معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



398
6106
ملا جن کو ارفع خدا سے مقام
سدا آئیں اُن پر درود و سلام
وہ محبوبِ داور نبی مصطفیٰ
رواں ذکر جن کا ملے صبح و شام
عُلیٰ ڈنکے اُن کے بجیں دہر میں
سنہرے نبی کے خدائی میں کام

1
7
یاں بات بن نہ پائے گی شاید بیان سے
اب سوچتا ہوں تیغ نکالوں میان سے
کردار ہیں کہانی کے ہم ہی تو مرکزی
ہم کو نکال پاؤ گے تم داستان سے
میں ہی ہوں جس کو آپ نے ٹھکرا دیا تھا کل
حیراں پھر آج کیوں ہو یوں میری اڑان سے

3
37
مجھ میں پیدا وہ کیسا گماں کر گیا
وہ زمیں کو مری آسماں کر گیا
وہ تعلق کا دے کر گیا آسرہ
آدھی دیواروں کو وہ مکاں کر گیا
وہ دکھا کے گیا مجھ کو ایسی ادا
بس حوالے مرے اک جہاں کر گیا

0
7
وہ ملالِ حرفِ ہوس نہ تھا، مری خامشی کا وہ راز تھا
جو بکھر گیا ہے فضاؤں میں، وہی روح کا مری ساز تھا
کئی خوابِ تازہ اجڑ گئے، کئی عکسِ مہر و مہ ڈھل گئے
وہ جو ایک لمحۂِ دید تھا، وہی بخت کا مری ناز تھا
سرِ بزم ہم نے تو عمر بھر، کیا ضبطِ غم کا ہی تذکرہ
جسے تم نے شورِ فغاں کہا، مری آہ کا وہ گداز تھا

0
4
عشق میٹھا تجھے پھل لگے
مجھ کو تو موت کا چَھل لگے
جینے میں ہم کو صدیاں لگیں
مرنے میں ایک دو پل لگے

0
3
پاپی پیْٹ کی پُوجا کا جِن کَل پَر تو نَہِیں ٹَل سَکتا
اِک دو بَندے پَل سَکتے ہیں ٹَبَّر تو نَہِیں پَل سَکتا
اِن کَمْ بَخْتوں نے دو بَرسوں میں جو حالَت کر دی ہے
ڈَھیروں ڈَھیر کمائی میں بھی اَب تو گَھر نَہِیں چَل سَکتا
(مرزا رضی اُلرّحمان)

0
2
شہرِ جاناں میں وفا کے سب یہ وعدے ہیں سراب
دشتِ ہجراں میں مروت کے یہ چشمے ہیں سراب
ہنس کے ملتے ہیں بظاہر، دل میں رکھتے ہیں غبار
آج کل بازارِ الفت کے یہ چہرے ہیں سراب
مصلحت کی دھوپ نے، جھلسا دیے سارے شجر
اس غرض کے شہر میں خوں کے بھی رشتے ہیں سراب

0
5
ملے کبریا سے یہ عزت سدا
ثنائے نبی کی سعادت سدا
ہو نامِ نبی میرے وردِ زباں
رہے یہ حزیں پر عنایت سدا
اسیری مدینے میں منظور ہے
رہے بس مدینے سکونت سدا

0
1
نہ چھوڑے ہاتھ سے کوئی کبھی اپنی متانت بھی
ضروری ہے مگر لہجے میں تھوڑی سی حلاوت بھی
بظاہر تو بہت آباد ہے یہ شہرِ ہنگامہ
مگر انسان ڈھونڈے ہے کہیں گوشہء عجلت بھی
سجا رکھا ہے چہرے پر عجب جھوٹا تبسم سا
چھپا رکھی ہے سینے میں کسی نے اپنی وحشت بھی

0
6
کون بستا ہے اس مکان میں کیا
بس گئے تم مرے گمان میں کیا
خاک اڑتی ہے اب خیالوں میں
رہ گیا ہے مری دکان میں کیا
تیری آواز تھک گئی شاید
زہر گھولوں میں اب بیان میں کیا

0
5
جنہیں یادِ دلبر میں راحت ملی ہے
گراں اُن کو اس سے سعادت ملی ہے
بنا ورد جن کا حسیں نامِ نامی
انہیں بخششوں کی علامت ملی ہے
امیری جہاں میں وہ ہی کر رہے ہیں
جنہیں لطفِ جاں سے اِعانَت ملی ہے

0
3
اُن کی صُورت میری صُورت ہو گئی
اُن کی میری ایک مُورت ہو گئی
وَہمِ دُوئی داغ تھا جو دُھل گیا
دُور دِل کی سب کَدورت ہو گئی
مَر گئی اور مِٹ گئی "مَیں" جِس گَھڑی
وہ گَھڑی تو شَبْھ مَہورت ہو گئی

0
4
ترا خیال بھی دل میں نہیں ہے تو بھی نہیں
کہ تجھ سے وصل تو اب میری آرزو بھی نہیں
مرا خیال مرے چارہ گر کو اب آیا
کہ اب مجھے تو کوئی حاجتِ رفو بھی نہیں
جنونِ عشق سے طاری ہوئی وہ کیفیت
کہ صد دریغ مجھے فکرِ آبرو بھی نہیں

3
30
غزل ۔۔۔
جل گئے خاب تدبیر سے
گِلہ کیونکر ہے تقدیر سے
پیار بس پیار بس پیار دے
ِبس سبق اک مِلا پیر سے
غُسل دینا ہے تو مَن کو دے

0
1
زندگی میں ہو سب کی آسانی
دور ہو جائے ہر پریشانی
خدمت خلق کا ہر اک ممبر
اس لیے دے رہا ہے قربانی

0
4
دوستوں ہم گل یہاں پر وہ کھلا کر جائیں گے
جو ہمارے بعد بھی گلشن سدا مہکائیں گے
ہیں حکیم وقت ہم ہی گرچہ ہیں بگڑے ہوئے
جو سکون قلب چاہے آئے ہم بتلائیں گے
تنگئ دنیا مقدر آپ کا ہو جائے گی
پاؤں گر چادر سے بڑھ کر آپ یوں پھیلائیں گے

0
7
مدینے کے میں مناظر سماؤں آنکھوں میں
"تمھاری خاکِ کفِ پا لگاؤں آنکھوں میں"
۔
مری نگہ میں سمایا مدینہ ایسے کہ آ
تجھے میں بام و درِ شہ دکھاؤں آنکھوں میں
۔

0
5
جب بھی ہو میری تمہیں خاص طلب آ جانا
کبھی بچوں کو ملانے کے سبب آ جانا
یہ جو ہم کو ہے پڑا کام چلو رہنے دو
ہاں ا گر میری ضرورت پڑے تب آ جانا
رو پڑا سن کے میں حالات ترے لوگوں سے
اب کے میں آپ سے کہتا ہوں کہ اب آ جانا

0
17
کرم کر خدایا سعادت ملے
ثنائے نبی میں حلاوت ملے
ثنا خواں بنوں اُن کے دربار میں
عطائے گراں سے یہ قسمت ملے
نبی کے ہوں نغمے سدا لطفِ جاں
حسیں نوریوں کی رفاقت ملے

0
2
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

195
7846
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

398
6106
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ الفاظ صرف آوازیں ہیں، چند جملے ہیں جو لبوں سے نکل کر فضا میں بکھر جاتے ہیں۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔لفظ کبھی خالی نہیں ہوتے اپنا اثر رکھتے ہیں وہ ہمارے باطن کے عکاس ہوتے ہیں،لفظ ہماری سوچ، ہمارے تجربات، ہماری نیت اور ہمارے اندر چھپی دنیا کو آشکار کرتے ہیں۔جو کچھ ہم بولتے ہیں، وہ اچانک پیدا نہیں ہو جاتا۔ وہ ہمارے ذہن کی زمین میں بویا گیا  بیج ہوتا ہے، جو  خیال بنتا ہے، اور آخرکار لفظ کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ذہن ایک کھیت کی مانند ہے۔اگر اس میں علم کے بیج بوئے جائیں، مثبت سوچ کا پانی دیا جائے اور اچھی صحبت کی دھوپ اور چھاؤں ملے، تو ، سچائی اور حکمت کی فصل اگتی ہے۔لیکن اگر اسی زمین میں نفرت، حسد، بدگمانی اور جھوٹ کے کانٹے بو دیے جائیں، تو زبان سے نکلنے والے الفاظ تلوار سے زیادہ تیز اور  نیزوں کی طرح چبھنے لگتے ہیں۔ لفظوں کے ساتھ لہجہ  اندر کی کیفیت کا عکس ہوتا ہے۔جو دل میں سکون رکھتا ہے، اس کی شخصیت میں ٹھہراؤ ،زبان میں نرمی ہوتی ہے۔جو دل میں آگ رکھتا ہے، اس کے لفظ بھی جلانے لگتے ہیں۔کسی انسان کو جاننے کے لیے  اس کا ماضی، حال، لباس دیکھنا  یا

0
23