معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



410
6490
یہاں پہ آ کے تو بس خوار ہو گئے ہم لوگ
اب اس مقام پہ لاچار ہو گئے ہم لوگ
گلہ نہیں کہ زمانے نے راستہ روکا
خود اپنی راہ میں دیوار ہو گئے ہم لوگ
ہمیشہ اشکِ ندامت پیے گئے چپ چاپ
اب تو گریۂ بے اختیار ہو گئے ہم لوگ

0
1
فرصت کے ان لمحوں میں
آج تو ہی بتا کیا یار لکھوں؟
مجھے تم سے ہے کتنا پیار لکھوں؟
ہو محبت کا کیسے اظہار لکھوں؟
تیری ترچھی نگاہوں کے وار لکھوں؟
جو تیر ہے دل کے پار لکھوں؟

0
1
کرب سے جس کے گزرتا ہوں، بتاؤں کیسے
دل سے جو دور گیا، اس کو بساؤں کیسے
روٹھنے والے کو میں آج مناؤں کیسے
مسکرا کر غمِ دل سب سے چھپاؤں کیسے
ایک تصویر مرے دل سے نہیں مٹتی ہے
اپنے ہاتھوں سے اسے آج جلاؤں کیسے

0
1
خام خواہش کو کبھی تو، اپنی منزل مت بنا
جو مقدر سے ملا ہے، گیت بس اس کے سنا
​قید کیوں کر ہو گیا تو، درد کے اس جال میں
تیرگی نے کب تری راہوں کو اے دل ہے چنا
​حسرتیں تو بے شمار اب دل میں میرے دفن ہیں
عمر بھر کے دکھ سہے جو، ان کو میں نے کب گنا

0
1
پلا دے عشق کا مجھ کو، چھلکتا جام اے ساقی
نہ ہوش اب ہو مرا باقی، ملے آرام اے ساقی
​تری صورت ہی بستی ہے، مرے ان دیدہ و دل میں
تصور میں ترے روتے، کٹے ہر شام اے ساقی
​نگاہِ لطف ہے تیری، مرا کل حاصلِ ہستی
ملا ہے عشق میں تیرے، بڑا انعام اے ساقی

0
1
​خرد کی قید سے ہم لامکاں میں اترے ہیں
بپاسِ بندگی، ہم اس جہاں میں اترے ہیں
​سنائی دیتی ہے چاہت کی اک صدا ہر سو
مکینِ دل کے لیے ہم فغاں میں اترے ہیں
​حقیقتوں کی حدوں سے گزر گئے ہیں ہم
یقین و ہوش کو بھلا کر، گماں میں اترے ہیں

0
1
شکایت ہم نہیں کرتے کبھی اپنی سزاؤں پر
کہ ہم تو مسکراتے ہیں غموں کی ان گھٹاؤں پر
​کبھی اہلِ یقیں ہمت نہیں ہارا کیے ہرگز
رکھیں قدموں کو جو بڑھ کر، فلک پر کہکشاؤں پر
​مصیبت، سختیاں ساری خوشی سے جھیل جاتے ہیں
نظر جن کی لگی رہتی ہے اونچی ان فضاؤں پر

0
1
نگاہوں میں ترا چہرہ، تو ہم کیسے بکھر جائیں
بتا اے جانِ من! ہم چھوڑ کر تجھ کو کدھر جائیں
تری صورت تری الفت کو ہم ترسے بہت جاناں
کہیں یادوں کے اس گہرے سمندر میں گزر جائیں
ہمیں ہر پل ستاتا ہے، تمہارا ہی خیال اب تو
تری چاہت کی بارش میں، تمنا ہے نکھر جائیں

0
1
آئینے میں نہ زلفیں سنوارا کرو
اپنی نظروں کا صدقہ اتارا کرو
دیکھ کر چاندنی بھی لجانے لگی
اس قدر تم نہ خود کو نکھارا کرو
اوڑھ لو تم ردائے محبت میری
میرے جذبات کو نہ ابھارا کرو

0
جس کے چہرے پہ رحمت کے جلوے رَہے
جس کے خُطبوں سے ہمت کے رستے مِلے
جس کے نَعروں سے باطل کے قَلْعے ہِلے
جس نے شانِ رِسالت پہ پہرے دیے
ایسے مردِ عزیمت پہ لاکھوں سلام

0
2
جس سے راہِ عزیمت کے عقدے کھلے
جس سے فیضِ طریقت کے چشمے چلے
جس نے شانِ نبوت کے چرچے کیے
جس سے ختمِ نبوت کے منکر ڈرے
ایسے شمسِ طریقت پہ لاکھوں سلام

0
3
مجھ کو آتی ہے فقط حق کی ہی سیوہ کرنی
وہ غلط ہیں جو طرف دار سمجھتے ہیں مجھے

0
3
ترا خیال رہا میرا ہم خیال سدا
رہا ہے دل میں محبت کا ہی جمال سدا
تری وفا نے سنوارا ہے زندگی کا سفر
ترے سہارے رہا ہے یہ دل بحال سدا
یہ بے مثال محبت یہ ساتھ برسوں کا
مری دعا ہے رہے گا یہ بے مثال سدا

0
5
ورودِ نبی چارہ گر ہو گیا
زمان و مکاں معتبر ہو گیا
حسیں تارے افلاک پر انبیا
پسر آمنہ کا بدر ہو گیا
فروزاں دل و جاں بصیرت ہوئے
نبی سے درخشاں دہر ہو گیا

1
8
روزِ قَیامَت بینظیر کو کیا مُنہ دِکھائیں گے۔فریال تالپور!!!
——
سِندھ تُمھارے والِد صاحِب کی جاگِیر نَہِیں فریال
وَیسے بھی وہ اَپنے قاتِل کیسے بُھولنے پائے گی؟
بی بی کو کیا مُنہ دِکھلانا ہے، یِہ ڈرامے بَند کرو
تُم کیا سَمجھی ہو یِہ قَوْم دوبارہ دھوکَہ کھائے گی؟

0
6
اس شوقِ آگہی نے جو آشفتہ سر کیا
اب بے خبر کیا مجھے ہے بے ہنر کیا
جو منزلوں پہ منزلیں ہم طے تو کر گئے
پہنچے کہاں پہ ہم نے جو اتنا سفر کیا
یہ رہ گیا سوال بھی دنیا کے سامنے
کیا کھو گیا ہے پاس سے ہے کیا امر کیا

0
8
مبارک ہو جہاں والو حبیبِ کبریا آئے
مچی دھومیں جہاں بھر میں کہ لعلِ آمنہ آئے
حلیمہ ناز کرتی ہیں حسیں آئے ہیں گودی میں
سجانے دین سے دنیا نبی نورِ ہدیٰ آئے
ہدایت کا ملے رستہ نبی مُہرِ رسالت سے
لئے قرآن ہاتھوں میں محمد مصطفیٰ آئے

2
12
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

410
6490
•─═══﷽═══─•سورۂ فاتحہ کی منظوم ترجمانی(2)شاعر: مہر مہسلائی رحمہ اللہ════❁✿❁════تعارف:قرآنِ مجید کی پہلی سورت سورۂ فاتحہ اپنے اندر توحید، حمد، عبادت، استعانت اور ہدایت کی جامع تعلیمات سموئے ہوئے ہے۔ معروف شاعر”مہر مھسلائی“نے اس عظیم سورت کے مفاہیم کو نہایت سادہ، مؤثر اور دل نشین شعری قالب میں پیش کیا ہے، تاکہ عام قاری بھی اس کے پیغام کو آسانی سے سمجھ سکے۔ملاحظہ فرمائیے:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(اللہ کے نامِ پاک سے ہے آغاز ہمارے کاموں کا)(بے مثل محبت ہے جس کی جو رحم و کرم میں ہے یکتا)۔۔اصل مطلع۔۔آغاز ہمارے کاموں کاہے نام سے تیرے جگ داتاتو رحم و کرم کا سر چشمہ ہے فیض تیرا ہی لہراتاسب حمد تجھے ہی زیبا ہے، تو رب ہے سارے جہانوں کاسب سُورج چاند ستارُوں کا، سب جانوں کا بے جانوں کابے تھاہ سمندر رَحمت کا ، سَرچشمہ مہر و محبت کاخالق ہے عمل کی قوت کا ، اور مالک روزِ قیامت کاہم بندے تیرے اَے آقا ، تیری ہی عبادت کرتے ہیںتوفیقِ اطاعت ، جوشِ عمل کی تُجھ سے چاہت کرتے ہیںہاں راہ دِکھا اُس منزل کی ، جو منزلِ فتح و نصرت ہےاسلاف نے جس پر چل کر پائی دونوں جہاں کی نعمت ہےوہ راہ نہ ہو گُمراہوں کی ، جو تیرے غضب میں آئے ہیںناکامی اور ہلاکت

40
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

196
8016