معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



401
6240
اِک صنوبر کے سرد جنگل میں
دھندلی رات، کھو گئے ہیں ہم
اپنے ہی دل کے دشتِ امکاں میں
ڈھونڈتے ذات، کھو گئے ہیں ہم
خزاں کے پیلے پیلے پتوں سے
کرتے اک بات، کھو گئے ہیں ہم

0
2
غم کی دھوپ میں روزنِ دیوار بہت
وقت اچھا ہو تو ہوتے ہیں پھر یار بہت
تیری آنکھیں ہیں یا کہ سمندر ہے کوئی
تیری آنکھوں میں ڈوبے ہیں مے خوار بہت
غم کرتے ہیں نمایاں مرے شعر یہاں
ورنہ تو سبھی کہتے ہیں اشعار بہت

0
2
چشمِ حیراں میں سلگتے سب شرارے راکھ ہیں
تیرہ شب کی وسعتوں میں اب ستارے راکھ ہیں
دھوپ کے صحرا میں کھو کر رہ گئی ہے آب جو
پیاس کی شدت سے دریا کے کنارے راکھ ہیں
خامشی کی برف میں کھو کر مٹی ہے ہر صدا
منزلوں کی سمت جاتے سب اشارے راکھ ہیں

0
3
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

196
7934
شکر تیرا اے مرے رب، رحمتِ کامل ملی
زندگی کو آج میری، اک حسیں منزل ملی
شکر تیرا یا الٰہی! کیا حسیں نعمت ملی
بیٹی کے اس روپ میں ، اک پیکرِ رحمت ملی
بچپنے کی آرزو جو، دل میں تھی زندہ کہیں
اس کی صورت میں مجھے ، وہ مل گئی ہے اب یہیں

0
5
نِی سَئیو کُونج وِچھڑ گئی ڈاروں!!!
——
فِطْرَت کے اِنْتِقام سے اللّہ کی پَناہ
کَرتی ہے داغ دار یِہ ذِلَّت کے داغ سے
اِک بار سُوئے شُومِیٔ قِسْمَت تو دیکْھیے
کِس گَھر کو آگ لَگ گئی گَھر کے چَراغ سے

0
1
کونین کی تابانی کا راز مدینہ ہے
جو شہرِ منور ہے ہستی میں نگینہ ہے
کیا خوب سحر اس کی ہے رات بھی نورانی
اس دارِ درخشاں پر انوار کی برکھا ہے
اب دل میں جو حسرت ہے دیدار ہے سرور کا
خوابوں سے اٹھوں کہتا سرکار کو دیکھا ہے

0
4
کنِج تنہائی میں دل ہی دل میں باتیں آپ کی
ہم کو دیتی ہیں سکوں مشکل میں باتیں آپ کی
۔
بزم سے جو بھی اٹھا بن کے وہ دیوانہ اٹھا
دیر تک ہوتی رہیں محفل میں باتیں آپ کی
۔

0
13
مرے حسین کا کونین میں جواب نہیں
حسین جیسے ہیں ویسا کوئی جناب نہیں
غم حسین میں رونے کا عابدو سن لو
ثواب اتنا ہے جس کا کوئی حساب نہیں
قضا و قدر کا مضمون یاں پہ جچتا نہیں
بجز حسین کے ایثار کا نصاب نہیں

0
5
تم یوں ہر بات پر نہ روٹھا کرو
میں تمہیں گر منانا بھول گیا
یاد رہتا نہیں مجھے کبھی کچھ
میں ہی اپنا فسانہ بھول گیا
کس زمانے سے آیا ہے تو بتا
میں بھی اپنا زمانہ بھول گیا

6
وقت تو خیر سے یہ گزر جائے گا
تیرا یہ غم مری جان کھا جائے گا
گِلے شکوے بھی ہیں تجھ سے، اے زندگی
جیتے جیتے مگر جینا آ جائے گا
کوئی تو لمحہ ہوگا کہ آخر کبھی
میرا بے چین دل بھی جزا پائے گا

0
7
اب کہاں مجھ کو یہ گھر لگتا ہے
ماں کے بن غیر کا در لگتا ہے
قبر تک ساتھ چلے گا میرے
غم ترا دردِ جگر لگتا ہے
زندگی ماں کے بنا ایسی ہے
جیسے پت جھڑ میں شجر لگتا ہے

0
5
ہاں! (جَہاز) خَرِیدَا ہے بھئی۔ مَریَم اورنگزیب!!!
——
ڈِھیٹ پَنا اور اِس دَرْجَہ؟ کیا ہی کَہنے
یُوں بھی یِہ اَنْداز بَڑا بوسِیدَہ ہے
آپ کے تو اَیْوان میں تیوَر ایسے تھے
جیسے آپ نے پَلّے ہی سے خَرِیدَا ہے

0
4
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

401
6240
.Enroll now for the NEBOSH (UK) International General Certificate (IGC) in OHS and take the next step in your safety career

0
372