معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



395
5813
وہ محض ایک کچا بدن کہاں تھا...
وہ تو میری کائنات کی واحد چھت تھا!
جب میری ننھی، ملائم انگلیاں
اس کی کھردری، چھالوں بھری ہتھیلیوں کو تھامتی تھیں
تو مجھے لگتا... زمانے کا کوئی طوفان مجھ تک نہیں پہنچ سکتا۔
میں اس کے سینے پر سر رکھتی

0
4
جنوں کی آگ میں جلنا ہوا ہے کیوں لازم
کمالِ شوق میں مرنا ہوا ہے کیوں لازم
دہکنا حسنِ گلِ تازہ کی طرح لیکن
مثالِ کاہ سلگنا ہوا ہے کیوں لازم
شکستگی کی گرانی بجا سہی لیکن
خود اپنے سائے سے ڈرنا ہوا ہے کیوں لازم

0
5
رقیہ،
تم صرف ایک نام نہیں،
تم وہ ساز ہو
جس کی پہلی جنبش سے
میری روح میں سر اُگ آتے ہیں۔
تم میری موسیقی ہو—

0
4
رقیہ،
کاش تمہیں معلوم ہو
کہ کوئی ہے
جو تمہارا نام
اپنی سانسوں کے نیچے آہستہ آہستہ دہراتا ہے—
جیسے دعا ہونٹوں تک آئے

0
3
رقیہ…
یاد ہے وہ دن؟
جب شام نے آہستہ آہستہ
اپنے سنہری دوپٹے کو سمیٹا تھا،
اور ہوا میں ہلکی سی خنکی تھی—
بالکل تمہاری خاموشی جیسی۔

0
4
یثرب ہمارا دِل ہے مدینہ بنائیے
جیسے رَوا ہو آپؐ کو تشریف لائیے

0
5
دل مندر دربار تے نئیں سی
پھل نوں ڈنگدا خار تے نئیں سی
اپنی مرضی وکھ ہویا اے
ورنہ اس تے بار تے نئیں سی
اکھ نوں اتھرو دیون والے
تیرا اے کردار تے نئیں سی

0
6
عقل والوں کے جنوں کا آج سودا ہو گیا
چشمِ جاناں کا اشارہ ایک فتنہ ہو گیا
مسکراتے لب، جھکی نظریں، حیا کا سلسلہ
ایک پل کا دیکھنا بھی اک تماشا ہو گیا
ہجر کی تاریک شب میں یاد اس کی آ گئی
درد کا بجھتا شرارہ پھر سے تازہ ہو گیا

0
4
چلیں میرے ہمدم لگے ہیں سفینے
ہے منزل جو نوری نبی کے مدینے
دعا ہے بلاوا ہمیں آئے اُن کا
حسیں سے ہیں وحدت کے کچھ جام پینے
میں پلکوں پہ آؤں درِ مصطفیٰ پر
سَپَھل چاہوں کرنا دہر کے یہ جینے

2
فوجی فرٹیلائزر پی آئی اے کا سَب سے بَڑا شیئر ہولڈر!!!
——
پی آئی اے کو عَقْد میں لے کر
بیوَہ کی تَوقِیر بَڑھائی
رَب کا شُکْر ادَا کر بھائی
جِس نے ہَماری فَوج بنائی

0
3
خبر کسے تھی کہ ایسا بھی امتحاں ہو گا
جو حرز جاں ہے بنا وہ وبال جاں ہو گا
۔
میں اس لیے نہیں کہتا کسی سے اپنے راز
کہ رازداں کا بھی کوئی تو رازداں ہو گا
۔

0
5
خالقِ ارض و سماوات، مالکِ روزِ جزا
نورِ مطلق، ذاتِ یکتا، کبریا و بے نیاز
صانعِ کل، رازقِ جاں، عالمِ سر و نہاں
قادرِ مطلق، رحیم و مہرباں، بندہ نواز
جلوہِ ربِّ جلیل و قدرتِ پروردگار
قطرہ قطرہ، ذرہ ذرہ، مظہرِ پروردگار

0
12
عشقِ خالق، چشمِ حیراں، سوزِ باطن، فتحِ باب
ذکرِ دائم، فکرِ کامل، نورِ پیہم، لاجواب
دردِ فرقت، یادِ جاناں، شامِ تنہا، جاں گداز
چشمِ پرنم، قلبِ عریاں، آہِ سوزاں، اضطراب
ظلمِ حاکم، آہِ مفلس، جبرِ پیہم، بے اماں
خونِ ناحق، شہرِ ویراں، قومِ برہم، انقلاب

0
11
میرے حسینی ہونے کے یہ بھی دلیل ہے
مجھ پر بھی اک یزید مسلط کیا گیا

0
2
زندگی معذرت
مجھ سے جینے کا کب حق ادا ہوسکا
کوئی وعدہ نہ مجھ سے وفا ہو سکا
چاہا تھا تری ہر صبح ہو تازہ دم
اور شامیں بھی ساری ہی روشن رہیں
ہر قدم پر کوئی ساتھ چلتا رہے

0
2
کبھی خوشی تو کبھی درد کا علم بھی ہے
حیات کیا ہے؟ کوئی مستقل ستم بھی ہے
وہ بے رخی سے جو دیکھے تو مسکرا دینا
شکستہ دل کی حفاظت کا اک بھرم بھی ہے
ہم اپنی آنکھ کی نمی کو خود ہی پیتے ہیں
ہمارے ضبط کی دنیا میں تیرا غم بھی ہے

0
7
رقیہ،
تم وہ صبح ہو
جس کے بعد رات کا ذکر بے معنی ہو جاتا ہے۔
تمہارے آنے سے
میرے دنوں کی پیشانی روشن ہو جاتی ہے۔
اور اگر کبھی تم دیر کر دو

0
6
رقیہ،
تمہیں دیکھا نہیں جاتا—
محسوس کیا جاتا ہے۔
تم خوشبو کی طرح ہو،
جو کمرے میں آ کر
اپنی موجودگی کا اعلان نہیں کرتی،

0
6
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ الفاظ صرف آوازیں ہیں، چند جملے ہیں جو لبوں سے نکل کر فضا میں بکھر جاتے ہیں۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔لفظ کبھی خالی نہیں ہوتے اپنا اثر رکھتے ہیں وہ ہمارے باطن کے عکاس ہوتے ہیں،لفظ ہماری سوچ، ہمارے تجربات، ہماری نیت اور ہمارے اندر چھپی دنیا کو آشکار کرتے ہیں۔جو کچھ ہم بولتے ہیں، وہ اچانک پیدا نہیں ہو جاتا۔ وہ ہمارے ذہن کی زمین میں بویا گیا  بیج ہوتا ہے، جو  خیال بنتا ہے، اور آخرکار لفظ کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ذہن ایک کھیت کی مانند ہے۔اگر اس میں علم کے بیج بوئے جائیں، مثبت سوچ کا پانی دیا جائے اور اچھی صحبت کی دھوپ اور چھاؤں ملے، تو ، سچائی اور حکمت کی فصل اگتی ہے۔لیکن اگر اسی زمین میں نفرت، حسد، بدگمانی اور جھوٹ کے کانٹے بو دیے جائیں، تو زبان سے نکلنے والے الفاظ تلوار سے زیادہ تیز اور  نیزوں کی طرح چبھنے لگتے ہیں۔ لفظوں کے ساتھ لہجہ  اندر کی کیفیت کا عکس ہوتا ہے۔جو دل میں سکون رکھتا ہے، اس کی شخصیت میں ٹھہراؤ ،زبان میں نرمی ہوتی ہے۔جو دل میں آگ رکھتا ہے، اس کے لفظ بھی جلانے لگتے ہیں۔کسی انسان کو جاننے کے لیے  اس کا ماضی، حال، لباس دیکھنا  یا

0
5
اس سائٹ کو بنانے کے لئے درج ذیل #سافٹوئر اور #ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے:بیک انڈ پر  c# اور Net Core 3.1. کا استعمال کیا گیا ہے۔ کلائنٹ سائڈ پر JavaScript اور  JQuery  کا استعمال ہے - یوزر انٹرفیس اور سٹائلنگ کے لئے  Boostrap 4.5   کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس سائٹ پر نہائت خوبصورت مہرنستعلیق ویب فانٹ کا استعمال کیا گیا ہے جس کے لئے ہم  مشہور خطاط نصر اللہ مہر صاحب اور  ان کے صاحبزادے ذیشان نصر صاحب کے نہایت شکر گزار ہیں۔سائٹ کا لوگو بھی ذیشان نصر صاحب کا ڈیزائن کردہ ہے۔ اس کے علاوہ اردو محفل کے اراکین کا بھی شکریہ جو کہ مفید مشوروں سے نوازتے ہیں۔اردو کیبورڈ کے لئے yauk  اور  اردو ایڈیٹر کیبورڈ سے استفادہ کیا گیا ہے۔ورژن 1 کا سورس کوڈ گٹ ہب پر موجود ہے۔ 

16
774