معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



398
6087
اک امتحان سے سارے امتحان نکلے
اور امتحان بھی ایسے ہیں کہ جان نکلے
جنت سے بھی نکالا اور پھر نہیں سنبھالا
اس طرح کا نہ کوئی بھی مہربان نکلے
الزام کس کو دیں اب برباد ہونے کاہم
جتنے ثبوت تھے سب تیرے نشان نکلے

0
1
بات کو گُفْتگُو سے ٹَھنْڈا کر
آگ کو اَمْن سے بُجھاتا جا
گَھر میں چاروں طرف اَنْدھیرا ہے
اِک دِیا گَھر میں بھی جَلاتا جا
(مرزا رضی اُلرّحمان)

0
2
منصور صدرِ بزمِ یاران الوداع
منصور بزمِ یاراں کی پہچان الوداع
منصور خوش مزاج ملن سار وضع دار
کم کم ہیں تجھ سے اب یہاں انسان الوداع
قیدِ دیارِ غیر سے آزادی مل گئی
تو جا رہا ہے توڑ کے زندان الوداع

0
3
جِن کی کونین پر داوَری ہے
اُن کی مِدحت مِری شاعری ہے
اُن کے باطن کا عالَم فَاَوْحٰی
حُسنِ اُسْوَہ پَھبَن ظاہری ہے
گھِر گیا ہوں فَریبِ فِتن میں
مجُھ کو درکار پھر یَاوری ہے

2
9
اِن پیار کے نغموں سے یادیں کو سجانے دو
فُرقت میں کریمی کی اب آنسو بہانے دو
پامال ہوں سب یادیں اِک یادِ مدینہ سے
اس دل میں جو ہوتا ہے وہ سب سے چھپانے دو
جو من میں رکھا کہہ دیں سرکار کے بردے کو
اس نامِ محمّد کو سینے سے لگانے دو

1
2
داتا ہیں سخی سرور ہر بات نرالی ہے
کب جھولی کبھی جائے اس در سے جو خالی ہے
سرکار سے کھاتے ہیں اور نازاں ہیں قسمت پر
اس بابِ سخا پر ہی کونین سوالی ہے
ہاں اُس کو لگے اچھا دروازہ یہ دلبر کا
کچھ سمجھے نہ وہ جنت جو دل سے بلالی ہے

1
5
حسرتوں کا گماں نہیں ہوتا
دردِ دل اب نہاں نہیں ہوتا
میں سناتا تمہیں مگر مجھ سے
حال دل کا بیاں نہیں ہوتا
داستاں اپنی کیا سنائیں ہم
زخمِ دل داستاں نہیں ہوتا

0
15
عجیب تنہا سا میں مسافر
نجانے کب سے بھٹک رہا ہوں
ہے غائبانہ عجیب رستہ
کہیں پہ بھیتر میں بڑھ رہا ہے
اداس صبحیں اندھیری شامیں
میں ٹوٹے خوابوں کی انگلی تھامے

0
4
پرسشِ غم کا تکلف، محترم! مت کیجیے
زخمِ گریہ تازہ ہے، اسبابِ نم مت کیجیے
خوش بہت ہوں بزم میں تیری چھپا کر زخم کو
فاش میرے مسکرانے کا بھرم مت کیجیے
جھیل سی اس چشمِ نم میں شورِ محشر غرق ہے
اک تبسم پر قیاسِ صد الم مت کیجیے

0
5
تِین سال میں سو اَرب ڈالر بیرُون مُلک بھیجے گئے۔مُحسن نَقوی!!!
——
یُوں بھی ڈالر وَاپس لانا آپ کے بَس کی بات نَہِیں
مُلک میں ہوں یا باہَر ہوں چوروں کے لَمبے کھاتے ہیں
آپ کے حَق میں بَہَتَّر ہے بَس خَیر مَنائیں چوروں کی
ڈالروں کو تو گولی ماریں ڈالر آتے جاتے ہیں

0
4
شیطان کی ہیں بیٹیاں یہ غلط فہمیاں
عناد کی ہیں کھیتیاں یہ غلط فہمیاں
رشتوں کو کاٹ دیتی ہیں پل بھر میں یہ عتیقؔ
دلوں کی ہیں بیماریاں یہ غلط فہمیاں

0
2
دیکھتے ہی دیکھتے کافی زمانہ ہو گیا
میں کبھی شاہدؔ نیا تھا اب پرانا ہو گیا
ان کے ہر اک جھوٹ پر سچ کا گماں ہونے لگا
اور اپنا سچ بھی آخر اک فسانا ہو گیا
وہ تعلق کو فقط اک کھیل سمجھا اور مجھے
عشق اس سے کیوں نجانے والہانا ہو گیا

7
ہے طرزِ صُوفِیا جنوں، ہے طورِ اصفیا جنوں
وصف ہے عالیہ جنوں، رفعتِ اولیا جنوں
عشق کی ابتدا فنا، عشق کی انتہا جنوں
رازوں کا راز کھل گیا، عشق کی بقا جنوں
عشق جو پا لِیا فنا، تو وہ مکمل ہو گیا
اس کے ہے بعد مرحلہ، عشق وہ پائے گا جنوں

0
1
مدد کو ہے دست گیر میرا
ہے پیر روشن ضمیر میرا
دِکھایا مرشِد نے کس طرح ہے
خدا علیم و خبیر میرا
ثبوت مرشِد نے ہیں دِکھائے
ہے رب سمیع و بصیر میرا

0
1
یہ دل میں میرے جو دل ترا ہے، نہ سب مرا ہے نہ سب ترا ہے
ہے جو بھی کچھ سب ترا مرا ہے، نہ سب مرا ہے نہ سب ترا ہے
کبھی میں معشوق اور تو عاشق، کبھی تو معشوق اور میں عاشق
یہ عشق ہم میں مِلا جُلا ہے، نہ سب مرا ہے نہ سب ترا ہے
کبھی میں دل، تو کلیم میرا، کبھی تو دل، میں کلیم تیرا
کلیم خود دل سے کہہ رہا ہے، نہ سب مرا ہے نہ سب ترا ہے

2
ہے صدر میں دل تو دل میں مستی، یہ کچھ ہے میری تو کچھ ہے تیری
تو ہست ہے میں تبھی ہوں ہستی، یہ کچھ ہے میری تو کچھ ہے تیری
عیاں میں مَیں ہوں نہاں میں تُو ہوں، خودی میں مَیں تیرے روبرو ہوں
میں ہوں اَنَا تو اَنَا پرستی، یہ کچھ ہے میری تو کچھ ہے تیری
کبھی تصور میں ہے مصور، کبھی مصور میں ہے تصور
میں گھر ہوں تیرا تو گھر گِرَسْتی، یہ کچھ ہے میری تو کچھ ہے تیری

0
1
مُرشِد خودی میں میری کمالات کرے ہے
میری خودی میں رہ کے مجھے بات کرے ہے
تعلیمِ خود آگاہی کو چھپ کر مرے اندر
مجھ سے وہ ہر اک آن سُوالات کرے ہے
مرشد خودی میں کیوں ہے، میں جان گیا ہوں
اعمالِ حسن کی وہ ہدایات کرے ہے

0
2
لفظ با معنی اور سَہَل لکّھو
بات چھیڑو کوئی غزل لکّھو
کچھ جو لکھنا ہے حسنِ جاناں کو
تم اسے حسنِ بے بدل لکّھو
ما سوا اس کے سب کو بھولوں میں
یار ایسا کوئی عمل لکّھو

0
1
بنایا تھا مجھے مشہور جو زمانے میں
"کسر نہ چھوڑی تھی اس نے مجھے گرانے میں"
ہوس نہیں ہے تو کیا ہے یہ شہرتوں کی طلب
یہ عیب داری ہے اللہ کے خزانے میں
فقیر گوشہ نشینی کی چاہ رکھتے ہیں
جو کام آتی ہے خود کی خودی سجانے میں

0
2
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

195
7816
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

398
6087
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ الفاظ صرف آوازیں ہیں، چند جملے ہیں جو لبوں سے نکل کر فضا میں بکھر جاتے ہیں۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔لفظ کبھی خالی نہیں ہوتے اپنا اثر رکھتے ہیں وہ ہمارے باطن کے عکاس ہوتے ہیں،لفظ ہماری سوچ، ہمارے تجربات، ہماری نیت اور ہمارے اندر چھپی دنیا کو آشکار کرتے ہیں۔جو کچھ ہم بولتے ہیں، وہ اچانک پیدا نہیں ہو جاتا۔ وہ ہمارے ذہن کی زمین میں بویا گیا  بیج ہوتا ہے، جو  خیال بنتا ہے، اور آخرکار لفظ کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ذہن ایک کھیت کی مانند ہے۔اگر اس میں علم کے بیج بوئے جائیں، مثبت سوچ کا پانی دیا جائے اور اچھی صحبت کی دھوپ اور چھاؤں ملے، تو ، سچائی اور حکمت کی فصل اگتی ہے۔لیکن اگر اسی زمین میں نفرت، حسد، بدگمانی اور جھوٹ کے کانٹے بو دیے جائیں، تو زبان سے نکلنے والے الفاظ تلوار سے زیادہ تیز اور  نیزوں کی طرح چبھنے لگتے ہیں۔ لفظوں کے ساتھ لہجہ  اندر کی کیفیت کا عکس ہوتا ہے۔جو دل میں سکون رکھتا ہے، اس کی شخصیت میں ٹھہراؤ ،زبان میں نرمی ہوتی ہے۔جو دل میں آگ رکھتا ہے، اس کے لفظ بھی جلانے لگتے ہیں۔کسی انسان کو جاننے کے لیے  اس کا ماضی، حال، لباس دیکھنا  یا

0
17