معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



401
6221
مگر یزید کو لعنت بہت ہی پیاری تھی
جبھی تو اس نے تھی لعنت سمیٹ لی ساری
بہایا خونِ مقدس زمینِ کربل پر
تھی اس پہ خود ہی بہت جھوٹی آہ و زاری کی
سو اس طرح سے تھی بد طینتی کُھلی اُس کی
نہ پا سکا تھا وہ مقصد جو اُس کی خواہش تھی

0
2
کروں میں تذکرہ پُر درد واقعے کا ابھی
تو تھام لو سبھی اپنے جگر کو دل کو بھی
نہ سن سکو گے کہ سننے کو چاہیے ہمت
یہ بات پیارے نبیؐ کے ہے نواسے کی
جو آ گیا ہے محرّم تو یاد آئے وہ
دیارِ غیر میں گزری تھی جن پہ ان ہونی

0
ہیں بے شمار تارے ہر آسماں میں یارب
سیارے بھی ہیں لاکھوں ہر کہکشاں میں یارب
جب تک نہیں ملے گا انساں مجھے خلا میں
تب تک ہوں میں اکیلا تیرے جہاں میں یارب

0
1
سوا ل کرتی ہے میری چٹوری رگ مجھ سے
کہ ٹوٹ پائی نہ کیوں ضبط کی گزگ مجھ سے
یہ لوگ توبہ کریں پیار سے ، بتادوں گر
جو لوگ پوچھتے ہیں میری تاز و تگ مجھ سے
جوان جسم کو ارمان تنگ کرتے ہیں
سنبھل رہی نہیں بابا سفید پگ مجھ سے

6
چھپا جس کے ذروں میں مہر و قمر ہے
مدینہ یہ اُن کا وہ نوری نگر ہے
حسیں روضہ اُن کا سنہری وہ جالی
کہاں اعلیٰ اتنا جو لعل و گہر ہے
سجے دونوں عالم مدینے سے ایسے
یہ سینہ جہاں کا یہ جان و جگر ہے

0
2
کوئی باقی اے خواہش وچ
انج تصویر جکن بارش وچ
۔
منیا ہر شے تے نئیں لبھدی
کوئی حرج تے نئیں کوشش وچ
۔

0
7
کیا ضروری ہے کہ ہر بات بتا دی جائے
کیا ضروری ہے کہ ہر راز سے پردہ اٹھے
کیا ضروری ہے کہ ہر پیڑ پے پھل ہی آئیں
کیا ضروری ہے کہ ہر شاخ  ہو پھولوں والی
کیا ضروری ہے کہ ہر سنگ سے چشمہ پھوٹے
کیا ضروری ہے کہ ہرسیپ سے موتی نکلے

0
8
علی کے لاڈلے نانا کی جان لکھتے ہیں
حسین ابن علی ہیں مہان لکھتے ہیں
بہت لکھی گئی نظمیں غزل قصیدے اب
غم و علم کی چلو داستان لکھتے ہیں
وہ کربلا کی زمیں اور وہ منظر شہداء
لرز گئے تھے یہ دونوں جہان لکھتے ہیں

0
6
تم نے لکھا ہے مرے نام کہ ہر شام ڈھلے
اک تھکا جسم سمیٹے دل بوجھل کو لئے
تم نکلتے ہو جو دفتر سے گھر کے لیے
راہ میں جلتے ہوئے بجلی کے چراغ
اور بھی تم کو غمناک کیے دیتے ہیں
مرکز شہر میں لوگوں کے بے فکر ہجوم

0
10
چومنے کے ہی باب ہیں دونوں
ہونٹ بالکل گلاب ہیں دونوں
آنکھیں دیتی ہیں دعوتِ مے کشی
ملحدانِ نقاب ہیں دونوں
گوشہِ گل کی نازکی ہائے
لعل و گوہر کے خواب ہیں دونوں

0
7
مرا دل چرا لیا ہے اسی پیار کے بہانے
کہیں اور دور رہتے لگے ہوتے ہم ٹھکانے
تری ایک مسکراہٹ نے بدل دی میری دنیا
ہمیں مل گئے تھے ورنہ وہ غموں کے آشیانے
تری یاد کے سہارے ہی کٹی ہے رات ساری
نہ چراغ تھے میسر نہ کہیں تھے باد خانے

0
5
بَد دُعائیں یَزید کو دُوں تو!!!
‎کیسے سَہمے ہُوئے ہیں، کیا بولوں
‎حَرْفِ نَفْرِین بھی نَہِیں کَہتے
‎بَد دُعائیں یَزید کو دُوں تو
‎لوگ آمِین بھی نَہِیں کَہتے

0
5
صدیوں سے ہر زباں پہ ثَنائے حسینؑ ہے
مومن تو ہر زماں میں فِدائے حسینؑ ہے
جنت کے ہر مکاں میں ضِیائے حسینؑ ہے
جنت اُسی کی ہے جو گَدائے حسینؑ ہے
فرمانِ مصطفٰیؐ ہے کہ مُجھ سے حسینؑ ہیں
گویا کہ مصطفٰیؐ میں بِنائے حسینؑ ہے

0
17
روند کر عرشِ جاں مصلحت آ گئی
چھوڑ کر کہکشاں مصلحت آ گئی
بیچ کچھ بھی نہ تھا اور پھر ایک دن
دونوں کے درمیاں مصلحت آ گئی
ہم وہاں ہیں جہاں صلح ممکن نہیں
ہم جہاں تھے وہاں مصلحت آ گئی

4
تاریکیوں میں گھر ہے ماہِ منیر کا
دل ہے چراغِ روشن غم کے اسیر کا
اعزاز پا رہا ہے مرنے کے بعد جو
بے دام بک گیا تھا فن اس حقیر کا
صحرا نورد گھر کو لوٹے بھی ہیں کبھی
کیوں دیکھتے ہو رستہ مجھ راہ گیر کا

0
7
ناکام سے اک عشق میں رجحان باقی رہ گئے
پھر پاس میرے یادوں کے سامان باقی رہ گئے
اک شخص قسمت میں کسی بھی طرح سے شامل نہیں
پھر بھی اسی کے ملنے کے امکان باقی رہ گئے
ملتی نہیں کوئی رہائی ان غموں سے کیوں مجھے
اب زندگی میں کونسے بحران باقی رہ گئے

0
8
چانے پینے وہی اک شور مچانے آتے
دوست بچھڑے ہوئے پھر ساتھ نبھانے اتے
چھت ٹپکتی ہے مری بارشوں کے موسم میں
ہم بھی رو لیتے اگر یار پرانے آتے
باقی کچھ بھی نہ بچا بیچ ہمارے رشتہ
گر کوئی ہوتا تعلق تو منانے آتے

0
4
متّفق ہم اگر نہیں ہوتے
اتنے شیر و شکر نہیں ہوتے
جاں کی بازی لگانی پڑتی ہے
معرکے یونہی سر نہیں ہوتے
کارواں کب کا لٹ چکا ہوتا
ہم اگر باخبر نہیں ہوتے

2
50
ڈوبتی ہے نبضِ دوراں ، کچھ کرو
شاعرو، دانش ورو، دیدہ ورو
گر نہیں مرہم ، نمک پاشی سہی
یہ تو کچھ مشکل نہیں؟ چارہ گرو
کچھ نہ کچھ نادان مل ہی جائیں گے
روز ہی اک بت تراشو ، آذرو

2
30
یہ کیسی رت ہے کہ زنجیر بولنے لگی ہے
فضا بھی کرب کے اشعار گھولنے لگی ہے
وہ ایک بیٹی جو صحراؤں کی صدا ٹھہری
اسی کے نام سے ایوان کانپنے لگے ہیں
وہ جس کے لب پہ دعا تھی نظر میں روشنی تھی
ستم کی دھوپ اسے بھی نگلنے نکلی ہے

6
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

401
6221
.Enroll now for the NEBOSH (UK) International General Certificate (IGC) in OHS and take the next step in your safety career

0
307
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

195
7914