معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



395
5740
نامِ نبی سے تاباں کونین کی سحر ہے
ادراک دے جو اس کا سرکار کی نظر ہے
تعلیم کبریا سے کونین کو ملی یوں
ہر قول مصطفیٰ کا مختار سے خبر ہے
کُن کا جہان روشن اُن کے ورود سے ہے
محور وجودِ ہستی سرکار کا جو در ہے

1
5
زمیں بھی تم ہو مرا آسمان بھی تم ہو
مکیں بھی تم ہو سرِ لا مکان بھی تم ہو
قسم زمانے کے ہر ایک جلوۂ جاں کی
شعورِ ذات میں میرا جہان بھی تم ہو
کلام کرتی ہوئی دھڑکنوں کی ہر دھن میں
تمہیں ہو بہروی ایمن کی تان میں تم ہو

0
5
آن کی آن میں آگ نے دیکھو، آنگن کو سُنسان کِیا
مالی کے گُلشن کو دم میں، بنجر ریگستان کِیا
اپنے سُہاگ کے سپنے سجائے، جوڑا عُرُوسی خریدا تھا
کیا معلوم کہ موت کا اپنی، دُلہن نے سامان کِیا
بند کواڑ جو کھول نہ پائے، آس لگائی کھڑکی پر
آہ سلاخوں نے تھا جکڑا، ظلم یہ کیا نادان کِیا

0
7
خرید لایا تھا بندوق اُس ہی ہفتے میں
اچھالی جب کے تھی عزت کسی نے ہنستے میں
نشانہ باندھ کے برسائیں گولیاں جس پر
ہاں خود کا بھائی بھی شامل تھا اُس ہی دستے میں
اڑایا خود کو تھا جس نے پہن کے بم بستہ
قلم کتاب بھی رکھی تھی اس نے بستے میں

0
5
مجھے بنایا ہے انساں بڑوں کے پالن نے
سکھایا پیار سے رہنا ہے گھر کے آنگن نے
نہ جب سے چھاؤں رہی سر پے میرے والد کی
بھگو دیا ہے مکمل غموں کے ساون نے
یہ صبر ہی ہے جسے اوڑھ کر ہوں پردے میں
چھپا کے رکھا ہے ہر زخم میرے دامن نے

0
6
اِک عمر ہوئی خزاں کو آ کے ملو
اجڑی ہوئی اس فضا کو آ کے ملو
روٹھی ہوئی ہے رُت شاخیں بھی چپ ہیں
اس دل میں بھرے غبار کو آ کے ملو
اب عمر گزرتی ہے فقط یاد کے سائے
اس لمبے سے انتظار کو آ کے ملو

0
3
آرائشِ مکاں میں مکیں کو بھی دیکھنا
کعبے کو دیکھتے ہو جبیں کو بھی دیکھنا
کرتے رہو تلاش اسے کائنات میں
پوشیدہ خود میں یارِ حسیں کو بھی دیکھنا
رو بہ زوال ہیں سبھی یہ عظمتیں یہ شان
جو آسماں کو دیکھو زمیں کو بھی دیکھنا

0
6
برکتیں رمضان کی ہیں تیس روزوں میں نہاں
آسماں سے بٹ رہی ہیں رحمتیں ہی رحمتیں
خوش نصیبی ہے کہ پھر آئی ہیں جیون میں بہار
مائدے پر سج گئی ہیں نعمتیں ہی نعمتیں
صبر بھی تیری عطا ہے، استقامت بھی تری
بچے، بوڑھے اور جواں، یہ تیری ہی ہیں قدرتیں

0
4
کتنا کریم در ہے سرکار مصطفیٰ کا
فیاض سب سے گھر ہے سرکار مصطفیٰ کا
کونین کو سہارا مختارِ دو سریٰ سے
بے حد کرم مگر ہے سرکار مصطفیٰ کا
خاطر حبیبِ رب کی دونوں جہاں میں زینت
ہستی میں بحر و بر ہے سرکار مصطفیٰ کا

1
4
کیپْٹَن صَفْدَر (جُما جَنج نال)!!!
——
شَوہَرِ نامْدار کیا کہنے
صاحِبِ ذِی وَقار کیا کہنے
دَر حَقِیقَت تو جانِ مَحْفِل ہو
یُوں پِھرے خوار خوار کیا کہنے

0
4
اے سرابِ زندگی، ہم نہیں ہوں گے خجل
فیصلہ ہے آخری، فیصلہ ہے یہ اٹل
سوچ کر چلیں گے ہم، چال آخری ابھی
اے بساطِ زندگی، ایک پل بس ایک پل
سجدہ میں کروں تو کیوں، آدمی کے سامنے؟
میں فرشتہ تو نہیں ، اے خدائے لم یزل

0
9
بانٹ کربادۂ عرفاں روزوشب اورماہ وسال
لا کے سیلِ سوزِ عشق صدیقِ اکبر کی مثال
کر کے پروانوں کو بسمل ، کُشتۂِ دردِ دروں
"پاگئ تپشِ سحر یہ قربِ حمدِ لازوال"

0
4
جانتا ہے کہ تجھے کوئی نہیں جانتا تھا
میری تخلیق سے تیرے یہ خدوخال کھلے
تو نہ ظاہر تھا زمانے میں نہ اوجھل تھا کہیں
اک نظر مجھ پہ پڑی اور پھر احوال کھلے
میں امانت تھا ضمانت سے ہی بچ آیا یہاں
تب کہیں جا کے مری ذات پہ اشکال کھلے

0
2
تم سامنے ہو تو دل میں روشنی رہتی ہے
تم دور نظر سے ہو تو بے کلی رہتی ہے
تیری چاہت نے مجھے جینے کا ہنر بخشا
ترے بن دھڑکن میں سست روی سی رہتی ہے
تیری باتوں سے ہوا کو بھی سکوں ملتا ہے
ورنہ موسم میں تو اکثر بے رخی رہتی ہے

0
4
تونے چاہا تو ترے نام لگا دی ہم نے
اپنی ہستی بھی مرے عشق مٹا دی ہم نے
دل کے رستے میں رکاوٹ تھی انا کی دیوار
توڑ کر ضبط کے پہروں کو گرا دی ہم نے
گمشدہ کوئی کہانی کا سفر تھا اپنا
خواب بنتے ہوئے اک عمر گنوا دی ہم نے

0
8
کافور کر دے غم جو سرکار کی نظر ہے
طالع ہیں بنتے جس جا سرکار کا وہ در ہے
ہیں پالنے میں لیٹے دیکھیں کھلونے اُن کے
ایما پہ مصطفیٰ کے آکاش کا قمر ہے
آمد سے مصطفیٰ کی یسرب بنا مدینہ
کتنا حسین یارو سرکار کا نگر ہے

1
11
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

191
7625
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

395
5740
السلام علیکم ، اللہ کرے سب بخیر و عافیت ہوں۔سورۃ الفاتحہ کا منظوم ترجمہ مطلوب ہے۔

0
3
71