معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



395
5916
ہماری ڈِیل اِسْرِائِیْل نَہِیں اَمرِیکہ کے ساتھ ہے- اِسحاق ڈار!!!
——
جو چَولیں مار بیٹھے ہو وہ اَب پِیچھا نَہ چھوڑیں گی
ذَلالَت میں تو کام آنی ہیں یِہ ڈِیلیں نَہ وہ ڈِیلیں
گُناہوں سے ہَمیشَہ سے ہے اُن کا عُذْر بَد تَر اَ
بَھلا اَب کون سُنتا ہے یِہ سَب بَکْواس تاوِیلیں

0
​خاموش زمانوں کے، اسرار مری آنکھیں
تاریک شبِ غم میں، بیدار مری آنکھیں
​تاراج کیا دل کو، اک شوخ تبسّم نے
پامال کریں گی اب، پندار مری آنکھیں
​میخانے کی جانب سے، پھیری ہے نظر میں نے
دیدار کی لذت سے، سرشار مری آنکھیں

0
5
یہ ہجرتوں کا تسلسل یہ شہرِ یار کی یاد
یہ ہم نفس کی جدائی یہ غم گسار کی یاد
طلوع صبح کی رنگین یاد باقی ہے
بڑی حسین ہے خوشبوئے لالہ زار کی یاد
گلی گلی میں درخشاں گئے دنوں کے نشاں
چمن چمن میں مہکتی جمال یار کی یاد

0
5
جس کے آنچل میں ہو مہکی سی ہوا پھولوں کی
اس کے قدموں میں بھی ہوتی ہے قبا پھولوں کی
​رنگ و خوشبو کا سفر رک نہیں سکتا ہرگز
قید کر سکتا نہیں کوئی ضیا پھولوں کی
​ہم نے ہنس کر ہی گزارے ہیں کڑے وقت تمام
ہم نے سیکھی ہے زمانے سے ادا پھولوں کی

0
7
قسمتوں میں ہماری جیل میاں
راحتیں آپ کی رکھیل میاں
طوق فولاد کا ہے گردن میں
ناک میں چھبتی سی نکیل میاں
ہم کو آتی ہے عقل لاٹھی سے
سوچ لینے گئی جو تیل میاں

0
3
کل لڑ رہا تھا مغرب افغان کے خلاف
اب لڑ رہا ہے شیطاں ایران کے خلاف
گھڑتا ہے جھوٹے حیلے حملے کے واسطے
ہے اصل میں یہ تیرے ایمان کے خلاف

0
1
کہاں وہ اپنا لہجہ بدلتا ہے
زمانے کا تقاضا بدلتا ہے
وہ کیوں اب ہم سے آنکھیں ملاتا ہے
جو پل پل اپنا چہرہ بدلتا ہے
کبھی وہ خواب تھا آنکھوں کی زینت
مگر اب وہ تماشا بدلتا ہے

0
4
احسان خُدا کا اُس پہ ہُوا، عطار کا دامن جِس کو مِلا
ہر آن کرے وہ شُکرِ خُدا، عطار کا دامن جِس کو مِلا
تاثیر زباں میں ایسی ہے، تقدیر بدل دی لاکھوں کی
ظاہر باطن کیا خوب سجا، عطار کا دامن جِس کو مِلا
اخلاص کا درس یہاں سے مِلا، نِیّت کا قبلہ سیدھا ہُوا
مقصود ہے اُس کو رب کی رِضا، عطار کا دامن جِس کو مِلا

0
5
جس شمعِ ہدایت سے دارین درخشاں ہیں
نازاں ہے خدا اُن پر دلدارِ غریباں ہیں
کیا خوب جہاں دیکھے اُس رُوپ سے تابانی
جس حُسن سے سب چمکے گلزار و گلستاں ہیں
یہ فیض ہیں سرور سے آفاق جو روشن ہیں
ذیشان سخی دلبر دل اُن سے فروزاں ہیں

0
1
7
اگر ارواح کے عالم کے وعدے یاد ہوتے
کبھی رسوا نہ ہوتے اور نہ ہی برباد ہوتے
نجانے کیوں ترے ابلیس کی باتوں میں آئے
تری جنت میں رہتے اور کہاں آباد ہوتے

0
5
وائے قِسمَت یِہ ہَمارے رَہنُما
سَب کے سَب ہی ماہِرِْ تَقْرِیر ہیں
عافیہ کو تو چُھڑا سَکتے نَہِیں
وَیسے ہَم نا قابِلِ تَسخِیر ہیں
(مرزا رضی اُلرّحمان)

0
4
کُشتہِ بیمار کی ، گرمیِ رفتار دیکھ
اے عدو ے چارہ گر ، ہیبتِ جر ّار دیکھ
تیرو تفنگ آزما ،بار دگر آزما
خاک سے بیزار کی، شوخیِ گفتار دیکھ
تیغِ جفا وار کر، بسملِ غمخوار پر
ملّتِ احرار کا ،جَذبَہِ ایثار دیکھ

10
عقل کی باتوں پہ روئے ایک دیوانے کی طرح
جل اٹھا ہے دل ہوائے شب میں پروانے کی طرح
زندگی کی کشمکش سے ہم کو کیا ملنا تھا اور
بس بھلا بیٹھے ہیں خود کو ایک افسانے کی طرح
آرزو کے خون سے روشن کیا تھا جو چراغ
گر گیا ہاتھوں سے ٹوٹے ایک پیمانے کی طرح

0
8
وہ جس کا نام زمانے میں یار غیرت ہے
دکھائی دیتی نہیں ہے کہیں بھی حیرت ہے
ہمارے خون سے چلتی ہے راج دھانی بھی
ہمارے خون کی پوچھو نہ کتنی قیمت ہے
مرے عزیز مرے ہم نوا مرے محسن
یقین کر مجھے تجھ سے بڑی محبت ہے

0
4
ہے خاص کرم رب کا، عطار مِلے ہم کو
اس دور کے ولیوں کے، سردار مِلے ہم کو
جب اُن کی نگاہوں کی، تاثیر مِلی دِل کو
تاریک جو دِل تھے وہ، ضوبار مِلے ہم کو
دُنیا کے تھے شیدائی، دُنیا پہ ہی مرتے تھے
وہ غم میں مدینے کے، سرشار مِلے ہم کو

0
4
یِہ جَنگ نَہِیں اَب رُکنے کی
یِہ جَنگ تو بَس اَب جاری ہے
اِیْران کے حال پَہ چُپ نَہ رَہو
آئِنْدَہ ہَماری باری ہے
(مرزا رضی اُلرّحمان)

0
3
ڈرتے ہی رہو گے تم؟
کب تک یوں ڈرو گے تم؟
ڈرتے ہو بھلا کس سے؟
.
بجلی نے جو گرنا تھا
وہ گر بھی چکی تم پر

0
17
کھڑی جن کے پیچھے صفِ انبیا ہے
امامِ امم وہ نبی مصطفیٰ ہے
کرے گا خدا شاد اُن کو ہے وعدہ
ربِ امتی رب سے جن کی دعا ہے
سعادت ہے اُن کی شجاعت ہے اُن کی
رسولِ خدا یہ شہے دو سریٰ ہے

1
5
آیَتُ اُللہ عَلی خامنائی صاحِب کے نام!!!
——
جو باقی ساری قَوْم کے ہیں تیوَر تھے وَہی سالار کے بھی
تُم ہار گئے ہو جِیت کے بھی وہ جِیت گیا ہے ہار کے بھی
اِک رَستہ ہے جُھکْ جانے کا اِک رَستہ ہے بِک جانے کا
اِیْمان ہو گَر مَضْبُوط تو پِھر سَو رَستے ہیں اِنْکار کے بھی

0
2
عجب وحشت کا عالم تھا نقابوں کو جلا بیٹھے
خزاں کے ڈر سے ہم اپنے گلابوں کو جلا بیٹھے
ستاروں سے بغاوت کی، شرر سے دوستی کر لی
فقط اک وہم کی خاطر کتابوں کو جلا بیٹھے
محبت کی تجارت میں بڑا نقصان یوں کھایا
انا کے واسطے سارے حسابوں کو جلا بیٹھے

0
16
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ الفاظ صرف آوازیں ہیں، چند جملے ہیں جو لبوں سے نکل کر فضا میں بکھر جاتے ہیں۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔لفظ کبھی خالی نہیں ہوتے اپنا اثر رکھتے ہیں وہ ہمارے باطن کے عکاس ہوتے ہیں،لفظ ہماری سوچ، ہمارے تجربات، ہماری نیت اور ہمارے اندر چھپی دنیا کو آشکار کرتے ہیں۔جو کچھ ہم بولتے ہیں، وہ اچانک پیدا نہیں ہو جاتا۔ وہ ہمارے ذہن کی زمین میں بویا گیا  بیج ہوتا ہے، جو  خیال بنتا ہے، اور آخرکار لفظ کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ذہن ایک کھیت کی مانند ہے۔اگر اس میں علم کے بیج بوئے جائیں، مثبت سوچ کا پانی دیا جائے اور اچھی صحبت کی دھوپ اور چھاؤں ملے، تو ، سچائی اور حکمت کی فصل اگتی ہے۔لیکن اگر اسی زمین میں نفرت، حسد، بدگمانی اور جھوٹ کے کانٹے بو دیے جائیں، تو زبان سے نکلنے والے الفاظ تلوار سے زیادہ تیز اور  نیزوں کی طرح چبھنے لگتے ہیں۔ لفظوں کے ساتھ لہجہ  اندر کی کیفیت کا عکس ہوتا ہے۔جو دل میں سکون رکھتا ہے، اس کی شخصیت میں ٹھہراؤ ،زبان میں نرمی ہوتی ہے۔جو دل میں آگ رکھتا ہے، اس کے لفظ بھی جلانے لگتے ہیں۔کسی انسان کو جاننے کے لیے  اس کا ماضی، حال، لباس دیکھنا  یا

0
7
اس سائٹ کو بنانے کے لئے درج ذیل #سافٹوئر اور #ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے:بیک انڈ پر  c# اور Net Core 3.1. کا استعمال کیا گیا ہے۔ کلائنٹ سائڈ پر JavaScript اور  JQuery  کا استعمال ہے - یوزر انٹرفیس اور سٹائلنگ کے لئے  Boostrap 4.5   کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس سائٹ پر نہائت خوبصورت مہرنستعلیق ویب فانٹ کا استعمال کیا گیا ہے جس کے لئے ہم  مشہور خطاط نصر اللہ مہر صاحب اور  ان کے صاحبزادے ذیشان نصر صاحب کے نہایت شکر گزار ہیں۔سائٹ کا لوگو بھی ذیشان نصر صاحب کا ڈیزائن کردہ ہے۔ اس کے علاوہ اردو محفل کے اراکین کا بھی شکریہ جو کہ مفید مشوروں سے نوازتے ہیں۔اردو کیبورڈ کے لئے yauk  اور  اردو ایڈیٹر کیبورڈ سے استفادہ کیا گیا ہے۔ورژن 1 کا سورس کوڈ گٹ ہب پر موجود ہے۔ 

16
780