معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



398
6154
وائٹ ہاؤس پَر فائرِنگ!!!
——
جو بوتے آئے ہو اَب کاٹنے کے دِن آئے
یِہ وہ خَبَر ہے جو دُنیا ہِلا کے رَکھ دے گی
جو آگ تُم نے لَگائی ہُوئی ہے چاروں طرف
ہمیں یَقِیں ہے تُمھیں بھی جَلا کے رَکھ دے گی

0
گلی گلی میں ترے نقشِ پا کو ترسے ہیں
مریضِ عشق ہیں، اب ہم دوا کو ترسے ہیں
تھے مٹی کے ڈھیر، اذنِ بقا کو ترسے ہیں
قفس کے قیدی تھے، ہم تو ہوا کو ترسے ہیں
محبتوں میں عجب کربلا کو ترسے ہیں
دلوں کے پاس تھے لیکن وفا کو ترسے ہیں

0
5
روح عریاں، بدن برہنہ ہے
لاکھ پردوں میں من برہنہ ہے
چن لیے پھول سارے گلچیں نے
بے ثمر ہے چمن، برہنہ ہے
چادریں چڑھ گئیں مزاروں پر
اور مفلس کا تن برہنہ ہے

0
2
آسماں کے ستارے سیاست نہ کر
خوبصورت نظارے سیاست نہ کر
قحط ہے اب برس بھی اے ابرِ رواں
وقت کے ہیں اشارے سیاست نہ کر
ہے بھنور میں جو ناؤ مری زیست کی
مجھ سے تو اے کنارے سیاست نہ کر

0
5
جتنے دل بھی چاہت سے ویران رہے
زیست کے اصلی لطف سے وہ انجان رہے
در در گھومے رزق کی خاطر دنیا میں
کچھ پل اپنے گھر بن کر مہمان رہے
کیا کھویا کیا پایا، جان کے کیا لینا
کیوں بندہ یہ سوچ کے خود حیران رہے

0
3
کتنی جانیں لگ جاتی ہیں دیس آزاد کرانے میں
بیچ رہے ہو پیٹ کی خاطر جس کو کھوٹے آنے میں
وہ تاریخ میں زندہ رہتے ہیں اپنی قربانی سے
خون جگر کا دیتے ہیں جو ایسا باغ سجانے میں
یا رب میری ارض وطن اب حشر تلک آباد رہے
امن کے پنچھی محو رہیں بس امن کے گیت سنانے میں

0
2
حسین زیست کی تب جستجو نہیں کی تھی
حسین شخص سے جب گفتگو نہیں کی تھی
وہ مسکرا کے ہمیں جو دعائیں دیتا ہے
فقط ہے رب کی عطا، آرزو نہیں کی تھی
شفیق، پیار مجسم، سدا اسے جانا
مگر یہ بات کبھی رو برو نہیں کی تھی

0
2
جہانِ عمل میں تمھی پیشوا تھے
غریبوں یتیموں کا تم آسرا تھے
تھے بے لوث خدمت کا تم اک حوالہ
جفا گر جہاں میں سفیرِ وفا تھے
رعایا کے زخموں کا مرہم تھے تم تو
دکھی آدمیت کے لب کی دعا تھے

0
5
کیوں ڈراتے ہو تم کالی دیوار سے
ہم تو ڈرتے نہیں تیر و تلوار سے
سر پھرے تو کٹائیں گے سر جنگ میں
کون ڈرتا ہے ظالم ترے وار سے
کیوں تماشے کا دنیا کو موقع دیا
کچھ نہیں سیکھ پائے ہو اغیار سے

0
2
جو عاشق ہیں کب مرنے سے ڈرتے ہیں
دیپ کی لو پر پروانے ہی مرتے ہیں
وہ بوڑھا ہی بس اک کام کا بندہ تھا
یہ نالائق بس باتیں ہی کرتے ہیں
ٹوٹے پھوٹے کچھ اسباب کے ساتھ فقط
اس نے بتایا کیسے کام سنورتے ہیں

0
1
ہمارا اوڑھنا ہو یا بچھونا، شاعری ہے
یہ اٹھنا بیٹھنا اپنا یہ سونا شاعری ہے
ہماری زندگی جتنی بھی اب باقی بچی ہے
ہمارا مسکرانا اور رونا شاعری ہے
ضرورت ہی نہیں، شکوہ شکایت کیوں کریں ہم
دلِ مغموم کو اشکوں سے دھونا شاعری ہے

0
1
خود کو بھول بھی جاؤں وہ اوقات نہیں بھولوں گا میں
اچھی یادیں پیار بھرے لمحات نہیں بولوں گا میں
یاد ہے اب بھی ٹھنڈی سڑک کے پاس کبھی تھا اپنا گھر
اور انہی گلیوں سڑکوں میں دوست گھماتے تھے دن بھر
پانی کے جب کین اٹھائے کالونی میں جاتے تھے
لمبی قطاروں میں لگ کر ہم کتنا وقت گنواتے تھے

0
6
جو بھی مٹی کا قرض مجھ پر ہے
وہ اتاروں یہ فرض مجھ پر ہے
مجھ سے ناراض کیوں زمانہ ہے
اب تو یہ قید ہی ٹھکانہ ہے
گو بہت سوں کا راز دار ہوں میں
خود بھی لیکن گناہ گار ہوں میں

0
3
تین روزہ اجتماعِ پاک انگلستان میں
پھر سے دیکھیں گے بہاریں جو کہ تھِیں مُلتان میں
دیں مُبارک اجتماعِ پاک کی سُن کر خبر
جان جیسے آگئی ہو عاشقوں کی جان میں
گونج ہو گی ہر طرف صلے علیٰ کی بھائیو
کیا سُہانا ہو گا منظر اُس گھڑی میدان میں

0
5
ہم نے تجھے جانِ جاں پلکوں پہ بٹھا رکھا
ہر ایک ستم سہہ کے ہر ناز اٹھا رکھا
وہ حال مرے دل کا جانے گا بھلا کیسے
غیروں کو سدا جس نے دل میں ہے بسا رکھا
اُس حُسنِ ستمگر کی یہ خاص عنایت تھے
دل کے سبھی داغوں کو سینے میں چھپا رکھا

2
محبت کا جہاں دشمن ہے سارا
کرے عاشق بھی تو کیا غم کا مارا
عجب ہے ذہن کا عالم ہمارا
بھلا سا نام تھا شاید تمہارا
تڑپ کر دل نے تم کو ہے پکارا
کوئی تو آسرا دو تم خدارا

0
4
فیض کعبے سے آتا ہے دل میں مرے
ہو کے روضے سے آتا ہے دل میں مرے
فیض روضے سے پھر مرشدِ پاک کے
ہو کے سینے سے آتا ہے دل میں مرے
نسبتیں ہیں مری راستہ فیض کا
جو وسیلے سے آتا ہے دل میں مرے

0
4
عشق چاہت وفا دوستی ہے حسین
دل نشیں داستاں عزم کی ہے حسین
سارا کنبہ سپردِ خدا کر دیا
اک عجب طرز کی بندگی ہے حسین
وہ جو تاریکیوں میں اجالے کرے
علم کے باب کی روشنی ہے حسین

0
3
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

195
7881
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

398
6154
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ الفاظ صرف آوازیں ہیں، چند جملے ہیں جو لبوں سے نکل کر فضا میں بکھر جاتے ہیں۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔لفظ کبھی خالی نہیں ہوتے اپنا اثر رکھتے ہیں وہ ہمارے باطن کے عکاس ہوتے ہیں،لفظ ہماری سوچ، ہمارے تجربات، ہماری نیت اور ہمارے اندر چھپی دنیا کو آشکار کرتے ہیں۔جو کچھ ہم بولتے ہیں، وہ اچانک پیدا نہیں ہو جاتا۔ وہ ہمارے ذہن کی زمین میں بویا گیا  بیج ہوتا ہے، جو  خیال بنتا ہے، اور آخرکار لفظ کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ذہن ایک کھیت کی مانند ہے۔اگر اس میں علم کے بیج بوئے جائیں، مثبت سوچ کا پانی دیا جائے اور اچھی صحبت کی دھوپ اور چھاؤں ملے، تو ، سچائی اور حکمت کی فصل اگتی ہے۔لیکن اگر اسی زمین میں نفرت، حسد، بدگمانی اور جھوٹ کے کانٹے بو دیے جائیں، تو زبان سے نکلنے والے الفاظ تلوار سے زیادہ تیز اور  نیزوں کی طرح چبھنے لگتے ہیں۔ لفظوں کے ساتھ لہجہ  اندر کی کیفیت کا عکس ہوتا ہے۔جو دل میں سکون رکھتا ہے، اس کی شخصیت میں ٹھہراؤ ،زبان میں نرمی ہوتی ہے۔جو دل میں آگ رکھتا ہے، اس کے لفظ بھی جلانے لگتے ہیں۔کسی انسان کو جاننے کے لیے  اس کا ماضی، حال، لباس دیکھنا  یا

0
30