معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



397
5947
جو حق پہ تھے انھیں بجھادیا گیا
پرانے قصوں کو دھرا دیا گیا
بلال تیری مٹی کربلا بنی
ترے لہو کو بھی بہا دیا گیا
وہ روشنی دکھانے کو جو آئےتھے
انہی کو ہی وہاں جلا دیا گیا

0
1
عجیب لوگ ہیں نفرت انھیں سکھاتے ہیں
ہنر جو پیار کا گھٹی میں لے کے آتے ہیں
وہ جن کے ہاتھ میں پھولوں کے ہار ہوتے تھے
ہماری راہ میں کانٹے ابھی بچھاتے ہیں
جنہیں گھمنڈ تھا لوگوں کے دل ملانے کا
دلوں میں دوریاں وہ آج کل بڑھاتے ہیں

0
6
سر پہ دستار نہیں ہاتھ میں ہتھیار نہیں
دل وفادار نہیں آنکھ حیادار نہیں
بھول بیٹھے ہیں شریعت کے تقاضے اکثر
ہیں مسلمان بہت پر کوئی معیار نہیں

1
68
ہم تو تم پر مر چکے تھے
زندہ تم نے کر دیا ہے
زندگی بے کیف سی تھی
رنگ اس میں بھر دیا ہے

1
6
فرصت ملی تو کالی رات سے نکلوں گا
میں جیتوں گا تیری مات سے نکلوں گا
اکثر سوچتا ہوں وہ میرا تھا ہے کہ نہیں
وہ ملے گا تو ان خدشات سے نکلوں گا
میرے ستارے مدت سے گردش میں ہیں
وقت ملا تو پھر ہر گھات سے نکلوں گا

0
4
مجھے بنایا گیا ہے جہان کا وارث
زمیں سے تابہ نظر آسمان کا وارث
سند ملی ہے خلافت کی امتیاز کے ساتھ
فقط نہیں ہوں  میں نام و نشان کا وارث
نکل کے باغ ارم سے اداس رہتا ہوں
یہ عکس جس کا ہے، ہوں اس مکان کا وارث

0
6
اے کلمہ ورد نرالا اے، اے وِچّ ہنیر اُجالا اے
سُتے بخت جگاون والا اے، پڑھو لا الہ الا اللہ
اے کلمہ ساڈا اِیمان میاں، سوہنے رب نا اے احسان میاں
جند جان اِتھوں قربان میاں، پڑھو لا الہ الا اللہ
اے کلمہ دِلَے کی پاک کریہہ، فِر نُورِ اِلٰہی نال بھریہہ
دِل ہر دم اللہ ھُو اِی کریہہ، پڑھو لا الہ الا اللہ

0
1
7
تم سامنے ہو دل میں اک روشنی رہتی ہے
جب دور نظر سے ہو بس بے کلی رہتی ہے
چاہت نے تمھاری ہی جینے کا ہنر بخشا
دھڑکن میں تمھارے بن اک جاں کنی رہتی ہے
گفتار سے تیرے ہی مہکے ہے فضا دل کی
موسم پہ بھی ورنہ طاری بے رخی رہتی ہے

0
5
عطائے نبی کا نہیں ہے کنارا
گھرانہ سخی کا ہے فیاض سارا
کریمِ جہاں ہیں پسر سیدہ کے
حسیں کا یہ گلشن خدا کو ہے پیارا
نہ ڈھونڈیں خلق میں مثالِ نبی کو
ہے پکا جہاں میں نبی کا اجارہ

0
1
4
لفظوں کا تاج محل
یہ جو مرمر کے حسیں محل ہیں
یہ فقط شاہوں کی جھوٹی اور تکبر سے بھری
انا کے ہیں نشاں!
میں نے سوچا تھا کہ میں
اپنے لفظوں کی چمکتی ہوئی، انوکھی صنعتوں سے

0
3
لفظوں کا تاج محل
یہ جو مرمر کے حسیں محل ہیں
یہ فقط شاہوں کی جھوٹی اور تکبر سے بھری
انا کے ہیں نشاں!
میں نے سوچا تھا کہ میں
اپنے لفظوں کی چمکتی ہوئی، انوکھی صنعتوں سے

0
2
کھلی کلیاں، فضا مہکی، گلوں میں دلکشی آئی
تری آمد سے اس ویراں چمن میں تازگی آئی
بڑی مدت سے تاریکی تھی چھائی دل کے آنگن میں
تری آہٹ سے جیسے لوٹ کر پھر چاندنی آئی
بہت مایوس تھا لیکن، میں سچ کہتا ہوں اے ہمدم
تری مسکان سے پھر زندگی میں روشنی آئی

0
5
ہَم جیسے گو کَروڑوں بے نام مَر چُکے ہیں
ہَم کَم فَعّال تھے پَر فارِغ نَہ تھے کَبھی بھی
کارِ جَہاں میں ہَر دَم مَصْرُوفِ کار ہی ہیں
ہَم خال خال ہیں پَر فارِغ نَہِیں اَبھی بھی
(مرزا رضی اُلرّحمان)

0
3
حیات کے کچے دھاگے
الجھ جائیں تو پھر
سلجھتے نہیں
رنگ و بو کی تمثیلیں
اور ہوا کی رمز آشنائیاں بھی
صدائے لاحاصل کا

10
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

397
5947
مناسب نہیں رات دن غم کی بات
کریں آج خوش رنگ عالم کی بات
بہت گریہ زاری سے جی بھر گیا
تو کرتے ہیں شیریں تبسم کی بات
گلوں پر  چمکتی ہے شبنم ابھی
ابھی روک لو آنکھ کے نم کی بات

11
سمایا جوہر خاکی میں آسماں کا  مزاج
زمیں سے  جانچ رہا ہے جو لامکاں کا  مزاج
ابھی معمہ ہیں تصویرِ کائنات کے رنگ
کھلا کہاں ہے  ابھی رازِ کن فکان کا  مزاج
بنائے کون و مکاں تو نے اپنی خواہش سے
ہمارے بس میں کہاں ہے ترے جہاں کا مزاج

0
7
وہ رونقیں کہاں گئی ہیں محفلوں سے پوچھئیے
دلوں میں فاصلے ہیں کیوں یہ دوستوں سے پوچھئیے
کہیں نہ کھو گئے ہوں آپ زندگی کی دوڑ میں
کہاں ہیں منزلیں، ٹھہر کے راستوں سے پوچھئیے
غمی تو میری زندگی کے ساتھ ساتھ ہے مگر
مرے نصیب کی خوشی کا قسمتوں سے پوچھئیے

6
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

193
7719
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ الفاظ صرف آوازیں ہیں، چند جملے ہیں جو لبوں سے نکل کر فضا میں بکھر جاتے ہیں۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔لفظ کبھی خالی نہیں ہوتے اپنا اثر رکھتے ہیں وہ ہمارے باطن کے عکاس ہوتے ہیں،لفظ ہماری سوچ، ہمارے تجربات، ہماری نیت اور ہمارے اندر چھپی دنیا کو آشکار کرتے ہیں۔جو کچھ ہم بولتے ہیں، وہ اچانک پیدا نہیں ہو جاتا۔ وہ ہمارے ذہن کی زمین میں بویا گیا  بیج ہوتا ہے، جو  خیال بنتا ہے، اور آخرکار لفظ کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ذہن ایک کھیت کی مانند ہے۔اگر اس میں علم کے بیج بوئے جائیں، مثبت سوچ کا پانی دیا جائے اور اچھی صحبت کی دھوپ اور چھاؤں ملے، تو ، سچائی اور حکمت کی فصل اگتی ہے۔لیکن اگر اسی زمین میں نفرت، حسد، بدگمانی اور جھوٹ کے کانٹے بو دیے جائیں، تو زبان سے نکلنے والے الفاظ تلوار سے زیادہ تیز اور  نیزوں کی طرح چبھنے لگتے ہیں۔ لفظوں کے ساتھ لہجہ  اندر کی کیفیت کا عکس ہوتا ہے۔جو دل میں سکون رکھتا ہے، اس کی شخصیت میں ٹھہراؤ ،زبان میں نرمی ہوتی ہے۔جو دل میں آگ رکھتا ہے، اس کے لفظ بھی جلانے لگتے ہیں۔کسی انسان کو جاننے کے لیے  اس کا ماضی، حال، لباس دیکھنا  یا

0
9