معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



395
5686
کوئی فردوس بھی گر تیرے مقابل رکھ دے
مجھکو معلوم ہے میں تیری طرف آئوں گا
اس پری زاد کے ہاتھوں میں ہیں باگیں میری
وہ بتائے گا کہ میں کسکی طرف آئوں گا
پھول لائیں گے سبھی سالگرہ پر اسکی
جاں ہتھیلی پہ لیے اسکی طرف آئوں گا

1
5
شبِ ہجر میں آنکھیں پرنم کیا
کبھی یاد نے دل کو مرہم کیا
کوئی داغِ دل سے نہ واقف ہوا
جو دیکھا، تو خود نے بھی کم کم کیا
یہ کیا کم ہے قسمت کی تلخی کا حال
کہ رو رو کے آنکھوں کو شبنم کیا

0
6
عشق کے صحرا میں آخر دل بھٹکتا رہ گیا
اپنے ہی جذبوں کی آہوں میں الجھتا رہ گیا
جاں فزا اک نور اُترا دل کے سونے پر کرن
میں مگر اس نور کے صدقے میں جلتا رہ گیا
دل نے جب تسخیر پائی ایک لمحے درمیاں
میں بھی اس کے سامنے کچھ بے سخن سا رہ گیا

0
4
خود پرستی کا یہ عالم، دل نہیں پتھر ہوئے
دوستی کے نام پر سب، سود کے دفتر ہوئے
مسکراہٹ میں ہے دھوکا، آنکھ میں مکر و فریب
لفظ میٹھے زہر جیسے، جذبے سب منکر ہوئے
رُوح بکتی ہے یہاں پر، جِسم ہے معیارِ شوق
پیار کی تعریف بدلی، خواب بھی بے سر ہوئے

0
6
تمہیں میری عداوت تو نہیں ہے
مرے دل میں شکایت تو نہیں ہے
تمہارے ہجر نے تو توڑ ڈالا
مگر یہ کوئی آفت تو نہیں ہے
تمہاری یاد کی صبحیں سنہری
یہ غم بھی کم عنایت تو نہیں ہے

0
4
چلو، دل کی صدائی جا رہی ہے
جنوں کی رہنمائی جا رہی ہے
ازل کے خامشی خانے سے یارو
صدا کوئی سنائی جا رہی ہے
میں جس کو ڈھونڈتا ہوں خود میں اکثر
وہی صورت چھپائی جا رہی ہے

0
4
سجائیں جو یادیں شہے دو جہاں
لگے داماں میں ہیں زمیں آسماں
نہ زاری ہو اس سے نہ شکوہ کرے
مگر مدحتِ جاں کرے یہ زباں
مدینے میں لائے جو میری صدا
الہٰی عطا ہو مجھے وہ بیاں

0
2
تیرے غم نے ہمیں بھی رلایا بہت
دوستوں نے ہمیں بھی ستایا بہت
اس نے پھر بھی اسی سے گلہ کر دیا
میں نے دل کو تو تھا آزمایا بہت
اب تو آنسو بھی ہنس کر نکل جاتے ہیں
ہم نے ہر داغ کو ہے سجایا بہت

0
16
نَظمیہ غَزَل: تا حَیات اِسْتِثْنا!!! (حِصَّہ اَوّل)
——
مُضْمَرات اِسْتِثْنا، واردات اِسْتِثْنا
گھات گھات اِسْتِثْنا، بات بات اِسْتِثْنا
جو جو دینے بنتے تھے خَتم ہو گئے یکسَر
جو جو دینے بنتے ہیں واجبات، اِسْتِثْنا

0
4
سچ سے رشتہ کوئی جوڑا جائے
شہر اب جھوٹ کا چھوڑا جائے
کر کے ہمت کہیں بھانڈا اپنا
بیچ چوراہے کے پھوڑا جائے
بیڑیاں پاؤں کی جائیں کاٹی
ربط ہر بت سے بھی توڑا جائے

0
4
امیدِ التفات رکھوں کس گمان پر
چڑھتا نہیں ہے تیر بھی اتری کمان پر
صیاد بات مان مری یا نہ مان پر
اڑ جاؤں گا میں توڑ قفس آسمان پر
سوچوں ہوں ایک پل میں کئی زاویوں سے میں
گزرے ہیں سو گمان مجھے اک گمان پر

0
5
تُم نے اِک تَرْمِیم سے بَرباد کر کے رَکھ دیا!!!
——
تُم سے پہلے بھی جو آئے اِک سے بڑھ کر ایک تھے
سَب اَنوکھے لاڈلے کھیلا کیے دَستُور سے
اور ہم یہ سَب تماشہ دیکھتے تھے دُور سے
وہ جو ہوتا آ رَہا تھا مُخْتَلِف ادوار میں

0
3
مرے دل کی نگہداری تمہارے ہاتھ ہے بابا
مری تو ہر خوشی ساری تمہارے ہاتھ ہے بابا
تمنا ہے یہی میری ، سکوں دل کا میسر ہو
تڑپتے دل کی دلداری تمہارے ہاتھ ہے بابا
ادھر منصب ہے ابدالی ادھر رتبہ قلندر کا
سمجھ آیا کہ سرداری تمہارے ہاتھ ہے بابا

0
4
مرے دل کی نگہداری تمہارے ہاتھ ہے بابا
مری تو ہر خوشی ساری تمہارے ہاتھ ہے بابا
تمنا ہے یہی میری ، سکوں دل کا میسر ہو
تڑپتے دل کی دلداری تمہارے ہاتھ ہے بابا
ادھر منصب ہے ابدالی ادھر رتبہ قلندر کا
سمجھ آیا کہ سرداری تمہارے ہاتھ ہے بابا

0
3
مرے دل کی نگہداری تمہارے ہاتھ ہے بابا
مری تو ہر خوشی ساری تمہارے ہاتھ ہے بابا
تمنا ہے یہی میری ، سکوں دل کا میسر ہو
تڑپتے دل کی دلداری تمہارے ہاتھ ہے بابا
ادھر منصب ہے ابدالی ادھر رتبہ قلندر کا
سمجھ آیا کہ سرداری تمہارے ہاتھ ہے بابا

0
3
کبھی تیرا دل بھی ہمارا ہوا تھا
مگر پھر ہمارا کنارا ہوا تھا
مجھے بھی کبھی تیری یادوں نے تھاما
میں تم سے بھی بڑھ کر تمہارا ہوا تھا
نظر اس فلک کو دکھاتی تھی اپنی
وہی شخص اپنا ستارہ ہوا تھا

0
53
غم تو چہرے پہ ہے، آنکھوں کے دروں ہے، کیا ہے
تیری چاہت کا اثر ہے کہ فُسوں ہے، کیا ہے
ہجر میں بھی میں تجھے سامنے بیٹھا دیکھوں
تو کوئی وہم ہے، حسرت ہے، جنوں ہے، کیا ہے
تجھ کو سوچوں تو مرے رنج خوشی میں بدلے
تو کہ ہمت ہے کہ راحت ہے، سکوں ہے، کیا ہے

30
جونہی شام اتری جسم و جاں میں
لوٹ آیا پرندہ آشیاں میں
\
موجود نہیں جو اس جہاں میں
ڈھونڈوں گا اسے کہاں کہاں میں
/

0
21
مرے دل پہ مجھ کو یارب اگر اختیار ہوتا
نہ تڑپ سی دل میں ہوتی نہ میں بے قرار ہوتا
جو اتر رہا ہے میری رگِ جان میں مسلسل
اُسی کرب کا تقاضا ہے وصالِ یار ہوتا
نہ تو جی کے موت آتی نہ تو مر کے زندہ ہوتے
کہ سراپا خاک ہوتے، نہ یہ حالِ زار ہوتا

0
2
28
دَھرم پا جی کی یاد میں!!!
——
صاف سُتھرا اور کَھرا سا آدمی
مُخْتَلِف سا وہ اَکیلا آدمی
اُس کے جیسا دُوسرا کوئی نہ تھا
بِھیڑ میں بھی وہ یَکیلا آدمی

0
3
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

180
7500
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

395
5686
السلام علیکم ، اللہ کرے سب بخیر و عافیت ہوں۔سورۃ الفاتحہ کا منظوم ترجمہ مطلوب ہے۔

0
3
47