معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



408
6450
جب مری راہ میں ظلمت نے بچھائے پتھر
بخدا اسمِ محمد نے ہٹائے پتھر
انکی نسلیں بھی ہیں مقروضِ دعائے احمد
وہ کہ جن لوگوں نے طائف میں اٹھائے پتھر
چلنے لگتے ہیں شجر اس کا اشارہ ہو اگر
بولنے لگتے ہیں جس ہاتھ پہ آئے پتھر

0
1
ایک غزل: 25 اگست 2026
از: مُصطفےٰ سجاد حیدر
رس تِرا چوُس کے بھنورا تو چلا جائے گا
پیارے سے گُل توُ کھڑا سوچتا رہ جائے گا
منجمِد گُل ہے مگر بھنورا ہے اُڑتا پھِرتا
رس کو گُل کیسے بچائے نہ سمجھ پائے گا

0
دسترس میں جو مری چاند ستارے ہوتے
میں نے سارے ترے قدموں میں ہی وارے ہوتے
یہ الگ بات کہ ہم نے تجھے چاہا ورنہ
تو نہ ہوتا تو کئی لوگ ہمارے ہوتے
تم سے پہلے بھی تو تنہا تھے سرِ محفل ہم
دیکھو ہم آج بھی ، تنہا ہیں ، تمہارے ہوتے

0
1
دستور یار کی بستی کے نرالے دیکھے
اہلِ وفا جہاں زنداں کے حوالے دیکھے
سب رحم کی اپیلیں ہم نے بے سود دیکھیں
منصف ہی سارے اس کے گُن گانے والے دیکھے
رشتوں کی کیمیا کا یہ فارمولا دیکھا
خوں جو سفید دیکھے تو دل ہیں کالے دیکھے

0
1
کاسہ لیسوں کے سروں پر تاج دیکھے
تخت پر ہم نے مداری راج دیکھے
ہاتھوں سے جن کے ہوئے مسند نشیں لوگ
ہاتھوں سے اُن ہی کے وہ تاراج دیکھے
آستینوں میں پلے سانپوں سے ہم نے
دودھ پی کر زہر کے اخراج دیکھے

0
مسافرو۔۔۔!
دبے پاؤں گزر جاؤ
اِس دشتِ خرد فرسا سے
طلسمِ ہوش رُبا سے
جہاں یہ افواہ گردش میں ہے
کہ لوگ بھٹک جاتے ہیں

0
1
سَرحَد یُونِیوَرْسِٹی میں رُونُما ہونے والا ناخُوشگوار واقِعَہ!!!
——
اَپنوں اور غَیروں میں کُچھ تو فَرْق رَہنے دیں
اَب تو ایک لاٹھی سے سَب کو ہانْکنا چھوڑیں
فوج کے گِریباں میں بھی تو جھانْک کر دیکھیں
قَوْم کے گِریباں میں اَب تو جھانکْنا چھوڑیں

0
3
سَرحَد یُونِیوَرْسِٹی میں رُونُما ہونے والا ناخُوشگوار واقِعَہ!!!
——
اَپنوں اور غَیروں میں کُچھ تو فَرْق رَہنے دیں
اَب تو ایک لاٹھی سے سَب کو ہانْکنا چھوڑیں
فوج کے گِریباں میں بھی تو جھانْک کر دیکھیں
قَوْم کے گِریباں میں اَب تو جھانکْنا چھوڑیں

0
5
حُسنِ خُلق کو اپنا زیور بنا کے رکھئے
آقا کی سُنّتوں سے خود کو سجا کے رکھئے
نفرت سے دور رہنا، واللہ زہر ہے یہ
دل میں چراغِ اُلفت ہر دم جلا کے رکھئے
دنیا کے رنگ و بو میں عتیقؔ کھو نہ جانا
دھوکا دہی سے اپنا دامن بچا کے رکھئے

0
4
جلوہ دِکھلا کے سراپائی کا
دے گیا پھِر وہ پتہ بھائی کا
کون جانے بنے گا کل کیا کیا
سیکھا ہے فن وہ گُل کِھلائی کا
کُشتوں کے پُشتے وہ نہیں جانے
اُس کو بس شوق مُسکرائی کا

0
4
تضمین: جو بھی عِرفان کا سائل ہے یا غوث
در شان حضور غوث الاغواث قطب الاقطاب سیدنا غوثِ اعظم شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ
::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
جو بھی عِرفان کا سائل ہے یا غوث
تری جانب ہی وہ مائل ہے یا غوث
ترے بِن وہ کہاں قابل ہے یا غوث

0
9
ہر مَرَض کی شِفا حضور سے ہے
دردِ دل کی دوا حضور سے ہے
لا مکاں کا نشاں نبی اکرم
لا پتہ کا پتا حضور سے ہے
ذکر سرکار کا سکونِ دل
دل کا عہدِ وفا حضور سے ہے

0
4
جتنے بھی ہیں حق نما یا مصطفیٰ
"آپ سب کے رہنما یا مصطفیٰ"
اولیا کی ہے صدا یا مصطفیٰ
انبیا نے بھی کہا یا مصطفیٰ
جب خدا نے ہی نہیں پیدا کیا
کوئی کیا ہو آپ سا یا مصطفیٰ

0
4
وہ اک دن عید عیدوں کا بنانا یا رسول اللہ
ہمیں دربارِ اقدس میں بلانا یا رسول اللہ
وہ رشکِ عید ہو اک دن سُہانا یا رسول اللہ
بلا کر طَیْبہ میں قسمت جگانا یا رسول اللہ
مدینے میں ہمارا جب ہو آنا یا رسول اللہ
نشانِ پاک قدموں کے دکھانا یا رسول اللہ

5
ہَر سانس کو ذِکرِ شَہِ اَبرار سے جوڑو
دُنیا کی طَلَب چھوڑ کے دِل یار سے جوڑو
دو دِن کی حَیاتِی ہے، گُزَر جائے گی آخِر
اس دِل کو عتیق آپ کے دَربار سے جوڑو

0
6
گناہوں میں ڈوبی امم دیکھتے ہیں
بتوں کے ہی دیر و حرم دیکھتے ہیں
اچانک سے اک زیر و بم دیکھتے ہیں
بیاباں میں ابرِ کرم دیکھتے ہیں
دو عالم پہ رب کی نِعَم دیکھتے ہیں
ولادت شہِ مختَتَم دیکھتے ہیں

0
7
دنیا کے رنگ و بو میں دل نہ اسیر کر
ذکرِ خدا سے اپنی ہر شب منیر کر
دو دن کی زندگی ہے، غافل نہ ہو عتیقؔ
عشقِ رسول میں تو خود کو فقیر کر

0
4
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

408
6450
•─═══﷽═══─•سورۂ فاتحہ کی منظوم ترجمانی(2)شاعر: مہر مہسلائی رحمہ اللہ════❁✿❁════تعارف:قرآنِ مجید کی پہلی سورت سورۂ فاتحہ اپنے اندر توحید، حمد، عبادت، استعانت اور ہدایت کی جامع تعلیمات سموئے ہوئے ہے۔ معروف شاعر”مہر مھسلائی“نے اس عظیم سورت کے مفاہیم کو نہایت سادہ، مؤثر اور دل نشین شعری قالب میں پیش کیا ہے، تاکہ عام قاری بھی اس کے پیغام کو آسانی سے سمجھ سکے۔ملاحظہ فرمائیے:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(اللہ کے نامِ پاک سے ہے آغاز ہمارے کاموں کا)(بے مثل محبت ہے جس کی جو رحم و کرم میں ہے یکتا)۔۔اصل مطلع۔۔آغاز ہمارے کاموں کاہے نام سے تیرے جگ داتاتو رحم و کرم کا سر چشمہ ہے فیض تیرا ہی لہراتاسب حمد تجھے ہی زیبا ہے، تو رب ہے سارے جہانوں کاسب سُورج چاند ستارُوں کا، سب جانوں کا بے جانوں کابے تھاہ سمندر رَحمت کا ، سَرچشمہ مہر و محبت کاخالق ہے عمل کی قوت کا ، اور مالک روزِ قیامت کاہم بندے تیرے اَے آقا ، تیری ہی عبادت کرتے ہیںتوفیقِ اطاعت ، جوشِ عمل کی تُجھ سے چاہت کرتے ہیںہاں راہ دِکھا اُس منزل کی ، جو منزلِ فتح و نصرت ہےاسلاف نے جس پر چل کر پائی دونوں جہاں کی نعمت ہےوہ راہ نہ ہو گُمراہوں کی ، جو تیرے غضب میں آئے ہیںناکامی اور ہلاکت

32
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

196
7987