معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



290
3660
خلقِ خدا پہ احساں ایسا کیا گیا
خیراتِ مصطفیٰ میں حصہ کیا گیا
اذنِ الہ سے ہیں ہستی کے رنگ و بو
نورِ نبی سے جس کا اجرا کیا گیا
دنیا میں آئے تھے کب آدم ابھی مگر
اول انہیں نبی پر شیدا کیا گیا

0
2
ہاں یہاں چاہئے ہاں وہاں چاہئے
ہر جگہ آپ کی مہر ہاں چاہئے
ہم گنہ گاروں کی قبر میں یا نبی
فیض کا ایک دریا رواں چاہئے
حشر کی چلچلاتی کڑی دھوپ میں
آپ کی زلف کا سائباں چاہئے

0
1
8
جبر کے موسم میں خود سے منصفی کرکے دکھا
کچھ نہیں تو احتجاجاً خود کشی کرکے دکھا
حرف کے آنگن میں رکھ کے فکر کے روشن چراغ
بے ہنر سی محفلوں میں روشنی کرکے دکھا
بزمِ گویائی میں گونجے گا سدا تیرا سخن
کچھ الگ سے ذائقے کی شاعری کرکے دکھا

2
10
اب بھی میرے ذہن میں بیتے کل کا اثر پوشیدہ ہے
دھندلائی سی یادوں میں وہ زیر و زبر پوشیدہ ہے
ٹوٹے بکھرے ملبوں میں دیکھو نا کدھر پوشیدہ ہے
ڈھونڈتی ہیں نظریں جس کو وہ پیار کا گھر پوشیدہ ہے
میرے قد کو آنک رہے ہو میری خاموشی سے پر
جب تک میں خاموش کھڑا ہوں میرا ہنر پوشیدہ ہے

0
2
یہ دن تو گزر جائیں گے مرے
پر یاد بہت وہ آئیں گے
جو شرم کے مارے کل مجھ سے
منھ اپنا چھپائے جائیں گے
وہ جن کو دلِ بیتاب نے کل
حالات کی زد میں پکارا تھا

1
9
چاندنی رات تھی اور حسیں باغ تھا
اور مرا ہاتھ تھا اس کے ہی ہاتھ میں
وہ سمجھتا رہا سو رہی ہے ابھی
فارحہؔ چل بسی تھی حسیں رات میں

3
حالِ دل کہہ گئی میں حسیں رات میں
بات بنتی گئی بات ہی بات میں
فاعلن فاعلن ہے خیالات میں
فاعلن فاعلن میری ہر بات میں
مبتلا میں ہوں پہلے ہی آفات میں
مت اضافہ کرو میرے صدمات میں

7
راستے میں کبھی میں رکا ہی نہیں
تیز آندھی چلی پر جھکا ہی نہیں
عشق کیا ہے بتاتا ہوں میں آپ کو
درد ایسا ہے جس کی دوا ہی نہیں
میری خاموش فطرت سے دھوکا نہ کھا
سامنے میرے کوئی ٹکا ہی نہیں

0
5
ہو عشق کا شرارہ جو ماسوا جلا دے
پھر شعلے اس سے مولا محبوب کو دکھا دے
زینت حزیں کے من کی الطافِ مصطفیٰ ہوں
ویراں پڑا ہے سینہ گلشن اسے بنا دے
ذکرِ نبی ہو میری ان خلوتوں کا یارہ
فدوی کو رازِ الفت مولا ذرا سکھا دے

1
7
وہی زخم پھر سے ستانے لگے ہیں
جنہیں سوکھنے میں زمانے لگے ہیں
جنہیں بے وفائی کا تمغہ ملا ہے
وہی اب ہمیں آزمانے لگے ہیں
غلامی کی ایسی لگی ہم کو عادت
یوں ہی بے وجہ سر جھکا نے لگے ہیں

1
9
راحتوں میں لپیٹ ہم کو بھی
پھر سے دل میں سمیٹ ہم کو بھی
سب کو میٹھی نظر کی سوغاتیں
کچھ چکھا چاکلیٹ ہم کو بھی
کوچہِ ہجر میں نہ مرجائیں
دےدے ملنے کی ڈیٹ ہم کو بھی

0
8
ہوا اعلان ہے یہ آج ہم سب گھر پہ بیٹھیں گے
نہیں غیرت رہی ہم میں سو ہم لنگر پہ بیٹھیں گے
ہمیں لگتی نہیں اچھی کمائی اپنی محنت کی
بہت ہیں تھک چکے کل سے تمہارے در پہ بیٹھیں گے
یہ بھی بتلانا ہے مقصود دنیا بھر کے لوگوں کو
کہ ہم ہیں نام کے مسلم، درِ مندر پہ بیٹھیں گے

0
5
لکھا ہے مقدر تو " پرستار " بھی لکھتے
قسمت میں مری " یار وفادار " بھی لکھتے
سن لی ہے بہت میں نے تری اب توُ مری سن
اس بندہ ناچیز کی اب نالہ کشی سن
سن آہ و بکا اب مری اے کاتب تقدیر
یہ میں ہوں تری راہ سے بھٹکا ہوا رہگیر

0
15
لکھا ہے مقدر تو " پرستار " بھی لکھتے
قسمت میں مری " یار وفادار " بھی لکھتے
سن لی ہے بہت میں نے تری اب توُ مری سن
اس بندہ ناچیز کی اب نالہ کشی سن
سن آہ و بکا اب مری اے کاتب تقدیر
یہ میں ہوں تری راہ سے بھٹکا ہوا رہگیر

0
1
اندیشوں کے سانپوں کی پروا نہیں کرتے
طوفان سے صاحبِ حوصلہ بکھرا نہیں کرتے
جن کی آنکھوں میں چمکتا ہو خورشیدِ منزل
مڑ کے قدموں کے نشاں وہ دیکھا نہیں کرتے

0
4
یہ کب کہا کہ تیر نشانے پہ مت لگا
اتنا تو کر کسی کے اشارے پہ مت لگا
لمسِ جبین دے لب و رخسار پاس رکھ
نمکیں پسند ہوں مجھے میٹھے پہ مت لگا
زلفیں ہوا کے دوش پہ اڑنے سے روک لے
آب و ہوائے شہر کو نشے پہ مت لگا

0
1
6
ہمیں پوچھا تھا کتنی ہے
وفائے زیست جتنی ہے
انا اپنی مٹا ڈالوں
محبت تم سے اِتنی ہے

0
2
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

290
3660
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

171
6328

0
7