معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



397
5950
اس عہدِ نارسا میں ہے کارِ وفا عبث
جینے کی دوڑ دھوپ میں مرنا ہوا عبث
بلوے خدا کے واسطے جنگیں بنامِ امن
خوفِ خدا نہیں ہے تو نامِ خدا عبث
ظلم و ستم کے واسطے پیدا ہوئے ہیں آپ
راز و نیاز کس لئے ناز و ادا عبث

0
9
جو تیرے لہجے میں اِتنی مِٹھاس ہے
غرض کی آئے مجھے اِس سے باس ہے
مجھے تو زنداں میں مرنے کا ڈر نہیں
تُو قَصر میں بھی نِشیں بدحواس ہے
جمؔال نت نئے فیشن کی دوڑ میں
برہنگی بھی حیا کا لباس ہے

0
3
میرا دھیاں فلک کے ستاروں میں بٹ گیا
تو کیا گیا کہ راستہ منزل سے کٹ گیا
کتنی ہی تیز دھوپ ہے بادل نہیں کوئی
وہ موسمِ بہارِ محبت بھی چھٹ گیا
آنکھوں میں دھول جمنے لگی تیری راہ کی
یہ دل غبارِ دردِ اذیت میں اٹ گیا

0
4
ظلم اور جبر کے اطراف کٹہرا ہوگا
حسن ظن ہے کہ نیا دور سنہرا ہوگا
بات خنجر کی طرح دل میں اتر جائے گی
بات کا زخم سمندر سے بھی گہرا ہوگا
وہ اگر چاہیں گے بدلیں یہ نظامے ہستی
‏ہر اک گام پہ ظلمات کا پہرا ہوگا

1
13
سَرکاری مُلازِمِین کی تَنْخواہوں سے %30 تک کَٹَوتی کا فَیصْلَہ!!!
——
ذَرا سی بھی مُشْکِل جو پَڑ جائے تُم پَر
تو ساری حَدْیں ایک دَم پاٹتے ہو
بَڑھاتے ہُوئے مَوت پَڑتی ہے اَکْثَر
پَہ جب کاٹنی ہوں تو جَھٹ کاٹتے ہو

0
4
یہ چاہتا ہوں ترے حسن پر غزل لکھوں
تجھے ہی آج تجھے ہی میں اپنا کل لکھوں
۔
بس ایک دید ہی تیری، مرا سہارا ہے
تجھے میں اپنی سبھی مشکلوں کا حل لکھوں
۔

0
6
مہلت ملی تو کالی رات سے نکلوں گا
میں جیتوں گا تیری مات سے نکلوں گا
اکثر سوچتا ہوں وہ میرا تھا ہے کہ نہیں
وہ ملے گا تو ان خدشات سے نکلوں گا
میرے ستارے مدت سے گردش میں ہیں
وقت ملا تو پھر ہر گھات سے نکلوں گا

0
4
جب وہ غم سے نڈھال ہوتا ہے
کیا عجب اپنا حال ہوتا ہے
جانِ جاں روٹھ جائے گر ہم سے
اپنا جینا محال ہوتا ہے
روح سے روح مل کے ہنستی ہے
دل کو دل کا خیال ہوتا ہے

5
جو حق پہ تھے انھیں بجھادیا گیا
پرانے قصوں کو دھرا دیا گیا
بلال تیری مٹی کربلا بنی
ترے لہو کو بھی بہا دیا گیا
وہ روشنی دکھانے کو جو آئےتھے
انہی کو ہی وہاں جلا دیا گیا

3
عجیب لوگ ہیں نفرت انھیں سکھاتے ہیں
ہنر جو پیار کا گھٹی میں لے کے آتے ہیں
وہ جن کے ہاتھ میں پھولوں کے ہار ہوتے تھے
ہماری راہ میں کانٹے ابھی بچھاتے ہیں
جنہیں گھمنڈ تھا لوگوں کے دل ملانے کا
دلوں میں دوریاں وہ آج کل بڑھاتے ہیں

8
سر پہ دستار نہیں ہاتھ میں ہتھیار نہیں
دل وفادار نہیں آنکھ حیادار نہیں
بھول بیٹھے ہیں شریعت کے تقاضے اکثر
ہیں مسلمان بہت پر کوئی معیار نہیں

1
73
ہم تو تم پر مر چکے تھے
زندہ تم نے کر دیا ہے
زندگی بے کیف سی تھی
رنگ اس میں بھر دیا ہے

1
7
مجھے بنایا گیا ہے جہان کا وارث
زمیں سے تابہ نظر آسمان کا وارث
سند ملی ہے خلافت کی امتیاز کے ساتھ
فقط نہیں ہوں  میں نام و نشان کا وارث
نکل کے باغ ارم سے اداس رہتا ہوں
یہ عکس جس کا ہے، ہوں اس مکان کا وارث

0
8
دور جانے کے دن اب قریب آ گئے
زخم کھانے کے دن اب قریب آ گئے
گاہےگاہے کا ملنا بھی چھن جائے گا
دیکھ کر تجھ کو کھلنا بھی چھن جائے گا
میری غزلوں کی تاثیر مر جائے گی
روح نظموں کی پرواز کر جائے گی

0
7
اے کلمہ ورد نرالا اے، اے وِچّ ہنیر اُجالا اے
سُتے بخت جگاون والا اے، پڑھو لا الہ الا اللہ
اے کلمہ ساڈا اِیمان میاں، سوہنے رب نا اے احسان میاں
جند جان اِتھوں قربان میاں، پڑھو لا الہ الا اللہ
اے کلمہ دِلَے کی پاک کریہہ، فِر نُورِ اِلٰہی نال بھریہہ
دِل ہر دم اللہ ھُو اِی کریہہ، پڑھو لا الہ الا اللہ

0
1
8
تم سامنے ہو دل میں اک روشنی رہتی ہے
جب دور نظر سے ہو بس بے کلی رہتی ہے
چاہت نے تمھاری ہی جینے کا ہنر بخشا
دھڑکن میں تمھارے بن اک جاں کنی رہتی ہے
گفتار سے تیرے ہی مہکے ہے فضا دل کی
موسم پہ بھی ورنہ طاری بے رخی رہتی ہے

0
5
عطائے نبی کا نہیں ہے کنارا
گھرانہ سخی کا ہے فیاض سارا
کریمِ جہاں ہیں پسر سیدہ کے
حسیں کا یہ گلشن خدا کو ہے پیارا
نہ ڈھونڈیں خلق میں مثالِ نبی کو
ہے پکا جہاں میں نبی کا اجارہ

0
1
4
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

397
5950
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

193
7721
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ الفاظ صرف آوازیں ہیں، چند جملے ہیں جو لبوں سے نکل کر فضا میں بکھر جاتے ہیں۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔لفظ کبھی خالی نہیں ہوتے اپنا اثر رکھتے ہیں وہ ہمارے باطن کے عکاس ہوتے ہیں،لفظ ہماری سوچ، ہمارے تجربات، ہماری نیت اور ہمارے اندر چھپی دنیا کو آشکار کرتے ہیں۔جو کچھ ہم بولتے ہیں، وہ اچانک پیدا نہیں ہو جاتا۔ وہ ہمارے ذہن کی زمین میں بویا گیا  بیج ہوتا ہے، جو  خیال بنتا ہے، اور آخرکار لفظ کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ذہن ایک کھیت کی مانند ہے۔اگر اس میں علم کے بیج بوئے جائیں، مثبت سوچ کا پانی دیا جائے اور اچھی صحبت کی دھوپ اور چھاؤں ملے، تو ، سچائی اور حکمت کی فصل اگتی ہے۔لیکن اگر اسی زمین میں نفرت، حسد، بدگمانی اور جھوٹ کے کانٹے بو دیے جائیں، تو زبان سے نکلنے والے الفاظ تلوار سے زیادہ تیز اور  نیزوں کی طرح چبھنے لگتے ہیں۔ لفظوں کے ساتھ لہجہ  اندر کی کیفیت کا عکس ہوتا ہے۔جو دل میں سکون رکھتا ہے، اس کی شخصیت میں ٹھہراؤ ،زبان میں نرمی ہوتی ہے۔جو دل میں آگ رکھتا ہے، اس کے لفظ بھی جلانے لگتے ہیں۔کسی انسان کو جاننے کے لیے  اس کا ماضی، حال، لباس دیکھنا  یا

0
10