلاسا کوئی نہ ہو
مولا ہمارے جیسا بھی تنہا کوئی نہ ہو
مولا ہمیں بھی چاہیے اک زخم اس طرح
بِن عشق جس کا اور مداوی کوئی نہ ہو
غربت میں عمر کٹ گئی پر سر نہیں جھکا
بے حس جہاں کے سامنے رسوا کوئی نہ ہو

0
1
حق گوئی سے اکثر مُلّاں ڈرتے ہیں
حالانکہ زباں طویل یہ رکھتے ہیں
بچوں کو تھما کر یہ جہادی شمشیر
خود صحن میں اپنے کلیاں چنتے ہیں

0
1
حق بیانی پے ہو اڑے ہونا
پھر ہو دربار میں کھڑے ہونا
کام بس ایک ہی نہیں آسان
وہ ہے کردار میں بڑے ہونا

0
1
ذکر حبیب کبریا لائیں زبان پر
صل علی کا ورد سجائیں زبان پر
نازل ہوں برکتیں در و دیوار کھل اٹھیں
اشعار نعت مل کے جو  لائیں زبان پر

0
1
کیسی صورتیں خاک ہوئیں ہیں کیا کیا پیکر خواب ہوئے
کتنے دریا پی گیا صحرا کیسے سمندر خواب ہوئے
/
تفسیر و تعبیر تھے جو صدیوں صدیوں کی مسافت کا
اک لمحے کو نظر تو آئے پھر وہ منظر خواب ہوئے

0
7
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

398
5966
سلطانِ دہر آقا دارین کے دل جاں ہیں
ہیں زینتِ ہستی بھی اور جانِ گلستاں ہیں
جس نورِ فروزاں سے دارین ہوئے روشن
وہ شمعِ ہدایت ہیں اور صاحبِ قرآں ہیں
رحمت ہیں خدائی پر احسانِ سخی سرور
مختارِ زماں دلبر دکھ درد کے درماں ہیں

0
1
6
چھوڑ کے اشک بہانہ ہم نے
پی لیا درد پرانا ہم نے
اک سجائی ہے ہنسی ہونٹوں پر
سیکھا جو غم کو چھپانا ہم نے
بھینچ کے غنچۂ دل ہاتھوں میں
گھر دیا چھوڑ ، ٹھکانا ہم نے

0
3
عَلی مُصْطَفیٰ ڈار کے سَرکاری چَیمبَر میں مَریَم کی تَصْوِیر آویزاں!!!
——
جِن کو جُوتوں سے پیار ہوتا ہے
وَقت کے ساتھ ڈَھلْتے رَہتے ہیں
اور تو کُچھ بَدل نَہِیں سَکتے
صِرف ”جُوتے“ بَدلتے رَہتے ہیں

0
3
مثلِ شاخِ گُلاب مونا
شاعر کا کوئی خواب مونا
زُلفیں جیسے گھٹائیں کالی
اور  چہرا ہے آفتاب مونا
ہر نقش میں رنگ   ہیں بھرے یوں
رنگوں سے لکھی کتاب مونا

0
6
کتنے طوفان سہہ گیا ساحل
پھر بھی خاموش رہ گیا ساحل
بس ذرا دیر میں رکا تھا وہاں
داستاں کتنی کہہ گیا ساحل
پانی اترا تو پھر وہیں پہ ملا
لوگ کہتے تھے بہہ گیا ساحل

0
4
مسرت شادمانی ہے دلوں میں آشتی آئی
مقدر جاگے ہستی کے فضائے راستی آئی
حسیں نغمے گلستاں میں بہاریں گیت گاتی ہیں
قدم جاناں کے آئے ہیں چمن میں تازگی آئی
بڑی مدت سے تاریکی جہاں میں پیر گاڑے تھی
درخشانی جہاں میں ہے نبی سے چاندنی آئی

0
3
عِشق میں یہ کون دیکھے نُور ہے یا نَار ہے
عاشق و مَعشوق کا ایک ہی دَربار ہے
ایک حُسن و عِشق ہیں اور ایک ہی بُنیاد ہے
حُسن میں اِظہار ہے تو عِشق میں اَسرار ہے
عِشق میں اِک یار ہو، وہ یار ہی سَرکار ہو
عِشق کے مَیدان میں تَفریق سے اِنکار ہے

0
14
آج تنہائی سے جو پریشان تھے
کل تلک محفلوں کی وہی جان تھے
قبر میں خاموشی سے ہیں سوئے ہوئے
جو کبھی میلوں ٹھیلوں کی پہچان تھے
کھو گیا پہلوانوں کا جاہ و جلال
کیا سے کیا ہو گئے ہم تو حیران تھے

1
12
پاگل ہوں جو دنیا میں وفا ڈھونڈ رہا ہوں
کانٹوں میں میں پھولوں کی ادا ڈھونڈ رہا ہوں
پھرتا ہوں ہواؤں میں، فضاؤں میں کبھی میں
معلوم نہیں مجھ کو کہ کیا ڈھونڈ رہا ہوں

2
25
پھول کو خار نے کیا اونچا
تخت کو دار نے کیا اونچا
سرو کو میرے قد سے کیا نسبت
مجھکو کردار نے کیا اونچا
میں پڑا تھا فنا کی چوکھٹ پر
جب ترے پیار نے کیا اونچا

0
11
جو بولے سو نہال ہاشمی!!!
——
جو کل تک تُمھیں گالیاں دے رہا تھا
اُسے تُم نے کِیُوں اپنے سَر پَر بِٹھایا؟
جَجوں تک کو جو دَھمْکیاں دے رہا تھا
اُسے تُم نے کِیونکَر گورنر لگایا؟

0
2
جو تیرے لہجے میں اِتنی مِٹھاس ہے
غرض کی آئے مجھے اِس سے باس ہے
مجھے تو زنداں میں مرنے کا ڈر نہیں
تُو قَصر میں بھی نِشیں بدحواس ہے
پی بھی لو شوق کا دریا جو تم اگر
نفس کی بُجھتی کہاں یارو پیاس ہے

0
3
یہ نا مہرباں سے رویے جہاں کے
لیے جا رہے ہیں ہر اک روز مجھ کو
کسی سوچ کے اندھے جنگل میں جیسے
جہاں سے پلٹنا
کسی طور ممکن نہیں ہے
ہیں کچھ وسوسے ، ایسی مایوس کن سوچیں، جن سے

0
14
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

193
7726
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ الفاظ صرف آوازیں ہیں، چند جملے ہیں جو لبوں سے نکل کر فضا میں بکھر جاتے ہیں۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔لفظ کبھی خالی نہیں ہوتے اپنا اثر رکھتے ہیں وہ ہمارے باطن کے عکاس ہوتے ہیں،لفظ ہماری سوچ، ہمارے تجربات، ہماری نیت اور ہمارے اندر چھپی دنیا کو آشکار کرتے ہیں۔جو کچھ ہم بولتے ہیں، وہ اچانک پیدا نہیں ہو جاتا۔ وہ ہمارے ذہن کی زمین میں بویا گیا  بیج ہوتا ہے، جو  خیال بنتا ہے، اور آخرکار لفظ کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ذہن ایک کھیت کی مانند ہے۔اگر اس میں علم کے بیج بوئے جائیں، مثبت سوچ کا پانی دیا جائے اور اچھی صحبت کی دھوپ اور چھاؤں ملے، تو ، سچائی اور حکمت کی فصل اگتی ہے۔لیکن اگر اسی زمین میں نفرت، حسد، بدگمانی اور جھوٹ کے کانٹے بو دیے جائیں، تو زبان سے نکلنے والے الفاظ تلوار سے زیادہ تیز اور  نیزوں کی طرح چبھنے لگتے ہیں۔ لفظوں کے ساتھ لہجہ  اندر کی کیفیت کا عکس ہوتا ہے۔جو دل میں سکون رکھتا ہے، اس کی شخصیت میں ٹھہراؤ ،زبان میں نرمی ہوتی ہے۔جو دل میں آگ رکھتا ہے، اس کے لفظ بھی جلانے لگتے ہیں۔کسی انسان کو جاننے کے لیے  اس کا ماضی، حال، لباس دیکھنا  یا

0
11