معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



398
6078
زمیں پر جس کو ڈھونڈا اور تلاشا آسمانوں میں
وہی بے چہرگی میں آن ٹھہرا ہے دھیانوں میں
خوشی کے سارے معنی بے معانی ہوتے جاتے ہیں
اداسی حکمراں نے بانٹ ڈالی ہے کسانوں میں
یہاں پر دندناتے پھر رہے بدنام غارت گر
پٹا کرتے ہیں بس معصوم سے افراد تھانوں میں

0
نظر رکھنے سے تیرے میری استعداد بڑھتی ہے
گھٹا کرتی ہے ہر ہر چیز تیری یاد بڑھتی ہے
مرے لب پر دہائی ہے تو کارن بھی کوئی ہو گا
تمہارا جور بڑھتا ہے، مری فریاد بڑھتی ہے
وہاں خود انحصاری ہے کہ جو ایمان سے خالی
یہاں سیلاب مانگیں ہم کہ یوں امداد بڑھتی ہے

0
آئے قابو نہیں جو بینوں میں
میں نے پالے ہیں آستینوں میں
میں ہوں، فرہاد یا کوئی مجنوں
عشق ہی مشترک ہے تینوں میں
ہم نے انساں کا درد جانا نہیں
صرف دھبّہ رکھا جبینوں میں

0
دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے چور نہیں
ہے دوش میرا، ترا کوئی بھی قصور نہیں
ملے گی داد بھی تنقید بھی تو ہو گی میاں
جو نیک مشورہ دیتا ہے اس کو گُھور نہیں
بٹھایا کس نے تمہیں مسندِ صدارت پر
وہ جس کو خود بھی ابھی شعر کا شعور نہیں

0
زمانے بھر کا جھوٹا آدمی ہوں
میں خود سے ایک روٹھا آدمی ہوں
مجھے تم منہ لگانا بند کر دو
عجب ہوں ایک رسوا آدمی ہوں
مقدر نے مجھے ٹھکرا دیا تھا
میں جنت سے نکالا آدمی ہوں

0
8
نہ ملاقات نہ اب شوقِ ملاقات رہا
نہ محبت نہ وہ اب شعلہِ جذبات رہا
چلو میں ترک کروں خود کو میں آزاد کروں
مرے آنگن میں ترا دکھ بھی جو دن رات رہا
مجھ سے ملنے کو تڑپ جو تُو دکھاتا تھا کبھی
نہ وہ شدت نہ خیالوں میں مرے ساتھ رہا

0
4
اپنی نظر میں قیس کا جو راستہ رہا
ہم کو بھی سنگ و خار ہی سے واسطہ رہا
۔
بوسہ ملا کسی کو نہ اس پائے ناز کا
ہم خاکِ راہ تھے سو ہمیں فائدہ رہا
۔

1
10
کہاں ان اشکوں سے غم کا پہاڑ ٹوٹے گا
لبوں کو کھول مچل کے دہاڑ ٹوٹے گا
سجائے رکھتے ہیں مسکان اپنے چہرے پر
کبھی تو اُنکی اناؤں کا راڑ ٹوٹے گا
کھلیں گے پھول محبت کے پھر سے دونوں طرف
ہمیں یقیں ہے دلوں کا بگاڑ ٹوٹے گا

0
4
نظریں اٹھا کے منزلوں کے پار دیکھنا
آسان ہوں گی راہیں تو اس بار دیکھنا
پردہ ہٹا کے آنکھوں سے اے یار دیکھ نا!!
کچھ بھی نہیں یہاں پہ ہے بیکار دیکھنا
چل آزما لے مشکلوں میں مجھکو تو کبھی
ہر جا رہوں گا یار میں تیار دیکھنا

0
5
خواجہ آصف کے سَخْت تَرین مَذَمَّتی ٹویٹ پَر اِسْرِائِیْل کی تِلْمِلاہَٹ!!!
——
یُوں لیے ہیں لَتّے اِسْرِائِیْل کے
آپ تو حَدْ سے زِیَادہ کُھلْ گئے
خواجہ صاحب! آپ نے خُوش کر دیا
آپ کے سارے گُنَہ ہی دُھلْ گئے

0
1
مِرا دل ہے ایسے دَہَک رہا کہ بجھائے سے بھی بجھا نہیں
یہ وہ آفتاب ہے عشق کا پسِ شام بھی جو ڈھلا نہیں
میں وہ جام ہوں جو نہ تر ہوا کبھی زہر و شر کی شراب سے
مرے کاسۂِ جاں کو بھر سکے وہی ساقی مجھ کو مِلا نہیں
کسی ڈوبتے کو اچھال کر جو ڈبوتی ہے یہی بے کراں
ارے کیسا لیتی ہے امتحاں یہی عقدہ مجھ پہ کُھلا نہیں

0
5
شَہْباز شَریف کا مُتَنازَعَہ ٹویٹ!!!
——
چاپْلُوسی میں کوئی ثانی نَہِیں
جی حُضُوری میں بھی کوئی حَدْ نَہِیں
سَر کو یُوں تَسْلِیمِ خَم کرنے میں بھی
صَد سے بھی آگے ہیں صَد فی صَد نَہِیں

0
4
عدل ہو مفقود دنیا میں سکوں رہتا نہیں
ظلم کی یلغار سے گوشہ کوئی بچتا نہیں
دیکھنا اہلِ ہوس جب بھی کبھی حق دب گیا
پھر جہاں کو آشتی و امن راس آتا نہیں
عدل کی بنیاد پر قائم ہے دنیا کا نظام
ورنہ طاقت کا تلاطم کوئی حد رکھتا نہیں

0
5
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

195
7809
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

398
6078
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ الفاظ صرف آوازیں ہیں، چند جملے ہیں جو لبوں سے نکل کر فضا میں بکھر جاتے ہیں۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔لفظ کبھی خالی نہیں ہوتے اپنا اثر رکھتے ہیں وہ ہمارے باطن کے عکاس ہوتے ہیں،لفظ ہماری سوچ، ہمارے تجربات، ہماری نیت اور ہمارے اندر چھپی دنیا کو آشکار کرتے ہیں۔جو کچھ ہم بولتے ہیں، وہ اچانک پیدا نہیں ہو جاتا۔ وہ ہمارے ذہن کی زمین میں بویا گیا  بیج ہوتا ہے، جو  خیال بنتا ہے، اور آخرکار لفظ کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ذہن ایک کھیت کی مانند ہے۔اگر اس میں علم کے بیج بوئے جائیں، مثبت سوچ کا پانی دیا جائے اور اچھی صحبت کی دھوپ اور چھاؤں ملے، تو ، سچائی اور حکمت کی فصل اگتی ہے۔لیکن اگر اسی زمین میں نفرت، حسد، بدگمانی اور جھوٹ کے کانٹے بو دیے جائیں، تو زبان سے نکلنے والے الفاظ تلوار سے زیادہ تیز اور  نیزوں کی طرح چبھنے لگتے ہیں۔ لفظوں کے ساتھ لہجہ  اندر کی کیفیت کا عکس ہوتا ہے۔جو دل میں سکون رکھتا ہے، اس کی شخصیت میں ٹھہراؤ ،زبان میں نرمی ہوتی ہے۔جو دل میں آگ رکھتا ہے، اس کے لفظ بھی جلانے لگتے ہیں۔کسی انسان کو جاننے کے لیے  اس کا ماضی، حال، لباس دیکھنا  یا

0
15