معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



118
1549
تو شوقِ گفتگو ہے ،تو عشقِ ابتدائی
تو محوِ جستجو ہے، تو حسنِ آشنائی
.
آہ، دھو دیا یکایک، ساری ہی میری کاوش
اک جرمِ عاشقی نے، برسوں کی پارسائی
.

2
5
مدینہ کی فضا بھانے لگی ہے
مہک سی خوابوں کی چھانے لگی ہے
کہیں بادِ صبا دل کو لبھائے
کہیں کچھ یاد تڑپانے لگی ہے
لبوں پر بول صلّ اللہ جاری
سکوں پھر روح بھی پانے لگی ہے

0
5
فلک سے کر رہے ہو کیوں تماشہ اے مِرے پرور
اُتر کے دیکھ یہ کھیل آپ نے ہی تو بنایا ہے

0
مرے آقا مجھے اپنی ولا دو
مری بگڑی مرے آقا بنا دو
مرے سید سنوں میری دہائی
مجھے دلبر مدینے میں بلا لو
نکماں بے علم اور بے عمل ہوں
کرو رحمت مجھے عالم بنا دو

0
1
مرے آقا مجھے اپنی ولا دو
مری بگڑی مرے آقا بنا دو
مرے سید سنوں میری دہائی
مرے دلبر مدینے میں بلا لو
نکماں بے علم اور بے عمل ہوں
کرو رحمت مجھے عالم بنا دو

0
2
مرے آقا مجھے اپنی ولا دو
مری بگڑی مرے آقا بنا دو
مرے سید سنوں میری دہائی
مرے دلبر مدینے میں بلا لو
نکماں بے علم اور بے عمل ہوں
کرو رحمت مجھے عالم بنا دو

0
2
سفر کا شوق بھی ، منزل کی آرزو بھی ہے
کبھی ہو اس سے ملاقات ، جستجو بھی ہے
یقین رکھتے ہیں اس پر کہ بولتا ہے وہ
کبھی ہماری ہوئی اس سے گفتگو بھی ہے
جو آگئے ہیں جھجکتے نہیں ہیں پینے سے
یہ میکدہ ہے یہاں جام اور سبو بھی ہے

0
درد جو جی میں اتر جاتا ہے
خون آنکھوں سے ٹپک آتا ہے
دھوپ سنولاتی نہیں عاشق کو
عشق کے سوز میں بھن جاتا ہے
تجھ کو چھونا تھا مگر پھر سوچا
گل تو چھونے سے بھی مرجھاتا ہے

0
مزاج نرم رہا بد حواس ہو کر بھی
وہ پرسکون تھا کتنا اداس ہو کر بھی
تھے شر پسندی کے منصوبہ سارے ہی لیکن
نگر پہ طاری رہا سکتہ یاس ہو کر بھی
بے اعتنائی ہو پہنچی عروج کے درجہ
نگاہیں پھیر لیں تب حق شناس ہو کر بھی

0
4
جب جنوں عقل پہ چھائے تو غزل کہتے ہیں
ہوش جب ہوش اڑائے تو غزل کہتے ہیں
اُن کی یادوں کا برستا ہوا ساون بھادوں
آگ تن من میں لگائے تو غزل کہتے ہیں
رات کے پچھلے پہر دل کے نہاں خانے میں
کوئی چُپکے سے جو آئے تو غزل کہتے ہیں

5
جو مجھے معلوم تھا تاریکیوں میں کھو گیا
اُس طرف سب ہو گئے اور میں اکیلا ہو گیا
روشنی کم تھی وہاں اور ہر طرف تنہائی تھی
خامشی گہری ہوئی خود سے لپٹ کر سو گیا

0
1
نئی زمینیں نئے آسماں بناؤں گا
دریدہ عہد میں اپنا جہاں بناؤں گا
میں کھینچ لوں گا سورج کو اپنی دھرتی پر
حدودِ شمس میں اپنا زماں بناؤں گا
درونِ دل میں تجھ کو چھپا کے رکھنا ہے
فصیلِ دل پر اپنا مکاں بناؤں گا

0
4
کوئی دیکھے ناں اس کی جانب کیسے بھی
ہم نے خود سے بھی اس کو چھپا رکھا ہے
وہ اور ہیں جو حقیقت پر ڈٹ جاتے ہیں
ہم نے تو سورج کو بھی چاند بتا رکھا ہے
پاؤں زخمی ہوئے تو وہ سر کے بل دوڑے
جب ہی تو تاریخ میں لفظِ وفا رکھا ہے

0
7
ہیں دل کے یہ ارماں مدینے چلیں
خوشی کا ہے ساماں مدینے چلیں
کرم جائے ان کا سدا ساتھ میں
بنیں راہیں آساں مدینے چلیں
یہ شہرِ مدینہ نگر ہے حسیں
جہاں پیارے سلطاں مدینے چلیں

2
اعلیٰ ہے ہر جہان میں حشمت حبیب کی
یہ زندگی دہر میں بھی رحمت حبیب کی
ہر دم ہیں اس خیال میں بطحا کی رونقیں
ارمان ہیں حزیں کے زیارت حبیب کی
سمجھو کے کھل گئے ہیں سدا باب دان کے
دامن میں گر ہے آ گئی چاہت حبیب کی

0
4
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

118
1549
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

108
3516
تم نے  بے وجہہ کسی سے  رشک کیا ہے اور تم نے کبھی کسی سے  عشق کیا ہے؟جب تنہائی بڑھ رہی ہو ۔۔۔جیسے رات کی سیاہ چادر دھیرے سے سرکے ۔۔۔اور من میں نت نینے جذبات بھڑکے ۔۔۔اور بڑھ رہی تنہائی ہے ۔۔۔آشنائی ہے ۔۔۔جدائی ہے ۔۔۔تو اس وقت دنیا سے الگ تھلگ ہو کر کچھ خود سے مخلص ہو کر اگر سوچو کہ کیا جیون میں اس سمے سب حاصل ہے اور کامل ہے اور شانتی کی پائل بجتی ہے مگر من کیوں گھائل ہے ؟ یہ درد اب کیوں ہے یہ کیا ہے اس کا سبب اب کیا ہے کیوں ہے تو سچ سچ بتاؤ ۔۔۔تم نے  بے وجہہ کسی پر شک  کیا ہے اور تم نے کبھی کسی سے  عشق کیا ہے؟جب یہ دل عجب انداز میں بنا وجھہ کے ایسے ہی کوئی نام پڑھ کر دھڑکے بری طرح کھڑکے ۔۔تو سمجھ لینا کہ یہ عشق کی گہری چال ہے جو واپس نہیں ہوتی جتنا انکار کر لو ۔۔۔یہ ہو کر رہتا ہے ۔۔۔تبھی رومانوی  تباہی ہوتی ہے سچ سچ بتاؤ ۔۔۔کبھی کسی سے  عشق کیا ہے؟عشق ؟؟؟تحریر : کاشف علی عبّاس

0
9