معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



205
2365
مِرے ارماں میں یہ بھی ایک ہے ارماں شاہد
اُسے سگریٹ پلاؤں میں پلائے وہ مجھے

0
جو کسی دلکش پہ آ جائے کبھی
مقصدِ تخلیقِ دل پورا ہو جائے

0
1
میں کے مجبور دل کے ہاتھ رہا
تُم نے سب کچھ بھلا دیا ہوگا
وہ نشانی، وہ چند خط میرے
تُم نے سب کچھ جلا دیا ہوگا

0
3
نام تیرا ستانے کو کافی
موت جیسے ڈرانے کو کافی
بھولنا چاہ کر بُھلا نہ سکے
یاد تیری ہے آنے کو کافی
کر بھلا اوروں سے ہو گا کہ بھلا
راضی رب بھی ہو جانے کو کافی

0
4
تاؤنی راجپوت مانگتے ہیں دعا
راؤ تیمور بھائی خوش رہے سدا
لبوں کی یہ ہنسیاں ہو مبارک
آپ کو شادی کی خوشیاں مبارک
آفتیں بلائیں آپ سے کوسوں رہیں دور
خوشگوار زندگی میں ہی رہیں مسحور

0
5
مجھے عشق جب علی ولی کا ہے بے پناہ
کریں مشکلات سامنا مشکلِ کُشا
کبھی روندا در، کبھی ہے فاتِح بدر بنا
مجاہد ہے اک فقط علی مشکلِ کُشا
عجب وارِ عمرُو خندقِ جنگ میں کہ واہ
اٹھی غیب سے صدا علی مشکلِ کُشا

0
5
چھا گیا تھا زمانہ جو رسالت کا
دور آتا گیا ہر سُو صداقت کا
اک اُبی نام کا کٹر منافق تھا
"جانے دیتا نہ تھا موقع شرارت کا"
کیا مہاجرؓ تھے کیا انصاریؓ سب تھے ایک
اخوہ قائم ہوا باہم اعانت کا

0
6
ہمارا تذکرہ ہو گا محبت کی کتابوں میں۔۔
انائیں وار کر ہم نے وفائیں جو نبھائی ہیں

0
3
یَداللہ ہو، قوی ہو، مرتضیؑ ہو
خدا کے شیر ہو، مرحب کَشا ہو
تمہیں تیغِ خدا ہو، لافتٰی ہو
تمہیں زورِ محمد مصطفیؐ ہو
تمہیں تو واقفِ ارض و سما ہو
تمہیں تو تاجدارِ ہل اتی ہو

0
10
زندگی رہ گزر ہے گزر جائیں گے
تم بھی مر جائے گے ہم بھی مر جائیں گے
ان کا شانہ نہیں ان کا انچل نہیں
چشم تر کیا یہ موتی بکھر جائیں گے
بند ہے یہ گلی اس پہ تیرہ شبی
ہم نوا یہ بتا ہم کدھر جائیں گے

0
38
مجھے اپنے تخیل میں جگہ کچھ دے کے دیکھو تم
بس الجھے میرے دھاگوں کو گرہ کچھ دے کے دیکھو تم
مرے اقرار کو اقرار اپنے سے ملا چھوڑو
مرے اس شوقِ الفت کا صلہ کچھ دے کے دیکھو تم
بدل دوں میں یہ سارے رہنے کے اطوار گر بولو
کسی بھی میری عادت کا گلہ کچھ دے کے دیکھو تم

0
5
بے کسی کا کبھی اظہار نہ ہونے پائے
حالِ مجبوری میں اوتار نہ ہونے پائے
جاں سے بڑھکر بھی وفاداری نبھاتے جائیں
"یار کو رغبتِ اغیار نہ ہونے پائے"
یوم و شب ایک ہی دُھن رکھنے سے منزل ملے گی
فکر جو پالی ہے بیکار نہ ہونے پائے

0
9
جھرنے ندی سے تو کبھی ساگر نہیں ملتا
سب بحروں میں کاہل سا سمندر نہیں ملتا
تقدیر کی گتھی کوئی سلجھا نہیں پایا
"دل اس سے ملا جس سے مقدر نہیں ملتا"
فطرت رہی ہے حضرتِ انساں کی ہمیشہ
تکرار ہو گر کوئی تفکر نہیں ملتا

0
5
یاد چاہت کو کیا جائے تو ڈر جاتے ہیں
اس کا چہرہ نظر آ جائے تو ڈر جاتے ہیں
ہم کہ محبوب تری بزم کے ٹھکرائے ہوئے
خواب بھی چہرہ دکھا جائے تو ڈر جاتے ہیں
ہم نے وہ حالتِ دل اپنی بنا رکھی ہے
اب کوئی شعر سنا جائے تو ڈر جاتے ہیں

0
4
28
دل لگانے کی زمانے میں سزا پائی ہے
شب ہے پہلو سے لگی اور غم تنہائی ہے
اشک گرنے کی بھی آتی ہے صدا کانوں میں
رت ہے خاموش کھڑی سلب سی گویائی ہے
ہر دریچے میں مرے گھر کے بسی ہیں یادیں
اک اداسی مری ہر طاق سے در آئی ہے

0
6
اچھی غزل کہے کیسے کوئی
گرد پڑی ہے شبابوں پر

0
2
ذرا بن ٹھن کے جو دلبر بھی آئے
حسیں زہرہ جبیں پیکر بھی آئے
ہوائے دید بن کے منتظر ہیں
"کوئی لمحہ دھنک بن کر بھی آئے"
جگر کو تھام کر بیٹھے ہیں سارے
جری، شعلہ بیاں، لیڈر بھی آئے

0
7
یوں حالت بگڑ گئی لبِ جان پڑ گئی
وہ تھی میری زندگی وہ ہی کیوں بچھڑ گئی
ترا ذکر چُھٹتا گر کہ عادت سی پڑ گئی
لحد جا بسی نظر کہ مٹی میں گڑ گئی
تخیل میں رہتی پر جو باہر ہی گڑ گئی
کہ دنیا جلی مری کبھی ذات سڑ گئی

0
8
جان جیجیکیسی ہو جی؟زندہ ہوں ، مزے میں ہوں -کتنے مزے میں؟بدھو - یہ کیا بےتکا سوال ہے ؟چلو تک والا سوال کر لیتا ہوں - یہ بتاؤ کے کیسی ہو؟حد ہے - بتایا تو ہے ابھی -کیا؟اف - پاگل ہو گیے ہو کیا؟ میری جدائی میں تم تو ...بس بس - جدائی والی کوئی بات نہ کرو - میں بقائمی ہوش و حواس پوچھ رہا ہوں کہ ...تمہاری تو توبہ ہی بھلی - پتا نہیں کیا اوٹ پٹانگ باتیں کر رہے ہو-تمھیں سب پتا ہے ... مانو یا نہ مانوآہم -آہم ایسی کوئی بات نہیںاچھا جی ؟ چلو بتا بھی دو کیسی ہو ؟تم صاف صاف بتاؤ پوچھنا کیا چاہتے ہو کہ تمہاری یاد میں پاگل ہوں ؟ دن کو رات اور رات کو دن کہتی ہوں ، ایسی کوئی بات نہیں ، منہ دھو رکھویہ تو ماروں گھٹنا پھوٹے آنکھ والی بات ہوئی - میں حال احوال پوچھ رہا ہوں اور تم بےوقت کی راگنی گا رہی ہوچلو تم کیسی ہو ، کیسی ہو کا راگ الاپ لو، مگر میری جان بخش دویہ ناممکن ہےمیری جان بخشنا ؟نہیں، راگ الاپناافوہڈاکٹر کے پاس گیئی تھی؟کیا مطلب؟ مجھے کیا ہوا ہے جو ڈاکٹر کے پاس جاؤں ؟کان صاف کروانے جاؤ، اتنی دیر سے پوچھ رہا ہوں کے کیسی ہو اور تم ...بس بس، بہت ہو گیا مذاق - تکلیف کیا ہے تمھیں ؟ کیوں بچوں سی باتیں کر رہے ہومیر

0
6
گامے (ایک افسانہ )۔۔۔۔ کاشفیات تحریر :کاشف علی عبّاس غلام محمد عرف گاما کے دن جوں توں کر کے ہی گزر رہے تھے - غلام کی زندگی میں ناکامی کا جمود جاری و ساری تھا - رہی سہی کسر ظالم دنیا کی جلی کٹی باتیں پوری کر دیتی تھیں ، وہ تو حقارت سے اسے غلام بھی نہیں بلاتے تھے ، کوئی گاما کہتا تھا، کوئی ابے گامے اور کوئی چپڑاسی کی گردان کرتا ، چپڑاسی ادھر آؤ ، یہ کرو وہ کرو .. کہ کر بلاتا تھا -اوروں کی طرح اس نے بھی ایک اچھی پر تعیش زندگی کے سہانے سپنے ضرور دیکھے تھے ، مگر وہ ان سپنوں کی تعبیر کبھی نہ پا سکا - اس کی عمر اب چالیس کے لگ بھگ تھی - وہ ارسا محکمے میں عارضی نائب قاصد (چپڑاسی )بھرتی ہوا تھا اور اب بھی نائب قاصد ہی تھا، کبھی کبھی رشوت خور جونئیر کلرک ، حامد چیمہ ، اگر رخصت پر چلا جاتا تو غلام چند لمحے ڈیسک پر افسروں کی طرح بیٹھنے کی ٹھرک پوری کر لیتا تھا ، مگر وہ ایک دیانت دار, خودار انسان تھا ، اس نے کبھی روپے کی بھی رشوت نہ لی اور نہ ہی کسی سے مدد لی تھی - وہ ایک دھان پان سا مخنی قد و قامت کا معمولی دکھنے والا شخص تھا - ہمیشہ خاکی یا سفید کپڑوں میں ملبوس ہوتا، جو اکثر گندے رہتے تھے - کبھی سالن کے دا

0
5
یہ ...آہ ..آہم ...یہ کیا ہے؟بھنڈی گوشتکاش تمھارے گھر والوں نے کچھ تو سکھا کر بھیجا ہوتا ، ہر روز ایک ہی بھنڈی گوشت کھا کھا کر میری شکل بھنڈی جیسی ہو گی ہےمہاراجہ جی، یہ گھر ہے تمھارے ابّے کا ہوٹل نہیں...دیکھو ، تمیز سے بات کرو، مرے خاندان کو بیچ میں مت گھسیٹو!یہ بات تم پر بھی لاگو ہوتی ہے ، زیادہ بچے نہ بنوبچہ تو میں ہوں ... تم سے پورے تین سو دس دن چھوٹا ہوں،افلاطون کہیں کے، صاف صاف کہو کے ١١ مہینے چھوٹا ہوںجو بھی سمجھو، مگر خدا کے لیے یہ بھنڈی گوشت لے جاؤٹھیک ہے تو پھر بھوکے مرو ...میں جا رہی ہوںارے ارے رکو، تو پھر میں کیا نوش فرماؤں گا؟اتنی دیر سے یہ جو میرا بھیجہ نوش فرما رہے ہو، اسی سے پیٹ بھرو ...کتنی ظالم ہو تم؟ جو بھی ہوں، تمہارا مجازی خدا، جان وفا اور پتا نہیں کیا کیا ہوں...ایک کاہل، سست الوجود اور چپکو قسم کے میاں ہو اور تم ایک ...بس بس... قینچی بھی تمہاری زبان کو دیکھ کر شرما جایے ... تم عورتیں بھی چپ ہونے کا نام نہیں لیتیںہاں ہاں اور تم مرد تو جیسے منہ میں گھنگنیاں ڈال کر بیٹھے رہتے ہوتوبہ ہے قسم سے! میں بھوک سے مر رہا ہوں ، جاؤ مرے لیے کوئی کباب بناؤ، کچھ کوفتے ، کوئی پکوڑے ...تو جاؤ دوسر

0
8