معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



75
815
طعنہ مِلا مُجھ کو کہ عاشِق مَیں اناڑی آ گیا
پھر مَیں مَحبت کا سبق لینے وہاڑی آ گیا
دِل لُوٹ لے جانے کی خاطر جو وہ دھاڑی آ گیا
اِصلاح اُٹھائے میرا ناصح بَن کے آڑی آ گیا
چرچا سُنا ہو آج کی اِس بزم کے مہمان تُم
مزدُور عاجِز چھوڑ کر اپنی دِہاڑی آ گیا

4
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

81
2382
جان قربان تجھ پہ میں کر دوں
رنگ پرچم میں تیرے میں بھر دوں
کامراں عشق میرا بھی کہلائے
دیپ جلانے کو خوں جو سر دوں
میں جو مٹ جاؤں راہ میں تیری
تجھ کو روشن گلی میں ہر گھر دوں

0
1
کسی مکیں کی لگتا داستان ہے
یہ دل مِرا عجب ہی گلستان ہے
ہے اس میں کئ رنگ پھول کانٹے بھی
خدا بھی اِس پہ کتنا مہربان ہے
نہیں ہے اس میں گر صفت رحیم کی
تو پھر یہ گوشئہ چمن بھی ویراں ہے

0
1
شہؑ کے سجادؑ سے جس کو بھی محبت ہوگی
نہ قضاء اس کی کبھی کوئی عبادت ہوگی
آج اس بزم سے اعلان کیا جاتا ہے
ذکرِ سجادؑ سے محشر میں شفاعت ہوگی
آپ ملتے ہیں منافقت سے تو ملتے رہیے
ہم پہ کیا زور ہے، ہم سے نہ مروّت ہوگی

0
ہیں خاموش وجہ سے، لب پہ نہیں ہے شکایت
سچ ہے کہ تلخ ہے، پر تلخی کی نہیں ہے اجازت
جوشِ بیاں ہو کہ زورِ قلم، جا لگے بامِ اوج
دل سے ایماں کی جاتی، رہی پر وہ حرارت
نے موقوف عدد پے، اُصولِ عروج و پستی
ہیں بسیار مسلماں، دِکھتی نہیں ہے نیابت

0
4
کوئی دوسرا خدا سا کبھی تھا نہ ہے نہ ہوگا
یونہی مثل مرتضیٰؑکا کبھی تھا نہ ہے نہ ہوگا
اپنا خدا نصیری کہتے ہیں جس علیؑ کو
کوئی ایسا تیرا بندہ کبھی تھا نہ ہے نہ ہوگا

0
دوستی کرتے نہیں ہم صرف چہرہ دیکھ کر
رابطہ رکھتے ہیں لوگوں سے عقیدہ دیکھ کر
ذکرِ حیدرؑ آج بھی کرتا ہے کارِ ذوالفقار
شجرے سب آئینہ ہو جاتے ہیں چہرہ دیکھ کر

0
وہ دیکھو! ایک تارہ جو فلک پر جگمگاتا ہے
یہ وہ تارہ ہے جو در پر علیؑ کے سر جھکاتا ہے
بشکلِ وحئیِ حق جو حکمِ خالق لے کے آتا ہے
وہی جبریل اپنا سر درِ شہ پر جھکاتا ہے
ملک وہ ہے خدا کا یا وہ بندہ فاطمہ کا ہے
کبھی چکی چلاتا ہے، کبھی جھولا جھلاتا ہے

0
پڑھی تو تم نے بھی ہوگی حدیثِ بضعۃٗ مِنّی
کبھی سوچا بھی تم نے، قول یہ پڑھ کر پیمبرؐ کا
تمہیں بتلاؤ اب یہ فیصلہ تم پر ہی چھوڑا ہے
مزارِ فاطمہؐ توڑا کہ توڑا دل پیمبر کا

0
پھولوں کا ورد اصغرِؑ غنچہ دہن کا نام
بادِ صبا کے لب پہ ہے ابنِ حسنؑ کا نام
ہر خشک و تر جہاں میں ان کے ہی دم سے ہے
پیر و جواں کے لب پہ ہے شاہِ زمن کا نام
انساں تو کیا زمین و فلک، انبیاء ملک
ہے سب کی بوسہ گاہ اخئیِ حسن کا نام

0
ہوئے قربان اس کے جو ہوا خوش نامِ مولاؑ پر
مگر منکر کسی صورت ہمیں اچھا نہیں لگتا
ترے عاشق پہ ہم مولاؑ خوشی سے جان دیتے ہیں
ترا دشمن کسی صورت ہمیں اچھا نہیں لگتا

0
ہر کس و ناکس کا فتویٰ دین ہو سکتا نہیں
ہے شریعت حکم رب یا پھر کہامعصومؑ کا
ہر عمل بے کار اقرارِ ولایت کے بغیر
ٹل نہیں سکتا کسی صورت کہا معصوم کا

0
پُر ثمر اس کی دعاؤں کا شجر دیکھا ہے
شہؑ کے غم میں جسے با دیدۂِ تر دیکھا ہے
وہ جو مانگی گئیں پرچم کے خنک سائے میں
ان دعاؤں کو ہی مائل بہ اثر دیکھا ہے

0
دشمنِ آلؑ سے ہم کو جو یہ بے زاری ہے
کیا اسی بات پہ ہم سے تمہیں دشواری ہے
شعلے بھڑکیں گے مرے دل کے جب آئیں گے امامؑ
یہ برأت تو بس اک ہلکی سی چنگاری ہے
باغِ جنت میں بناتا ہے ہر اک بیت پہ گھر
ہر ثناخوان میں بہول سی فنکاری ہے

0
ولائے آل کے سکے عجیب سکے ہیں
ہر ایک دل پہ الگ اپنے نقش چھوڑتے ہیں
تم اپنی بزم میں یہ تذکرے کرو تو سہی
تمام بند دریچے یہ پل میں کھولتے ہیں
علی کے در سے ہی ملتی ہے علم کی خیرات
وہ بدنصیب ہیں جو ان کے در کو چھوڑتے ہیں

0
من کجا ذکر کجا تیرا منور زینبؑ
میں ہوں خاکی ہو ثنا نور کی کیونکر زینبؑ
لفظ کوثر میں دھلے اور اُسے لکھنے کے لیے
چاہیے ہے مجھے جبریل کا شہ پر زینبؑ
ثانی فاطمہ زہرؐا تری مدحت کے لیے
کم سے کم چاہیے ہے دوسرا کوثر زینبؑ

0
کہہ رہا ہے رب کہ سرور جو تمہارے ہو گئے
در حقیقت وہ سبھی بندے ہمارے ہو گئےحالتِ
سجدہ ہے اور پشتِ نبیؐ پر ہیں حسینؑ
اب خدا ہی جانے کیا ان میں اشارے ہوگئے
واہ کیا کہنا تری قسمت کہ لطفِ شاہؑ سے
یک ہی پل میں ترے حرؑ وارے نیارے ہوگئے

0
ہمیں غرض نہیں کس کو خدا سے ملتا ہے
ہمیں تو رزق درِ مرتضیٰ سے ملتا ہے
علی کے نقشِ قدم ہیں نجات کا رستہ
یہ راستہ ہے وہی جو خدا سے ملتا ہے
فضیلتیں تو ہیں مرہونِ منتِ حیدر
فضیلتوں کو شرف مرتضیٰ سے ملتا ہے

0
ہے قیامت کی گھڑی حق کے ولی روتے ہیں
عرش پر سارے ملک سارے نبی روتے ہیں
خلد میں حوروں کے رونے سے ہے ہنگام بپا
نوحہ کرتے ہوئے غلمان سبھی روتے ہیں
مضطرب غم سے ہیں اس درجہ علی شیر خدا
دیکھتے ہیں کبھی بچوں کو کبھی روتے ہیں

0
جو قریبِ دشمنِ حیدرؑ ذرا سا ہو گیا
پھر تو کوسوں فاصلہ جنت سے اس کا گیا
کھل اُٹھا مومن کا چہرہ سن کے مدحِ مرتضیٰؑ
اور منافق کے لئے یہ ذکر شعلہ ہوگیا
وردِ اسمِ مرتضیؑ کا معجزہ تو دیکھئے
مینے جب بھی، جو بھی سوچا، جیسا چاہا، ہوگیا

0
ارشد صاحبآپ سے میں جزوی طور پر متفق ہوں "عدنان صاحب میں نئے لوگوں کی تعریف کے بالکل خلاف نہیں مگر آپ انہیں انکی غلطیاں نہیں بتائیں گے اور کہیں گے بہت خوب تو یہ آپ ان کے ساتھ ذیادتی کریں گے ۔" مکمل بات یہ ہے کہ  ترقی کے لیے درستگی اور حوصلہ افزائی دونوں کی ضرورت ہوتی ہے مگر مبتدی کو ابتدا میں حوصلہ افزائی کی "زیادہ" ضرورت ہوتی ہے  بنسبت نکتہ چینی کے (5:1) سمجھ لیں تجربہ کر کے تصدیق کی جاسکتی ہے کہ ابتدا میں "محظ تکنیکی تنقید" کرنا  حوصلہ شکنی کا سبب بنتا ہے اور بیچارہ مُبتدی تنقید کے بوجھ تلے ایسا دب جاتا ہے کہ آئندہ کوشش کرنا ہی چھوڑ دیتا ہے۔۔۔جو کسی طور بھی منظور نہیں آج غلط لکھے گا  تو کل درست اور آئندہ خوبصورت بھی سب اسی رستے سے گزر کر آگے بڑھے ہیں چِہ کہتر چِہ مہترمیں نے اچھا شعر ڈھونڈ کر تحسین کر دی  جس کی گواہی آپ نے دے دی ہے "ہاں وہ ایک شعر ضرور اچھا ہے" آپ نے غلطیوں کی نشاندہی کر دی ہے میں نے اپنا کام کر دیا اور آپ نے اپنا۔۔۔! مقصود ہے سفر کا جاری رہنا اور کارواں

0
7
سلام زیشان صاحبplease add following words to dictionary"دکھاؤمنجھدارمُستثناشکنیںنیرنگئِآگہسُلگاتابین السطورکسَمپُسریکڑہائی، سینکڑے"خیر اندیشعدنان مغل

1
9