معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



398
6159
اے سخی کچھ کرم ادھر بھی ہو
کچھ تو لائک صنم ادھر بھی ہو
صنفِ نازک نہیں ہوں میں گرچہ
شیئر اک کم سے کم ادھر بھی ہو
وقت لگتا ہے کچھ بھی اس میں کیا
ایک دو محترم ادھر بھی ہو

0
1
میں بھی بے مہر زمانے کو موافق ہوتا
جو اگر دل مرا اِک اعلی منافق ہوتا
بھُوکے مر جاتے کسی سُنساں گلی میں دونوں
میں ترا یا تُو اگر میرا جو رازق ہوتا

0
1
جو مدتوں تیرے شہرِ الفت سے میں جدا تھا
تجھے پتہ ہے کہ تیری یادوں سے رابطہ تھا
میں سوچتا ہوں جو ساتھ گزرے ہوئے دنوں کو
تو خود سے کہتا ہوں کتنا دل کش وہ سلسلہ تھا
اداس تجھ کو جو دیکھتا دل اداس ہوتا
تو خوش دکھے تو یہ دل ترے ساتھ ناچتا تھا

0
1
بھولیں گے سب کو ہم نے یہی حلفیہ کہا
اور پھر پرانی چاہتوں کا مرثیہ کہا
درکار اس قدر تھا سکوں ہم کو ہجر میں
ہم نے تمہاری یاد کو بھی تخلیہ کہا
پہنچا رہی ہے ہم کو مہک تیری جس طرح
بادِ صبا کو ہم نے ترا ڈاکیا کہا

0
2
سکون مل نہ سکا خود نما سے لڑتے ہوئے
تھکن سے چور ہیں اپنی انا سے لڑتے ہوئے
ہمیں تو خاک میں ملنا ہی ہے کسی اک دن
بدل گئے ہیں مگر خاکِ پا سے لڑتے ہوئے
چراغِ مصلحتِ وقت بجھ گیا آخر
ہمارے عزم کی سرکش ہوا سے لڑتے ہوئے

0
1
شمس و قمر نجوم تھے جس شب چھپے ہوئے
 ارمان ان سے دل کے کہے سب چھپے ہوئے
 چشمِ سیہ کی برق تو سہہ لی تھی قلب پر
 مر ہی گئے جو دیکھے حسیں لب چھپے ہوئے
 کاجل میں جگمگاتے ہیں جذبات پیار کے
 رہتے نہیں ہیں رات میں کوکب چھپے ہوئے 

2
تم مرے پہلو میں آئے دلکشی کو اوڑھ کر
رک گئی ہے رات پل بھر تشنگی کو اوڑھ کر
​گفتگو اب دھڑکنوں کے درمیاں ہونے لگی
سو گیا ہے آج کمرہ خامشی کو اوڑھ کر
​تیرے ماتھے پر لٹیں الجھی ہوئی ہیں اس طرح
چاند جیسے چھپ گیا ہو برہمی کو اوڑھ کر

0
3
گو رگِ جاں میں اتر جاتے ہیں
ہجر کے دن بھی گزر جاتے ہیں
زندہ ہیں یاد سے تیری ورنہ
لوگ تنہائی میں مر جاتے ہیں
دیکھنے کون ہمیں آتا ہے
راہ میں ہم ہی ٹھہر جاتے ہیں

0
3
تسلسل ٹوٹنے پائے نہ اشکوں کا
ابھی اس دل میں شورش باقی ہے کچھ کچھ

0
2
ساری عمر رونے میں گزار دی ہم نے
ہم کیا اے دوست تجھ کو حوصلہ دیتے

0
1
کچھ وقت اور کر لو خدایا حساب تم
دیدار اور کر لیں رحِ جاناں کا ابھی

0
2
رہا کیجیے کہاں جا کر کہ ہر شے سے ہے بیزاری
کہ کھا جانے کو آوے ہے یہ ہر شب قیدِ تنہائی

0
2
خامشی دل میں ہے مگر رمزؔ
یہ جہاں کیوں ہے ویراں سارا

0
2
تذکرہ حال کا کس سے کریں ساقی
ہر کوئی محوِ غمِ دوش ہے ساقی

0
2
جب سے سنا ہے خواب حقیقت نہیں ہوتے
تب سے کسی بھی رات، مَیں سویا نہیں جاناں

0
2
چلیں رمز جی طور کو ہی چلتے ہیں ہم
کہ عرشِ معلیٰ ہماری دسترس میں نہیں

0
1
تمہارے بعد کوئی پھول پھر نہیں کھلا جاناں
تمہارے بعد پلٹ کر بہار پھر نہیں آئی

0
1
یہ دل گھر آپ کا ہی ہے
سو جب چاہیں چلے آئیں

0
1
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

195
7881
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

398
6159
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ الفاظ صرف آوازیں ہیں، چند جملے ہیں جو لبوں سے نکل کر فضا میں بکھر جاتے ہیں۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔لفظ کبھی خالی نہیں ہوتے اپنا اثر رکھتے ہیں وہ ہمارے باطن کے عکاس ہوتے ہیں،لفظ ہماری سوچ، ہمارے تجربات، ہماری نیت اور ہمارے اندر چھپی دنیا کو آشکار کرتے ہیں۔جو کچھ ہم بولتے ہیں، وہ اچانک پیدا نہیں ہو جاتا۔ وہ ہمارے ذہن کی زمین میں بویا گیا  بیج ہوتا ہے، جو  خیال بنتا ہے، اور آخرکار لفظ کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ذہن ایک کھیت کی مانند ہے۔اگر اس میں علم کے بیج بوئے جائیں، مثبت سوچ کا پانی دیا جائے اور اچھی صحبت کی دھوپ اور چھاؤں ملے، تو ، سچائی اور حکمت کی فصل اگتی ہے۔لیکن اگر اسی زمین میں نفرت، حسد، بدگمانی اور جھوٹ کے کانٹے بو دیے جائیں، تو زبان سے نکلنے والے الفاظ تلوار سے زیادہ تیز اور  نیزوں کی طرح چبھنے لگتے ہیں۔ لفظوں کے ساتھ لہجہ  اندر کی کیفیت کا عکس ہوتا ہے۔جو دل میں سکون رکھتا ہے، اس کی شخصیت میں ٹھہراؤ ،زبان میں نرمی ہوتی ہے۔جو دل میں آگ رکھتا ہے، اس کے لفظ بھی جلانے لگتے ہیں۔کسی انسان کو جاننے کے لیے  اس کا ماضی، حال، لباس دیکھنا  یا

0
30