معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



398
6159
یہ گیت سہانے ہیں دلبر کو سنانے ہیں
کچھ اشک ہیں آنکھوں میں جو ساتھ بہانے ہیں
اعمال پہ رونا ہے نامے میں کجی ہر جا
کچھ خاص عمل ہیں جو آقا سے چھپانے ہیں
بے عیب نہیں لیکن بردے ہیں کریمی کے
سرکار نے امت کے عاصی جو چھڑانے ہیں

0
4
کوئٹہ چَمَن پَھاٹک ٹرین سانِحَہ!!!
(1)
وہ جِن کے ہاں صَفِ ماتَم بِچْھی ہے
وہ سَب لَعْنَت مَلامَت کَر رَہے ہیں
جو ذِمَّہ دار ہیں اِس سانِحے کے
وہ بے غَیرَت مَذَمَّت کَر رَہے ہیں

0
3
خدا کے سامنے پرہیزگاری کر گئے سارے
نجانے کیا کیا پھر یہ مداری کر گئے سارے
وہی سب جانتا ہے حال ہر دل کا یہاں شاکر
ہمیں معلوم ہے کیا ہوشیاری کر گئے سارے

0
5
بات دل کی لبِ اظہار پہ لائی نہ گئ
ہائے افسوس کبھی ان کو بتائی نہ گئی
آخرِ کار نگاہوں نے بیاں کر ہی دی
لاکھ کوشش کی مگر بات چھپائی نہ گئی
دیکھ کر برقِ تجلی جو نظر میری جھکی
پھر نظر بار دگر مجھ سے اٹھائی نہ گئی

0
5
شمعِ الفت کو گام گام کریں
آؤ نفرت کا اختتام کریں
بھائی چارہ سکھاتا ہے مذہب
کیوں نہ مذہب کا احترام کریں
بھول کر ہم سبھی گلے شکوے
ایک دوجے سے پھر کلام کریں

0
5
مجھ پہ قہر و ستم وہ ڈھاتے ہیں
آنکھ سے آنکھ جب ملاتے ہیں
رفتہ رفتہ وہ پاس آتے ہیں
حرکتِ قلب کو بڑھاتے ہیں
دل میں کچھ اور ہے ، زباں پر کچھ
کیوں وہ اس طور آزماتے ہیں

0
4
دعا ہے زیست کے آنگن میں ہو بہار سدا
جوان دل رہے، صحت ہو برقرار سدا
نظر میں ایک چمک لب پہ مسکراہٹ ہو
رہے حسین سے چہرے پہ یہ نکھار سدا
جو کیک دیکھ کے یاروں کے کھل اٹھے چہرے
رہیں خدایا یہ چہرے بھی خوشگوار سدا

0
4
محفل میں ڈھونڈتا ہے وہ خلوت نہیں جسے
ہم دے چکے ہیں دل، کوئی عجلت نہیں جسے
اک شخص کر رہا ہے مرے قتل کی دعا
شاید ابھی امورِ محبت نہیں جسے
وہ مانتا ہے خود کو زمانے کا تاجدار
اپنے ہی دل پہ بھی تو حکومت نہیں جسے

0
4
خاک میں مل کے شجر جاتے ہیں
لوگ کس دیس سفر جاتے ہیں
کون لائے گا پلٹ کر ان کو
جو مسافر بھی اُدھر جاتے ہیں
موت کی گود میں سوتے ہیں جو
چاند تارے بھی اتر جاتے ہیں

0
4
مُجھ پر بھی کھول دے تُو عالم مِثال کا
یہ بھی تو ایک رُخ ہے تیرے جَمال کا
تیرا ہی نُور ظاہر، ہر شَے سے ہے مَگر
مَظہر ہے نُورِ احمدؐ تیرے جَلال کا
بابِ اِرم پہ گُونجا نعرہ اَحَد اَحَد
اوّل وہاں قَدم ہے تیرے بِلالؓ کا

0
17
یادِ نبی سے سینہ گلشن بنا رہے ہیں
گو ہجر میں نبی کے آنسو بہا رہے ہیں
گلی ہے مصطفی کی میرے خیال میں اب
چوکھٹ پہ دلربا کی خوشیاں منا رہے ہیں
سلطان میرے آقا کیا خوب دان اُن کے
جو نعمتیں خدا کی سب کو دلا رہے ہیں

0
3
ہے یہ امید نیا دور سنہرا ہو گا
اب سیاست پہ بھی جمہور کا پہرا ہو گا
تخت پر بیٹھے گا جب تخت کے قابل کوئی
رہزنوں کے لیے پھر پیش کٹہرا ہو گا
اب سنی جائے گی مظلوم کی فریاد یہاں
اب کے قانون کبھی ان دھا نہ بہرا ہو گا

0
پردیس میں ہوں گرچہ بہت دور وطن سے
تعلیم وفاداری کی مجھ کو ہے چمن سے
مر کر بھی فسادی نہیں بن پاؤں گا میں تو
آئے گی مہک امن ہی کی میرے کفن سے
مجھ پر تم اگر کفر کے فتوے بھی لگاؤ
پھوٹے گی صدا پیار کی بس میرے سخن سے

0
5
اہلِ غزہ پہ ظلم و ستم جب رواں ہوئے
آثار درد کے مرے دل سے عیاں ہوئے
اک آنسوؤں کا ابر سا آنکھوں پہ چھا گیا
جتنے خوشی کے خواب تھے سارے دھواں ہوئے
جب باغبان اپنی ہی عشرت میں کھو گئے
امت کے پھول تب سے سپردِ خزاں ہوئے

0
4
کہیں دل کہیں داستاں چھوڑ آئے
کسی لب پہ آہ و فغاں چھوڑ آئے
ہمیشہ ملی جس کے سائے میں ٹھنڈک
وطن میں وہی سائباں چھوڑ آئے
بیاباں میں پیاسے رہے عمر بھر ہم
مگر گھر میں بحرِ رواں چھوڑ آئے

0
ان لیڈروں کی آپ ذلالت تو دیکھیے
شہرت کی حرص، مال کی حسرت تو دیکھیے
خود کھائیں مال قوم کا، پھر الٹا قوم سے
مانگیں یہی حساب بھی جرات تو دیکھیے
خود چور کوتوال کو ڈانٹے عجیب ہے
اس صادق و امیں کی سیاست تو دیکھیے

0
1
میں صبر کو راہبر کروں گا
جو ہو سکا درگزر کروں گا
جیوں گا میں ہجر سہہ کے بھی اب
میں زہر کو بے اثر کروں گا
جنہیں وفا کی خبر نہیں ہے
انہیں میں اب باخبر کروں گا

0
2
برق رفتار جہازوں کی سواری کا مزا
تیرے کندھوں کی سواری کے برابر ہے کہاں

0
2
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

195
7881
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

398
6159
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ الفاظ صرف آوازیں ہیں، چند جملے ہیں جو لبوں سے نکل کر فضا میں بکھر جاتے ہیں۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔لفظ کبھی خالی نہیں ہوتے اپنا اثر رکھتے ہیں وہ ہمارے باطن کے عکاس ہوتے ہیں،لفظ ہماری سوچ، ہمارے تجربات، ہماری نیت اور ہمارے اندر چھپی دنیا کو آشکار کرتے ہیں۔جو کچھ ہم بولتے ہیں، وہ اچانک پیدا نہیں ہو جاتا۔ وہ ہمارے ذہن کی زمین میں بویا گیا  بیج ہوتا ہے، جو  خیال بنتا ہے، اور آخرکار لفظ کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ذہن ایک کھیت کی مانند ہے۔اگر اس میں علم کے بیج بوئے جائیں، مثبت سوچ کا پانی دیا جائے اور اچھی صحبت کی دھوپ اور چھاؤں ملے، تو ، سچائی اور حکمت کی فصل اگتی ہے۔لیکن اگر اسی زمین میں نفرت، حسد، بدگمانی اور جھوٹ کے کانٹے بو دیے جائیں، تو زبان سے نکلنے والے الفاظ تلوار سے زیادہ تیز اور  نیزوں کی طرح چبھنے لگتے ہیں۔ لفظوں کے ساتھ لہجہ  اندر کی کیفیت کا عکس ہوتا ہے۔جو دل میں سکون رکھتا ہے، اس کی شخصیت میں ٹھہراؤ ،زبان میں نرمی ہوتی ہے۔جو دل میں آگ رکھتا ہے، اس کے لفظ بھی جلانے لگتے ہیں۔کسی انسان کو جاننے کے لیے  اس کا ماضی، حال، لباس دیکھنا  یا

0
30