معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



395
5861
مدینے کے نوری جو گلزار ہیں
وفورِ عطا سے یہ سرشار ہیں
فضائے مدینہ ہے رحمت بھری
یہاں پر تجلیٰ کے انوار ہیں
اماں دیں یہاں پر حبیبِ خدا
یہاں جانِ جاناں کے دربار ہیں

0
1
5
مری یہ بات ہے وہم و گمان سے آگے
بچھا ہوا ہے جال اس مچان سے آگے
یہ رنگ و نور کا میلہ فریب ہے سارا
حقیقتیں ہیں سبھی اِس جہان سے آگے
یہ کنجِ بستہ لگتا ہے اب کوئی زنداں
نظر اٹھاؤ ذرا اس مکان سے آگے

0
7
پاک اَفْغان کَشِیدَگی!!!
——
اِک جُھوٹ بَھرے اَفْسانے کا اَنْجام یَہی تو ہونا تھا
دُشمن کو گَلے لَگانے کا اَنْجام یَہی تو ہونا تھا
سَب قَوْم شَہِیدوں کے صَدَْقے لیکن یِہ بات حَقِیقَت ہے
سانپوں کو دُودْھ پِلانے کا اَنْجام یَہی تو ہونا تھا

0
3
ہَمیشہ کام آتی ہے یہ نِسبت ہی فقیروں کی
بَھلا ہو اِن فقیروں کا جو نِسبت کو نِبھاتے ہیں

0
3
دیکھ کر وہ حَشر میں اِن عاشقوں کے نُور کو
مُنکرینِ نُور بھی مانگیں گے صَدقہ نُور کا

0
6
دل کی دیوار اگر ضد سے بنی ہو، تو پھر
آئینہ سامنے رکھ دو، نظر آئے ہی نہیں

0
2
بُرا ہوں کہ اچھا ہوں
یہ رب جانے میں کیا ہوں
یوں مت کاٹ دل میرا
ابھی کچھ میں زندہ ہوں
دو بُوندیں بھی کیسے دوں
میں خود تِشنہ دریا ہوں

0
8
دل کی حالت بدل گئی ہوگی
بات آگے نہ چل سکی ہوگی
پاس رہ کر نہ بات کر پائیں
ہائے کس کی نظر لگی ہوگی
دل میں شکوے زباں پہ تالے ہوں
بے بسی جیسی بے بسی ہوگی

0
7
رقیہ…
کاش
تم ایک بار میرے اشک دیکھتیں،
وہ اشک
جو کسی حادثے کے نہیں تھے،
جو کسی کمزوری کے نہیں تھے—

0
6
رقیہ…
میں نے تم سے کبھی بلند آواز میں محبت نہیں کی،
میرا عشق ہمیشہ آہستہ بولا ہے—
اتنا آہستہ
کہ شاید تم سن نہ سکیں،
مگر اتنا گہرا

0
7
رقیہ…
ابنِ انشاء نے سچ ہی تو کہا تھا—
*دیوانوں کی سی بات نہ کرے تو اور کرے دیوانہ کیا*
سو میں نے بھی دیوانگی اختیار کی،
مگر شور کی نہیں،
خاموشی کی۔

0
5
رقیہ…
میں نے تم سے کبھی شور میں بات نہیں کی،
میری ساری گفتگو خاموشیوں کی تحریر تھی۔
میں نے ہونٹ نہیں کھولے،
مگر دل نے تمہارا نام
اتنی بار دہرایا

0
8
بس برا رہا ترے بعد حال کیا کریں
جو کرے نہیں کوئی دیکھ بھال کیا کریں
آج خودکشی کا آیا خیال کیا کریں
حوصلہ نہیں رہا اور مجال کیا کریں
مشورہ دیا کسی معتبر نے پھر ہمیں
جو حرام ہے اسی کو حلال کیا کریں

0
4
تسکین میرے دل کی جاں کا قرار تم ہو
میں گل خزاں رسیدہ آقا بہار تم ہو
تیرے قدم سے روشن بزمِ جہاں ہوئی ہے
ہم عاصیوں کے شافع محشر حصار تم ہو
تم چاند ہو عرب کا تم روشنی عجم کی
جتنے ستارے رب کے سب کا مدار تم ہو

0
5
خوشیاں جو رمضان ہے لایا
بخشش کا سامان ہے آیا
برکت والی دھوم ہے ہر جا
سر پر ہے غفران سے چھایا
لوٹیں سارے رحمتِ باری
لنگر ہیں مختار کے جاری

1
5
چُم کے تلیاں ہیر نے میری، سرگی آن جگایا
بھاگ بھری نے بھر کے لوٹا، ہتھ مُنہ میرا دھوایا
دستر خوان سجا کے سوہنڑا، مینوں آن بٹھایا
میرے رانجھن کر لے سحری، مِٹھڑا بول سُنایا

0
7
شَہباز شَرِیف اور بیرُونی دَورَہ جات!!!
——
غَیْر مَمالِک میں ہی پائے جاتے ہیں
پِھر بھی جَھلَک دِکھلا جاتے ہیں غَلَطی سے
دَورے پَر ہوں جب ہَمسایَہ مُلْکوں کے
پاکستان بھی آ جاتے ہیں غَلَطی سے

0
4
فَاَیْنَمَا کے حَسیں خُمار میں ہوں
فَثَمَّ کے اِنتظار میں ہوں
تُوَلُّوْ کہا گیا ہے مُجھ سے
میں اِس لیے تو قَرار میں ہوں

1
10
پی سی بی اور قَومی کِرْکِٹ ٹِیم کی اعلیٰ کار کَرْدَگی!!!
——
کھیلنے اور کِھلانے والے سَب کے سَب اِک جیسے ہیں
کُنْبَہ پَرْوَر، لُولے، لَنگْڑے، اَنْدھے، گُونگے، بَہْرے ہیں
پی سی بی والوں کا بھی سَب حُقّہ پانی بَند کریں
ٹِیم سے بھی کَہہ دیں اُن کے باقی روْزے اَٹھ پَہْرے ہیں

0
3
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ الفاظ صرف آوازیں ہیں، چند جملے ہیں جو لبوں سے نکل کر فضا میں بکھر جاتے ہیں۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔لفظ کبھی خالی نہیں ہوتے اپنا اثر رکھتے ہیں وہ ہمارے باطن کے عکاس ہوتے ہیں،لفظ ہماری سوچ، ہمارے تجربات، ہماری نیت اور ہمارے اندر چھپی دنیا کو آشکار کرتے ہیں۔جو کچھ ہم بولتے ہیں، وہ اچانک پیدا نہیں ہو جاتا۔ وہ ہمارے ذہن کی زمین میں بویا گیا  بیج ہوتا ہے، جو  خیال بنتا ہے، اور آخرکار لفظ کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ذہن ایک کھیت کی مانند ہے۔اگر اس میں علم کے بیج بوئے جائیں، مثبت سوچ کا پانی دیا جائے اور اچھی صحبت کی دھوپ اور چھاؤں ملے، تو ، سچائی اور حکمت کی فصل اگتی ہے۔لیکن اگر اسی زمین میں نفرت، حسد، بدگمانی اور جھوٹ کے کانٹے بو دیے جائیں، تو زبان سے نکلنے والے الفاظ تلوار سے زیادہ تیز اور  نیزوں کی طرح چبھنے لگتے ہیں۔ لفظوں کے ساتھ لہجہ  اندر کی کیفیت کا عکس ہوتا ہے۔جو دل میں سکون رکھتا ہے، اس کی شخصیت میں ٹھہراؤ ،زبان میں نرمی ہوتی ہے۔جو دل میں آگ رکھتا ہے، اس کے لفظ بھی جلانے لگتے ہیں۔کسی انسان کو جاننے کے لیے  اس کا ماضی، حال، لباس دیکھنا  یا

0
7
اس سائٹ کو بنانے کے لئے درج ذیل #سافٹوئر اور #ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے:بیک انڈ پر  c# اور Net Core 3.1. کا استعمال کیا گیا ہے۔ کلائنٹ سائڈ پر JavaScript اور  JQuery  کا استعمال ہے - یوزر انٹرفیس اور سٹائلنگ کے لئے  Boostrap 4.5   کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس سائٹ پر نہائت خوبصورت مہرنستعلیق ویب فانٹ کا استعمال کیا گیا ہے جس کے لئے ہم  مشہور خطاط نصر اللہ مہر صاحب اور  ان کے صاحبزادے ذیشان نصر صاحب کے نہایت شکر گزار ہیں۔سائٹ کا لوگو بھی ذیشان نصر صاحب کا ڈیزائن کردہ ہے۔ اس کے علاوہ اردو محفل کے اراکین کا بھی شکریہ جو کہ مفید مشوروں سے نوازتے ہیں۔اردو کیبورڈ کے لئے yauk  اور  اردو ایڈیٹر کیبورڈ سے استفادہ کیا گیا ہے۔ورژن 1 کا سورس کوڈ گٹ ہب پر موجود ہے۔ 

16
778