معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



398
6084
آنکھوں ہی آنکھوں میں ان سے بات ہوئی
دل کی زمیں پر چاہت کی برسات ہوئی
لوگ مگن ہیں ایسے اپنی دنیا میں
ہوش نہیں کب دن نکلا کب رات ہوئی
ہجر سزا ہے عشق میں پڑنے والوں کی
کس کو حاصل وصل کی ہے سوغات ہوئی

0
1
دل کو یوں نورِ حقیقت کا اجالا مل گیا
خود میں کھویا تو مجھے رب کا حوالہ مل گیا
میں نے توڑا ہر تعلّق جب فریبِ دہر سے
تب کہیں جا کر مجھے سچ کا اُجالا مل گیا
خواہشاتِ نفس سے پیچھا چھڑایا اس طرح
مصطفی کی یاد سے دل کو سنبھالا مل گیا

0
5
مجھے آواز دیں گے وہ مری تصویر ڈھونڈیں گے
کبھی ٹوٹے ہوئے خوابوں کی جب تعبیر ڈھونڈیں گے
ستاروں میں نہیں ہوگا اگرچہ نام یوں لیکن
اندھیروں میں مری لکٌھی ہوئی تحریر ڈھونڈیں گے
سمندر ہوں کروں اظہار اپنی پیاس کا کیسے
فقط مجھ میں ہی میری ذات کی تقسیر ڈھونڈیں گے

0
1
بام پر آپ آتے تو کیا بات تھی
چاند ہم دیکھ پاتے تو کیا بات تھی
شکریہ آپ تشریف لائے تو تھے
آپ آ کر نہ جاتے تو کیا بات تھی
دل کے ٹکڑے لیے سوچتے ہیں یہ ہم
تم سے دل نہ لگاتے تو کیا بات تھی

0
5
بتا چھن چھن چھنا چھن چھن کا مطلب
سمجھ آیا نہ اب تک من کا مطلب
سلجھنا ہی نہیں یہ مسئلہ جب
تو پھر اس بے وجہ الجھن کا مطلب؟
بڑے شاعر بہت بے بحر دیکھے
کہو فنکار کا، کیا فن کا مطلب؟

0
3
گلے ملنا ابھی ممکن کہاں ہے
گلوں شکووں کی لمبی داستاں ہے
بہار آئی مگر مہکی نہ کلیاں
ابھی گلشن میں نفرت کا دھواں ہے
یہاں سے دور منزل ہے ہماری
یہ رستہ امتحاں در امتحاں ہے

0
5
اَمارات کا قَرْض؛ سعودی عرب اور قطر 5 ارب ڈالر دیں گے!!!
——
اِس نے مانگے اُس سے لے کے دے دیے
اُس نے مانگے اِس سے لے کے دے دیے
سوچنے کی تو ضَرُورَت ہی نَہِیں
کِس نے مانگے کِس سے لے کے دے دیے؟

0
3
زینت جمالِ ہستی تخلیق میں ہیں اولیٰ
کونین کا حسن ہیں مخلوق میں ہیں یکتا
ہر سمت روشنی ہے ہر چیز ہے منور
کس نورِ کبریا نے ہستی کو یوں نوازا
ہے عالمیں میں پہچاں نورِ مبین اُن کا
وجہِ جمالِ ہستی سرکار کا ہے چہرہ

1
8
لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں
پروئے جتنے محبّت کے ہار کچھ بھی نہیں
کیا ہے فیصلہ سردار! تو نے سن کے اُسے
کھڑا ہوں میں جو بدن تار تار، کچھ بھی نہیں؟
سمیٹ لے وہ اگر ایک بار آ کے مجھے
تمام عمر کیا انتظار کچھ بھی نہیں

0
4
دکھ کے کنکر پڑے چنتا کیوں ہے
قبر میں رہ کے تو زندہ کیوں ہے
جب نہیں کوئی دوا زخموں کی
شہر میں تیرے مسیحا کیوں ہے
اے خدا شہر میں دو راہے ہیں
راستہ ہر یہاں الجھا کیوں ہے

0
5
دل میں اُتر کے درد کو راحت میں ڈال دے
مولا تو اپنے کرم سے ایسے خیال دے
ذکرِ خدا سے دل کی یہ کلی کھلی رہے
نفسِ اَماّرہ سے مرے آتش نکال دے
دنیا کے رنگ و بو سے رہوں دور میں سدا
صدقہ نبی کا اے خدا رزقِ حلال دے

0
5
تری جانب اٹھیں تو لوٹ آنا بھول جاتی ہیں
یہ نظریں اپنا گھر اپنا ٹھکانہ بھول جاتی ہیں
تجھی سے پیار کرتی ہیں تجھی کو پھر نہ جانے کیوں
جواں دل کے نہاں جذبے بتانا بھول جاتی ہیں
یہ خود تو جاگتی رہتی ہیں شب بھر یاد میں تیری
مگر وقتِ سحر مجھ کو جگانا بھول جاتی ہیں

0
5
کل مقابل تھا عمرو بن العاص
آج ڈی جے ٹرمپ کی باری
پھنس چکا جب عدو شکنجے میں
پھر سے تحکیم کی ہے تیاری

0
8
حسینوں کی ادائیں دیکھتے تھے
انھیں ہم بھر کے آہیں دیکھتے تھے
ابھی تو بال بچے ہو گئے ہیں
کبھی ہم ان کی راہیں دیکھتے تھے
انہیں بھی آرزو تھی دیکھنے کی
چرا کر وہ نگاہیں دیکھتے تھے

0
7
دل کو مِثْلِ آئِینہ واللہ بنا لیتا ہے وہ
مسکراہٹ سے جہاں کے غم چھپا لیتا ہے وہ
مَن کی دنیا رکھتا ہے پاکیزہ صوفی اس طرح
ذِکْرِ حَق سے ہر گھڑی مَن کو سجا لیتا ہے وہ
نہ کسی سے ہے شکایت، نہ عداوت دل میں ہے
جذبوں کو اَخلاق کی دولت بنا لیتا ہے وہ

0
5
شُہْرَۂ آفاق گُلُو کارہ آشا بھوسلے!!!
——
بُوڑھے، بَچّے اور جوان
سَب کو لُبھانا آتا تھا
اُس کو اپنے گانوں پَر
سَب کو نَچانا آتا تھا

0
3
نبی جانِ جاناں سخی مصطفیٰ
ہیں دلبر جہاں کے یہ ہستی کے شاہ
سدا نعت اُن کی لبوں پر سجے
وہ محبوبِ داور ہیں خیر الوریٰ
سکونِ دروں فیضِ یادِ نبی
ہے مسرور بردہ سخی ذات کا

1
7
ہیں یکتا حسیں وہ حسینوں میں تنہا
نہیں ہے جنا یوں کسی ماں نے اُن سا
دہر میں ملے کب ملے اور کیسے
بنایا خدا نے کسی کو نہ ایسا
کرے ناز یزداں جمالِ نبی پر
بلایا دنیٰ میں وہ لگتا ہے کیسا

4
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

195
7813
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

398
6084
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ الفاظ صرف آوازیں ہیں، چند جملے ہیں جو لبوں سے نکل کر فضا میں بکھر جاتے ہیں۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔لفظ کبھی خالی نہیں ہوتے اپنا اثر رکھتے ہیں وہ ہمارے باطن کے عکاس ہوتے ہیں،لفظ ہماری سوچ، ہمارے تجربات، ہماری نیت اور ہمارے اندر چھپی دنیا کو آشکار کرتے ہیں۔جو کچھ ہم بولتے ہیں، وہ اچانک پیدا نہیں ہو جاتا۔ وہ ہمارے ذہن کی زمین میں بویا گیا  بیج ہوتا ہے، جو  خیال بنتا ہے، اور آخرکار لفظ کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ذہن ایک کھیت کی مانند ہے۔اگر اس میں علم کے بیج بوئے جائیں، مثبت سوچ کا پانی دیا جائے اور اچھی صحبت کی دھوپ اور چھاؤں ملے، تو ، سچائی اور حکمت کی فصل اگتی ہے۔لیکن اگر اسی زمین میں نفرت، حسد، بدگمانی اور جھوٹ کے کانٹے بو دیے جائیں، تو زبان سے نکلنے والے الفاظ تلوار سے زیادہ تیز اور  نیزوں کی طرح چبھنے لگتے ہیں۔ لفظوں کے ساتھ لہجہ  اندر کی کیفیت کا عکس ہوتا ہے۔جو دل میں سکون رکھتا ہے، اس کی شخصیت میں ٹھہراؤ ،زبان میں نرمی ہوتی ہے۔جو دل میں آگ رکھتا ہے، اس کے لفظ بھی جلانے لگتے ہیں۔کسی انسان کو جاننے کے لیے  اس کا ماضی، حال، لباس دیکھنا  یا

0
16