معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



398
6106
یہ بات بتاتے ہوئے اچھا نہیں لگتا
رستہ مرے دل سے ترے دل کا نہیں لگتا
کچھ جنگوں میں اس واسطے بھی میں نہیں جیتا
اپنوں کو ہرانا مجھے اچھا نہیں لگتا
خود سے بھی پرایا ہو گیا ہوں میں اے یارو
اب آئینے میں چہرہ بھی میرا نہیں لگتا

0
5
جن کو ارض و سما میں ملی سروری
وہ ہیں دلبر خدا کے نبی آخری
حق حقیقت نبی کی ہے رازِ نہاں
آئی پردے میں پیاری صُوَر ظاہری
ہیں معالج دہر کے حبیبِ خدا
جس نے پامال کی صنعتِ آذری

1
7
ورثے میں یہ ملی ہے اسکو نہ تم گنواؤ
اردو زباں ہے اپنی، دل سے اسے لگاؤ
تہذیب کو ہماری اس نے بلندی بخشی
شیرینیِ سخن بھی ہے بے مثال اس کی
کتنے عظیم شاعر پیدا کۓ ہیں اس نے
کیا دلفریب نغمے ہم کو دۓ ہیں اس نے

0
7
یاں بات بن نہ پائے گی شاید بیان سے
اب سوچتا ہوں تیغ نکالوں میان سے
کردار ہیں کہانی کے ہم ہی تو مرکزی
ہم کو نکال پاؤ گے تم داستان سے
میں ہی ہوں جس کو آپ نے ٹھکرا دیا تھا کل
حیراں پھر آج کیوں ہو یوں میری اڑان سے

4
47
جس نے مجھے بیکار میں بے کل کیا ہے شکریہ
دل کو عجب بے کیفیوں سے شل کیا ہے شکریہ
کوئی مجھے صورت نظر آتی تو میں بھی بُھولتا
پھر تم نے تازہ زخم کو پل پل کیا ہے شکریہ
کیسی انا ہم تم ہمیشہ ایک تھے، سو ایک ہیں
اچھا ہؤا دستار کا آنچل کیا ہے شکریہ

0
3
تجھ سے ملنے کی تمنّا میں تھکا بیٹھ گیا
تھا جو دیوار کا سایہ، وہیں جا بیٹھ گیا
کس قدر تلخ تھی ہجرت کی گھڑی کیا کہیے
پاؤں اٹھتے نہ تھے، دل بھی تو مرا بیٹھ گیا
صرف اک شخص کے انکار کی دیری تھی اور
ساری بستی میں مری ساکھ کا بھا بیٹھ گیا

0
5
قصہِ مختصر گئے ہم تو
تیرے در سے اگر گئے ہم تو
ہاتھ خالی تھے شہر میں آتے
واپسی آنکھ بھر گئے ہم تو
میکدے رات بھر بلاتے تھے
لیکن اپنے ہی گھر گئے ہم تو

0
3
مُطِیع اُللہ جان کی نوکری چِھیننے والوں کے نام!!!
——
ایک صَحافی سے ڈَرتے ہو؟ شَرْم کرو
ایک صَحافی سے ڈَرتے ہو؟ ڈُوب مَرو
اَپنی کَرْتُوتیں کِیُوں ٹِھیک نَہِیں کَرْتے؟
ایک صَحافی سے ڈَرتے ہو؟ رَب سے ڈَرو

0
2
وہی وحشت، وہی عالم ہے فسانہ میرا
پھر مرے شہر میں دشمن ہے زمانہ میرا
تیری گلیوں کی ہواؤں سے ہے نسبت ایسی
جیسے صحرا کی تڑپ، خاکِ ٹھکانہ میرا
بارہا تیرے ہی در پر مجھے لاتی ہے تڑپ
اب تو یہ حال بھی خود سے ہے بے گانہ میرا

0
9
ملا جن کو ارفع خدا سے مقام
سدا آئیں اُن پر درود و سلام
وہ محبوبِ داور نبی مصطفیٰ
رواں ذکر جن کا ملے صبح و شام
عُلیٰ ڈنکے اُن کے بجیں دہر میں
سنہرے نبی کے خدائی میں کام

1
8
مجھ میں پیدا وہ کیسا گماں کر گیا
وہ زمیں کو مری آسماں کر گیا
وہ تعلق کا دے کر گیا آسرہ
آدھی دیواروں کو وہ مکاں کر گیا
وہ دکھا کے گیا مجھ کو ایسی ادا
بس حوالے مرے اک جہاں کر گیا

0
8
وہ ملالِ حرفِ ہوس نہ تھا، مری خامشی کا وہ راز تھا
جو بکھر گیا ہے فضاؤں میں، وہی روح کا مری ساز تھا
کئی خوابِ تازہ اجڑ گئے، کئی عکسِ مہر و مہ ڈھل گئے
وہ جو ایک لمحۂِ دید تھا، وہی بخت کا مری ناز تھا
سرِ بزم ہم نے تو عمر بھر، کیا ضبطِ غم کا ہی تذکرہ
جسے تم نے شورِ فغاں کہا، مری آہ کا وہ گداز تھا

0
5
عشق میٹھا تجھے پھل لگے
مجھ کو تو موت کا چَھل لگے
جینے میں ہم کو صدیاں لگیں
مرنے میں ایک دو پل لگے

0
3
پاپی پیْٹ کی پُوجا کا جِن کَل پَر تو نَہِیں ٹَل سَکتا
اِک دو بَندے پَل سَکتے ہیں ٹَبَّر تو نَہِیں پَل سَکتا
اِن کَمْ بَخْتوں نے دو بَرسوں میں جو حالَت کر دی ہے
ڈَھیروں ڈَھیر کمائی میں بھی اَب تو گَھر نَہِیں چَل سَکتا
(مرزا رضی اُلرّحمان)

0
2
شہرِ جاناں میں وفا کے سب یہ وعدے ہیں سراب
دشتِ ہجراں میں مروت کے یہ چشمے ہیں سراب
ہنس کے ملتے ہیں بظاہر، دل میں رکھتے ہیں غبار
آج کل بازارِ الفت کے یہ چہرے ہیں سراب
مصلحت کی دھوپ نے، جھلسا دیے سارے شجر
اس غرض کے شہر میں خوں کے بھی رشتے ہیں سراب

0
5
ملے کبریا سے یہ عزت سدا
ثنائے نبی کی سعادت سدا
ہو نامِ نبی میرے وردِ زباں
رہے یہ حزیں پر عنایت سدا
اسیری مدینے میں منظور ہے
رہے بس مدینے سکونت سدا

0
1
نہ چھوڑے ہاتھ سے کوئی کبھی اپنی متانت بھی
ضروری ہے مگر لہجے میں تھوڑی سی حلاوت بھی
بظاہر تو بہت آباد ہے یہ شہرِ ہنگامہ
مگر انسان ڈھونڈے ہے کہیں گوشہء عجلت بھی
سجا رکھا ہے چہرے پر عجب جھوٹا تبسم سا
چھپا رکھی ہے سینے میں کسی نے اپنی وحشت بھی

0
6
کون بستا ہے اس مکان میں کیا
بس گئے تم مرے گمان میں کیا
خاک اڑتی ہے اب خیالوں میں
رہ گیا ہے مری دکان میں کیا
تیری آواز تھک گئی شاید
زہر گھولوں میں اب بیان میں کیا

0
6
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

195
7846
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

398
6106
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ الفاظ صرف آوازیں ہیں، چند جملے ہیں جو لبوں سے نکل کر فضا میں بکھر جاتے ہیں۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔لفظ کبھی خالی نہیں ہوتے اپنا اثر رکھتے ہیں وہ ہمارے باطن کے عکاس ہوتے ہیں،لفظ ہماری سوچ، ہمارے تجربات، ہماری نیت اور ہمارے اندر چھپی دنیا کو آشکار کرتے ہیں۔جو کچھ ہم بولتے ہیں، وہ اچانک پیدا نہیں ہو جاتا۔ وہ ہمارے ذہن کی زمین میں بویا گیا  بیج ہوتا ہے، جو  خیال بنتا ہے، اور آخرکار لفظ کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ذہن ایک کھیت کی مانند ہے۔اگر اس میں علم کے بیج بوئے جائیں، مثبت سوچ کا پانی دیا جائے اور اچھی صحبت کی دھوپ اور چھاؤں ملے، تو ، سچائی اور حکمت کی فصل اگتی ہے۔لیکن اگر اسی زمین میں نفرت، حسد، بدگمانی اور جھوٹ کے کانٹے بو دیے جائیں، تو زبان سے نکلنے والے الفاظ تلوار سے زیادہ تیز اور  نیزوں کی طرح چبھنے لگتے ہیں۔ لفظوں کے ساتھ لہجہ  اندر کی کیفیت کا عکس ہوتا ہے۔جو دل میں سکون رکھتا ہے، اس کی شخصیت میں ٹھہراؤ ،زبان میں نرمی ہوتی ہے۔جو دل میں آگ رکھتا ہے، اس کے لفظ بھی جلانے لگتے ہیں۔کسی انسان کو جاننے کے لیے  اس کا ماضی، حال، لباس دیکھنا  یا

0
24