معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



395
5919
ایپسٹین فائلز اور ڈونلڈ ٹرمپ!!!
——
تُو ایسا جانْوَر ہے جو کبھی پہلے نَہِیں دیکھا
غِلاظَت میں جَہاں بَھر میں نَہِیں تیرا کوئی ثانی
تُو اِک ایسا دَرِنْدَہ ہے جسے سَب جانتے ہیں پَر
ہَمارے کَرْتے دَھرْتوں نے تری صُورت نَہ پَہْچانی

0
1
چلو اک کام کرتے ہیں
نیا آغاز کرتے ہیں
تمہاری یاد کے بوجھل، تھکے لمحوں کی دہلیزوں پہ
جو برسوں پڑی ہے گردِ ہجراں کی اداسی سی
اُسے خاموش ہاتھوں سے ذرا ہلکا سا کرتے ہیں
وہی بوسیدہ وعدے جو زمانوں سے بکھر بیٹھے

0
14
ضبط میں ضم ہو گئے طوفاں تلک
کیا طلاطم کا فغاں آواز دے
شور ہی جب زندگی کی گونج ہو
موت آنے کی کہاں آواز دے؟
بے محل ٹھہرے اگرچہ بات چیت
کاش کوئی ہم زباں آواز دے

0
31
آیَتُ اللہ خامنائی کا بیٹا مُجھے مَنظُور نَہِیں۔ ٹرمپ!!!
——
تیری کَرْتُوتیں بھی ہَم سَب جانَت ہیں
تُو بھی اَب مَسْتُور نَہِیں ہے بے غَیرَت
کوئی بھی گَر تُجھ کو نَہِیں مَنظور تو کیا؟
تُو بھی ہَمیں مَنظُور نَہِیں ہے بے غَیرَت

4
عدل جب مفقود ہو دل میں سکوں رہتا نہیں
ظلم کی آہٹ سے کوئی گوشہ بھی بچتا نہیں
ہم نے دیکھا ہے کہ جب حق دب گیا اہلِ ہوس
پھر کسی بستی میں امن و آشتی آتا نہیں
عدل کی بنیاد پر قائم ہے دنیا کا نظام
ورنہ طاقت کا تلاطم کوئی حد رکھتا نہیں

0
6
انہی کے داغ سب دھوئے ہوئے ہیں
جو اپنی ذات میں کھوئے ہوئے ہیں
قیامت بار ہا آتی رہی ہے
نہیں جاگے ابھی سوئے ہوئے ہیں
ہوا اعلان رقصِ آخری کا
یہ حضرت کیف میں کھوئے ہوئے ہیں

0
9
بھلا کیوں آپ  گھبرائے ہوئے ہیں
یہ قصے جھوٹ بنوائے  ہوئے ہیں
انہی کے ہاتھ سے اٹھیں فصیلیں
عمارت میں جو  چنوائے ہوئے ہیں
صلیبیں اگ رہی ہیں اس زمیں سے
قلندر جس میں دفنائے ہوئے ہیں

0
6
سانحہ اپنی تباہی کا نہیں ایسا عجیب
غیر کو اپنا سمجھنا تھا مرا اپنا نصیب
مجھ سے ملتا بھی ہے گرچہ ہے خفا مجھ سے بہت
دوستوں سے بھی  زیادہ  میرا  ہمدم ہے رقیب
میرے ارماں میری طاقت میری ہمت ہیں وہی
دور ہو کر بھی جو رہتے ہیں سدا دل کے قریب

0
6
خَواتِین کا عالمی دِن!!!
——
تُم ہو تَصْوِیرِ کائِنات میں رَنْگ
تُم سے ہیں جتنے اِسْتِعارے ہیں
سال میں ایک دِن تو کُچھ بھی نَہِیں
سال کے سارے دِن تُمھارے ہیں

0
4
رنگ لائی ہے محنت تمھاری خُرم
بڑھ گئی اس سے عزت ہماری خُرم
دِل میں پھوٹے ہیں لڈو سُنی جب خبر
کھا لو لڈو مِلے گی ہمیں کب خبر
خدمَتِ خلق میں تمغَۂِ امتیاز
تُم کو دو جگ میں مولا کرے سرفراز

0
5
شرحِ انجیل تھی کہ آنکھ وہ تورات تھی
سوچتے ہیں تیرا چہرہ صبح تھی یا رات تھی
بیان ہی تو کر رہا تھا قیس صحرا کا جنوں
تم خفا کیوں ہو گئے اس قدر کیا بات تھی
جا رہا ہے تیری محفل سے یہ دل کہتا ہوا
ستائشِ غیرت رقیبِ اُلفتِ بد ذات تھی

0
9
تمدن کو بچانے کی ضرورت ہے
نئی نظمیں سنانے کی ضرورت ہے
وہ فلمیں جو سماجوں کو بدلتی ہیں
گھروں میں اب دکھانے کی ضرورت ہے
ہمارے سر پہ بیٹھے ہیں جو دانش ور
انھی کو اب پڑھانے کی ضرورت ہے

0
4
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

193
7707
میرے پیارے نبی رتبہ تیرا سوا
تیرے درجے شہا دو جہاں میں عُلیٰ
اے حسن کے سبب تو ہے محبوبِ رب
تو جمالِ دہر تو حسیں جانِ ما
نغمہ تیرا ہے قرآں کلامِ الہ
اے رسولوں کے دلبر حبیبِ خدا

1
7
کھو گئے ہیں قافلے، عجلتوں کے شہر میں
طے نہ ہوں گے فاصلے، عجلتوں کے شہر میں
منزلیں سب کھو گئیں، بے نشاں سی راہ میں
تھک گئے ہیں منچلے، عجلتوں کے شہر میں
دشت میں ننگے قدم، بھاگنے کے جرم میں
پھوٹتے ہیں آبلے، عجلتوں کے شہر میں

0
8
اَیسے جیسے جَن٘گ کے تھے مُنتَظِر
دیکْھتے ہی سَب کَمِینے، لگ گئے
کھا چُکے جَب نوچ کر سَب بوٹیاں
حُکْمَراں پِٹْرول پینے لگ گئے
(مرزا رضی اُلرّحمان)

0
3
میں جوگی جوگی جوگی ہوں
من میت نگر کا روگی ہوں
میرے اندر باہر تو ہی تو
میرا باطن ظاہر تو ہی تو
میں خاک جہاں کی ناپاکی
میرا سچا طاہر تو ہی تو

0
8
اُس نے بھی اُجڑے گُلشن کو مہکایا
کِھلنے سے پہلے ہی جو پُھول مرجھایا
یادوں کو تو مری جینے دے اے ظالم
زندگی میں یہی بچا ہے سرمایہ
جستجو تو بہت کی غم گساری کی
دل مگر میری باتوں میں نہیں آیا

0
4
ہماری ڈِیل اِسْرِائِیْل نَہِیں اَمرِیکہ کے ساتھ ہے- اِسحاق ڈار!!!
——
جو چَولیں مار بیٹھے ہو وہ اَب پِیچھا نَہ چھوڑیں گی
ذَلالَت میں تو کام آنی ہیں یِہ ڈِیلیں نَہ وہ ڈِیلیں
گُناہوں سے ہَمیشَہ سے ہے اُن کا عُذْر بَد تَر اَ
بَھلا اَب کون سُنتا ہے یِہ سَب بَکْواس تاوِیلیں

0
4
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ الفاظ صرف آوازیں ہیں، چند جملے ہیں جو لبوں سے نکل کر فضا میں بکھر جاتے ہیں۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔لفظ کبھی خالی نہیں ہوتے اپنا اثر رکھتے ہیں وہ ہمارے باطن کے عکاس ہوتے ہیں،لفظ ہماری سوچ، ہمارے تجربات، ہماری نیت اور ہمارے اندر چھپی دنیا کو آشکار کرتے ہیں۔جو کچھ ہم بولتے ہیں، وہ اچانک پیدا نہیں ہو جاتا۔ وہ ہمارے ذہن کی زمین میں بویا گیا  بیج ہوتا ہے، جو  خیال بنتا ہے، اور آخرکار لفظ کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ذہن ایک کھیت کی مانند ہے۔اگر اس میں علم کے بیج بوئے جائیں، مثبت سوچ کا پانی دیا جائے اور اچھی صحبت کی دھوپ اور چھاؤں ملے، تو ، سچائی اور حکمت کی فصل اگتی ہے۔لیکن اگر اسی زمین میں نفرت، حسد، بدگمانی اور جھوٹ کے کانٹے بو دیے جائیں، تو زبان سے نکلنے والے الفاظ تلوار سے زیادہ تیز اور  نیزوں کی طرح چبھنے لگتے ہیں۔ لفظوں کے ساتھ لہجہ  اندر کی کیفیت کا عکس ہوتا ہے۔جو دل میں سکون رکھتا ہے، اس کی شخصیت میں ٹھہراؤ ،زبان میں نرمی ہوتی ہے۔جو دل میں آگ رکھتا ہے، اس کے لفظ بھی جلانے لگتے ہیں۔کسی انسان کو جاننے کے لیے  اس کا ماضی، حال، لباس دیکھنا  یا

0
7
اس سائٹ کو بنانے کے لئے درج ذیل #سافٹوئر اور #ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے:بیک انڈ پر  c# اور Net Core 3.1. کا استعمال کیا گیا ہے۔ کلائنٹ سائڈ پر JavaScript اور  JQuery  کا استعمال ہے - یوزر انٹرفیس اور سٹائلنگ کے لئے  Boostrap 4.5   کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس سائٹ پر نہائت خوبصورت مہرنستعلیق ویب فانٹ کا استعمال کیا گیا ہے جس کے لئے ہم  مشہور خطاط نصر اللہ مہر صاحب اور  ان کے صاحبزادے ذیشان نصر صاحب کے نہایت شکر گزار ہیں۔سائٹ کا لوگو بھی ذیشان نصر صاحب کا ڈیزائن کردہ ہے۔ اس کے علاوہ اردو محفل کے اراکین کا بھی شکریہ جو کہ مفید مشوروں سے نوازتے ہیں۔اردو کیبورڈ کے لئے yauk  اور  اردو ایڈیٹر کیبورڈ سے استفادہ کیا گیا ہے۔ورژن 1 کا سورس کوڈ گٹ ہب پر موجود ہے۔ 

16
782