معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



153
1932
تم بھی شاید ضمیر رکھتے ہو
لیکن اس کو ، اسیر رکھتے ہو
کہہ کے یہ ، دل میں ہے چھپا کچھ اور
دل ہمارا تو چیر رکھتے ہو
جھوٹا وعدہ بہشت کا دے کر
خود کُشی پر حصیر رکھتے ہو

0
1
یار تجھ سے تو مَیں بیزار نہیں ہوسکتا
تیرے رستے کی مَیں دیوار نہیں ہو سکتا
لوگ کہتے ہیں کہ دیدار نہیں ہو سکتا
پر زمانہ کبھی دیوار نہیں ہو سکتا
اس کا عاشق تو نکما ہے وہ بیکار سا شخص
پر وہ عاشق ہے تو بے کار نہیں ہو سکتا

0
3
عجب آج ان کے کرم ہو رہے ہیں
کہ مَیں اور وہ آج ہم ہو رہے ہیں
وہ جلوہ دکھاتے ہیں پلکیں جھکا کر
یہ کیسے ستم اے صنم ہو رہے ہیں
ترے ساتھ گزرے تھے لمحے جو خوش خوش
ترے بعد وہ سب الَم ہو رہے ہیں

0
3
تم اس کے ہو حبیب مقدر کی بات ہے
ہم تم ہوئے رقیب مقدر کی بات ہے
وہ مجھ سے ایسے روٹھی کہ پھر نا منا سکا
وہ نا ہوئے نصیب مقدر کی بات ہے
پلّے مرے نہیں ہے کوئی دولت و زمیں
پیدا ہوا غریب مقدر کی بات ہے

0
4
قاصد کے اُس کلام کے خنجر ہی لے چلیں
ان سے چھپا کے غم کے سمندر ہی لے چلیں
اب وہ کہاں پلائے گی چائے مجھے کبھی
چل ذہن میں بس ایک یہ منظر ہی لے چلیں
بیٹھے رہے ہیں برسوں اسی در کے سامنے
شاید وہ ایک دن کو مجھے گھر ہی لے چلیں

0
3
سب کو ہنس ہنس کے دئے جاتے ہیں پیغام
اور مری صدا کو ہی روک لیا جاتا ہے
اس کی سہیلی سے ملا تو یہ پوچھوں گا
اس سے ملانے میں تیرا کیا جاتا ہے

0
1
شُشش ایسے نا پکارو یوں نام نا لو ان کا
نام لینے سے عبادت میں خلل پڑتا ہے
میں ہوں خود دور ہوا اس سے بہ حکمِ دل و جاں
کیوں ہوا سوچ کے اب یار مَلل پڑتا ہے

0
2
سب دیکھتے واں میری روانی و بلاغت
گر سامنے وہ صاحبِ تقریر نا ہوتا
جو سنتا ہے میرا غم، ہے رونے وہ لگتا
اے کاش کہ یہ عشق جہاں گیر نا ہوتا

0
1
چہرے پر ہے یہ جو مسکان سجی سی عثماں
خواب میں آئی! وہی شور مچانے والی
آج کا جاگنا بےکار نہیں ہو پایا
اس کی تصویر ملی یار پرانے والی

0
2
سب رسم و راہ رسمی
ہر شاہ و جاہ چشمی
یہ عشق ہے دِوانہ
ہے یہ فیصلۂ حتمی

0
1
تعلق بناؤ کلامِ خدا سے
نتائج ملیں گے تمہیں پھر جدا سے
دکھا دیں ہمیں بھی وہ پیارا مدینہ
یہی التجا اب ہے نورالہدٰا سے

0
2
جسم میں جو یہ جان باقی ہے
کچھ ابھی امتحان باقی ہے
وصل کی شب تو ڈھل چکی لیکن
ہجر کا اک جہان باقی ہے
جان جانی تھی جا چکی کب کی
دی مگر یوں کہ شان باقی ہے

0
2
ابھی آزما لو..
ہوا تیرے آنگن میں رقصاں رہے گی
چراغوں کے سائے بھی محفوظ ہونگے
کسی پیڑ پر کوئی سرسبز پتّا نہ انگڑائی لےگا نہ جھومے گا جب تک
تری آنکھ اذنِ تحّرک نہ دے گی
اجازت کا اس کو تبرّک نہ دے گی

0
4
زمانے کے سبھی عاشق تجھے طعنے سے ماریں گے
دسمبر آ گلے لگ جا تجھے اب ہم گزاریں گے
بچھڑ مجھ سے گئے ہیں جو تری ان سرد راتوں میں
انھیں تنہا تلاشیں گے کہ آنکھوں کو بگھو کر ہم
انھیں دل سے اتاریں گے ترے دکھ سکھ نبھائیں گے
سنور سکے نہ خود لیکن تجھے ہم یوں سنواریں گے

0
8
زمانے کے سبھی عاشق تجھے طعنے سے ماریں گے
دسمبر آ گلے لگ جا تجھے اب ہم گزاریں گے
بچھڑ مجھ سے گئے ہیں جو تری ان سرد راتوں میں
انھیں تنہا تلاشیں گے کہ آنکھوں کو بگھو کر ہم
انھیں دل سے اتاریں گے دسمبر آ گلے لگ جا
تجھے اب ہم گزاریں گے ترے دکھ سکھ نبھائیں گے

0
3
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

153
1932
میں جدا تجھ سے ہو تو گیا ہوں مگر
اس جدائی کا رونا ابھی باقی ہے
تو نے تو کھو دیا جان میری مجھے
میرا بھی تجھ کو کھونا ابھی باقی ہے
تو نے بھولا دیا ہے مری جاں مگر
میرا تجھ کو بھلانا ابھی باقی ہے

6
خزاں کی رتوں میں وہ تو بن کے بہارآئےدکھا کے جھلک اپنی گلوں کو سنوار آئےتھے جبرِ ایام کیسے جنہیں ہم گزار آئےعجب بوجھ تھے شانوں پہ جنکو اتار آئےچاہت کی بےچینی کو مٹانا ہوا مشکلاسی واسطے جاناں طالبِ دیدار آئےسحر تیری ہنسی کا قابض ہوا یوں دل پرجینے کے لیے دل تھااسے کر نثار آئےنہیں ہوئی تھی ہم کو میسر تری جھلکترے کوچے سے دلبر بڑے سوگوار آئےماضی کی تلخ یادیں کہاں جینے دیتی ہیںجسے بھولنا چاہیں وہ یاد بے شمار آئےکیسے وقت نے بدلی بازی ایک ہی پل میںشکار بن گئے تھے وہ جو کرنے شکار آئےکبھی وہ بولیں آکے مرے روبرو انعمتمہیں دیکھنے کی چاہ میں بڑے بےقراراآئے

0
6
جب ماں پوچھتی ہے "تم ٹھیک ہو بیٹا""آنکھیں ایسی کیوں ہو گئی ہیں"اور الوداع کرتے ہوئے کہتی ہے "اپنی صحت کا خیال رکھنا""زیتون لیتے جاؤ، سر پہ مالش کرنا روز ۔"ان باتوں کی شدت اور محبت کی گہرائی سامنے کھڑے بیٹے کو( جو کسی لڑکی کے لیے آنسو بہاتا ہے ) زندہ درگور کر دیتی ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے وہ انساں مرا ہوا ہو۔ یہ کشمکش آخر خود کیفیتی کی ایک ایسی زندگی سے روشناس کراتی جو بس خود اذیتی کے سوا کچھ نہیں ہوتی۔ بھلا کیوں!کیوں اس کرب کے باوجود وہ اپنے سامنے موجود مقدس ہستی کو اگنور کرتے ہوئے مسلسل اسی کے بارے سوچا جا رہا ہوتا ہے جس کے ہجر کی سوچ اسے شب کو جاگنے پہ مجبور کیے دیتی ہے۔ وہ ماں تو نہیں، پھر ماں سے زیادہ توجہ کی مستحق کیونکر ہو گئی!

0
16