معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



395
5890
چھوڑ دے اے نوحہ گر اب، مرثیہ خوانی نہ کر
آنسوؤں سے آگ کے شعلوں کو یوں پانی نہ کر
وقت ماتم کا نہیں ہے، وقت ہے للکار کا
تولنے کا وقت ہے اب، قبضۂ تلوار کا
میں نے مانا بزم سے اک، مردِ آہن اٹھ گیا
آج محفل سے ہماری، جان محفل اٹھ گیا

0
3
شکستِ شب کا نوید نامہ، طلوعِ امکاں لہو کے قطرے
مٹا رہے ہیں فریبِ سلطاں، غرورِ ایواں لہو کے قطرے
نشانِ سوزِ نہاں، دلیلِ شکستِ ایواں لہو کے قطرے
نوائے محشر، صدائے بیدادِ اہلِ عصراں لہو کے قطرے
شکستہ تیغوں کی آبرو ہیں، جلالِ میداں لہو کے قطرے
سپہرِ ظلمت پہ بن کے اُبھرے شہابِ تاباں لہو کے قطرے

0
10
​دل کی بستی میں بچھڑنے کا ہنر رہ جائے گا
تُو چلا جائے گا لیکن اک اثر رہ جائے گا
​شہرِ الفت کی فضا میں ڈھونڈ پاؤ گے ہمیں
تیری آنکھوں میں کوئی خوابِ سحر رہ جائے گا
​کون پہنچا ہے کبھی منزل پہ اے جانِ وفا
تھک کے رہ جائیں گے ہم اور یہ سفر رہ جائے گا

0
3
بے حسی کے اس عہدِ یخ بستہ میں
وہ قامتِ استقامت تھا
اسے معلوم تھا
قرضِ حسین
محض لفظوں سے ادا نہیں ہو گا
تو

7
گُل بِنا بھنورے کا گزارا نہیں
عشق اے دل کبھی دوبارہ نہیں
کھا گئی ہے نظر بُری شاید
جو ہمارا تھا اب ہمارا نہیں

0
3
اے خَبِیث اَفْغانو! اے ذَلِیل اِنْسانو!
تُم جو اَپنے ہونے کا عُذْرِ بے دَلِیلہ ہو
ایک بار تُم نے پِھر آپ کر دیا ثابِت
تُم یَہُودیوں کا ہی گُمْ شُدَہ قَبِیلہ ہو
(مرزا رضی اُلرّحمان)

0
4
مدینے ہیں پیارے سخی دلربا
جہاں سے چلے ہر کرم کی ہوا
حسیں چارہ گر ہیں یہی شاہِ دیں
یہ احسانِ قدرت نبی مصطفیٰ
مدینہ میں درماں دکھوں کا ملے
برستی ہے جس جا عطا کی گھٹا

0
1
6
کھلا ہے یوں ترا پیکر کہ جیسے حسنِ چمن
مہک رہا ہے گلستاں میں تیرا سیمیں بدن
​تبسمِ لبِ جاں بخش سے یہ عالم ہے
کھلے ہوں شاخِ گلستاں پہ جیسے پھول و سمن
بسی ہے روح میں تیرے خیال کی خوشبو
ہوا ہے مشکِ ختن آج میرا فکر و سخن

0
4
چُم کے تلیاں ہیر نے مینوں، سرگی آن جگایا
بھاگ بھری نے بھر کے لوٹا، ہتھ مُنہ آپ توایا
کوئی نہ دیوے مان اجیہا، قسمت تیری چنگی
لبھ گئی تینوں رب دی قسمیں، خدمت گار اے بندی
ریجھاں نال پکاکے کھانڑے، دستر خوان سجایا
میرے رانجھن کر لے سحری، پیار دے نال بٹھایا

0
6
تمام عمر سفر ہی میں صبح و شام رہے
تقاضے پھر بھی مسافت کے نا تمام رہے
ترے مزاج میں بھر دوں میں رنگ فطرت کا
میں چاہتا ہوں کہ تو صاحِبِ کَلام رہے
امید رکھنا غلط ہے کسی پرندے سے
سکوں کے ساتھ رہے اور زیر دام رہے

4
بیاض زندگی میں ہو بہو تحریر ہوتا ہے
ہمارا ہر عمل ہی اصل میں تقدیر ہوتا ہے
ہر اک تعمیر میں تخریب کا پہلو نہاں دیکھا
جسے برباد ہونا ہے وہی تعمیر ہوتا ہے
محبت ہو صداقت ہو امارت ہو ،سفارت ہو
تو پھر اک تاج کی صورت محل تعمیر ہوتا ہے

0
5
پاؤں کے نیچے آگ بچھی ہو جھونکا ہوا کا وار کرے
کون ہے جو ایسے رستے پر جینے کا اقرار کرے
جو بھی سمجھ لے وقت کی سازش لوگوں کو ہشیار کرے
روزن روزن آنکھیں رکھ دے بات پسِ دیوار کرے
قطرہ قطرہ رات گھلی ہے نیند سے ترسی آنکھوں میں
کوئی اٹھے اور گلیوں گلیوں خوابوں کا بیو پار کرے

7
آئی لوگو صدا خدیجہ کی
روئے نا سیدہ خدیجہ کی
کعبہ ہو یا مدینہ ہو لوگو
ہر خدا کی ہے جا خدیجہ کی
سارے عالم میں ہر نگر بستی
ہے ازاں میں ندا خدیجہ کی

0
4
مدینے کے نوری جو گلزار ہیں
وفورِ عطا سے یہ سرشار ہیں
فضائے مدینہ ہے رحمت بھری
یہاں پر تجلیٰ کے انوار ہیں
اماں دیں یہاں پر حبیبِ خدا
یہاں جانِ جاناں کے دربار ہیں

0
1
5
مری یہ بات ہے وہم و گمان سے آگے
بچھا ہوا ہے جال اس مچان سے آگے
یہ رنگ و نور کا میلہ فریب ہے سارا
حقیقتیں ہیں سبھی اِس جہان سے آگے
یہ کنجِ بستہ لگتا ہے اب کوئی زنداں
نظر اٹھاؤ ذرا اس مکان سے آگے

0
10
پاک اَفْغان کَشِیدَگی!!!
——
اِک جُھوٹ بَھرے اَفْسانے کا اَنْجام یَہی تو ہونا تھا
دُشمن کو گَلے لَگانے کا اَنْجام یَہی تو ہونا تھا
سَب قَوْم شَہِیدوں کے صَدَْقے لیکن یِہ بات حَقِیقَت ہے
سانپوں کو دُودْھ پِلانے کا اَنْجام یَہی تو ہونا تھا

0
3
ہَمیشہ کام آتی ہے یہ نِسبت ہی فقیروں کی
بَھلا ہو اِن فقیروں کا جو نِسبت کو نِبھاتے ہیں

0
3
دیکھ کر وہ حَشر میں اِن عاشقوں کے نُور کو
مُنکرینِ نُور بھی مانگیں گے صَدقہ نُور کا

0
6
دل کی دیوار اگر ضد سے بنی ہو، تو پھر
آئینہ سامنے رکھ دو، نظر آئے ہی نہیں

0
2
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ الفاظ صرف آوازیں ہیں، چند جملے ہیں جو لبوں سے نکل کر فضا میں بکھر جاتے ہیں۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔لفظ کبھی خالی نہیں ہوتے اپنا اثر رکھتے ہیں وہ ہمارے باطن کے عکاس ہوتے ہیں،لفظ ہماری سوچ، ہمارے تجربات، ہماری نیت اور ہمارے اندر چھپی دنیا کو آشکار کرتے ہیں۔جو کچھ ہم بولتے ہیں، وہ اچانک پیدا نہیں ہو جاتا۔ وہ ہمارے ذہن کی زمین میں بویا گیا  بیج ہوتا ہے، جو  خیال بنتا ہے، اور آخرکار لفظ کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ذہن ایک کھیت کی مانند ہے۔اگر اس میں علم کے بیج بوئے جائیں، مثبت سوچ کا پانی دیا جائے اور اچھی صحبت کی دھوپ اور چھاؤں ملے، تو ، سچائی اور حکمت کی فصل اگتی ہے۔لیکن اگر اسی زمین میں نفرت، حسد، بدگمانی اور جھوٹ کے کانٹے بو دیے جائیں، تو زبان سے نکلنے والے الفاظ تلوار سے زیادہ تیز اور  نیزوں کی طرح چبھنے لگتے ہیں۔ لفظوں کے ساتھ لہجہ  اندر کی کیفیت کا عکس ہوتا ہے۔جو دل میں سکون رکھتا ہے، اس کی شخصیت میں ٹھہراؤ ،زبان میں نرمی ہوتی ہے۔جو دل میں آگ رکھتا ہے، اس کے لفظ بھی جلانے لگتے ہیں۔کسی انسان کو جاننے کے لیے  اس کا ماضی، حال، لباس دیکھنا  یا

0
7
اس سائٹ کو بنانے کے لئے درج ذیل #سافٹوئر اور #ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے:بیک انڈ پر  c# اور Net Core 3.1. کا استعمال کیا گیا ہے۔ کلائنٹ سائڈ پر JavaScript اور  JQuery  کا استعمال ہے - یوزر انٹرفیس اور سٹائلنگ کے لئے  Boostrap 4.5   کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس سائٹ پر نہائت خوبصورت مہرنستعلیق ویب فانٹ کا استعمال کیا گیا ہے جس کے لئے ہم  مشہور خطاط نصر اللہ مہر صاحب اور  ان کے صاحبزادے ذیشان نصر صاحب کے نہایت شکر گزار ہیں۔سائٹ کا لوگو بھی ذیشان نصر صاحب کا ڈیزائن کردہ ہے۔ اس کے علاوہ اردو محفل کے اراکین کا بھی شکریہ جو کہ مفید مشوروں سے نوازتے ہیں۔اردو کیبورڈ کے لئے yauk  اور  اردو ایڈیٹر کیبورڈ سے استفادہ کیا گیا ہے۔ورژن 1 کا سورس کوڈ گٹ ہب پر موجود ہے۔ 

16
778