معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



398
6163
کہا جن کو رَب نے خَلیل و حَلیم
کیا پیش جس نے ذِبْحِ عَظیم
وُہی ہیں کَریم و جَدِّ کَریمؐ
سَلَامٌ علٰی اِبْرَاھِیْم

0
7
مزدور ڈے پر ایک پرانی تحریر
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
تو سوچ پلٹ آئے وہ غربت کا زمانہ
محسوس تجھے ہو گا کوئی خوف پرانا
غربت سے کئی جا چکے ہیں موت کے منہ میں
بچے بھی بلکتے ہیں کہ ملتا نہیں دانہ

0
4
غزل
فرعون ہیں، نازی ہیں، کہ تاتار صہیونی
ابلیس کے پیرو ہیں، یہ بیمار صہیونی
مصلوب کیا حضرتِ عیسی کو جو ناحق
ظلمت کے علم دار یہ مکار صہیونی
لبنان و فلسطین کو مقتل سے بدل کر

1
6
دنیا کی ظلمتوں میں منوّر ہیں بدر چشت
عالم کی خشکیوں پہ سمُندر ہیں بدر چشت
جس پر نظر پڑی اسے خوش حال کر دیا
مہر و وفا خلوص کا پیکر ہیں بدر چشت
ہر ایک تشنہ لب کو ملے گا یہیں سے جام
عرفان و آگہی کا وہ ساغر ہیں بدر چشت

0
3
سجدوں میں پڑا در پہ پشیمان ہوں مولا
حالت ہوئی اپنی پہ پریشان ہوں مولا
آنکھوں میں جلن سینے میں خاموش ہے طوفاں
بے حس ہوں پڑا فکر میں بے جان ہوں مولا
رحمت کا ہوں طالب میں جو دشوار ہے منزل
کر دے اسے آساں ترا احسان ہے مولا

0
5
نہ خون و گوشت سے مطلب، نہ اس کا ہے خدا طالب
جو پہنچا ہے وہ خالق تک، ہے دل کا سلسلہ طالب
خلیل اللہ نے ہم کو سکھایا ہے یہی نقطہ
جو ہو محبوب سب سے، چھوڑ دے اس کو رضا طالب
حقیقی بندگی یہ ہے، جھکا دے نفس کو اپنے
خدا کے حکم کے آگے، مٹا حرص و انا طالب

0
5
عِیدُ الاضحیٰ مُبارَک!!!
——
بَڑے ہو کے جانے کَہاں کھو گئے ہیں
وہ عِیدیں، وہ مَوجیں، وہ سِن بچپنے کے
وَسائِل تھے کَم پَر تھیں خُوشیاں زِیَادہ
بَڑے خُوبصُورَت تھے دِن بَچپنے کے

0
4
حجاب رخ سے اٹھاؤ جاناں ،میں چاند چہرے کی دید کر لوں
 قریب آکر ، نظر ملا کر ، گلے لگا لو میں عید کر لوں
 گلابی شیریں لبوں سے ساقی شرابی لذت کشید کر لوں
 جو تجھ کو چھو کر نشہ ہوا ہے ، اضافہ اس میں مزید کر لوں 
جفائیں کب تک کرے گا مجھ سے، رقیب سے یوں ملے گا کب تک
بٹھا کے دونوں کو روبرو اب ، میں حتمی گفت و شنید کر لوں

7
جانِ دو عالم سید و سرور
پیارے نبی کونین کے دلبر
ہستی اُن سے ساری ہے جھل مل
روشن اُن سے اوجِ پہ اختر
گنج سخا ہیں نور و ضیا ہیں
بانٹیں سدا جو فیض کے دفتر

0
4
رحمتوں کے در کی چابی ہے دعا
جو پکارے اس کی سنتا ہے خدا
دھیر سے مایوس مت ہونا کبھی
وقت آنے پر وہ کرتا ہے عطا

0
3
پھول کے اطراف میں بھونرا پھرے
شمع کے اطراف پروانہ جلے
باغ میں ہر سمت خوشبو کی مہک
آج موسم خوب مستانہ لگے
یار پر قربان کردے اپنی جاں
عشق میں یوں ہو کے دیوانہ مرے

4
۱۔ مطلع (تجلیِ یار)
ٹھنڈک ہے نورِ یار کی، جلنے لگا ہوں میں
سرچشمہءِ وصال میں ڈھلنے لگا ہوں میں
۲۔ رفعِ حجاب (سرورِ دید)
دلبر! ہوا کا جھونکا ہٹانے لگا حجاب
پردے کے اس سرور میں چلنے لگا ہوں میں

0
3
اپنوں سے باتیں کرلے تا ہوں
غیروں سے باتیں کرلے تا ہوں
دھوکے میں ترے نا جا نے میں
کتنوں سے باتیں کرلے تا ہوں
چپ چپ ہوں اس بت کے آگے
اوروں سے باتیں کرلے تا ہو ں

12
تعریف اس زمیں کی ممکن کہاں بریں ہے
دیکھا گیا جہاں میں ہر نقش دل نشیں ہے
پھولوں پہ شبنمی سا ٹھہرا ہوا تبسم
قدرت کے ہاتھ میں بھی کیسا حسیں قریں ہے
دریا بھی گنگناتے، صحرا بھی مسکراتے
جب سے تری نگاہوں کا شہر میں یقیں ہے

0
5
قُرْبانی، قُرْبانی، قُرْبانی؟؟؟
——
آئیں بائیں شائیں کَروں یا سَچ میں ہی کُچھ کَر گُذروں
خالی خُولی باتوں میں ہی کَب تَک یِہ قِصّہ ڈالوں؟
سالِم بَکرا تو مُشکِل ہے، سالِم گائے مُشکِل تَر
تَکڑا سا مُرْغا کر لُوں یا بَکرے میں حِصَّہ ڈالوں؟

0
2
ملتی ہے زندگی بھی یہاں زندگی کے بعد
ملتا نہیں ہے چین مگر عاشقی کے بعد
رکتا ہے دل یہیں یہ ہے محبوب کا مقام
آگے قدم بڑھے گا نہیں اس گلی کے بعد
پی لیں جناب من یہ شراب طہور ہے
پاتے ہیں ہوش سب ہی یہاں میکشی کے بعد

0
5
مکافاتِ عمل دستک بلا تاخیر دیتا ہے
سو جیسا خواب ہوتا ہے وہی تعبیر دیتا ہے
کسی کے حق میں جو کانٹے بچھاتا ہے زمانے میں
وہی اک روز اپنے پاؤں میں زنجیر دیتا ہے
وفاؤں کی زمیں پر پیار کے موتی بکھیرے جو
دلوں کو روشنی، آنکھوں کو بھی تنویر دیتا ہے

0
6
آنکھوں میں ایک خوابِ شام و سحر ہے باقی
کتنا سفر ہؤا ہے کتنا سفر ہے باقی
رستے تمام چھانے، منزل بھی دیکھ ڈالی
دل میں مگر کسی کی دھیمی نظر ہے باقی
بکھرے ہیں کتنے موسم اس زندگی کی رہ میں
یادوں کی ایک خوشبو شام و سحر ہے باقی

0
3
اندھیروں میں، اُجالوں میں خدا کا نور ہے ظاہر
ہر اک ذرے گلستاں میں وہی معمور ہے ظاہر
چراغِ دل اگر روشن ہو اُس کے فیضِ رحمت سے
نظر آتا ہمیں پھر ہر طرف دستور ہے ظاہر
خرد حیران رہتی ہے، محبت مسکراتی ہے
ترے ہونے سے ذرہ ذرہ بھی مخمور ہے ظاہر

0
4
چشمِ نم مسکراتی ہے کردار پر
دل ابھی تک دھڑکتا ہے ایثار پر
لفظ مٹی میں ملتے گئے شہر کے
زہر اُگنے لگا ہے ہر اک پیار پر
آئینوں سے بھی اب خوف آنے لگا
گرد سی چھا گئی ذہنی بیمار پر

0
4
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

195
7881
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

398
6163
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ الفاظ صرف آوازیں ہیں، چند جملے ہیں جو لبوں سے نکل کر فضا میں بکھر جاتے ہیں۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔لفظ کبھی خالی نہیں ہوتے اپنا اثر رکھتے ہیں وہ ہمارے باطن کے عکاس ہوتے ہیں،لفظ ہماری سوچ، ہمارے تجربات، ہماری نیت اور ہمارے اندر چھپی دنیا کو آشکار کرتے ہیں۔جو کچھ ہم بولتے ہیں، وہ اچانک پیدا نہیں ہو جاتا۔ وہ ہمارے ذہن کی زمین میں بویا گیا  بیج ہوتا ہے، جو  خیال بنتا ہے، اور آخرکار لفظ کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ذہن ایک کھیت کی مانند ہے۔اگر اس میں علم کے بیج بوئے جائیں، مثبت سوچ کا پانی دیا جائے اور اچھی صحبت کی دھوپ اور چھاؤں ملے، تو ، سچائی اور حکمت کی فصل اگتی ہے۔لیکن اگر اسی زمین میں نفرت، حسد، بدگمانی اور جھوٹ کے کانٹے بو دیے جائیں، تو زبان سے نکلنے والے الفاظ تلوار سے زیادہ تیز اور  نیزوں کی طرح چبھنے لگتے ہیں۔ لفظوں کے ساتھ لہجہ  اندر کی کیفیت کا عکس ہوتا ہے۔جو دل میں سکون رکھتا ہے، اس کی شخصیت میں ٹھہراؤ ،زبان میں نرمی ہوتی ہے۔جو دل میں آگ رکھتا ہے، اس کے لفظ بھی جلانے لگتے ہیں۔کسی انسان کو جاننے کے لیے  اس کا ماضی، حال، لباس دیکھنا  یا

0
31