معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



398
6081
حسینوں کی ادائیں دیکھتے تھے
انھیں ہم بھر کے آہیں دیکھتے تھے
ابھی تو بال بچے ہو گئے ہیں
کبھی ہم ان کی راہیں دیکھتے تھے
انہیں بھی آرزو تھی دیکھنے کی
چرا کر وہ نگاہیں دیکھتے تھے

0
1
دل کو مِثْلِ آئِینہ واللہ بنا لیتا ہے وہ
مسکراہٹ سے جہاں کے غم چھپا لیتا ہے وہ
مَن کی دنیا رکھتا ہے پاکیزہ صوفی اس طرح
ذِکْرِ حَق سے ہر گھڑی مَن کو سجا لیتا ہے وہ
نہ کسی سے ہے شکایت، نہ عداوت دل میں ہے
جذبوں کو اَخلاق کی دولت بنا لیتا ہے وہ

0
1
شُہْرَۂ آفاق گُلُو کارہ آشا بھوسلے!!!
——
بُوڑھے، بَچّے اور جوان
سَب کو لُبھانا آتا تھا
اُس کو اپنے گانوں پَر
سَب کو نَچانا آتا تھا

0
2
نبی جانِ جاناں سخی مصطفیٰ
ہیں دلبر جہاں کے یہ ہستی کے شاہ
سدا نعت اُن کی لبوں پر سجے
وہ محبوبِ داور ہیں خیر الوریٰ
سکونِ دروں فیضِ یادِ نبی
ہے مسرور بردہ سخی ذات کا

0
1
7
ہیں یکتا حسیں وہ حسینوں میں تنہا
نہیں ہے جنا یوں کسی ماں نے اُن سا
دہر میں ملے کب ملے اور کیسے
بنایا خدا نے کسی کو نہ ایسا
کرے ناز یزداں جمالِ نبی پر
بلایا دنیٰ میں وہ لگتا ہے کیسا

0
3
دردِ جدائی میرے پہلو میں ڈال کر
وہ چل پڑے ہیں میری سانسیں نکال کر
نازک بدن پہ ڈھاتے ہو اس قدر ستم
اے دشمنِ جاں میرا کچھ تو خیال کر
میں ہار جاتا ہوں پھر ان سے بساط دل
وہ جیت جاتے ہیں اک سکہ اچھال کر

0
7
آیا نہیں اِس شان سے کوئی بھی مَسِیحا
نا پھر کِسِی اَدْوَار میں اللہ کا بندہ
کھل جاتی ہے دیوارِ حرَم جس کے شَرَف سے
ہے نفسِ نبی وہ تو کبھی ہے وہ ید اللہ
حیدر کے بہت نام ہیں اللہ کی صِفَت پر
مُسْلِم یہ بتاؤ مجھے کیا کوئی ہے ایسا

0
4
نہیں معلوم ہے تم کو تو پھر ہم سے پتا کِیجئے
حقیقت جان کر حضرت نہ پھر کوئی خطا کِیجئے
یہاں ہر بات کی واعظ پہل نقطے سے ہوتی ہے
ملے نقطہ نہیں تم کو تو کیسے ابتدا کیجئے
خدا کو جاننا ہے تو نبی نے یہ کہا ہم سے
علی کی عظمت و حِکْمَت سے خود کو آشنا کِیجئے

0
4
ساقی پلائے جا مجھے کوثر کے جام سے
چودہ ہیں مے کَدَے یہاں عِتْرَت کے بام سے
ان مے کدوں کے آخری ساقی کی راہ میں
پلکیں بچھایں بیٹھے ہیں ہم صبح و شام سے
پوچھو نہ حالِ مَے کَشی ہم سے یوں بارہا
پی کر بتاوں گا تمھیں میں بھی ارام سے

0
3
یا حبیبِ خدا اشرف الانبیاء تم خدا کی قسم نور ہی نور ہو
کوئی تم سا نہیں اے شہِ دُو سَرَا تم خدا کی قسم نور ہی نور ہو
لفظ خاموش ہیں علم عاجز یہاں اور ہمت نہیں ہے قلم میں کوئی
کیسے لکھ پائے کوئی تمہاری ثنا تم خدا کی قسم نور ہی نور ہو
آپ سے ہے جہاں میں بہاروں کا رنگ آپ کے دم سے روشن ہیں کون و مکاں
آپ جیسا نہیں ہے کوئی باخدا تم خدا کی قسم نور ہی نور ہو

0
4
اب کوئی امید بھی نہیں باقی
تیرے مے خانے سے مجھ کو، اے ساقی
ہم کہ نکالے گئے جہاں بھر سے
آس لگی ایک بس ترے در سے
پھیر لیا مجھ سے منہ، ہوا کیا ہے؟
ماجرا گر جو ہے تو بتا کیا ہے؟

0
28
اک گھونٹ مے کے پینے سے ایمان بِک گیا
یوں کوڑیوں کے بھاؤ ہے انسان بِک گیا
فصلیں تو بِک رہیں تھیں ہمارے وطن کی روز
لو آج کی خبر ہے کہ دہکان بِک گیا
حفظِ چمن کے نام پہ مالک بنا تھا جو
کر کے وہ ہم کو آج تو حیران بِک گیا

0
5
وہ کہیں لوٹ کے آئے مرا ہمدم پھر سے
گھر یہ بے رنگ بھی ہو جائے مقدم پھر سے
پھر سے روحانی ہوں روشن ہوں مرے بام و در
ارے نغمے ہوں لبوں پر وہ ہما دم پھر سے
پھر سے کاشانہ مرا ہو یہ عروسی کی طرح
سارے ہونٹوں پہ ہو نغمہ ترا جانم پھر سے

0
4
اِن کو تو وَرْدی میں مِلنا، اُن کو سادہ کپڑوں میں!!!
——
کون بَھلا اِتنا بھی سوچے کون پَڑے اِن لَفْڑوں میں
لیکن کیا یِہ فَرْق بَجا ہے ماڑوں میں اور تَکْڑوں میں
ہَم بیچارے عام سے شَہْری یِہ بارِیکی کیا جانیں
اِن کو تو وَرْدی میں مِلنا، اُن کو سادہ کپڑوں میں

0
3
زمیں پر جس کو ڈھونڈا اور تلاشا آسمانوں میں
وہی بے چہرگی میں آن ٹھہرا ہے دھیانوں میں
خوشی کے سارے معنی بے معانی ہوتے جاتے ہیں
اداسی حکمراں نے بانٹ ڈالی ہے کسانوں میں
یہاں پر دندناتے پھر رہے بدنام غارت گر
پٹا کرتے ہیں بس معصوم سے افراد تھانوں میں

0
2
نظر رکھنے سے تیرے میری استعداد بڑھتی ہے
گھٹا کرتی ہے ہر ہر چیز تیری یاد بڑھتی ہے
مرے لب پر دہائی ہے تو کارن بھی کوئی ہو گا
تمہارا جور بڑھتا ہے، مری فریاد بڑھتی ہے
وہاں خود انحصاری ہے کہ جو ایمان سے خالی
یہاں سیلاب مانگیں ہم کہ یوں امداد بڑھتی ہے

0
1
آئے قابو نہیں جو بینوں میں
میں نے پالے ہیں آستینوں میں
میں ہوں، فرہاد یا کوئی مجنوں
عشق ہی مشترک ہے تینوں میں
ہم نے انساں کا درد جانا نہیں
صرف دھبّہ رکھا جبینوں میں

0
1
دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے چور نہیں
ہے دوش میرا، ترا کوئی بھی قصور نہیں
ملے گی داد بھی تنقید بھی تو ہو گی میاں
جو نیک مشورہ دیتا ہے اس کو گُھور نہیں
بٹھایا کس نے تمہیں مسندِ صدارت پر
وہ جس کو خود بھی ابھی شعر کا شعور نہیں

0
2
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

195
7812
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

398
6081
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ الفاظ صرف آوازیں ہیں، چند جملے ہیں جو لبوں سے نکل کر فضا میں بکھر جاتے ہیں۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔لفظ کبھی خالی نہیں ہوتے اپنا اثر رکھتے ہیں وہ ہمارے باطن کے عکاس ہوتے ہیں،لفظ ہماری سوچ، ہمارے تجربات، ہماری نیت اور ہمارے اندر چھپی دنیا کو آشکار کرتے ہیں۔جو کچھ ہم بولتے ہیں، وہ اچانک پیدا نہیں ہو جاتا۔ وہ ہمارے ذہن کی زمین میں بویا گیا  بیج ہوتا ہے، جو  خیال بنتا ہے، اور آخرکار لفظ کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ذہن ایک کھیت کی مانند ہے۔اگر اس میں علم کے بیج بوئے جائیں، مثبت سوچ کا پانی دیا جائے اور اچھی صحبت کی دھوپ اور چھاؤں ملے، تو ، سچائی اور حکمت کی فصل اگتی ہے۔لیکن اگر اسی زمین میں نفرت، حسد، بدگمانی اور جھوٹ کے کانٹے بو دیے جائیں، تو زبان سے نکلنے والے الفاظ تلوار سے زیادہ تیز اور  نیزوں کی طرح چبھنے لگتے ہیں۔ لفظوں کے ساتھ لہجہ  اندر کی کیفیت کا عکس ہوتا ہے۔جو دل میں سکون رکھتا ہے، اس کی شخصیت میں ٹھہراؤ ،زبان میں نرمی ہوتی ہے۔جو دل میں آگ رکھتا ہے، اس کے لفظ بھی جلانے لگتے ہیں۔کسی انسان کو جاننے کے لیے  اس کا ماضی، حال، لباس دیکھنا  یا

0
16