معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



398
6093
خوب خدا کی صنعت کے شہکار ہوئے
اِنس، چرند، پرند ہوئے اشجار ہوئے
سب سے افضل اس نے بنایا نبیوں کو
حضرت احمد نبیوں کے سردار ہوئے
ایک خدا ہے جو ہر ایک کو دیتا ہے
اس قابل کب شاہوں کے دربار ہوئے

0
1
اس کے بغیر زندگی اچھی گزر گئی
اتنا ہوا کہ دل سے یہ دنیا اتر گئی
قسمت میں ساتھ اس کا نہیں تھا نہیں ملا
مَنت، نیاز اور دعا بے اثر گئی
عشاق لگ گئے سبھی دولت کی دوڑ میں
مجنوں کے انتظار میں لیلیٰ ہی مر گئی

0
1
لوگ گلشن کی حفاظت ہمیں کرنے دیتے
ہم نہ اک بار بھی کلیوں کو بکھرنے دیتے
تم اگر سچ میں کسی دین کے پَیرَو ہوتے
اپنے مذہب کو یوں بدنام نہ کرنے دیتے
حکمراں میرے وطن سے کبھی مخلص ہوتے
اپنے لوگوں کو نہ پردیس میں مرنے دیتے

0
1
کیسے بھولوں میں دور وہ تب کا
کیا زمانہ تھا میرے مکتب کا
راہ دکھلاتا جو ستارہ ہے
ہو گیا گرد میں نہاں کب کا
تب اشاروں میں بات ہوتی تھی
اب تو لازم ہے کھولنا لب کا

0
1
جَنگ بَندی میں پَسِ پَرْدَہ زَرداری کا بھی کردار ہے۔ شیریں رَحمان!!!
——
ہَر کار کر رَہے ہیں پُرکار، چُھپ چُھپا کے
ہَر کار میں ہے اُن کا کِرْدار، چُھپ چُھپا کے
سَرکار کے تو جیسا کوئی نَہِیں ہے ”کاری“
ہَر کار کر رَہے ہیں سَرکار، چُھپ چُھپا کے

0
عجب عالم ہے، اب اپنی وفاؤں پر گماں گزرے
مجھے اپنے مقدّر کی دعاؤں پر گماں گزرے
یہاں منصف تماشائی، یہاں قاتل محافظ ہیں
ملیں جو بے گناہوں کو، سزاؤں پر گماں گزرے
لباسِ پارسائی میں لٹیرے گھومتے ہیں اب
فقیروں کو جو دیکھوں تو عباؤں پر گماں گزرے

0
5
بے بس و مجبور ہوں ٹوٹا ہوا انسان ہوں
اے خدا تو نے کہا تھا میں تری پہچان ہوں
اتنی پیاری صورتیں  کتنی بھیانک ہوگئیں
آئینہ خانے میں آکر کس قدر حیران ہوں
چشم بند آنکھوں پہ ہیں، تالے پڑے ہیں نطق پر
میری حالت پوچھتے ہو بد تر از حیوان ہوں

0
4
پیار میں اپنے سنبھالا دے دے
دل ، مجھے الفتوں والا دے دے
شام کو جگنو ، ستارے دے دے
سحر کو میری اجالا دے دے
مر مٹے تیری محبت میں جو
وہ بدن عجز میں پالا دے دے

0
4
ضروری تو نہیں ہر بات ٹال دوں
کسی کے ظلم کو دریا میں ڈال دوں
یہ تو فقیری کا کچھ شوق چڑھا ہے
وگرنہ آنکھوں سے میں دل نکال دوں
نہ پوچھ مجھ سے مرے دہر کی خبر
میں کیوں کسی کو یہ اپنا خیال دوں

0
1
کیا دِکھاؤں اہلِ دنیا! دل دِکھانے کا نہیں
دوست سب اچّھے، کسی کو آزمانے کا نہیں
ناز و عشوے کا تمہیں ہے اختیارِ کُل، مگر
جی کے بہلانے کا ہے، دل میں سمانے کا نہیں
ساری پونجی میں نے کر ڈالی تو ہے صرفِ علاج
سچ کہوں مجھ کو افاقہ ایک آنے کا نہیں

0
کیا دِکھاؤں اہلِ دنیا! دل دِکھانے کا نہیں
دوست سب اچّھے، کسی کو آزمانے کا نہیں
ناز و عشوے کا تمہیں ہے اختیارِ کُل، مگر
جی کے بہلانے کا ہے، دل میں سمانے کا نہیں
ساری پونجی میں نے کر ڈالی تو ہے صرفِ علاج
سچ کہوں مجھ کو افاقہ ایک آنے کا نہیں

0
1
کراچی میں رَہنا پَیْرِس میں رَہنے جَیسا ہے۔ شَرمِیلا فارُوقی!!!
——
بیچارگی پَہ اَپنی ماتَم کُناں ہیں ہَر دَم
حَیراں ہیں کیسے عَہْدِ بے حِس میں رَہ رَہے ہیں
رَہ تو رَہے ہیں اَب بھی اِس شَہْر کے مَکِیں پَر
صَدیوں پُرانے خَسْتَہ پَیْرِس میں رَہ رَہے ہیں

0
چٹختے جائیں خیالوں کی ٹہنیوں پر شعر
کہ گل رخوں پہ لکھوں اور تتلیوں پر شعر
یہ بیت میرا تجھے ہچکیاں بندھا دے گا
کہے ہیں یوں تو بہت میں نے سسکیوں پر شعر
یہ اور بات کہ ہیں کور چشم اپنے لوگ
نمایاں میں نے رکھے برف چوٹیوں پر شعر

0
1
رکاوٹیں تھیں وہاں جا بجا پہ ناکہ تھا
عجیب طرزِ عمل تھا کہ خوش ادا کا تھا
میں اس کے گاؤں سے پہلے کبھی نہیں گزرا
مجھے تھا خوف کہ دشمن کا وہ علاقہ تھا
وہ دلبری میں کمالِ ہنر پہ تھا فائز
کہ دلپذیر تھا، وش رنگ جانے کیا کیا تھا

0
وہ دشتِ جاں میں آج بھی دہائی دے رہا ہے کیوں؟
اسے امید کا نشاں دکھائی دے رہا ہے کیوں
مجھے تو کچھ خبر نہیں حدوں سے ماورا ہے کیا
وہ اپنے قید و بند سے رہائی دے رہا ہے کیوں؟
طلب ہے تخت و تاج کی نہ بستیوں پہ راج کی
گدائی مانگتا ہوں میں خدائی دے رہا ہے کیوں؟

0
2
سرکارِ دو جہاں ہی رب کے حبیب ہیں
جو جان سے زیادہ دل کے قریب ہیں
کرتے ہیں جان قرباں بردے حضور پر
کہتے ہیں لوگ جن کو بندے عجیب ہیں
اس بحرِ عشق میں دل مانے نہ خرد کی
لمحاتِ وصل حب میں لگتے زبیب ہیں

0
1
4
عادت سی ہو گئی ہے ذمہ داری کی
ہر اک سانس نے تیری تابعداری کی
اس نے جان طلب کی تو پھر ہم نے بھی
حد ہی کر گئے ہیں فرما برداری کی

0
3
وہ مزاروں سے بارور آیا
میں حرم سے بھی بے ثمر آیا
زندگی کو تباہ اس نے کیا
پھر بھی الزم میرے سر آیا
عقل نایاب ہی رہی مجھ سے
نہ مری بات میں اثر آیا

0
10
دَورانِ تَقْرِیر یُوسُف رَضا گِیلانی کی شَلْوار گِر گئی!!!
——
نَہ جانے کون وَحْشَت ہے کہ جِس کے یِہ کَرِشْمے ہیں
کَبھی گَھر ٹُوٹ جاتا ہے کَبھی دِیوار گِرتی ہے
عَجَب طُرْفَہ تَماشَہ ہے جو جانے کَب سے جاری ہے
کَبھی سَرْکار گِرتی ہے کَبھی شَلْوار گِرتی ہے

0
2
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

195
7833
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

398
6093
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ الفاظ صرف آوازیں ہیں، چند جملے ہیں جو لبوں سے نکل کر فضا میں بکھر جاتے ہیں۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔لفظ کبھی خالی نہیں ہوتے اپنا اثر رکھتے ہیں وہ ہمارے باطن کے عکاس ہوتے ہیں،لفظ ہماری سوچ، ہمارے تجربات، ہماری نیت اور ہمارے اندر چھپی دنیا کو آشکار کرتے ہیں۔جو کچھ ہم بولتے ہیں، وہ اچانک پیدا نہیں ہو جاتا۔ وہ ہمارے ذہن کی زمین میں بویا گیا  بیج ہوتا ہے، جو  خیال بنتا ہے، اور آخرکار لفظ کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ذہن ایک کھیت کی مانند ہے۔اگر اس میں علم کے بیج بوئے جائیں، مثبت سوچ کا پانی دیا جائے اور اچھی صحبت کی دھوپ اور چھاؤں ملے، تو ، سچائی اور حکمت کی فصل اگتی ہے۔لیکن اگر اسی زمین میں نفرت، حسد، بدگمانی اور جھوٹ کے کانٹے بو دیے جائیں، تو زبان سے نکلنے والے الفاظ تلوار سے زیادہ تیز اور  نیزوں کی طرح چبھنے لگتے ہیں۔ لفظوں کے ساتھ لہجہ  اندر کی کیفیت کا عکس ہوتا ہے۔جو دل میں سکون رکھتا ہے، اس کی شخصیت میں ٹھہراؤ ،زبان میں نرمی ہوتی ہے۔جو دل میں آگ رکھتا ہے، اس کے لفظ بھی جلانے لگتے ہیں۔کسی انسان کو جاننے کے لیے  اس کا ماضی، حال، لباس دیکھنا  یا

0
21