معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



410
6477
ایسے مِری حیات کا قصّہ تَمام ہو
آنکھوں میں میری صُورَتِ خَیْرُ الْاَنامؐ ہو
اپنی لَحد میں دیکھوں جو نُورِ حضورؐ کو
میری زُباں پہ جاری دَرود و سَلام ہو
دیکھا جو حُسنِ آقاؐ تو شَشدر سا رَہ گیا
دل نے کہا کہ آپؐ ہی حُسنِ تَمام ہو

0
3
ہر کہکشاں میں ستاروں میں ڈولتا ہے علی
فلک کے بند دریچوں کو کھولتا ہے علی
جو بارگاہِ علی میں فقیر آ بیٹھے
خدا کے راز کو باتوں میں کھولتا ہے علی
زبان کاٹ کے بولے کہ اب تو بول علی
تو میرے دل نے کہا دل میں بولتا ہے علی

0
3
جو قیس کر گیا یعنی وہ کام کر بیٹھے
کسی کے عشق میں خود کو غلام کر بیٹھے
بچا کے رکھا تھا اب تک جسے زمانے سے
وہ دل بھی تیری محبت کے نام کر بیٹھے
ہے اس میں کتنی صداقت بیان کر دے گا
بس آئینے سے کبھی وہ کلام کر بیٹھے

0
3
مبارک ہو حسیں دلبر نبی صلے علیٰ آئے
سخی سرور رسول اللہ حبیبِ کبریا آئے
لئے مشعل ہدایت کی امامِ مرسلیں ہادی
بنے زینت جہانوں کی شہے دونوں سریٰ آئے
زمیں نازاں، زماں نازاں، ہیں نازاں دو جہاں اُن پر
ضیا بن کر جہانوں کی نبی نورِ ہدیٰ آئے

0
5
پوچھ مجھ سے کبھی گِلہ کیا ہے
عشق کر کے مجھے ملا کیا ہے
اب کسی پر یقیں نہیں کرتا
جانتا ہوں میں اب دغا کیا ہے
تیرے جانے کے بعد سوچا ہے
میرے حصے میں اب رہا کیا ہے

0
8
اَپنے ہی شَہْر میں مِہْمان ہیں پِنڈی والے
یادِ یاراں سے کوئی شام نَہ خالی جائے
دِل کے خُوش رَکھنے کو غالب یہ خیال اَچّھا ہے
کیوں نَہ ہَر شَہْر میں ہی فوج بُلا لی جائے
(مرزا رضی اُلرّحمان)

0
4
تضمین:- مِلٔکِ خاصِ کِبْرِیا ہو
کلام:- الشاہ امام احمد رضا خان بریلوی قدس سرہ العزیز
مَظْہَرِ نُورِ خُدا ہو
مَرْکَزِ دَورِ ہُدٰی ہو
مِحْوَرِ اَرْضُ و سَما ہو
مِلٔکِ خاصِ کِبْرِیا ہو

0
6
اختیار بھی نہ ہو اور ارادہ بھی نہ ہو
زندگی مرے خدا ایسے سادہ بھی نہ ہو
تو کریم ہے بہت میں غریب ہوں بہت
وزن میں کوئی مصیبت زیادہ بھی نہ ہو

0
7
دل نے پوچھا مری خطا کیا ہے
تو نے ہنس کر کہا، وفا کیا ہے
جس کو سمجھا متاعِ جاں ہم نے
اس نے آخر ہمیں دیا کیا ہے
تیری محفل میں سب ترے تھے مگر
اپنی قسمت میں فاصلہ کیا ہے

0
7
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

410
6477
•─═══﷽═══─•سورۂ فاتحہ کی منظوم ترجمانی(2)شاعر: مہر مہسلائی رحمہ اللہ════❁✿❁════تعارف:قرآنِ مجید کی پہلی سورت سورۂ فاتحہ اپنے اندر توحید، حمد، عبادت، استعانت اور ہدایت کی جامع تعلیمات سموئے ہوئے ہے۔ معروف شاعر”مہر مھسلائی“نے اس عظیم سورت کے مفاہیم کو نہایت سادہ، مؤثر اور دل نشین شعری قالب میں پیش کیا ہے، تاکہ عام قاری بھی اس کے پیغام کو آسانی سے سمجھ سکے۔ملاحظہ فرمائیے:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(اللہ کے نامِ پاک سے ہے آغاز ہمارے کاموں کا)(بے مثل محبت ہے جس کی جو رحم و کرم میں ہے یکتا)۔۔اصل مطلع۔۔آغاز ہمارے کاموں کاہے نام سے تیرے جگ داتاتو رحم و کرم کا سر چشمہ ہے فیض تیرا ہی لہراتاسب حمد تجھے ہی زیبا ہے، تو رب ہے سارے جہانوں کاسب سُورج چاند ستارُوں کا، سب جانوں کا بے جانوں کابے تھاہ سمندر رَحمت کا ، سَرچشمہ مہر و محبت کاخالق ہے عمل کی قوت کا ، اور مالک روزِ قیامت کاہم بندے تیرے اَے آقا ، تیری ہی عبادت کرتے ہیںتوفیقِ اطاعت ، جوشِ عمل کی تُجھ سے چاہت کرتے ہیںہاں راہ دِکھا اُس منزل کی ، جو منزلِ فتح و نصرت ہےاسلاف نے جس پر چل کر پائی دونوں جہاں کی نعمت ہےوہ راہ نہ ہو گُمراہوں کی ، جو تیرے غضب میں آئے ہیںناکامی اور ہلاکت

38
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

196
8002