معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



401
6242
ہاتھ جو آتا کبھی، پھر سے مچلنے جاتے
دامنِ یزداں سے یہ خواب لپٹنے جاتے
جامۂ صد چاک ہمیں وجہِ تفاخُر تو نہ تھا
شہر میں تھا ہی مگر کون کہ ملنے جاتے
دشتِ تنہائی میں خود سے بھی جو ملنا چاہا
ہم بھی ایسے تھے کہ رستے سے بدلنے جاتے

0
3
میں تم کو بھی یوں محبت میں ڈھال سکتا ہوں
خیالِ دل میں نیا رنگ اُبھار سکتا ہوں
اگر تمہارا اشارہ ذرا سا مل جائے
میں خشک شاخ پہ موسم اُتار سکتا ہوں
وفا کے حرف مری روح میں اتر جائیں
وفاؤں کو نئے رنگوں میں ڈھال سکتا ہوں

0
5
میں زندگی کو کس کے غم میں مٹا رہا ہوں
ماں اتنا تو بتا یہ غم کیوں اٹھا رہا ہوں
ہے کون سی کمی جو مجھ کو ستا رہی ہے
کس درد کی تپش میں خود کو جلا رہا ہوں
ماں اتنا تو بتا یہ غم کیوں اٹھا رہا ہوں
ٹوٹا ہوا ہے دل بھی نم ہیں مری نگاہیں

0
3
مٹی کی خوشبو میں جنت بستی تھی
ہر دل میں الفت کی دولت بستی تھی
صحنوں میں بچوں کی ہنسی گونجتی رہتی
بوڑھوں کی باتوں میں حکمت بستی تھی
رشتوں کی خوشبو ہر اک سو پھیلی تھی
آنکھوں میں چاہت کی رونق بستی تھی

0
9
نبی جی نبی جی ندا کر اے دل تو
مدینہ میں پہنچوں صدا کر اے دل تو
ہو یادِ نبی میں بسر زندگی یہ
سدا ذکرِ صلِّ علیٰ کر اے دل تو
نظر سبز گنبد پہ آئے جو میری
حسیں آئے موقع ثنا کر اے دل تو

0
4
اس نور کی وادی کے ذروں میں اُجالا ہے
برکھا ہے یہاں نوری ہر جلوہ نرالا ہے
کونین درخشاں ہے انوارِ مدینہ سے
اس شہرِ منور پر اک نور سے ہالہ ہے
سلطان بھی دیکھو گے سائل ہیں مدینے میں
جو دان ملے اس جا ہر حال میں اعلیٰ ہے

0
1
5
گرد اٹھتی جا رہی ہے
آنکھ بھی دھندلا رہی ہے
اس کی بھی تشریح تو کر
ریت دریا کھا رہی ہے
میں نے جس چڑیا کو پالا
مجھ سے کیوں گھبرا رہی ہے

0
7
ملحد ہوا ہے کوئی محبت سے اس طرح
جیسے کبھی وہ اسکا پجاری ہی نہیں تھا

0
7
گھنگھرو کب تک بولیں گے؟
پائل کب تک کھنکے گی؟
زلفیں کب لہرائیں گی
چوڑی کب تک چھنکے گی؟
کھن کھن تیری محو کرے
دنیا کب تک بھٹکے گی؟

0
7
عمر بھر مٹی کی خوشبو سے معطر ہم رہے
شہر میں رہ کر بھی اپنے گھر کے اندر ہم رہے
​چاند تاروں کی تمنا میں بھٹکتی تھی نظر
دھوپ کی صورت مگر دھرتی کے سر پر ہم رہے
​رزقِ خاکِ تیرہ سے پھوٹے ہیں جتنے رنگ و بو
ان سبھی رنگوں کا حاصل ایک منظر ہم رہے

0
7
خسارا ہی ممکن تھا، سو ہو گیا
ہمارا ہی ممکن تھا، سو ہو گیا
۔
نہ موسیٰ یہاں پر نہ ہی خضر ہیں
کنارا ہی ممکن تھا، سو ہو گیا
۔

0
11
دیکھے ہیں گلستاں میں بہت خاروں کے جھرمٹ
دل نے بھی سنبھالے ہیں شراروں کے جھرمٹ
ریشم سا بدن اس کا، عجب حسنِ مجسم
حیرت میں اتر آئے کئی تاروں کے جھرمٹ
جس راہ پہ اس شوخ نے رکھا قدمِ ناز
اس راہ پہ کھل اٹھے بہاروں کے جھرمٹ

0
9
غمِ عشق تیرے ستم کا اثر ہے
مجھے اب نہ کوئی کسی کی خبر ہے
یوں پھیلا ہوا زہر تیرا ہے مجھ میں
اگر سانس بھی لوں تو جلتا جگر ہے
ترے عشق نے مجھ کو دی ہے یہ شہرت
مجھے جانتا اب تو یہ شہر بھر ہے

0
6
جھوٹ کا تاج ترے سر سے اُتر جائے گا
سچ یہ اک روز ترے سامنے آ جائے گا
وقت لکھتا ہے گواہی بھی حقیقت کے لیے
ہر چھپا راز زمانے میں بکھر جائے گا
حق کی آواز کو دیوار نہ سمجھو ہرگز
یہ صدا ہے کسی دن دل میں اُتر جائے گا

0
12
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

196
7944
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

401
6242
.Enroll now for the NEBOSH (UK) International General Certificate (IGC) in OHS and take the next step in your safety career

0
410