معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



398
6095
واں بزمِ یاراں عروج پر تھی سبھی ستارے تھے اک قمر بس
گھمائی میں نے چہار جانب رکی انہی پر مری نظر بس
وہ ایک لمحہ کہ جس میں اس نے نظر سے میری نظر ملائی
ہوا مبشر یوں سکتہ طاری کہ رات ساری گئی گزر بس

0
1
جو دل میں ہے وہ کہہ ڈالو اے میرے دشمنو
جو کچھ کرنا ہے کر گزرو اے میرے دشمنو
سنو بہر صورت میں مسلماں ہی رہ وں گا
مجھے چاہے کافر کہہ دو اے میرے دشمنو
مرے بغض میں مر جاؤ اے میرے دشمنو
صدائے جرس کو سن لو اے میرے دشمنو

0
2
کہ لطف ایسا ستم ایجاد کر دے
ہمارے دل کو بھی جو شاد کر دے
اڑی پھرتی ہے دل میں خاک میرے
کوئی ویرانہ یہ آباد کر دے
نہیں تقدیر کا کوئی بھروسہ
خرابی کب کوئی افتاد کر دے

0
3
حکیمِ زماں سے لو اچھی دوا
خدا کے ولی سے لو اچھی دعا
دوا اور دعا میں ہوا گر اثر
تو اللہ بھی دے گا مکمل شفا

0
وائٹ ہاؤس عِشائِیَہ میں اَچانَک فائِرِنْگ، بَھگْدَڑ مَچ گئی!!!
——
دُنیا جہان بَھر کی جو جان کے ہیں بَیری
مُوجِب ہیں جَنگ جیسی جو عالَمی وَبا کے
خُود جان پَر بَنی تو آئی ہے یاد نانی
چُوہوں کی طرح کیسے بھاگے ہیں دُم دَبا کے

0
2
کل گزری مری نظروں سے تحریر کسی کی
اور گھوم گئی آنکھوں میں تصویر کسی کی
وا کر گئی ہے مجھ پہ وہ ماضی کے دریچے
شانوں پہ گری زلفِ گرہ گیر کسی کی
ہوتا ہے کسی لمس کا احساس مسلسل
لگتا ہے کہ یادیں ہیں بغلگیر کسی کی

0
3
خوشی کے ہیں سارے سماں مصطفیٰ سے
منور یہ ہستی زماں مصطفیٰ سے
خبر دی نبی کی ہمیں کبریا نے
دہر میں احد کا بیاں مصطفیٰ سے
ورودِ نبی سے ضیا دونوں عالم
زمانے کو حاصل ہے جاں مصطفیٰ سے

0
1
8
لمحاتِ زندگی میں تسلسل نہیں رہا
اور مختصر یہ دل مرا گھائل نہیں رہا
سُر جس کے نام کے مرا دل جاپتا رہا
وہ شخص اب حیات کا حاصل نہیں رہا
اتنے بھی امتحاں نہ لے اے زندگی مری
میں سب لٹا کے ضبط کے قابل نہیں رہا

0
4
اُس محفل کو دلبر ہر بار سجائیں گے
جس مجلس میں طالب سرکار کے آئیں گے
ہے جینا ہجر میں جو یہ جینا کیا جینا
اس خاطر جیتے ہیں سرکار بلائیں گے
اُس وادیٔ طیبہ میں ہیں رنگ بڑے گہرے
ملے اُن سے بلاوہ گر ہم عید منائیں گے

0
2
بیچارہ ڈونَلڈ ٹَرَمْپ!!!
——
ہو بھی نَہِیں رَہی پَر اِس جَنگ کا یِہ خَطْرَہ
لَگتا ہے ٹَل گیا ہے پَر ٹَل نَہِیں گیا ہے
بیچارہ چاہتا ہے کُچھ سَاکھ تو بَچا لے
رَسّی تو جَل گئی ہے پَر بَل نَہِیں گیا ہے

0
2
ہونٹوں سے جب تک یارو دم نہ نکلے
سینوں سے کِینہ کے ورم نہ نکلے
کیسا گلہ اب کیسی یہ شکایت
کچھ اپنے میرے بھی تو کم نہ نکلے

0
6
و لن تاجد لسنۃ اللّٰہِ تبدیلا ہے اشارہ
جو مر جائے شخص وہ تو نہیں آتا ہے دوبارہ

0
2
﷽ﷺ
توحید کے ساغر جو خوشیوں سے پلاتے ہیں
وہ ساقیِ کوثر ہیں کونین سجاتے ہیں
وحدت کے ملیں کاسے دلدار سے طالب کو
طاغوت کے جو نقشے ہستی سے مٹاتے ہیں
رحمت کے ابر اُن سے آتے ہیں غلاموں پر

0
2
اب اس سے نہیں غرض کہ ہارا کیا ہے
مل جائے محبت تو خسارا کیا ہے
یہ جان و دل سب کچھ تم پر فدا ہے
مجھ سے یہ نہ پوچھو کہ تمہارا کیا ہے
جس نے سہا ہو تنہا زمانے کا دکھ
وہ کیسے جانے کہ سہارا کیا ہے

0
7
رکھتی ہے مسلسل ہی پریشان تری یاد
کیوں چھوڑ نہیں دیتی مری جان تری یاد
ممکن ہے کسی روز مری جان ہی لے لے
اس قدر ستاتی ہے اے نادان تری یاد
کٹتی ہے کہاں عمر بھلا یاد سہارے
لگتی ہے مری موت کا سامان تری یاد

0
6
دنیا کی یہ عارضی سی زندگانی ہے کیا؟
دل میں ہے خوف خدا تو حکمرانی ہے کیا؟
مال و زر کی چاہ میں کھو کر نہ رہ جانا کہیں
حرص کی اس آگ میں یہ کامرانی ہے کیا؟
قبر کی تنہائیوں کو یاد رکھنا ہر گھڑی
غفلتوں میں ڈوب کر یہ شادمانی ہے کیا؟

0
5
مومنو! اک دوسرے کی بدگمانی چھوڑ دو
جاہلوں والی ارے علت پرانی چھوڑ دو
دوسروں کے لفظ تو اپنی زباں سے مت سنا
ان کی ہر اک بات کی تم ترجمانی چھوڑ دو
وسوسہ ڈالے اگر شیطان تو انکار کر
ہر کسی کے واسطے زَبَاں چلانی چھوڑ دو

0
3
گم ہو گیا تھا بندہ ایک
شریک غم تھے لوگ انیک
خوب مشورہ ہوا بڑی بات کی گئی
یعنی اسی طرح سے بسر رات کی گئی
اک مشورہ یہ آیا کئی مشوروں کے بعد
پہلے رپٹ لکھاؤ تلاشیں گے اس کے بعد

0
5
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

195
7839
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

398
6095
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ الفاظ صرف آوازیں ہیں، چند جملے ہیں جو لبوں سے نکل کر فضا میں بکھر جاتے ہیں۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔لفظ کبھی خالی نہیں ہوتے اپنا اثر رکھتے ہیں وہ ہمارے باطن کے عکاس ہوتے ہیں،لفظ ہماری سوچ، ہمارے تجربات، ہماری نیت اور ہمارے اندر چھپی دنیا کو آشکار کرتے ہیں۔جو کچھ ہم بولتے ہیں، وہ اچانک پیدا نہیں ہو جاتا۔ وہ ہمارے ذہن کی زمین میں بویا گیا  بیج ہوتا ہے، جو  خیال بنتا ہے، اور آخرکار لفظ کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ذہن ایک کھیت کی مانند ہے۔اگر اس میں علم کے بیج بوئے جائیں، مثبت سوچ کا پانی دیا جائے اور اچھی صحبت کی دھوپ اور چھاؤں ملے، تو ، سچائی اور حکمت کی فصل اگتی ہے۔لیکن اگر اسی زمین میں نفرت، حسد، بدگمانی اور جھوٹ کے کانٹے بو دیے جائیں، تو زبان سے نکلنے والے الفاظ تلوار سے زیادہ تیز اور  نیزوں کی طرح چبھنے لگتے ہیں۔ لفظوں کے ساتھ لہجہ  اندر کی کیفیت کا عکس ہوتا ہے۔جو دل میں سکون رکھتا ہے، اس کی شخصیت میں ٹھہراؤ ،زبان میں نرمی ہوتی ہے۔جو دل میں آگ رکھتا ہے، اس کے لفظ بھی جلانے لگتے ہیں۔کسی انسان کو جاننے کے لیے  اس کا ماضی، حال، لباس دیکھنا  یا

0
23