معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



415
6584
مرے گھر یقیں کی حکومت رہی تھی
سوالوں پہ برسوں ملامت رہی تھی
کسی دن مجھے یہ گماں ہو گیا تھا
کہ جو کچھ ملا تھا، مرا تو نہیں تھا
کتابیں مجھے شک سکھانے لگی تھیں
مرا ذہن میرا مخالف ہوا تھا

0
کبھی تو اُس کی نظر میں ٹھہر کے دیکھتے ہیں
وہ کیا چھپاتا ہے آنکھوں میں، پڑھ کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کو بھی تنہائیوں سے وحشت ہے
سو اس کے ساتھ کوئی شام کر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کی ہنسی میں چھپا ہے اک غم بھی
سو اس کی آنکھ میں کچھ پل ٹھہر کے دیکھتے ہیں

0
6
کاش اک بار وہ کچھ دل کی سناتے جاتے
ہم بھی کچھ زخم انہیں اپنے دکھاتے جاتے
عمر بھر جس کو چھپایا تھا زمانے بھر سے
وہی اک راز تمہیں کیسے بتاتے جاتے
ہم تو سمجھے تھے کہ کچھ اور بھی باقی ہے ابھی
تم نے اچھا کیا، یہ وہم مٹاتے جاتے

0
3
جھوٹ کا اس دور میں چرچا بہت ہی عام ہے
سچ مگر سولی چڑھا، کتنا برا انجام ہے
​بے گناہوں کے لیے تو، طوقِ زنداں ہے یہاں
قاتلوں کو مل رہا اب، شہر میں انعام ہے
​دولتوں کی دوڑ میں اندھا ہوا ہے ہر بشر
دعویِٰ تہذیب تو ہے، پر طبیعت خام ہے

0
6
غزل
گدگدی دل میں مرے ہونے لگی
شوخ تکیے سے لپٹ سونے لگی
وَقتِ رُخصت جوش سے بَوسے لئے
پھر رَگڑ کر سب نشاں دَھونے لگی
حُسن سے پہلو تہی ممکن نہیں

0
32
پاکستان میں اَمرِیکہ کی ناظِمُ الاُمُور نیٹلی اے بیکر کی پُھرتیاں!!!
——
کافی جَلدی میں لگتی ہے سَب سے پہلے پُہنچی ہے
لگتا ہے یِہ بی بی کوئی کام دِکھا کے چھوڑے گی
لگتا ہے ایمرجنسی کی دال میں بھی کُچھ کالا ہے
لگتا ہے یِہ بی بی مَعْدَنِیّات لے جا کے چھوڑے گی

0
4
تعلق توڑ آیا ہوں
محبت چھوڑ آیا ہوں
حقیقت سامنے ہوگی
میں بھانڈا پھوڑ آیا ہوں
اسے بھی لگ پتا جائے
میں تحفے موڑ آیا ہوں

0
3
یکجا تھے سارے فہم و فراست میں پست لوگ
قبلہ بنے ہوئے تھے قبیلہ پرست لوگ
لگتا ہے چھو گیا اُنھیں وہ وحشتِ جنوں
اِس طرح اپنے آپ میں رہتے ہیں مست لوگ
کیا خوب ہر طرف ہے ترقّی کی دھوم دھام
کشکول تھامے پھرتے ہیں کاسہ بدست لوگ

0
8
سِتَم تیرے نَہ ہونے کا جو جھیل اَب بھی رَہا ہُوں مَیں
یِہ کَیسا اِک تَماشا ہَے جو کھیل اَب بھی رَہا ہُوں مَیں
​کَمی مُجھ مَیں ہی اَیسی ہَے کِہ تیرا ہَر کَہا مَانا
تَبھی اِس اِمتِحاں مَیں خُود جو فیل اَب بھی رَہا ہُوں مَیں
​مُحَبَّت کے زَمانے مَیں جو لِی تھِیں چُوڑِیاں مَیں نے
مُحَبَّت رَہ نَہ پائی، کَر تو سیل اَب بھی رَہا ہُوں مَیں

0
3
مری کوئی عیادت کو نہ آئے
مرا ہوں یار زندہ تو نہیں ہوں

0
4
گزرے ہم پر عذاب لکھیں گے
عشق پر ہم کتاب لکھیں گے
لکھیں گے ہر ستم زمانے کا
اس پہ تیرا شباب لکھیں گے
سر کو چڑھتا ہے اک نشہ جن کا
ہم وہ آنکھیں شراب لکھیں گے

0
1
اخلاق و عمل کے پیکر ہیں وہ فخرِ چمن مولانا رفیق
اور علم و ہنر کے محور ہیں وہ تاجِ سُخَن مولانا رفیق
الفاظ میں موتی بکھرے ہیں، انوارِ ہُنَر بھی نکھرے ہیں
ہر حرف سے چشمے ابھرے ہیں، وہ علمی گَگَن مولانا رفیق
لہجے میں خوشی کا نغمہ ہے، ہنس ہنس کے پڑھانا شیوہ ہے
نورانی سا روشن چہرہ ہے، وہ مشک خُتَن مولانا رفیق

0
6
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

415
6584
•─═══﷽═══─•سورۂ فاتحہ کی منظوم ترجمانی(2)شاعر: مہر مہسلائی رحمہ اللہ════❁✿❁════تعارف:قرآنِ مجید کی پہلی سورت سورۂ فاتحہ اپنے اندر توحید، حمد، عبادت، استعانت اور ہدایت کی جامع تعلیمات سموئے ہوئے ہے۔ معروف شاعر”مہر مھسلائی“نے اس عظیم سورت کے مفاہیم کو نہایت سادہ، مؤثر اور دل نشین شعری قالب میں پیش کیا ہے، تاکہ عام قاری بھی اس کے پیغام کو آسانی سے سمجھ سکے۔ملاحظہ فرمائیے:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(اللہ کے نامِ پاک سے ہے آغاز ہمارے کاموں کا)(بے مثل محبت ہے جس کی جو رحم و کرم میں ہے یکتا)۔۔اصل مطلع۔۔آغاز ہمارے کاموں کاہے نام سے تیرے جگ داتاتو رحم و کرم کا سر چشمہ ہے فیض تیرا ہی لہراتاسب حمد تجھے ہی زیبا ہے، تو رب ہے سارے جہانوں کاسب سُورج چاند ستارُوں کا، سب جانوں کا بے جانوں کابے تھاہ سمندر رَحمت کا ، سَرچشمہ مہر و محبت کاخالق ہے عمل کی قوت کا ، اور مالک روزِ قیامت کاہم بندے تیرے اَے آقا ، تیری ہی عبادت کرتے ہیںتوفیقِ اطاعت ، جوشِ عمل کی تُجھ سے چاہت کرتے ہیںہاں راہ دِکھا اُس منزل کی ، جو منزلِ فتح و نصرت ہےاسلاف نے جس پر چل کر پائی دونوں جہاں کی نعمت ہےوہ راہ نہ ہو گُمراہوں کی ، جو تیرے غضب میں آئے ہیںناکامی اور ہلاکت

54
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

196
8066