معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



398
6072
ایک رنجش ہی ملی اور اُٹھائی میں نے
یعنی جھیلی مرے اپنوں کی جدائی میں نے
اجنبی لوگ تھے ہر سمت کوئی دوست نہ تھا
لگ کے پیڑوں سے گلے عید منائی میں نے
خواہشِ وصل کے پانی سے بھر آئی آنکھیں
حسرتِ دید لیے کال ملائی میں نے

0
ساری تاویلیں غلط اور مسترد ہیں سب بیاں
عشق پر اہلِ خرد کے یعنی رد ہیں سب بیاں
ساقیِ کوثر اگر کہہ دیں نہیں تو رد شدہ
ساقیِ کوثر کہیں ہاں مستند ہیں سب بیاں
سنتیں ، چال و چلن ، سب گفتگو سرکار کی
نقش سینے میں ازل سے تا ابد ہیں سب بیاں

0
تم نے احسان کیا ہے؟ سو جتائیں ؟ جائیں
مجھ کو ادابِ محبت نہ سکھائیں جائیں
ہم نے احسان کیا تم پہ بھلایا تم کو
آپ بھی کرم کریں ہم کو بھلائیں جائیں
وہ جسے لوٹ کے آنا تھا نہیں آئے گا
زندگی کس کے تعاقب میں گنوائیں جائیں

0
ہمارا جرم پہلا یہ محبت ایک طرفہ کی
اور اُُس پر دوسرا گویا کہ حاصل کی تمنا کی
عجب افسردگی پالے ہوئے سینے میں اک لڑکا
لکیریں کھینچتا ہے کینوس پر فکرِ فردا کی
ہمارے عہد میں سب سے بڑا مذہب غریبی ہے
نہیں دکھتی مگر کوئی عبادت گاہ غربا کی

0
زمیں پر ایڑیاں رگڑی کوئی بھی جل نہیں نکلا
ہماری اس اداسی کا کوئی بھی حل نہیں نکلا
یہ رسی فطرتاً بل دار ہے سو کیا کرے کوئی
کہ میں نے لاکھ کوشش کی پر اس کا بل نہیں نکلا
ہمارے ضبط پر شاہد ہیں صحراوں کے ذرے تک
ہمارے صبر کے بوٹے پہ میٹھا پھل نہیں نکلا

0
ستمگر حکمرانوں کی حمایت کے علاوہ بھی
تمہیں کچھ کام کرنے کے روایت کے علاوہ بھی
خدائے لم یزل ہم تنگ دستوں کے لیے آخر
کوئی تو راستہ ہونا تھا ہجرت کے علاوہ بھی
خدا سے اور بھی باتیں کروں گا روز محشر میں
اے میرے بے وفا تیری شکایت کے علاوہ بھی

0
شَہْباز شَریف بِہتَرِین اِنسان نَہِیں۔ٹَرَمْپ!!!
——
اِس نے اِک دِن تو اَوْقات پَہ آنا تھا
اور پِھرو اِس چَوَل کے آگے پِیچھے تُم
یہ بے غَیرَت صَرْف سَگا ہے اَپنا ہی
چاہے جِتنا ہو لو اُوپَر نِیچے تُم

0
1
شراب نے شباب نے خراب کر دیا مجھے
کہ عادتِ خراب نے خراب کر دیا مجھے
خرد نے یہ کہا تو تھا ہیں عادتیں بری تری
مرے ہی انتخاب نے خراب کر دیا مجھے
ترا اکڑ کے بولنا بلا سبب ہی ڈانٹنا
کہ لہجۂ خراب نے خراب کر دیا مجھے

1
10
بھیگی یاد
وہ ہلکی بارش...
اور بالکونی کا نیم تاریک کونا
ہم دونوں چپ تھے
ہاتھ ذرا سے باہر کو نکلے ہوئے، بوندوں کی زد میں
میں نے تیرا ہاتھ تھام رکھا تھا

0
2
وہ شاہِ زماں آقا کونین کے دل جاں ہیں
اس زینتِ ہستی سے دل داریں فروزاں ہیں
دلدار غریبوں کے سرکار نبی پیارے
کونین رواں اُن سے وہ جانِ گلستاں ہیں
کل فیض جہاں بھر میں سرکار سے آتا ہے
ہر آن خدائی پر اُس یار کے احساں ہیں

0
2
ہیں گیت آشتی کے مدحت حضور کی
کر دے دروں درخشاں الفت حضور کی
گردوں میں رونقیں ہیں لطفِ حبیب سے
ہے زینتِ جہاں بھی رحمت حضور کی
قوسین میں بلا کر پردہ اُٹھا دیا
چشمِ فلک نے دیکھی عظمت حضور کی

0
1
ہم اپنا آپ رکھ کر بھول بیٹھے ہیں کہیں پر
مگر تم ظرف دیکھو تو نہ آئے بل جبیں پر
نہ جانے دے گا اپنا آپ خالی خولی کر کے
مکاں کا کوئی قرضہ بالیقیں ہو گا مکیں پر
ہمارے فیصلے کرنے کو بیٹھے لوگ وہ ہیں
کسی کے رخ پہ چھینٹے ہیں، کسی کی آستیں پر

0
2
اے دردِ دروں جاگو پھر رات بسر ہو گی
یہ محفلِ دلبر ہے یادوں میں سحر ہو گی
سرکار نوازیں گے الطافِ کریمی سے
تاباں ہیں مقدر پھر گر ہم پہ نظر ہو گی
گلشن ہے درخشاں جو دلدار کے آنے ہیں
جو صبحِ صفا ہو گی انوار سے پُر ہو گی

2
9
وقتِ رخصت
وہ ایک اشکِ بے صدا
جو چشمِ نم سے ڈھلکا
نہ ٹھہر سکا
نہ گریہ میں تحلیل ہوا
بس

0
4
ہم یہاں شعر و سخن سے غم بھلانے آئے ہیں
مسکراتی محفلوں میں مسکرانے آئے ہیں
اس قلم کی ہے عبادت مسکراہٹ بانٹنا
سامنے رب کے قلم کا سر جھکانے آئے ہیں
پھول جیسی بات کر کے جیت لیں گے سب کے دل
دوستوں کی بزم میں خوشبو لٹانے آئے ہیں

0
4
راس جب آیا نہ کچھ دل کو دیارِ یار میں
پھر بھلا جائیں کہاں اس نا رسا سنسار میں
زندگی بے کیف سی لگنے لگی ہے آج کل
گم ہوا ہے چین سارا ہجر کے آزار میں
تاکہ حاصل ہو مسرت، بات بھی بگڑے نہیں
جھوٹ کا لینا پڑا اکثر سہارا پیار میں

0
3
قُلْ ہُوَ اللّـٰہُ اَحَدٌ
سمت ہے اس کی نہ حد
اس کے در کے ہیں فقیر
پست و بالا نیک و بد
کون ہے اس کے سوا
معتبر اور مستند

1
9
ڈوبتی ہے نبضِ دوراں ، کچھ کرو
شاعرو، دانش ورو، دیدہ ورو
گر نہیں مرہم ، نمک پاشی سہی
یہ تو کچھ مشکل نہیں؟ چارہ گرو
کچھ نہ کچھ نادان مل ہی جائیں گے
روز ہی اک بت تراشو ، آذرو

1
8
ڈاکٹر فَضِیلہ عَبّاسی کی عُبُوری ضَمانَت بَحال!!!
——
آپ تو اَپنی ہَم عُمروں کے وَاسْطے اَیک جَلاپا ہیں
آپ تو ہَم کَمزور دِلوں کے وَاسْطے اَیک سَیاپا ہیں
شَکْل و صُورَت، مال و مَتاع سے شَک سا ہونے لَگتا ہے
حَمْزَہ عَلی کی ہیں یا آپ اَیان عَلی کی آپا ہیں؟

0
2
اے آشنائے راز مُجھے آشنائی دے
اے نُورِ کائنات مُجھے رَوشنائی دے
توحید میں خلوص ہو حاصل رَضا رہے
اے ذاتِ لا شَریک مُجھے بے رِیائی دے
تیرا عظیم نام ہی وردِ زُبان ہو
اپنے کلام سے تُو مُجھے ہَمنوائی دے

0
14
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

195
7800
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

398
6072
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ الفاظ صرف آوازیں ہیں، چند جملے ہیں جو لبوں سے نکل کر فضا میں بکھر جاتے ہیں۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔لفظ کبھی خالی نہیں ہوتے اپنا اثر رکھتے ہیں وہ ہمارے باطن کے عکاس ہوتے ہیں،لفظ ہماری سوچ، ہمارے تجربات، ہماری نیت اور ہمارے اندر چھپی دنیا کو آشکار کرتے ہیں۔جو کچھ ہم بولتے ہیں، وہ اچانک پیدا نہیں ہو جاتا۔ وہ ہمارے ذہن کی زمین میں بویا گیا  بیج ہوتا ہے، جو  خیال بنتا ہے، اور آخرکار لفظ کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ذہن ایک کھیت کی مانند ہے۔اگر اس میں علم کے بیج بوئے جائیں، مثبت سوچ کا پانی دیا جائے اور اچھی صحبت کی دھوپ اور چھاؤں ملے، تو ، سچائی اور حکمت کی فصل اگتی ہے۔لیکن اگر اسی زمین میں نفرت، حسد، بدگمانی اور جھوٹ کے کانٹے بو دیے جائیں، تو زبان سے نکلنے والے الفاظ تلوار سے زیادہ تیز اور  نیزوں کی طرح چبھنے لگتے ہیں۔ لفظوں کے ساتھ لہجہ  اندر کی کیفیت کا عکس ہوتا ہے۔جو دل میں سکون رکھتا ہے، اس کی شخصیت میں ٹھہراؤ ،زبان میں نرمی ہوتی ہے۔جو دل میں آگ رکھتا ہے، اس کے لفظ بھی جلانے لگتے ہیں۔کسی انسان کو جاننے کے لیے  اس کا ماضی، حال، لباس دیکھنا  یا

0
14