معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



398
6085
زخم پہ زخم کھا رہا ہوں میں
کیسی دولت کما رہا  ہوں میں
گھر نیا اک بنا رہا ہوں میں
اپنی ہستی مٹا رہا ہوں میں
سوگ کا ہے سما نہ ہو کیوں کر
خود کو دفنا کے آرہا ہوں میں

0
3
نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ
دکھی رکھے گئے ہیں ہم ذیادہ
سبھی کا قد برابر عشق میں ہے
کوئی اس میں نہیں ہے کم، ذیادہ
مری تقدیر میں بھی کم نہیں ہیں
مگر زلفوں میں تیری خم ذیادہ

0
ترے بعد خود کو گنوایا نہیں ہے
تماشا جنوں کا بنایا نہیں ہے
تعلق کی ڈوری ابھی تک سلامت
بچھڑ کر بھی تم کو بھلایا نہیں ہے
گزرتے دنوں نے کئی نقش دھوئے
ترا نام دل سے مٹایا نہیں ہے

0
7
اِن پیار کے نغموں سے یادیں کو سجانے دو
فُرقت میں کریمی کی اب آنسو بہانے دو
پامال ہوں سب یادیں اِک یادِ مدینہ سے
اس دل میں جو ہوتا ہے وہ سب سے چھپانے دو
جو من میں رکھا کہہ دیں سرکار کے بردے کو
اس نامِ محمّد کو سینے سے لگانے دو

0
گھر میں جگنو ہے، نہ ستارا کوئی
کیسے کہہ دیں کہ ہے ہمارا کوئی
افلاک کی حد سے یہ پکارا کوئی
کیا تم سا بھی ہے قسمت کا مارا کوئی
پھر ہو گی مکمل یہ مری تازہ غزل
مل جائے مجھے گر استعارہ کوئی

0
7
آؤ کرییے صاف دلاں نوں موت دے آن توں پہلے جی
ہر کدو رت کڈ ئییے دل چوں پچھتاون تو پہلے جی
جھوٹ فریب تے کینہ دل وچ رکھ کے مرن دہ فائدہ کی
حق سچ اوتے دئیے پیرا قبرے جان توں پہلے جی
اپنی عقل نوں کل نہ آکھیں ہر ویلے رب توں ڈر عتیق
دور شیطان توں رہئیے ہر دم وسوسے آن توں پہلے جی

0
4
خواب آنکھوں سے چھین کر میرے
میری نیندیں خراب کر ڈالیں
بات چھوٹی سی تھی مگر اس نے
ساری عیدیں خراب کر ڈالیں
محمد اویس قرنی

0
2
بھاگ جیسے ہی مسافر کے سنور آتے ہیں
تھکے قدموں کو وہیں خوابِ دگر آتے ہیں
مجھ کو یہ بات پرندوں کی پسند آئی ہے
شام ہوتے ہی سبھی لوٹ کے گھر آتے ہیں
ایک بندہ مجھے انگلی پہ نچا سکتا ہے
بات کرنے کے اسے لاکھ ہنر آتے ہیں

0
تیرا چہرہ جدا نہیں ہوتا
َ اب کوئی دوسرا نہیں ہوتا
َ غم کا در وا ذرا نہیں ہوتا
َ دل کسی سے جدا نہیں ہوتا
َ عشق میں فیصلہ نہیں ہوتا
َ کوئی بھی لب کشا نہیں ہوتا

0
3
آنکھوں ہی آنکھوں میں ان سے بات ہوئی
دل کی زمیں پر چاہت کی برسات ہوئی
لوگ مگن ہیں ایسے اپنی دنیا میں
ہوش نہیں کب دن نکلا کب رات ہوئی
ہجر سزا ہے عشق میں پڑنے والوں کی
کس کو حاصل وصل کی ہے سوغات ہوئی

0
3
دل کو یوں نورِ حقیقت کا اجالا مل گیا
خود میں کھویا تو مجھے رب کا حوالہ مل گیا
میں نے توڑا ہر تعلّق جب فریبِ دہر سے
تب کہیں جا کر مجھے سچ کا اُجالا مل گیا
خواہشاتِ نفس سے پیچھا چھڑایا اس طرح
مصطفی کی یاد سے دل کو سنبھالا مل گیا

0
8
مجھے آواز دیں گے وہ مری تصویر ڈھونڈیں گے
کبھی ٹوٹے ہوئے خوابوں کی جب تعبیر ڈھونڈیں گے
ستاروں میں نہیں ہوگا اگرچہ نام یوں لیکن
اندھیروں میں مری لکٌھی ہوئی تحریر ڈھونڈیں گے
سمندر ہوں کروں اظہار اپنی پیاس کا کیسے
فقط مجھ میں ہی میری ذات کی تقسیر ڈھونڈیں گے

0
4
بام پر آپ آتے تو کیا بات تھی
چاند ہم دیکھ پاتے تو کیا بات تھی
شکریہ آپ تشریف لائے تو تھے
آپ آ کر نہ جاتے تو کیا بات تھی
دل کے ٹکڑے لیے سوچتے ہیں یہ ہم
تم سے دل نہ لگاتے تو کیا بات تھی

0
5
بتا چھن چھن چھنا چھن چھن کا مطلب
سمجھ آیا نہ اب تک من کا مطلب
سلجھنا ہی نہیں یہ مسئلہ جب
تو پھر اس بے وجہ الجھن کا مطلب؟
بڑے شاعر بہت بے بحر دیکھے
کہو فنکار کا، کیا فن کا مطلب؟

0
5
گلے ملنا ابھی ممکن کہاں ہے
گلوں شکووں کی لمبی داستاں ہے
بہار آئی مگر مہکی نہ کلیاں
ابھی گلشن میں نفرت کا دھواں ہے
یہاں سے دور منزل ہے ہماری
یہ رستہ امتحاں در امتحاں ہے

0
5
اَمارات کا قَرْض؛ سعودی عرب اور قطر 5 ارب ڈالر دیں گے!!!
——
اِس نے مانگے اُس سے لے کے دے دیے
اُس نے مانگے اِس سے لے کے دے دیے
سوچنے کی تو ضَرُورَت ہی نَہِیں
کِس نے مانگے کِس سے لے کے دے دیے؟

0
3
زینت جمالِ ہستی تخلیق میں ہیں اولیٰ
کونین کا حسن ہیں مخلوق میں ہیں یکتا
ہر سمت روشنی ہے ہر چیز ہے منور
کس نورِ کبریا نے ہستی کو یوں نوازا
ہے عالمیں میں پہچاں نورِ مبین اُن کا
وجہِ جمالِ ہستی سرکار کا ہے چہرہ

1
8
لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں
پروئے جتنے محبّت کے ہار کچھ بھی نہیں
کیا ہے فیصلہ سردار! تو نے سن کے اُسے
کھڑا ہوں میں جو بدن تار تار، کچھ بھی نہیں؟
سمیٹ لے وہ اگر ایک بار آ کے مجھے
تمام عمر کیا انتظار کچھ بھی نہیں

0
5
دکھ کے کنکر پڑے چنتا کیوں ہے
قبر میں رہ کے تو زندہ کیوں ہے
جب نہیں کوئی دوا زخموں کی
شہر میں تیرے مسیحا کیوں ہے
اے خدا شہر میں دو راہے ہیں
راستہ ہر یہاں الجھا کیوں ہے

0
5
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

195
7814
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

398
6085
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ الفاظ صرف آوازیں ہیں، چند جملے ہیں جو لبوں سے نکل کر فضا میں بکھر جاتے ہیں۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔لفظ کبھی خالی نہیں ہوتے اپنا اثر رکھتے ہیں وہ ہمارے باطن کے عکاس ہوتے ہیں،لفظ ہماری سوچ، ہمارے تجربات، ہماری نیت اور ہمارے اندر چھپی دنیا کو آشکار کرتے ہیں۔جو کچھ ہم بولتے ہیں، وہ اچانک پیدا نہیں ہو جاتا۔ وہ ہمارے ذہن کی زمین میں بویا گیا  بیج ہوتا ہے، جو  خیال بنتا ہے، اور آخرکار لفظ کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ذہن ایک کھیت کی مانند ہے۔اگر اس میں علم کے بیج بوئے جائیں، مثبت سوچ کا پانی دیا جائے اور اچھی صحبت کی دھوپ اور چھاؤں ملے، تو ، سچائی اور حکمت کی فصل اگتی ہے۔لیکن اگر اسی زمین میں نفرت، حسد، بدگمانی اور جھوٹ کے کانٹے بو دیے جائیں، تو زبان سے نکلنے والے الفاظ تلوار سے زیادہ تیز اور  نیزوں کی طرح چبھنے لگتے ہیں۔ لفظوں کے ساتھ لہجہ  اندر کی کیفیت کا عکس ہوتا ہے۔جو دل میں سکون رکھتا ہے، اس کی شخصیت میں ٹھہراؤ ،زبان میں نرمی ہوتی ہے۔جو دل میں آگ رکھتا ہے، اس کے لفظ بھی جلانے لگتے ہیں۔کسی انسان کو جاننے کے لیے  اس کا ماضی، حال، لباس دیکھنا  یا

0
16