معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



414
6537
سرکارِ دو جہاں کا، دربار ہے نرالا
اقوال ہیں نرالے، کردار ہے نرالا
سیرت مرے نبی کی، قرآن ہے سراپا
لاریب میرے رب کا، اظہار ہے نرالا
زلفوں کی وہ تجلی، رخسار کی وہ رونق
رب کی قسم وہ حسنِ سرکار ہے نرالا

0
2
خواب پلکوں پہ اپنی اجالے ہوئے
زخم دل کے زباں سے نکالے ہوئے
سارے درد و الم کے پرانے نشاں
کر رہے ہیں بیاں دکھ سنبھالے ہوئے
کہہ رہے ہیں کہ دنیا میں قیمت نہیں
کاٹ لیتے ہیں ہاتھوں کے پالے ہوئے

0
1
خواجَہ آصَف کے طَنْزِیَہ ٹویٹ پَر جَمائما کا جَوابی وار!!!
——
اِن کو یِہ بیٹھے بِٹھائے کیا ہُوا؟
پَڑھنے والے مُسْکرا کے رَہ گئے
مِل گیا نَہْلے پَہ جَب دَہْلا جَواب
خواجَہ صاحِب دُم دَبا کے رَہ گئے

0
4
کیا بھلا اور کیا برا سمجھے
ماں کی ممتا کو جو ریا سمجھے
ماں کی خدمت کرو ہمیشہ تم
چاہئے رب کی جو رضا ، سمجھے
عرش کانپے زمین پھٹ جائے
گر ہو ماں پر کبھی جفا ، سمجھے

0
5
سنو! لوگوں کی محفل میں
میں رہتا ہوں بہت تنہا
مگر جب جب تمہیں سوچوں
تمہارے پاس ہونے کا
مجھے احساس ہوتا ہے
میں تم سے بات کرتا ہوں

0
6
سجے ہیں جو گلشن ولادت ہے اُن کی
ملے یہ نظارے عنایت ہے اُن کی
فضائے دہر میں حسیں نور پھیلا
ملائک نے پائی بشارت ہے اُن کی
گرے منہ کے بل ہیں یہ طاغوت سارے
جگیں دیپ نوری علامت ہے اُن کی

1
10
دلبر کے فدائی ہیں مجلس کو سجاتے ہیں
جب ذکرِ مدینہ ہو آنسو بھی بہاتے ہیں
میلاد کی محفل دے گلشن کو گراں رونق
آتے ہیں وہی جن کے سرکار سے ناطے ہیں
جب عشق نبی سرور کرتا ہے دروں روشن
قدموں میں اگر چاہیں دلدار بلاتے ہیں

عشق بس دل پے راج کرتا ہے
دل کو اپنا مزاج کرتا ہے
عقل عیار بھیس بدلے سو
عشق دل کو دھراج کرتا ہے
عقل رہتی ہے اپنی حد میں ہی
عشق ہر راز لاج کرتا ہے

0
4
ریت نے نام مرا کیسے بچایا ہو گا
رات لہروں نے کئی بار مٹایا ہو گا
کون ہو تم؟ یہ نہ پوچھو، تمہیں معلوم تو ہے
جس نے آنا تھا وہی لوٹ کے آیا ہو گا
گھر کے آنگن میں نئی آج یہ دیوار ہے کیوں
باپ نے گھر تو محبت سے بنایا ہوگا

0
7
نہ سمجھو تم مِری چاہت ذرا سی بھی ادھوری ہے
مجھے ہے یہ یقیں اس کی محبت مجھ سے پوری ہے
دلوں کے درمیاں جب قربتیں ہر لمحہ قائم ہیں
گلہ کیوں ہو اگر رستوں میں حائل اب یہ دوری ہے
بیانِ حالِ دل تو ہو چکا چشمِ تمنا سے
زباں سے اب قسم کھانا بھلا کیسے ضروری ہے؟

0
3
میں راضی ہوں مرے مالک! مجھے جس حال میں رکھا
بہت مشکل گھڑی ہے یہ، مجھے تجھ سے شکایت ہے
​کسی کے زخمِ دل کو یوں تو تڑپایا نہیں کرتے
کسی آنگن کی خوشیوں کو کبھی لوٹا نہیں کرتے
کبھی یوں بے سہارا بھی تو چھوڑا ہی نہیں کرتے
پِدر بیٹوں کو مٹی کے حوالے تو نہیں کرتے

0
8
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

414
6537
•─═══﷽═══─•سورۂ فاتحہ کی منظوم ترجمانی(2)شاعر: مہر مہسلائی رحمہ اللہ════❁✿❁════تعارف:قرآنِ مجید کی پہلی سورت سورۂ فاتحہ اپنے اندر توحید، حمد، عبادت، استعانت اور ہدایت کی جامع تعلیمات سموئے ہوئے ہے۔ معروف شاعر”مہر مھسلائی“نے اس عظیم سورت کے مفاہیم کو نہایت سادہ، مؤثر اور دل نشین شعری قالب میں پیش کیا ہے، تاکہ عام قاری بھی اس کے پیغام کو آسانی سے سمجھ سکے۔ملاحظہ فرمائیے:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(اللہ کے نامِ پاک سے ہے آغاز ہمارے کاموں کا)(بے مثل محبت ہے جس کی جو رحم و کرم میں ہے یکتا)۔۔اصل مطلع۔۔آغاز ہمارے کاموں کاہے نام سے تیرے جگ داتاتو رحم و کرم کا سر چشمہ ہے فیض تیرا ہی لہراتاسب حمد تجھے ہی زیبا ہے، تو رب ہے سارے جہانوں کاسب سُورج چاند ستارُوں کا، سب جانوں کا بے جانوں کابے تھاہ سمندر رَحمت کا ، سَرچشمہ مہر و محبت کاخالق ہے عمل کی قوت کا ، اور مالک روزِ قیامت کاہم بندے تیرے اَے آقا ، تیری ہی عبادت کرتے ہیںتوفیقِ اطاعت ، جوشِ عمل کی تُجھ سے چاہت کرتے ہیںہاں راہ دِکھا اُس منزل کی ، جو منزلِ فتح و نصرت ہےاسلاف نے جس پر چل کر پائی دونوں جہاں کی نعمت ہےوہ راہ نہ ہو گُمراہوں کی ، جو تیرے غضب میں آئے ہیںناکامی اور ہلاکت

45
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

196
8027