معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



404
6363
دُکھ کی گٹھڑی پڑی ہے ڈھونے کے
عمر اک لگ گئی سمونے کو
میں بھنور سے نکل کے آیا ہوں
آ گئے ہو مجھے ڈبونے کو
پھول کھلتے نہیں بہار میں بھی
خار اب رہ گئے بچھونے کو

0
1
مبارک ہو زمانے میں وہ خُورشیدِ زَماں آئے
رَسولِ مُجتبیٰ آئے، شَفِیعِ مُجرِماں آئے
زمیں نے فخر سے چومے قدم محبوبِ خالِق کے
فرشتوں نے کہا: "دیکھو! شَہِ کَون و مَکاں آئے"
یتیموں، بے کسوں کو اِک سہارا مل گیا بے شک
جہاں میں رَحم کے پیکر، مَکینِ لامکاں آئے

0
3
شکایت ہم نہیں کرتے کبھی اپنی سزاؤں پر
کہ ہم تو مسکراتے ہیں غموں کی ان گھٹاؤں پر
​کبھی اہلِ یقیں ہمت نہیں ہارا کیے ہرگز
رکھیں قدموں کو جو بڑھ کر، فلک پر کہکشاؤں پر
​مصیبت، سختیاں ساری خوشی سے جھیل جاتے ہیں
نظر جن کی لگی رہتی ہے اونچی ان فضاؤں پر

0
2
خام خواہش کو کبھی تو، اپنی منزل مت بنا
جو مقدر سے ملا ہے، گیت بس اس کے سنا
​قید کیوں کر ہو گیا تو، درد کے اس جال میں
تیرگی نے کب تری راہوں کو اے دل ہے چنا
​حسرتیں تو بے شمار اب دل میں میرے دفن ہیں
عمر بھر کے دکھ سہے جو، ان کو میں نے کب گنا

0
3
کرب سے جس کے گزرتا ہوں، بتاؤں کیسے
دل سے جو دور گیا، اس کو بساؤں کیسے
​روٹھنے والے کو میں آج مناؤں کیسے
مسکرا کر غمِ دل سب سے چھپاؤں کیسے
​ایک تصویر مرے دل سے نہیں مٹتی ہے
اپنے ہاتھوں سے اسے آج جلاؤں کیسے

0
1
عشق کی راگنی، دل کی دُھن
آ ذرا دل کی دھڑکن کو سُن
​دل میں ہر دم رہے تُو سدا
تیری چاہت بھی گائے گی گُن
​مسکرانے لگی زندگی
مل گئے ہیں وفا کے شگُن

0
1
رُخ پہ یوں اپنی زلفیں سنوارا کرو
تم نظر کی بلائیں اتارا کرو
​چاند شرما گیا ہے تجھے دیکھ کر
روپ اتنا نہ اپنا نکھارا کرو
​اوڑھ کر تم ردائے محبت کبھی
میرے جذبات کو نہ ابھارا کرو

0
1
نگاہوں میں ترا چہرہ، تو ہم کیسے بکھر جائیں
بتا اے جانِ من! ہم چھوڑ کر تجھ کو کدھر جائیں
​تری صورت تری الفت کو ہم ترسے بہت جاناں
کہیں یادوں کے اس گہرے سمندر میں گزر جائیں
​ہمیں ہر پل ستاتا ہے، تمہارا ہی خیال اب تو
تری چاہت کی بارش میں، تمنا ہے نکھر جائیں

0
2
پلا دے عشق کا مجھ کو، چھلکتا جام اے ساقی
نہ ہوش اب ہو مرا باقی، ملے آرام اے ساقی
​تری صورت ہی بستی ہے، مرے ان دیدہ و دل میں
تصور میں ترے روتے، کٹے ہر شام اے ساقی
​نگاہِ لطف ہے تیری، مرا کل حاصلِ ہستی
ملا ہے عشق میں تیرے، بڑا انعام اے ساقی

0
3
کہو مت کہ ہم کو محبت نہیں ہے
تمہیں ہی ہماری ضرورت نہیں ہے
نکالا ہے ہم نے انہیں اپنے دل سے
جو کہتے تھے، تم کو عقیدت نہیں ہے
یونہی بات بے بات تم ہم سے بگڑے
ذرا تم کو پاسِ رفاقت نہیں ہے

0
3
ہر بار نِظام بَدَلْتے ہو؟؟؟
——
ہر بار نِظام بَدَلْتے ہو؟
لَگتا ہے طَبِیعَت ٹِھیک نَہِیں
ہے بات تو ساری نِیَّت کی
لَگتا ہے نِیَّت ٹِھیک نَہِیں

0
4
​خرد کی قید سے ہم لامکاں میں اترے ہیں
بپاسِ بندگی، ہم اس جہاں میں اترے ہیں
​سنائی دیتی ہے چاہت کی اک صدا ہر سو
مکینِ دل کے لیے ہم فغاں میں اترے ہیں
​حقیقتوں کی حدوں سے گزر گئے ہیں ہم
یقین و ہوش کو بھلا کر، گماں میں اترے ہیں

0
3
تو عدم سے اس جہاں میں، مجھ کو لایا میرے رب
میری بگڑی کو ہمیشہ ہی بنایا میرے رب
میری نیا ڈوبتی ہے اب گناہوں میں مگر
تو نے ہی اس کو کنارے پر لگایا میرے رب
آسرا تیرا، تجھی پر ہے بھروسہ آج بھی
اپنی جانب تو نے ہی مجھ کو بلایا میرے رب

0
12
مِرے ہونے کا ہونا بھی، تِرے ہونے کے دَم سے ہے
تِرے ہونے کا ہونا بھی، تِرے ہونے کے دَم سے ہے
مِرا ہونا بھی کیا ہونا، تِرا ہونا ہی ہونا ہے
یہ ہونا بھی نہ ہونا بھی، تِرے ہونے کے دَم سے ہے
مِرے ہونے نہ ہونے نے، تِرے ہونے کا بتلایا
مِرا ہو کر نہ ہونا بھی، تِرے ہونے کے دَم سے ہے

0
16
تَمنّا خُود کو کھونے کی بَسا أوقات ہوتی ہے
مِری ہستی اگر گُم ہو تو عرشِ ذات ہوتی ہے
تجلّی اُس کے جلووں کی بَراہِ راست ہوتی ہے
کبھی بجلی، کبھی شبنم، کبھی مِشکات ہوتی ہے
میں آنکھیں بند کرتا ہوں تو آتا ہے نِگاہوں میں
میں جب خاموش ہوتا ہوں تو اُس سے بات ہوتی ہے

0
23
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

404
6363
•─═══﷽═══─•سورۂ فاتحہ کی منظوم ترجمانی(2)شاعر: مہر مہسلائی رحمہ اللہ════❁✿❁════تعارف:قرآنِ مجید کی پہلی سورت سورۂ فاتحہ اپنے اندر توحید، حمد، عبادت، استعانت اور ہدایت کی جامع تعلیمات سموئے ہوئے ہے۔ معروف شاعر”مہر مھسلائی“نے اس عظیم سورت کے مفاہیم کو نہایت سادہ، مؤثر اور دل نشین شعری قالب میں پیش کیا ہے، تاکہ عام قاری بھی اس کے پیغام کو آسانی سے سمجھ سکے۔ملاحظہ فرمائیے:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(اللہ کے نامِ پاک سے ہے آغاز ہمارے کاموں کا)(بے مثل محبت ہے جس کی جو رحم و کرم میں ہے یکتا)۔۔اصل مطلع۔۔آغاز ہمارے کاموں کاہے نام سے تیرے جگ داتاتو رحم و کرم کا سر چشمہ ہے فیض تیرا ہی لہراتاسب حمد تجھے ہی زیبا ہے، تو رب ہے سارے جہانوں کاسب سُورج چاند ستارُوں کا، سب جانوں کا بے جانوں کابے تھاہ سمندر رَحمت کا ، سَرچشمہ مہر و محبت کاخالق ہے عمل کی قوت کا ، اور مالک روزِ قیامت کاہم بندے تیرے اَے آقا ، تیری ہی عبادت کرتے ہیںتوفیقِ اطاعت ، جوشِ عمل کی تُجھ سے چاہت کرتے ہیںہاں راہ دِکھا اُس منزل کی ، جو منزلِ فتح و نصرت ہےاسلاف نے جس پر چل کر پائی دونوں جہاں کی نعمت ہےوہ راہ نہ ہو گُمراہوں کی ، جو تیرے غضب میں آئے ہیںناکامی اور ہلاکت

19
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

196
7973