معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



398
6068
سب گھروں کی یہی کہانی ہے
باپ نوکر، ماں نوکرانی ہے
عشق؟ مجھ سے؟ کسی کو کیا ہو گا؟
یہ فقط تیری بد گمانی ہے
آ کے بیٹھو، سنو، مِرے قصّے
ان میں پُر شور سی روانی ہے

0
1
ہے آدمی بھلا، جسے بیوی کا ڈر بھی ہو
حوروں کا اس کے دل میں مگر ایک گھر بھی ہو
دنیا کی رونقیں اسے گمرہ نہ کر سکیں
بیوی نے جو کہا اسے اس کا اثر بھی ہو
زوجہ کو اعتبار نہ شوہر پہ ہو کبھی
چاہے معاشرے میں بہت معتبر بھی ہو

0
2
دورِ حاضر میں کوئی کرتا نہیں ہے اس زمین کو یاد
دہرِتماشا میں کوئی کرتا نہیں ہے اس مکین کو یاد
جس مکین نے کی ہے حفاظت میرے تیرے پرکھوں کی
خوفِ ظالم میں کوئی کرتا نہیں ہے اس زمین کو یاد

0
3
یہ پتھر بھی رو رو کے آنسو بہائیں
جو گزری ہے ہم پر اگر وہ سنائیں
میں رستہ نکالوں گا پانی کی مانند
یہ دریا کے پتھر نہ مجھ کو ڈرائیں
میں رہتا ہوں انجان سب جان کربھی
یوں جھوٹی تصلی نہ مجھ کو دلایئں

0
2
اِسْحاق ڈار مِصْری وَزِیرِ خارِجَہ کا اِسْتِقْبال کرتے ہُوئے گِر گئے!!!
——
یُوں اَچانَک جو ڈور اُلْجھی ہے
ڈور کے بیچ ہی سِرے ہوں گے
ڈار صاحب اگر گِرے ہیں تو
”کُچھ نہ کُچھ“ دیکھ کے گِرے ہوں گے

0
2
نغماتِ دو سریٰ ہیں مدحت حبیب کی
احسانِ کبریا ہیں الفت حبیب کی
ہستی میں نبض و جاں ہے ذکرِ رسول سے
زیور ہے زندگی کا چاہت حبیب کی
دیں رونقیں دہر کو الطافِ مصطفیٰ
کونین کا سکوں ہے رحمت حبیب کی

0
2
رحمت کے گرد و پیش سے مصرعے نکال کر
کرتے ہیں پیش عشق کے پلڑے میں ڈال کر
لفظوں میں نور بھر کے سجائے ہیں نعت کو
لایا ہوں دل کی آگ کو آنسو میں ڈال کر
ہر اک سخن سباس مدینے کی خاک کی
رکھتا ہوں دل کو در پہ ادب سے سنبھال کر

0
4
درِ قلب مخزنِ فتنہ گاہ یہ ارتدادِ مشام جاں
یہی معرکہ ہے نفس کا جو، یہی امتحاں ہے دوام جاں
کبھی نورِ حق کی کرن لگے، کبھی تیرگی کا ہجوم ہو
یہی کشمکش ہے حیات بھر، یہی داستانِ قیام جاں
کبھی ذکر سے ہو قرارِ دل، کبھی غفلتوں کا غبار ہو
یہی جنگ ہے سرِ راہِ دل، یہی امتحانِ کلامِ جاں

0
2
ساری دنیا لگے خلاف مجھے
ہو گیا عین شین قاف مجھے
ہے گناہوں کا اعتراف مجھے
میرے اللہ کر معاف مجھے
یہ بھی لکھ دے مرے مقدر میں
تیرے گھر کے ملیں طواف مجھے

0
3
روح میں آج بھی وہ وارفتگی سی جاگتی ہے
لمس کی گرمی سے اک دلبستگی سی جاگتی ہے
نرم جھونکے جب گلوں کے ہونٹ چھو کر لوٹتے ہیں
پھر فضا میں اک سریلی نغمگی سی جاگتی ہے
بے تکلف روپ کا جلوہ نگاہوں میں سجے جب
عقل کی حد سے پرے اک سادگی سی جاگتی ہے

0
21
دل کو دکھوں کے زہر میں دھونا ہے زندگی
یادوں کا بوجھ کندھوں پہ ڈھونا ہے زندگی
سب جال خواہشات نے ڈالے ہیں چار سو
رب کی رضا میں خود کو ڈبونا ہے زندگی
شیطاں کے راستے پہ چلے تو یہ خاک ہے
گزرے جو رب کے در پہ تو سونا ہے زندگی

0
4
اس آخری امید کا بھی ہاتھ چھوڑو جانے دو
گزر گئی جو بات اب وہ بات چھوڑو جانے دو

0
3
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

195
7790
چَھتّیِس گاڑیوں کا تَعْزِیَتی پروٹوکول!!!
——
چاچُو جی کا تو یَہی مَعْمُول ہے
جِس قَدَر بھی غَم ہو اُتنی گاڑیاں
شِدَّتِ غَم کا تو اَنْدازَہ کریں
لے کے پَہُنچے ہیں وہ کِتنی گاڑیاں

0
2
بوجھ جو بڑھ گئے زندگی کے
دن بھلا ہی دیئے عاشقی کے
جن کو رنگین لگتی ہے دنیا
وہ طلب گار تھے سادگی کے

4
تم جان ہو دھڑکن ہو بتا کیوں نہیں دیتے
یہ بات نہیں ہے تو سزا کیوں نہیں دیتے
میں تیری جدائی میں نہ جیتا ہوں نہ مرتا
تم شمعِ فروزاں ہو جلا کیوں نہیں دیتے
کیوں اس رخِ عارض کو یوں الجھن میں رکھا ہے
تم زلفِ پریشاں کو ہٹا کیوں نہیں دیتے

13
چپک کر رہنے والی آنکھ ہی منظر کی آسانی
میسر سب ہے لیکن اب نہیں ہے گھر کی آسانی
بڑوں کے مرتبے پر چوٹ کرنے کے سمے بیتے
امیروں میں ہے، جس کو اب تلک ہے ڈر کی آسانی
گلی کوچوں کے منظر سارے ٹھہرے ریزہ ریزہ سے
کہیں ماضی میں پھیکی پڑ گئی ہے در کی آسانی

4
بن مانگے تمنا پوری ہو یوں کرم کریمی کرتے ہیں
ہم نام جو لیں وہ رحمت سے دامانِ طلب کو بھرتے ہیں
سرکار کے در کا رستہ ہی بندے کو ملائے مولا سے
جو اُن سے جُڑے پروان چڑھے جو جڑھ سے کٹے وہ گرتے ہیں
اس یادِ حبیبِ سرور سے ہر چمن میں زینت آتی ہے
پھر نور کے دریا مولا سے آکاش میں چلتے پھرتے ہیں

1
5
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

398
6068
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ الفاظ صرف آوازیں ہیں، چند جملے ہیں جو لبوں سے نکل کر فضا میں بکھر جاتے ہیں۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔لفظ کبھی خالی نہیں ہوتے اپنا اثر رکھتے ہیں وہ ہمارے باطن کے عکاس ہوتے ہیں،لفظ ہماری سوچ، ہمارے تجربات، ہماری نیت اور ہمارے اندر چھپی دنیا کو آشکار کرتے ہیں۔جو کچھ ہم بولتے ہیں، وہ اچانک پیدا نہیں ہو جاتا۔ وہ ہمارے ذہن کی زمین میں بویا گیا  بیج ہوتا ہے، جو  خیال بنتا ہے، اور آخرکار لفظ کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ذہن ایک کھیت کی مانند ہے۔اگر اس میں علم کے بیج بوئے جائیں، مثبت سوچ کا پانی دیا جائے اور اچھی صحبت کی دھوپ اور چھاؤں ملے، تو ، سچائی اور حکمت کی فصل اگتی ہے۔لیکن اگر اسی زمین میں نفرت، حسد، بدگمانی اور جھوٹ کے کانٹے بو دیے جائیں، تو زبان سے نکلنے والے الفاظ تلوار سے زیادہ تیز اور  نیزوں کی طرح چبھنے لگتے ہیں۔ لفظوں کے ساتھ لہجہ  اندر کی کیفیت کا عکس ہوتا ہے۔جو دل میں سکون رکھتا ہے، اس کی شخصیت میں ٹھہراؤ ،زبان میں نرمی ہوتی ہے۔جو دل میں آگ رکھتا ہے، اس کے لفظ بھی جلانے لگتے ہیں۔کسی انسان کو جاننے کے لیے  اس کا ماضی، حال، لباس دیکھنا  یا

0
13