معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



414
6562
شروع ہی کب ہوا تماشا ابھی تو پردہ پڑا ہوا ہے
ابھی تو مشکل پڑی نہیں ہے ابھی سے کھٹکا لگا ہوا ہے
ابھی تو راہِ وفا میں پہلا قدم بھی تیرا نہیں پڑا ہے
ابھی سے ہی تو ہے کیوں گریزاں ابھی تو درد آشنا ہوا ہے
تمام شب جس کی روشنی سے کیا گیا خوب استفادہ
ہوئی سحر تو وہ ہم نے دیکھا چراغِ دل ہی بجھا ہوا ہے

0
1
مجھ کو ضیائے معرفت جلوۂ آشکار کر
یا مری تیرہ خاک کو شعلۂ بے قرار کر
سجدۂ ناروا سے بچ، در پہ جھکا نہ اپنا سر
بندۂ حق بنا مجھے، حاکمِ روزگار کر
چھین لے عقلِ نارسا کا یہ فریب اور طلسم
قلب کو پھر سے محرمِ نغمۂ کوہسار کر

0
3
ابتدا عشق کی، پھر ہوتی ہے، انجام کے بعد
"حوصلہ اور بڑھے، کوششِ ناکام کے بعد"
لائقِ دید ہیں، مدہوش کے، چشمانِ مست
ساقیا اور پلا، جام، ہر اک جام کے بعد
موند لی، آنکھیں جو دیکھا، ترے جلوے کا جمال
صبح آئی ہی نہیں، پھر کبھی، اُس شام کے بعد

0
1
موجِ جنوں کو، اپنے ہی اندر اٹھا لیا
"قطرہ اٹھا، اور اٹھ کے سمندر اٹھا لیا"
جب بارِ عشقِ یار، کسی سے، نہ اٹھ سکا
تو بارِ عشق، تنہا قلندر اٹھا لیا
قتلِ فسادِ دل کے لیئے، عشقِ یار نے
خنجر اٹھا لیا، کبھی نشتر اٹھا لیا

0
2
اپنے سارے بھرم رہ گئے
ان کے لطف و کرم رہ گئے
کیا کرائم تھے کم رہ گئے
عشق میں باقی غم رہ گئے
آپ دیکھے ہماری طرف
"آئنہ بن کے ہم رہ گئے"

0
2
نقشِ کہن سہی پہ مسافر نہیں ہوں مَیں
جو کچھ بھی ہوں صد شُکر کہ ظاہر نہیں ہوں مَیں
دنیائے حسن و عشق کے ہیں دلربا شہود
شاید کسی کسوٹی سے باہر نہیں ہوں مَیں
تیرا خیال آتے ہی ہوتا ہوں اشکبار
آخر کو اک وجود ہوں پتھّر نہیں ہوں مَیں

0
1
76
بے صدا چیخوں سے اب یہ عہد ویراں ہو چکا ہے
لب سیے میں نے، نظامِ ملک زنداں ہو چکا ہے
دی صدائیں عمر بھر اس خفتہ بستی کو مگر اب
چیخ میری مر گئی پر ذہن ناداں ہو چکا ہے
بک رہا ہے عدل ایوانوں کی منڈی میں سرِ عام
آدمی سستا ہوا اور خون ارزاں ہو چکا ہے

0
2
قَوّال کو سُر تال کی رہتی ہے ضرورت
عُشّاق کو احوال کی رہتی ہے ضرورت
میں "حال" میں رہتا ہوں، کہ بے حال نہیں ہوں
بے "حال" کو اقوال کی رہتی ہے ضرورت
جو حال سنائے مُجھے "اَذْکُرْ" کی بشارت
ہر حال میں اُس حال کی رہتی ہے ضرورت

0
8
ایمرجنسی سَمری پَر دَسْتْخَط والی وِیڈیو چینلز پَر چَلانا زِیادْتی ہے۔ اَفْضَل چَن!!!
——
کَل تَلَک تو آپ تھے جَمْہُورِیَت کے پَیروکار
آج پِھر بیٹھے بِٹھائے آپ کو یِہ کیا ہُوا؟
جو ہُوا اُس پَر نَہِیں ہے آپ کو کُچھ اِعْتِراض
جو دِکھایا جا رہا ہے وہ نَہِیں اَچّھا ہُوا

0
1
ہر طرف بازار میں نرخوں کا اک شور و فغاں ہے
آدمی کے بھاؤ لگنے کا سرِ ماتھا گماں ہے
بات جب بھی حق کی بولے کوئی سچّا آدمی تو
پوچھتے ہیں لوگ کس کا اور کہاں سے یہ بیاں ہے؟
دست و پا کو گرچہ بخشا ہے ہنر تعلیم نے بھی
دل اگر خالی ہے حق سے، پھر یہ کیسا اک جہاں ہے؟

0
5
شبِ فرقت میں کاش ان کی ذرا الفت ہمیں ملتی
غمِ دل سے رہائی کی کوئی صورت ہمیں ملتی
نہ دن کو چین تھا ہم کو نہ شب کو سو سکے پل بھر
غمِ دوراں سے اک پل بھی اگر راحت ہمیں ملتی
جہاں بیگانگی کی دھوپ ہی پھیلی رہی ہر سو
اسی دنیا میں اپنوں کی کوئی رغبت ہمیں ملتی

0
16
وَفَا کے رَستے میں جو مِلی ہیں، عَدَاوَتیں بھی شُمار کَرنا
جو ہَم نے ہَنس کر سَہی ہیں اَب تَک، مَلامَتیں بھی شُمار کَرنا
وہ جِن کے سائے میں کَٹ گئی تھی ہَماری عُمرِ رَواں کی خُوشبُو
بِچھَڑتے لَمحوں کی وہ رَسیلی حِکایَتیں بھی شُمار کَرنا
کَبھی جو فُرصَت مِلے تو دِل کے شِکَستہ خانوں میں جھانک لینا
جو اِس میں مدفون ہو چُکی ہیں، وہ حَسرَتیں بھی شُمار کَرنا

0
3
نفس نفس پہ جو یادوں کی پہرہ داری ہے
خوشا یہ عمر کہ جو قید میں گزاری ہے
-
محبتوں میں خوشی چند پل ہی ہوتی ہے
پھر اس کے بعد شب و روز آہ و زاری ہے
۔

0
3
19
کیوں مرا انتخاب ہوتا ہے
روز روزے حساب ہوتا ہے
ہم وہی بد نصیب ہیں جن کو
خواب میں بھی عذاب ہوتا ہے

6
مری زندگی میں خوشی بھی ہے، مری زندگی میں الم بھی ہے
اِسی بے بسی میں گھری ہے جاں، یہی زندگی کا ستم بھی ہے
کبھی صبحِ نَو کی کرن ملی ، کبھی شامِ غم کی چُبھن ہوئی
کبھی دل میں زندہ اُمنگ رہی، ابھی دل میں دردِ بَہَم بھی ہے
کبھی آنکھ میں وہ سما گئے، کبھی حال دل بھی سنا گئے
کبھی درد دے کے رلا گئے، مرے دل پہ سب یہ رقم بھی ہے

7
ہوش کے ناخُن اگر لیں سَب سِیاسَت دان تو!!!
——
ایک ہو جائیں اگر یِہ بُھول کے سَب اِخْتِلاف
کِس طرح پِھر ”وہ“ نِبَھائیں گے اُمُورِ مَملَکَت؟
کاندھے بننا چھوڑ دیں گَر ایک دُوجے کے خِلاف
چار دِن بھی چَل نَہ پائیں گے اُمُورِ مَملَکَت

0
4
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

414
6562
•─═══﷽═══─•سورۂ فاتحہ کی منظوم ترجمانی(2)شاعر: مہر مہسلائی رحمہ اللہ════❁✿❁════تعارف:قرآنِ مجید کی پہلی سورت سورۂ فاتحہ اپنے اندر توحید، حمد، عبادت، استعانت اور ہدایت کی جامع تعلیمات سموئے ہوئے ہے۔ معروف شاعر”مہر مھسلائی“نے اس عظیم سورت کے مفاہیم کو نہایت سادہ، مؤثر اور دل نشین شعری قالب میں پیش کیا ہے، تاکہ عام قاری بھی اس کے پیغام کو آسانی سے سمجھ سکے۔ملاحظہ فرمائیے:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(اللہ کے نامِ پاک سے ہے آغاز ہمارے کاموں کا)(بے مثل محبت ہے جس کی جو رحم و کرم میں ہے یکتا)۔۔اصل مطلع۔۔آغاز ہمارے کاموں کاہے نام سے تیرے جگ داتاتو رحم و کرم کا سر چشمہ ہے فیض تیرا ہی لہراتاسب حمد تجھے ہی زیبا ہے، تو رب ہے سارے جہانوں کاسب سُورج چاند ستارُوں کا، سب جانوں کا بے جانوں کابے تھاہ سمندر رَحمت کا ، سَرچشمہ مہر و محبت کاخالق ہے عمل کی قوت کا ، اور مالک روزِ قیامت کاہم بندے تیرے اَے آقا ، تیری ہی عبادت کرتے ہیںتوفیقِ اطاعت ، جوشِ عمل کی تُجھ سے چاہت کرتے ہیںہاں راہ دِکھا اُس منزل کی ، جو منزلِ فتح و نصرت ہےاسلاف نے جس پر چل کر پائی دونوں جہاں کی نعمت ہےوہ راہ نہ ہو گُمراہوں کی ، جو تیرے غضب میں آئے ہیںناکامی اور ہلاکت

53
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

196
8055