معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



398
6068
اس آخری امید کا بھی ہاتھ چھوڑو جانے دو
گزر گئی جو بات اب وہ بات چھوڑو جانے دو

0
1
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

195
7788
چَھتّیِس گاڑیوں کا تَعْزِیَتی پروٹوکول!!!
——
چاچُو جی کا تو یَہی مَعْمُول ہے
جِس قَدَر بھی غَم ہو اُتنی گاڑیاں
شِدَّتِ غَم کا تو اَنْدازَہ کریں
لے کے پَہُنچے ہیں وہ کِتنی گاڑیاں

0
2
بوجھ جو بڑھ گئے زندگی کے
دن بھلا ہی دیئے عاشقی کے
جن کو رنگین لگتی ہے دنیا
وہ طلب گار تھے سادگی کے

4
تم جان ہو دھڑکن ہو بتا کیوں نہیں دیتے
یہ بات نہیں ہے تو سزا کیوں نہیں دیتے
میں تیری جدائی میں نہ جیتا ہوں نہ مرتا
تم شمعِ فروزاں ہو جلا کیوں نہیں دیتے
کیوں اس رخِ عارض کو یوں الجھن میں رکھا ہے
تم زلفِ پریشاں کو ہٹا کیوں نہیں دیتے

0
10
چپک کر رہنے والی آنکھ ہی منظر کی آسانی
میسر سب ہے لیکن اب نہیں ہے گھر کی آسانی
بڑوں کے مرتبے پر چوٹ کرنے کے سمے بیتے
امیروں میں ہے، جس کو اب تلک ہے ڈر کی آسانی
گلی کوچوں کے منظر سارے ٹھہرے ریزہ ریزہ سے
کہیں ماضی میں پھیکی پڑ گئی ہے در کی آسانی

0
4
بن مانگے تمنا پوری ہو یوں کرم کریمی کرتے ہیں
ہم نام جو لیں وہ رحمت سے دامانِ طلب کو بھرتے ہیں
سرکار کے در کا رستہ ہی بندے کو ملائے مولا سے
جو اُن سے جُڑے پروان چڑھے جو جڑھ سے کٹے وہ گرتے ہیں
اس یادِ حبیبِ سرور سے ہر چمن میں زینت آتی ہے
پھر نور کے دریا مولا سے آکاش میں چلتے پھرتے ہیں

1
5
ہو چکی شام کہ اک دیپ جلایا جائے
پی کے اک جام غمِ یار بھلایا جائے
کوئی ترکیب بتا دے ہمیں جاتے جاتے
کس طرح نقش ترا دل سے مٹایا جائے
جب بھی پیتے ہیں تو دل میں یہ خیال آتا ہے
کیسے دامن تری یادوں سے چھڑایا جائے

0
3
ٹَرَمْپ کے ایم بی ایس کے لیے غَلِیظ تَرین اَلفاظ!!!
——
سَمجھے اُس کا ماٹو اَب
جو بویا تھا کاٹو اَب
غَیرَت ہے تو ڈُوب مَرو
وَرنَہ وہ شے چاٹو اَب

0
کبھی کبھی تو یوں بھی امتحان لیتی ہے
چرا کے دل کو محبت ہی جان لیتی ہے

0
4
سرکار کا ذکر دے دل جاں کو آشتی
روشن کرے دروں اور سینے میں روشنی
شہرِ حسیں منور اُن کے ورود سے
گامِ نبی سے اس میں پیدا ہے دلکشی
حاصل اسی ذکر سے لُطفِ حیات ہے
رنگین یادِ جاناں سے دشتِ زندگی

0
1
5
اعجاز مُحبت کو تِرے دَر سے مِلا ہے
"تُو سرورِ کونین ہے محبوبِ خُدا ہے"
قائم یہ جہاں ہے تِرے سجدوں کی بدولت
نقشِ کَفِ پا تیرا دُعالم کی بِنا ہے
احمدؐ ہیں وہ حامدؐ ہیں وہ محمودِؐ خدا ہیں
محبوب اُنہیں رَب کی ثَنائے بے رِیا ہے

1
15
جہاں بھی چمن سے بہارا گیا ہے
گلوں کو زمیں پر دے مارا گیا ہے
ترا نام لے کر زمانے میں ہم کو
محبت کے دکھ سے گزارا گیا ہے
کہاں سے چلے تھے تری جستجو میں
کہاں لا کے ہم کو یوں مارا گیا ہے

0
14
زمانے کو ہم الوداع کر چلے
جیے جس قدر سر اٹھا کر چلے
دعاؤں میں اب یاد رکھنا ہمیں
کہ ہم اپنے وعدے وفا کر چلے
بھلاؤ گے ان کو بھلا کس طرح
معطر جو دل کی فضا کر چلے

0
5
قَوْم کے تو کِسی نَہ کام کے ہو
حَدْ یِہ ہے بار بار ہو تُم لوگ
کِن کے بھیجے ہُوئے ہو کیا مَعْلُوم؟
کِن کے خِدْمَت گُذار ہو تُم لوگ؟
(مرزا رضی اُلرّحمان)

0
2
حسیں جانِ عالم یہ محبوبِ یزداں
شہے دو سریٰ ہیں زمانے کے سلطاں
نہ ٹھہرا کہیں بھی جو ہمسر ہو اُن کا
سدا جن کے اوصاف ہیں فخرِ انساں
ہوا ذکر جس جا نبی مصطفیٰ کا
وہیں جھک گئے سب مراتب کے ایواں

2
13
یادِ نبی میں رہتی تازہ ہے زندگی
دارِ سخی پہ آئیں حاصل ہو تازگی
نقشِ قدم کریمی دیں کامرانیاں
الطافِ مصطفیٰ میں سکھ چین آشتی
آیا سکون دل کو راحت میں جان ہے
لائے حبیبِ یزداں قرآن روشنی

0
2
11
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

398
6068
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ الفاظ صرف آوازیں ہیں، چند جملے ہیں جو لبوں سے نکل کر فضا میں بکھر جاتے ہیں۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔لفظ کبھی خالی نہیں ہوتے اپنا اثر رکھتے ہیں وہ ہمارے باطن کے عکاس ہوتے ہیں،لفظ ہماری سوچ، ہمارے تجربات، ہماری نیت اور ہمارے اندر چھپی دنیا کو آشکار کرتے ہیں۔جو کچھ ہم بولتے ہیں، وہ اچانک پیدا نہیں ہو جاتا۔ وہ ہمارے ذہن کی زمین میں بویا گیا  بیج ہوتا ہے، جو  خیال بنتا ہے، اور آخرکار لفظ کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ذہن ایک کھیت کی مانند ہے۔اگر اس میں علم کے بیج بوئے جائیں، مثبت سوچ کا پانی دیا جائے اور اچھی صحبت کی دھوپ اور چھاؤں ملے، تو ، سچائی اور حکمت کی فصل اگتی ہے۔لیکن اگر اسی زمین میں نفرت، حسد، بدگمانی اور جھوٹ کے کانٹے بو دیے جائیں، تو زبان سے نکلنے والے الفاظ تلوار سے زیادہ تیز اور  نیزوں کی طرح چبھنے لگتے ہیں۔ لفظوں کے ساتھ لہجہ  اندر کی کیفیت کا عکس ہوتا ہے۔جو دل میں سکون رکھتا ہے، اس کی شخصیت میں ٹھہراؤ ،زبان میں نرمی ہوتی ہے۔جو دل میں آگ رکھتا ہے، اس کے لفظ بھی جلانے لگتے ہیں۔کسی انسان کو جاننے کے لیے  اس کا ماضی، حال، لباس دیکھنا  یا

0
13