معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



402
6302
حیا سے جھکی تو دعا بن گئی
خدا سے ملی تو ضیا بن گئی
جو خوفِ خدا میں ہمیشہ رہی
نظر روح کی وہ غذا بن گئی
چلی بے حیائی کے رستے پہ جب
وہ سارے بدن  کی سزا بن گئی

0
1
بزمِ چراغِ درد میں ہر دل جلا ہوا
ہر سمت غم کا ایک سمندر بچھا ہوا
ویران دل کے شہر میں آہٹ نہ تھی کہیں
بس دردِ دل تھا، خامشیوں میں بسا ہوا
ہر آنکھ خوابِ زیست کی میّت اٹھائے تھی
ہر شخص اپنے کرب کا پیکر بنا ہوا

0
3
میرے مولا! تُو گناہوں سے بچانا دل کو
اپنے محبوب کی الفت میں سجانا دل کو
حرصِ دنیا کی ہوا آئے تو محفوظ رہے
اپنی رحمت کے حصاروں میں چھپانا دل کو
نفس و شیطان کے چنگل سے بچائے رکھنا
راہِ عرفاں کا مسافر ہی بنانا دل کو

3
سو ہے پابندِ سَلاسِل ہاشمی!!!
——
سَخت حَیرَت ہے مُجھے اِس بات پَر
جُرْم میں واضِح تَفاوُت ہے تو کیا؟
جُرْم کی شِدَّت سے اّللّہ کی پَناہ
چُونْکہ تَکْڑا ہے سو با وَصْفِ جُنُوں

0
2
ہے فیاض در یہ رسولِ خدا کا
سخی پیارے ہادی ضیائے الہ کا
چمک اس سے پائیں فلک کے ستارے
ہے روشن مقدر نبی کے گدا کا
رسائی ہے ملتی کرم سے نبی کے
دیالو ہے در یہ شہے دو سریٰ کا

2
مضبوط سرکار سے مجبور جمہوریت
نادار و مفلس سے ہے اب دور جمہوریت

0
4
دِل میں عِشْقِ یار کا یوں ہی دِیا رَوشَن رہے
ذِکْرِ حَق سے رُوح کا یہ سِلْسِلَہ رَوشَن رہے
حق کی منزل سامنے ہو دل میں ہو سوز و گداز
نُورِ اِیماں سے ہَمیشہ راستہ رَوشَن رہے
مُصْطَفٰی ﷺ کی آل سے وابَسْتَگی ہو اِس قَدَر
زِنْدَگی کا ہر وَرَق، ہر مَرْحَلَہ رَوشَن رہے

8
روشنی کم ہو گئی، سائے نمایاں ہو گئے
خواب کیا بکھرے کہ رستے اور ویراں ہو گئے
تذکرہ جن کا کیا تھا ہم نے گلشن میں کبھی
اب وہی قصے مری جاں، دردِ پنہاں ہو گئے
ہم نے جن کو دے دیا تھا زندگی کا ہر ورق
وقت کے ہاتھوں وہی، اک بابِ عنواں ہو گئے

6
گوشہ نشیں ہوں کب سے گویا نہیں ہوں میں
لیکن یہ معجزہ ہے کہ تنہا نہیں ہوں میں
جب سے ہوئی ہے دولتِ عرفاں مجھے نصیب
دنیا میں رہ کے شاملِ دنیا نہیں ہوں میں
دل میں چراغِ شوق ہے بجھتا نہیں ابھی
حالات سے شکستہ ہوں، ٹوٹا نہیں ہوں میں

1
10
پتھر
خواب جیسا حسین منظر ہے
بند کمرہ ہے، ساتھ دلبر ہے
تیز برسات، سخت جاڑا ہے
اور آغوش میں ستمگر ہے
مست آنکھوں سے مے چھلکتی ہے

0
86
حاصلِ جرم ہے جہاں، روزِ جزا ہے کس لئے
دارِ عمل ہے یہ اگر رسمِ دعا ہے کس لئے
نغمۂ سازِ زندگی، تیری سمجھ نہ آ سکی
اونچے سروں کی چال میں دل کی صدا ہے کس لئے
عشق ہے کارِ بے ریا  ، نام کی کیوں ہوئی ہوس
دار پہ رفعتیں ملیں اب یہ گلہ ہے کس لئے

0
7
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

402
6302
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

196
7957
.Enroll now for the NEBOSH (UK) International General Certificate (IGC) in OHS and take the next step in your safety career

0
473