معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



398
6072
جب نام نہ ہوگا تو بدنام کیا ہونگے
بیٹھے رہے گھر میں تو پھر کام بھی کیا ہونگے
ان کو نہ بتانامرے میخانہ کا پتا
ساغرنا رہے گا وہاں کوئی جام ہی نا ہونگے

0
1
کس قدر جلد قیامت ترا آنا ہوگا
ان بہاروں میں اسے چھوڑ کے جانا ہوگا
ہم تو مر جائیں گے مرنا بھی کوئی مشکل ہے
ہاں مگر یاد رہے آپکو آنا ہو گا
ہے عجب بات کوئی آپ سا ہو سکتا ہے
ہاں مگر آپ کا ارشاد ہے مانا ہو گا

0
1
گوبَر ٹیکس!!!
——
رَفَعِ حاجَت تو ہے مَجبُوری، مَگر
آپ کی نَظَروں میں کَارُوْبار ہے
دیکھتے ہی مُنہ میں پانی آ گیا؟
آپ کو کُچھ شَرْم بھی سَرْکار ہے؟

0
طوفان میں یقیں کے سفینے بچے رہیں
یارب مرے جنوں کے دفینے بچے رہیں
لٹ جائے سب متاعِ جہاں، کوئی غم نہیں
دل میں مرے خلوص کے خزینے بچے رہیں
صحرا میں تشنگی کے سہے وار اس لیے
پیاسے رہیں، وفا کے قرینے بچے رہیں

0
3
وہ جھولیاں بھر کر دیتے ہیں، کیا جود و کرم سرکار کے ہیں
احسان خدائی پر سارے سلطان سخی دلدار کے ہیں
یہ بابِ رسالت زینہ ہے مولا سے عنایت اس در پر
جو دھومیں مچیں دو جگ میں عُلیٰ، یہ ڈنکے اسی دربار کے ہیں
گر نامے کو اپنے دھونا ہے، کہ کارِ زیاں کا رونا ہے
دلدار کے در پر جاتے ہیں بڑے درجے اُس مختار کے ہیں

0
1
4
ایک کَھٹْکا سا لگا رَہتا ہے جی کو جانے کیوں
یِہ ہمارے حُکْمراں ہی بیچ نَہ کھائیں ہمیں
جیسے یہ سینے پَہ پَتَّھر رکھ رَہے ہیں آئے دِن
پَتَّھروں کے دَور میں واپس نَہ لے جائیں ہمیں
(مرزا رضی اُلرّحمان)

0
3
محبتوں میں شمار کیسا
یقین کیسا گمان کیسا
بے مول رشتوں کے درمیاں میں
سوال کیوں یہ حساب کیسا
عروج کیسا زوال کیسا
سوال کیسا جواب کیسا

6
دیکھنے میں جو وہ اِک شخص خدا لگتا ہے
ہوگا انسان بھی وہ کیا تجھے کیا لگتا ہے
جھڑکیاں، طعنے ، حقارت بھرے جملے اُنکے
سہ تو لیتا ہوں مگر یار برا لگتا
سب سمجھتے ہیں کہ موسم کا کرم ہیں اس پر
پت جھڑوں میں وہ جو اک پیڑ ہرا لگتا ہے

0
6
ادھوری داستانیں آدھے قصے اچھے لگتے ہیں
ہم اہلِ درد کو ایسے فسانے اچھے لگتے ہیں

0
4
اِیْران کی ساری قِیادَت شَہِید ہو گئی اور آپ لوگوں سے مَہنگا پِٹْرول بَرْداشْت نَہِیں ہو رَہا۔ حَنِیف عَبّاسی!!!
——
حَیرَت یِہ ہے اَیسے بُرے حالات میں بھی
سوچو کیا تُم رَتّی بَھر شَرْمِنْدَہ ہو؟
وہ تو غَیرَت والے تھے سو مَر تو گئے
لیکن تُم بے شَرْم تو اب بھی زِنْدَہ ہو

0
4
جو فضلِ خدا سے حسیں آستاں ہے
فروزاں اسی سے دہر کا جہاں ہے
بنا ہے جو یسرب سے نوری مدینہ
یہ پیارے نبی کا نیا گلستاں ہے
کھچے مرد و زن جو مدینے ہیں جاتے
یہاں سے ہے ملتا جو باغِ جناں ہے

1
6
ترے دوست دار وہ جاں نثار وہ غم گسار کدھر گئے
ترے ہم قریں ترے ہم نشیں دلِ بے قرار کدھر گئے
کوئی تو سراغ دو ہم کو راہ روانِ دشت جنون کی
سرِ راہِ شوق وہ جن کا تھا ہمیں انتظار کدھر گئے

0
11
عشق ہے یہ نادان سمجھ سے باہر ہے
چھوڑو میری جان سمجھ سے باہر ہے

0
9
غزل- مزاحیہ
ذرا دماغ لڑاتے، تو بات بن جاتی
جو پہلے ماں کو پٹاتے، تو بات بن جاتی
وہ لیف بوۓ سے چڑتی ہے،علم ہوتا جو
َرگڑ کے لکس نہاتے، تو بات بن جاتی
چڑیل تھی وہ بری، پر شگفتہ خو بھی تھی

0
58
بَیرُونی قَرْضہ اُتارنے کے لیے پِٹْرول کی قِیمَتوں میں ہوشرُبا اِضافَہ!!!
——
اَپنا تَن مَن دَھن اور سَب کُچھ واریں ہَم؟
تُم کر دو بَرباد اور مُلک سَنوارْیں ہَم؟
تھوڑی سی بھی غَیرَت ہے تو ڈُوب مَرو
قَرْض تو تُم کھا جاؤ اور اُتاریں ہَم؟

0
5
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

195
7808
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

398
6072
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ الفاظ صرف آوازیں ہیں، چند جملے ہیں جو لبوں سے نکل کر فضا میں بکھر جاتے ہیں۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔لفظ کبھی خالی نہیں ہوتے اپنا اثر رکھتے ہیں وہ ہمارے باطن کے عکاس ہوتے ہیں،لفظ ہماری سوچ، ہمارے تجربات، ہماری نیت اور ہمارے اندر چھپی دنیا کو آشکار کرتے ہیں۔جو کچھ ہم بولتے ہیں، وہ اچانک پیدا نہیں ہو جاتا۔ وہ ہمارے ذہن کی زمین میں بویا گیا  بیج ہوتا ہے، جو  خیال بنتا ہے، اور آخرکار لفظ کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ذہن ایک کھیت کی مانند ہے۔اگر اس میں علم کے بیج بوئے جائیں، مثبت سوچ کا پانی دیا جائے اور اچھی صحبت کی دھوپ اور چھاؤں ملے، تو ، سچائی اور حکمت کی فصل اگتی ہے۔لیکن اگر اسی زمین میں نفرت، حسد، بدگمانی اور جھوٹ کے کانٹے بو دیے جائیں، تو زبان سے نکلنے والے الفاظ تلوار سے زیادہ تیز اور  نیزوں کی طرح چبھنے لگتے ہیں۔ لفظوں کے ساتھ لہجہ  اندر کی کیفیت کا عکس ہوتا ہے۔جو دل میں سکون رکھتا ہے، اس کی شخصیت میں ٹھہراؤ ،زبان میں نرمی ہوتی ہے۔جو دل میں آگ رکھتا ہے، اس کے لفظ بھی جلانے لگتے ہیں۔کسی انسان کو جاننے کے لیے  اس کا ماضی، حال، لباس دیکھنا  یا

0
15