معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



398
6128
عورت کے لیے کور ہے یا گور
اب جلسوں میں بھی مچاتی ہیں شور

0
عجب کھیل ہے داستانِ محبت
ستم ہے ستم کو سہے جا رہے ہیں
کنارے کو پانا جو ممکن ہے پھر بھی
یوں موجوں میں ایسے بہے جا رہے ہیں
محبت، محبت، ہماری محبت
سدا ہو امر یہ کہے جا رہے ہیں

0
5
صبح کا سورج ڈھوب چکا ہے
ہر سو شام سی بکھری ہوئی ہے
ہم نے تو خیر سے خود کشی کر لی
وہ دن رات میں الجھی ہوئی ہے

0
دردِ دل کی شفا ہے مادہ پرستی سب ہی کے واسطے
خونِ جگر یوں چشمِ برہ سے مگر ظاہر نہیں ہوتا ہے
ندرتِ تخیل سے حسنِ سخن باقی رہتا ہے سماؔ
لفظوں کے توڑ جوڑ سے بندہ شاعر نہیں ہوتا ہے

0
1
عجیب شخص ہو سادہ دلی کو روتے ہو میاں
یہاں تو نعمت ہے آدمی کا آدمی ہونا

0
غم کی شب گزرے
کل نئی صبح ہو گی
جاں لٹی زخم ہوئے
تن کٹے سر کٹے
بن ماں کے بچے لیے
اپنے وطن پہنچے

0
1
ایک برہمن نے کہا یہ سال اچھا ہو گا
ماضی تھا برا شاید حال اچھا ہو گا
گو ہر دن کوئی نئی بات بنائے ہے وہ
ممکن ہی تو نہیں کہ یہ قال اچھا ہو گا
روزِ اول ہی جو نوازا سوالی کو
آدم زاد کہے ہیں یہ سال اچھا ہو گا

0
عہدِ وفا سوچ کے باندھ اس کھیل کو بازیٔ جاں جانا ہے 
 مل جائے تو کیا کہنے نہ ملے تو اس کو غمِ جہاں جانا ہے 
دل تابع ہے جنوں کے اور ذہن خرد ہی کا مارا ہوا ہے 
 خود کو قیدی سمجھا ہے اور اس زیست کو زنداں جانا ہے 
اس دشتِ الفت میں ہم نے اس صورت اڑائی ہے خاک کہ اب 
جس نے بھی جہاں دیکھا ہے ہمیں تو چاکِ گریباں جانا ہے 

0
یاد اس کی تھی صبا کو بھی سنبھالے رکھا
اپنے ہی دل سے مگر خود کو نکالے رکھا
جو سرِبزم ہوئی بات بے وفائی کی
ہم نے کچھ بھی نہ کہا بات کو ٹالے رکھا
جو اشک بار ہوئےوہ شبِ ساون کی طرح
ہم نے پھر ہجر کے غم کو ذرا پالے رکھا

0
بزمِ جاناں میں دیا ایک جلاتے جاتے
آبلہ پا تھے ترے شہر سے جاتے جاتے
تھے یہ الزام خرد باختہ ہونے کا سبب
ورنہ ہر شخص سے ہم ہاتھ ملاتے جاتے
بس ضرورت میں ہوئی خرچ کمائی ساری
ورنہ ہم دولت و زر تجھ پہ لٹاتے جاتے

0
1
عاشق تو نہیں اوروں کو رسوا کرتے
دکھ درد کا بلکہ ہیں مداوا کرتے
تم اتنے بھی نادان نہیں علم نہ ہو
پھولوں کو نہیں شاخ سے توڑا کرتے

0
کیوں نہ میری چشم تر ہو کیوں نہ دیکھ تجھ کو برسے
اسے مل گیا ہے عالم جسے دیکھنے کو ترسے
تو نہیں ہے مجھ کو حاصل یہی غم ستا رہا ہے
ترا نام لے رہا ہوں شب و روز چشمِ تر سے
یہ نگاہ شوق میری تری منتظر ہے کب سے
مجھے چاہۓ رہائی ابھی گنبدِ بے در سے

0
8
ٹوِن ٹاورز میں خواجہ سَعْد رَفیق کے بھی مُبَیَّنہ 8 اپارٹمنٹس!!!
——
نام کی کُچھ لاج تو رَکھتے مِیاں
کیا کَہیں کِتنا، بے حَدْ اَفسوس ہے
ہَم تو سَمجھے تھے کہ تُم ہو مُخْتَلِف
اوروں جیسے ہی ہو، صَد اَفسوس ہے

0
4
بدل گیا ہے تمہارا لہجہ، ابھی تو قربت نئی نئی ہے
بچھڑنے والوں سے پوچھنا پھر، یہ کیسی وحشت نئی نئی ہے
پرانے پیڑوں کی چھاؤں ڈھونڈو، یہ دھوپ تم کو جلا نہ ڈالے
شجر جو تم نے لگایا تھا، اس کی بھی مروت نئی نئی ہے
وہ جن کے لہجے میں عاجزی ہے، وہی بڑے ہیں زمانے میں بھی
تمہارے ماتھے پہ یہ تکبر، ابھی تو بیعت نئی نئی ہے

0
5
گھل گئی تیری چاندنی مجھ میں
دور تک پھیلی روشنی مجھ میں
کِھل گئی پیار کی کلی مجھ میں
سانس لیتی ہے اب خوشی مجھ میں
مجھ سے بچھڑی مگر رہی مجھ میں
خود کو اکثر ہے ڈھونڈتی مجھ میں

2
مولا عطا سے تیری یہ دل ثنا کرے
پھر خیر مانگے سب کی سب کا بھلا کرے
ذکرِ نبی سے آئیں اس دل میں رونقیں
اس سے جو نور آئے سینہ ضیا کرے
بابِ نبی پہ مانگوں مولا سے حاضری
ہے بے نیاز داتا جیسے عطا کرے

0
2
وفا کا رنگ مِرے دل میں بھر گیا کیسے
وہ اجنبی مِرے دل میں اتر گیا کیسے
ابھی تو پاؤں کے چھالوں کا غم منایا تھا
سفر نصیب تھا، رستوں پہ مر گیا کیسے
جسے خبر نہ تھی میرے تباہ حالِ کی
وہ میری آنکھ میں آنسو ابھر گیا کیسے

0
3
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

195
7852
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

398
6128
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ الفاظ صرف آوازیں ہیں، چند جملے ہیں جو لبوں سے نکل کر فضا میں بکھر جاتے ہیں۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔لفظ کبھی خالی نہیں ہوتے اپنا اثر رکھتے ہیں وہ ہمارے باطن کے عکاس ہوتے ہیں،لفظ ہماری سوچ، ہمارے تجربات، ہماری نیت اور ہمارے اندر چھپی دنیا کو آشکار کرتے ہیں۔جو کچھ ہم بولتے ہیں، وہ اچانک پیدا نہیں ہو جاتا۔ وہ ہمارے ذہن کی زمین میں بویا گیا  بیج ہوتا ہے، جو  خیال بنتا ہے، اور آخرکار لفظ کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ذہن ایک کھیت کی مانند ہے۔اگر اس میں علم کے بیج بوئے جائیں، مثبت سوچ کا پانی دیا جائے اور اچھی صحبت کی دھوپ اور چھاؤں ملے، تو ، سچائی اور حکمت کی فصل اگتی ہے۔لیکن اگر اسی زمین میں نفرت، حسد، بدگمانی اور جھوٹ کے کانٹے بو دیے جائیں، تو زبان سے نکلنے والے الفاظ تلوار سے زیادہ تیز اور  نیزوں کی طرح چبھنے لگتے ہیں۔ لفظوں کے ساتھ لہجہ  اندر کی کیفیت کا عکس ہوتا ہے۔جو دل میں سکون رکھتا ہے، اس کی شخصیت میں ٹھہراؤ ،زبان میں نرمی ہوتی ہے۔جو دل میں آگ رکھتا ہے، اس کے لفظ بھی جلانے لگتے ہیں۔کسی انسان کو جاننے کے لیے  اس کا ماضی، حال، لباس دیکھنا  یا

0
24