معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



398
6147
ہاتھ چھو کر بھی وہ دوری کے زمانے مانگے
بے رخی دیکھ کہ ملنے کے بہانے مانگے
ہم تو مٹ کر بھی رہے مائلِ تسلیم و رضا
دل وہ ناداں کہ اب اُجڑے ہوئے دانے مانگے
اب جو آئے ہیں تو کیوں خوفِ زیاں ہے اتنا
کل یہی تھا کہ محبت کے خزانے مانگے

0
2
دل کے ملبے پہ نئے خواب اگا ہی دیں گے
لوگ ہر زخم کو تقدیر بنا ہی دیں گے
جن کے چہروں پہ وفاداری کے قصّے تھے کبھی
وقت آئے گا تو آئینہ دکھا ہی دیں گے
شہر خاموش ہے، دیواریں بھی سہمی سی ہیں
پھر کوئی شور کے معنی کو سزا ہی دیں گے

0
5
دلِ ناداں کو کوئی نقشِ قدم مل جائے
تیرے ملنے سے ہر اک رنج و الم مل جائے
ہم نے صحرا میں گزاری ہے جو عمرِ رفتہ
کاش اس دشت کو اب زلفِ صنم مل جائے
لوگ کہتے ہیں کہ دنیا میں اندھیرا ہے بہت
روشنی تجھ سے ملے، نورِ حرم مل جائے

0
4
محبتوں میں جو پتھر نگار ہوتا ہے
کب اس کو کانچ کی مورت سے پیار ہوتا ہے
یہ آنکھ صبح تلک بھی کیا سنواروں میں
نظر میں گردشِ لیل و نہار ہوتا ہے
نمازِ سحر اذانوں کے گونجتے سر میں
سماعتوں کو مری اک خمار ہوتا ہے

0
7
عاقبت کو سنوار لیتے ہم
اپنا جیون سدھار لیتے ہم
چھوڑ کے کام دھندے دنیا کے
اپنے رب کو پکار لیتے ہم
اس کے کہنے پہ گر جو چلتے ہم
کتنا اللہ سے پیار لیتے ہیں ہم

0
2
ہم بری آنکھ کو بیکار دکھائی دیں گے
خوش نظر ہی کو ہنر یار دکھائی دیں گے
ہم سے محنت میں کوئی جیت نہیں پائے گا
ہم مشقت کے طلب گار دکھائی دیں گے
جن کو پردیس میں پھینکا تھا سمجھ کر کمتر
اپنے پاؤں پہ وہ خود دار دکھائی دیں گے

0
3
صدا فقیر کی سب حکمراں ذرا سن لو
مگر ضمیر تمہارا ہے مر چکا سن لو
ہمارا ووٹ تمھیں کرسیاں دلاتا ہے
کبھی تو آ کے ہمارا بھی مدعا سن لو
عیا شیاں بھی بہت ہو چکیں مگر اب تو
عوام کا بھی کوئی کر ہی دو بھلا، سن لو

0
4
کیا کبھی ظلم کی سرکار نہ بدلے گی ڈگر؟
ہر شریف آدمی اب کانپ رہا ہے تھر تھر
ہے امیروں کی تو ہر چیز نئے ماڈل کی
فکر مفلس کو ہے دو وقت کی روٹی کی مگر
ڈھونڈتا رزق پریشاں ہے وطن میں کوئی
سیر کرنے کوئی پردیس کے کاٹے چکر

0
3
بات بے بات یہ دھرنا ہے
آخر کچھ تو کرنا ہے
روز بیان بدلتے ہیں
لیڈر خود کو سمجھتے ہیں
اک دوجے کے نام دھریں
خود نہ گریباں میں جھانکیں

0
3
کہے جس کو مولا یہ میرا ہے بندہ
اشارے سے اُس نے کیا چاق چندہ
ارادے سے اُن کے مہر لوٹ آیا
فضائے دہر کو کریں آپ خندہ
نبی نے سجائے ارم میں جو گلشن
پراگندہ اس سے ہے شیطاں درندہ

0
2
اس کو ڈھونڈو کہیں وہ گیا ہے کہاں
میرے محرم کا ہے ایک الگ ہی جہاں
وہ تو واقف نہیں ہے رواجوں سے بھی
اجنبی راستے اجنبی کارواں
کوئی چہرہ بھی اس کا شناسا نہیں
چاہتا بھی نہیں وہ یہاں کی زباں

0
7
خدا کے پیمبر نبی آخری
نبوت ہے جن کو ازل سے ملی
تھے انسان سارے ابھی آب و گل
مگر تھے یہ پردے میں نورِ جلی
یہی ہیں جو دولہا تھے میثاق میں
سرِ لامکاں تھی جو محفل سجی

3
13
مِل گیا سب کچھ مگر دل ہے کہ مژگاں نم کرے
اک عجب وحشت ہے جو راحت میں بھی ماتم کرے
آرزو تھی جن کی، اب ان سے گریزاں ہے یہ دل
کون اس سیماب جاں دل کا کوئی مرہم کرے
پہلے زنجیرِ تعلق کے لیے روتا تھا یہ
اب یہ چاہے گا کوئی اس قید کو مبہم کرے

0
6
میں تیرا نام نَہ لُوں پِھر بھی لوگ ​پَہْچانیں!!!
——
تُو نے تو یِہ آپ ثابِت کر دیا
بِھیک مَنگوں میں ترا ثانی نَہِیں
اے مرے دَرْیُوزَہ گَر اَب ڈُوب مَر
شَرْم تُو یُوں بھی تُجھے آنی نَہِیں

0
3
اِک ادُھورا خواب ہو تو گیا پورا مگر
وقت کی تلوار نے اِس کے ٹکڑے کر دیے

0
4
ویران دریچوں پر گھر کے کچھ یاد کے دیپک جلتے ہیں
شب بھر یہ ہوا سے لڑتے ہیں پھر صبح کو آخر بجھتے ہیں
الفاظ یہاں کچھ ایسے ہیں معنی کو ترستے رہتے ہیں
ملتی ہے زباں ہر غم کو کہاں، کچھ غم آہوں میں ڈھلتے ہیں
اس خاک نشینی میں رہ کر ہم نے تو فقط یہ جانا ہے
اک تیز ہوا کے جھونکے سے سب تاش محل گر جاتے ہیں

0
19
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

195
7868
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

398
6147
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ الفاظ صرف آوازیں ہیں، چند جملے ہیں جو لبوں سے نکل کر فضا میں بکھر جاتے ہیں۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔لفظ کبھی خالی نہیں ہوتے اپنا اثر رکھتے ہیں وہ ہمارے باطن کے عکاس ہوتے ہیں،لفظ ہماری سوچ، ہمارے تجربات، ہماری نیت اور ہمارے اندر چھپی دنیا کو آشکار کرتے ہیں۔جو کچھ ہم بولتے ہیں، وہ اچانک پیدا نہیں ہو جاتا۔ وہ ہمارے ذہن کی زمین میں بویا گیا  بیج ہوتا ہے، جو  خیال بنتا ہے، اور آخرکار لفظ کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ذہن ایک کھیت کی مانند ہے۔اگر اس میں علم کے بیج بوئے جائیں، مثبت سوچ کا پانی دیا جائے اور اچھی صحبت کی دھوپ اور چھاؤں ملے، تو ، سچائی اور حکمت کی فصل اگتی ہے۔لیکن اگر اسی زمین میں نفرت، حسد، بدگمانی اور جھوٹ کے کانٹے بو دیے جائیں، تو زبان سے نکلنے والے الفاظ تلوار سے زیادہ تیز اور  نیزوں کی طرح چبھنے لگتے ہیں۔ لفظوں کے ساتھ لہجہ  اندر کی کیفیت کا عکس ہوتا ہے۔جو دل میں سکون رکھتا ہے، اس کی شخصیت میں ٹھہراؤ ،زبان میں نرمی ہوتی ہے۔جو دل میں آگ رکھتا ہے، اس کے لفظ بھی جلانے لگتے ہیں۔کسی انسان کو جاننے کے لیے  اس کا ماضی، حال، لباس دیکھنا  یا

0
28