معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



113
1410
یقیں کامل تھا مجھ کو مان جائیگا منانے سے
عجب رونق سی چھائی ہے ترے محفل میں آنے سے
کہیں ہیں قہقہے چھائے کہیں ہے نکہتِ گل
کھِلیں گلزار و گلشن آپ کے ہی مسکرانے سے
گلستاں بھی بہاروں سے مہک جائے بے موسم ہی
ہنگامِ گل سا برپا ہو تمھارے چہچہانے سے

0
3
چھوڑ دے اب پیچھا میرا زندگی بس
ڈس گیا ہر روپ تیرا زندگی بس
میں ہوں مجرم سب خطائیں میری ہی تھیں
دے چکا ہوں میں کفارہ زندگی بس
غم ملے ہنس کر سہے رویا تو چھپ کر
اب نہیں ہوتا گزارہ زندگی بس

0
7
خاب جو سچے نہیں ہوتے
ان خوابوں کو رونا کیا۔
وہ جو مل کے بھی نا ملے
ایسے شخص کو کھونا کیا ۔
ہجر میں بھی ناں تڑپے جو
ایسے عشق کو ہونا کیا،

0
4
راہ چلتے ہوئے جب یار پھسل جاتا ہوں
پھر دعا آتی ہے امّی کی سنبھل جاتا ہوں
جس کہانی کا میں ہوتا ہوں اضافی کردار
خود ہی میں ایسی کہانی سے نکل جاتا ہوں
اپنے زخموں کی نمائش نہیں ہوتی مجھ سے
خود تڑپتا ہوں میں روتا ہوں بہل جاتا ہوں

0
3
مقابل تھے کئی رستے چلیں کس پر کہاں جائیں
نگاہوں کو طلب جن کی نہیں ملتے جہاں جائیں
سفارش کیوں نہیں کرتے اجالوں کی ستاروں سے
کبھی مجھ پر چمک اٹھیں کہیں مجھ میں سماں جائیں
گناہوں سے بھرا دامن خطائیں بھی ہزاروں ہیں
سزا دے دے اسیری کی بنا تیرے کہاں جائیں

0
2
چاند کا نقش جو پانی پہ بنایا جائے
میری آنکھوں کو بھی منظر وہ دکھایا جائے
جن سے مغموم ہیں شامیں مری راتیں غمگیں
آج ان جلتے چراغوں کو بجھایا جائے
شمع اک بن کے پگھلتے ہیں محبت میں ہم
دل میں ہنگامہ مگر کوئی اٹھایا جائے

0
3
تَوسنِ فکر پہ مہمیزِ سخن آیا نہیں
ایسا مہتاب ہے تُو جس پہ گہن آیا نہیں
آندھیاں آڑ بنیں راستے دیوار ہوئے
عزم ایسا کہ کبھی رنج و محن آیا نہیں
دولت و حشمت و ثروت سے رہا بالا مقام
حدّ ِفاصل میں کبھی لعلِ یمن آیا نہیں

0
1
بچی نہ کوئی ضرورت تمہارے ہوتے ہوئے
کبھی نہ آئے صعوبت تمہارے ہوتے ہوئے
چمک دمک بھی بہت دیکھی ہے یہاں میں نے پر
نہیں ہے اب جو حسرت تمہارے ہوتے ہوئے
زمانہ کی کسے پرواہ یا گلہ بھی رہے
کریں بھی کیسے شکایت تمہارے ہوتے ہوئے

0
6
مکھڑا اس کا کتاب جیسا ہے
گویا کھلتے گلاب جیسا ہے
جس کی پوجا ہے عاشقی میری
اس کو تکنا ثواب جیسا ہے
باتیں اس کی ہیں زندگی میری
لہجہ اس کا تو خواب جیسا ہے

0
2
1-وقت بُرا ہو تو وہ لوگ بھی آپ کی حیثیت پر اُنگلی اُٹھانے لگتے جن کی اپنی کوئی اوقات نہیں ہوتی
2-درد کی کوئی تصویر نہیں ہوتی اس لیے کوئی دوسرا اس کی شدت سے آگاہ نہیں ہو سکتا
3-لفظوں میں تاثیر احساس جذبات اور درد کی وجہ سے ہوتی ہے
4-جس کام میں سیکھ یا تجربہ نہ ہو اس کا ہونا نہ ہونا ایک برابر ہے
5-ہمیشہ لوگوں کو وہی صلاح دو جس کا تجربہ تم نے حاصل کیا ہو
6-زندگی میں کوئی بھی عمل کرتے وقت یاد رکھنا اچھے پر جزا اور بُرے پر سزا اٹل ہے

0
4
ظلم و ستم تو آپ کے پرکھوں کا ورثہ نہ تھا
آپ تو ان کی روایت سے ہی ہٹ گئے ہیں
جنگ میں ہیں کہہ حوصلہ دیتا تھا ماؤں کو
لیکن اب مشکل یہ گھر امن میں لٹ گئے ہیں
قوم کے واسطے یہ کیا قربانی دیں گے
جو تھوڑی سی مشکل پر ہی بٹ گئے ہیں

0
13
میں اُس کی آنکھوں کا تارا ہوں اب بھی
میں اب بھی چاند ہوں ماں کی نظر میں

0
8
دوا تاثیر دکھلاتی نہیں ہے
طبیعت راہ پر آتی نہیں ہے
ساعتِ غم مصیبت کی گھڑی میں
کوئی تدبیر کام آتی نہیں ہے

0
5
تیری محفل سے جب بھی آتاہوں
تیری خوشبو چرا کے لاتا ہوں
آجکل مل کے حسن والوں سے
روگ تازہ لگا کے لاتا ہوں
زیست کی خاردار راہوں سے
اپنا دامن بچا کے لاتا ہوں

27
دسمبر کی سردی میں یہ ہجر کی شب
تری یاد ایسے میں کیوں کر نہ آئے
ہزاروں ہے قصّے جدائی کے جاناں
مگر یاد قربت کا قصہ نہیں ہے
زمانہ ہمیں یاد کیوں کر کرے گا
کوئی کام اچھا نہ ہم نے کیا ہے

0
3
محبّت میں فقط دیکھا یہی تیری رضا کیا ہے
ہمیں اس سے غرض کیا ہے جزا اس کی سزا کیا ہے
سنا ہے حسن والے امتحاں لیتے ہیں عاشق کا
یہی پوچھیں گے آخر عشق میں ہم نے پڑھا کیا ہے
ہمیں تو ہر حسیں چہرے میں تُو ہی تُو نظر آیا
کتابیں جو پڑھیں تیرے سوا ان میں لکھا کیا ہے

0
1
درمیاں جسم و جاں فاصلہ ہو گیا
نام میت ہر اک شخص کا ہو گیا
خامشی کا شہر ایک جیسا کفن
اب لحد میتوں کا پتا ہو گیا

0
4
اس میں اپنا کلام کیسے شامل کیا جا سکتا ہے۔

0
5
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

113
1410
جشن نور مبارکمجھے یہ کہتے ہوئے بہت خوشی ہے کہ اس مرتبہ دیوالی بڑے جوش و خروش سے منائی جارہی ہے اور لوگوں میں ایک نئے قسم کی امنگ نظر آتی ہے جو پچھلے دو سال سے مفقود تھی ۔ پچھلے دو سالوں میں انتہائی درجے کی تباہی و بربادی ، بیماری ، ہلاکت، اقتصادی بحران کو دیکھ کر لوگ اتنے خوفزدہ ہوگئے تھے کہ لوگ گھروں سے نکل نہ پاتے تھے لیکن تقریبا پانچ ماہ سے کورونا کے واقعات میں خاطر خواہ کمی آئی اموات میں بہت کمی آئی اور جیسے جیسے کورونا کا اثر کم‌ہوا لوگوں نے بھی دبے رکے  ہوئے قدم اٹھانے شروع کیے،  کچھ ملنا جلنا شروع کیا ۔ حکومتوں نے بھی بازار، سنیما، تفریح گاہیں کھو لیں ۔ چہل پہل بازاروں میں واپس لوٹی اور نومبر آتے آتے جو خدشات تھے اللہ کے فضل سے وہ ظہور میں نہیں آئے اور اس لئے ماحول جشن کا ماحول بن گیا  اللہ اس کو دائم و قائم رکھے لوگوں کو ان کی خوشی وا پس ملے, لوگوں کو ان کے روزگار واپس ملیں , کاروبار پھر سے چلنے لگے اور یہ دنیا پھر وہی جو تھرکتی دنیا تھی، جو لہکتی دنیا تھی ،جو مہکتی دنیا تھی ، واپس ویسی ہی ہو جاۓ جہاں کوئی بیر نہ ہو ، کسی بھی قسم کی نفرت نہ ہو ، بس انسا

6