معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



414
6531
گھر کے آنگن میں کوئی پیڑ ہرا ہے کہ نہیں
کھڑکیاں بھی ہیں مگر تازہ ہوا ہے کہ نہیں
سوچ پلکوں پہ کئی رنگ ابھر آئے ہیں
کوئی چہرہ پسِ آئینہ چھپا ہے کہ نہیں
شور گلیوں سے مسلسل جو یہاں اٹھتا ہے
مشترک اس میں مری آہ بکا ہے کہ نہیں

0
2
مِرے اشکِ تر نہ تھمے کبھی، ہمہ دم ستم مِرے حال پر
وہ صنم مرا کہ ستم روا، نہ ہوا کرم مِرے حال پر
​غمِ عاشقی میں جفا ملی، نہ سکوں ملا نہ دوا ملی
غمِ جاوداں کہ لکھا گیا، ہوا یوں رقم مِرے حال پر
​سرِ بزمِ غم شبِ بے بسی، نہ سحر ہوئی نہ دیا جلا
مری التجا نہ سنی کبھی، وہ بنا صنم مِرے حال پر

0
1
نورِ حق سے ساری خلقت اس طرح سے ضوفشاں ہے
ہر مکاں میں جلوۂ حق، ہر طرف اک لا مکاں ہے
اہلِ صورت تک رہے ہیں رنگِ فانی دہرِ دوں کا
دیدۂ دل جانتا ہے عشقِ حق ہی جاوداں ہے
​قطرہ گر گم ہو ندی میں بحرِ قلزم بن کے ابھرے
مٹ کے رہنا خود سے اپنی زندگی کا رازداں ہے

0
1
وہ جانِؐ جہاں کا مَکاں، اللہ اللہ
ملی مُجھ کو جس میں اَماں، اللہ اللہ
اُنہی پر ہے قُرباں مِری نقدِ جاں بھی
ہے قُربان جن پر جَہاں، اللہ اللہ
مِرے دل کا کعبہ ہے منبر نبیؐ کا
ہے محراب نُوری کَماں، اللہ اللہ

0
12
اس جہاں کو چھوڑ کر سلمان رخصت ہو گئے
ماسٹر اَصْحَاب کے ارمان رخصت ہو گئے
باپ ماں بھائی بہن اور سب کو نالاں چھوڑ کر
زندگی اور علم و فن کے سارے میداں چھوڑ کر
آہْ پیارے حافظِ قرآن رخصت ہو گئے
بستی کَٹْہَل باری میں ہر کوئی ہے ماتم کناں

0
4
زمانے سے دل لگایا، مجھ سے لگا ذرا
وفاؤں کو میری بھی کبھی آزما ذرا
ترا ساتھ چھوڑ کر نہیں جاؤں گا کہیں
تو کر کے بھروسہ مجھ پہ، رشتہ نبھا ذرا
میں بجھنے کبھی نہ دوں گا تیرا چراغِ دل
تو راہِ وفا میں دیپ کوئی جلا ذرا

0
6
محسنِ دو جہاں ہیں ہمارے نبیؐ
رحمتِ جسم و جاں ہیں ہمارے نبیؐ
تپتے صحرا کو ٹھنڈک عطا ہو گئی
لائے ایسا سماں ہیں ہمارے نبیؐ
تھے وہ انکاری عورت کی حرمت سے جو
بیٹیوں کی اماں ہیں ہمارے نبیؐ

0
5
پِٹرول مَہنگا ہے تو عَوام قُربانی دے- عَیّاش حُکْمَران!!!
——
اَب کے زِیادَہ دیر نَہِیں چَلنا یِہ سَب کُچھ تو یُوں جی
مَہنگائی تُم لوگ کرو اور قُربانی ہَم دیں، کیوں جی؟
مَہنگا ہے پِٹرول اگر تو آنیاں جانیاں بَند کرو
وَرنَہ اَب ہَم لوگ نِکالیں گے یِہ سَب اَکڑ فُوں، جی

0
5
برسوں میں اک مقام سے آگے نہیں بڑھے
گویا کہ در و بام سے آگے نہیں بڑھے
ان کو انا عزیز تھی، ہم کو وفا عزیز
ہم اپنے اپنے کام سے آگے نہیں بڑھے
وہ بھی ملے تھے آج ہمیں بے رخی کے ساتھ
ہم بھی دعا، سلام سے آگے نہیں بڑھے

0
4
حبیب اللہ رسول اللہ حبیبی مصطفیٰ ہیں یہ
ضمیرِ دہر تاباں ہے جہاں بھر کی جِلا ہیں یہ
نبی آئے جمیلِ حق جمالِ دو جہاں سرور
ہوئی تکمیل نعمت کی امامِ انبیا ہیں یہ
فضائل میں نبی سارے خدا کے خاص بندے ہیں
جنہیں لولاک رب کہتا وہ ہی کن کی وجہ ہیں یہ

0
1
6
سمندروں کے جو اندر تلاش کرتے ہو
اسی کے فضل کے گوہر تلاش کرتے ہو
یہاں وفاؤں کا پیکر تلاش کرتے ہو
تم آسمان زمیں پر تلاش کرتے ہو
تلاش کرتے ہیں سب لوگ یاں پہ آئینہ
بس ایک تم ہو جو پتھر تلاش کرتے ہو

0
6
غزل
خستہ خامے کو میں تلوار بنا سکتا ہوں
وہ پیادہ ہوں کہ سالار بنا سکتا ہوں
قیصرِ وقت کے ایوانوں کو لرزاں کر دے
چند لفظوں سے وہ للکار بنا سکتا ہوں
مَن میں خوابیدہ اُمنگوں کو اُجاگر کر کے

0
6
گو چھین ہی لی تم نے تقدیر ہماری ہے
تعمیر بھی کہتی تھی تعمیر ہماری ہے
دونوں ہی طرف والے حق جس پہ جتاتے ہیں
یہ کہ دے کوئی ان سے جاگیر ہماری ہے
رب نے جنہیں دولت دی خوشحالی عطا کر دی
وہ لوگ سمجھتے ہیں تدبیر ہماری ہے

0
8
نہ جانے کون سا موسم تھا گھر سے جانے تک
میں اور تھا مرے واپس پلٹ کے آنے تک
میں اپنے باپ کی خاموشیاں سمجھ نہ سکا
ابھی تو بچے ہیں، سمجھیں گے میرے جانے تک
میں اپنے عکس سے برسوں خفا رہا ایسے
کہ آئینہ بھی تھکا مجھ کو پھر منانے تک

0
9
زندگی مجھ کو کیا ملی ہوئی ہے
بے خطا اک سزا ملی ہوئی ہے
یونہی فضلِ خدا نہیں مجھ پر
یہ کسی کی دعا ملی ہوئی ہے
رنگ اپنا الگ ہے دنیا سے
ہمیں فطرت جدا ملی ہوئی ہے

0
5
​ہماری ہر اک بے بسی کا سبب تم
ہمارے دلِ زار پر اک غضب تم
​نہ شکوہ زباں پر، نہ آنکھوں میں آنسو
سکھاتے ہو جینے کا کیسا ادب تم
​بکھر کر بھی تجھ سے جدائی نہ چاہی
رہے بے بسی میں بھی دل کی طلب تم

0
5
بے بسوں کو آزمانا یہ کہاں انصاف ہے
غم کے ماروں کو ستانا یہ کہاں انصاف ہے
بے سبب اڑتے پرندوں کو پھنسانا جال میں
پر کتر کر پھر اڑانا یہ کہاں انصاف ہے
ظالموں کی جوتیاں سر پر سجا کے شوق سے
بے بسی کے گیت گانا یہ کہاں انصاف ہے

0
2
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

414
6531
•─═══﷽═══─•سورۂ فاتحہ کی منظوم ترجمانی(2)شاعر: مہر مہسلائی رحمہ اللہ════❁✿❁════تعارف:قرآنِ مجید کی پہلی سورت سورۂ فاتحہ اپنے اندر توحید، حمد، عبادت، استعانت اور ہدایت کی جامع تعلیمات سموئے ہوئے ہے۔ معروف شاعر”مہر مھسلائی“نے اس عظیم سورت کے مفاہیم کو نہایت سادہ، مؤثر اور دل نشین شعری قالب میں پیش کیا ہے، تاکہ عام قاری بھی اس کے پیغام کو آسانی سے سمجھ سکے۔ملاحظہ فرمائیے:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(اللہ کے نامِ پاک سے ہے آغاز ہمارے کاموں کا)(بے مثل محبت ہے جس کی جو رحم و کرم میں ہے یکتا)۔۔اصل مطلع۔۔آغاز ہمارے کاموں کاہے نام سے تیرے جگ داتاتو رحم و کرم کا سر چشمہ ہے فیض تیرا ہی لہراتاسب حمد تجھے ہی زیبا ہے، تو رب ہے سارے جہانوں کاسب سُورج چاند ستارُوں کا، سب جانوں کا بے جانوں کابے تھاہ سمندر رَحمت کا ، سَرچشمہ مہر و محبت کاخالق ہے عمل کی قوت کا ، اور مالک روزِ قیامت کاہم بندے تیرے اَے آقا ، تیری ہی عبادت کرتے ہیںتوفیقِ اطاعت ، جوشِ عمل کی تُجھ سے چاہت کرتے ہیںہاں راہ دِکھا اُس منزل کی ، جو منزلِ فتح و نصرت ہےاسلاف نے جس پر چل کر پائی دونوں جہاں کی نعمت ہےوہ راہ نہ ہو گُمراہوں کی ، جو تیرے غضب میں آئے ہیںناکامی اور ہلاکت

44
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

196
8023