معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



398
6155
یادِ نبی سے سینہ گلشن بنا رہے ہیں
گو ہجر میں نبی کے آنسو بہا رہے ہیں
گلی ہے مصطفی کی میرے خیال میں اب
چوکھٹ پہ دلربا کی خوشیاں منا رہے ہیں
سلطان میرے آقا کیا خوب دان اُن کے
جو نعمتیں خدا کی سب کو دلا رہے ہیں

0
ہے یہ امید نیا دور سنہرا ہو گا
اب سیاست پہ بھی جمہور کا پہرا ہو گا
تخت پر بیٹھے گا جب تخت کے قابل کوئی
رہزنوں کے لیے پھر پیش کٹہرا ہو گا
اب سنی جائے گی مظلوم کی فریاد یہاں
اب کے قانون کبھی ان دھا نہ بہرا ہو گا

0
پردیس میں ہوں گرچہ بہت دور وطن سے
تعلیم وفاداری کی مجھ کو ہے چمن سے
مر کر بھی فسادی نہیں بن پاؤں گا میں تو
آئے گی مہک امن ہی کی میرے کفن سے
مجھ پر تم اگر کفر کے فتوے بھی لگاؤ
پھوٹے گی صدا پیار کی بس میرے سخن سے

0
5
اہلِ غزہ پہ ظلم و ستم جب رواں ہوئے
آثار درد کے مرے دل سے عیاں ہوئے
اک آنسوؤں کا ابر سا آنکھوں پہ چھا گیا
جتنے خوشی کے خواب تھے سارے دھواں ہوئے
جب باغبان اپنی ہی عشرت میں کھو گئے
امت کے پھول تب سے سپردِ خزاں ہوئے

0
2
کہیں دل کہیں داستاں چھوڑ آئے
کسی لب پہ آہ و فغاں چھوڑ آئے
ہمیشہ ملی جس کے سائے میں ٹھنڈک
وطن میں وہی سائباں چھوڑ آئے
بیاباں میں پیاسے رہے عمر بھر ہم
مگر گھر میں بحرِ رواں چھوڑ آئے

0
ان لیڈروں کی آپ ذلالت تو دیکھیے
شہرت کی حرص، مال کی حسرت تو دیکھیے
خود کھائیں مال قوم کا، پھر الٹا قوم سے
مانگیں یہی حساب بھی جرات تو دیکھیے
خود چور کوتوال کو ڈانٹے عجیب ہے
اس صادق و امیں کی سیاست تو دیکھیے

0
1
میں صبر کو راہبر کروں گا
جو ہو سکا درگزر کروں گا
جیوں گا میں ہجر سہہ کے بھی اب
میں زہر کو بے اثر کروں گا
جنہیں وفا کی خبر نہیں ہے
انہیں میں اب باخبر کروں گا

0
2
برق رفتار جہازوں کی سواری کا مزا
تیرے کندھوں کی سواری کے برابر ہے کہاں

0
2
منزلوں کا نشان باقی ہے
آخری امتحان باقی ہے
مسکرایا نہیں ہوں مدت سے
بس لبوں کا گمان باقی ہے
دھوپ میں جسم جل گیا میرا
کیا کہیں سائبان باقی ہے

0
2
مطلبی لوگ مطلبی دنیا
نہیں ہوگی کبھی سگی ، دنیا
ظاہراً پارسائی اور دل میں
جرم و عصیاں سے ہے، بھری دنیا
جو تکبُّر کو فخر کہتے ہیں
اُن کے حق میں ہے بس یہی دنیا

0
4
وائٹ ہاؤس پَر فائرِنگ!!!
——
جو بوتے آئے ہو اَب کاٹنے کے دِن آئے
یِہ وہ خَبَر ہے جو دُنیا ہِلا کے رَکھ دے گی
جو آگ تُم نے لَگائی ہُوئی ہے چاروں طرف
ہمیں یَقِیں ہے تُمھیں بھی جَلا کے رَکھ دے گی

0
3
گلی گلی میں ترے نقشِ پا کو ترسے ہیں
مریضِ عشق ہیں، اب ہم دوا کو ترسے ہیں
تھے مٹی کے ڈھیر، اذنِ بقا کو ترسے ہیں
قفس کے قیدی تھے، ہم تو ہوا کو ترسے ہیں
محبتوں میں عجب کربلا کو ترسے ہیں
دلوں کے پاس تھے لیکن وفا کو ترسے ہیں

0
8
روح عریاں، بدن برہنہ ہے
لاکھ پردوں میں من برہنہ ہے
چن لیے پھول سارے گلچیں نے
بے ثمر ہے چمن، برہنہ ہے
چادریں چڑھ گئیں مزاروں پر
اور مفلس کا تن برہنہ ہے

0
5
آسماں کے ستارے سیاست نہ کر
خوبصورت نظارے سیاست نہ کر
قحط ہے اب برس بھی اے ابرِ رواں
وقت کے ہیں اشارے سیاست نہ کر
ہے بھنور میں جو ناؤ مری زیست کی
مجھ سے تو اے کنارے سیاست نہ کر

0
5
جتنے دل بھی چاہت سے ویران رہے
زیست کے اصلی لطف سے وہ انجان رہے
در در گھومے رزق کی خاطر دنیا میں
کچھ پل اپنے گھر بن کر مہمان رہے
کیا کھویا کیا پایا، جان کے کیا لینا
کیوں بندہ یہ سوچ کے خود حیران رہے

0
3
کتنی جانیں لگ جاتی ہیں دیس آزاد کرانے میں
بیچ رہے ہو پیٹ کی خاطر جس کو کھوٹے آنے میں
وہ تاریخ میں زندہ رہتے ہیں اپنی قربانی سے
خون جگر کا دیتے ہیں جو ایسا باغ سجانے میں
یا رب میری ارض وطن اب حشر تلک آباد رہے
امن کے پنچھی محو رہیں بس امن کے گیت سنانے میں

0
2
حسین زیست کی تب جستجو نہیں کی تھی
حسین شخص سے جب گفتگو نہیں کی تھی
وہ مسکرا کے ہمیں جو دعائیں دیتا ہے
فقط ہے رب کی عطا، آرزو نہیں کی تھی
شفیق، پیار مجسم، سدا اسے جانا
مگر یہ بات کبھی رو برو نہیں کی تھی

0
2
جہانِ عمل میں تمھی پیشوا تھے
غریبوں یتیموں کا تم آسرا تھے
تھے بے لوث خدمت کا تم اک حوالہ
جفا گر جہاں میں سفیرِ وفا تھے
رعایا کے زخموں کا مرہم تھے تم تو
دکھی آدمیت کے لب کی دعا تھے

0
5
کیوں ڈراتے ہو تم کالی دیوار سے
ہم تو ڈرتے نہیں تیر و تلوار سے
سر پھرے تو کٹائیں گے سر جنگ میں
کون ڈرتا ہے ظالم ترے وار سے
کیوں تماشے کا دنیا کو موقع دیا
کچھ نہیں سیکھ پائے ہو اغیار سے

0
2
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

195
7881
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

398
6155
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ الفاظ صرف آوازیں ہیں، چند جملے ہیں جو لبوں سے نکل کر فضا میں بکھر جاتے ہیں۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔لفظ کبھی خالی نہیں ہوتے اپنا اثر رکھتے ہیں وہ ہمارے باطن کے عکاس ہوتے ہیں،لفظ ہماری سوچ، ہمارے تجربات، ہماری نیت اور ہمارے اندر چھپی دنیا کو آشکار کرتے ہیں۔جو کچھ ہم بولتے ہیں، وہ اچانک پیدا نہیں ہو جاتا۔ وہ ہمارے ذہن کی زمین میں بویا گیا  بیج ہوتا ہے، جو  خیال بنتا ہے، اور آخرکار لفظ کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ذہن ایک کھیت کی مانند ہے۔اگر اس میں علم کے بیج بوئے جائیں، مثبت سوچ کا پانی دیا جائے اور اچھی صحبت کی دھوپ اور چھاؤں ملے، تو ، سچائی اور حکمت کی فصل اگتی ہے۔لیکن اگر اسی زمین میں نفرت، حسد، بدگمانی اور جھوٹ کے کانٹے بو دیے جائیں، تو زبان سے نکلنے والے الفاظ تلوار سے زیادہ تیز اور  نیزوں کی طرح چبھنے لگتے ہیں۔ لفظوں کے ساتھ لہجہ  اندر کی کیفیت کا عکس ہوتا ہے۔جو دل میں سکون رکھتا ہے، اس کی شخصیت میں ٹھہراؤ ،زبان میں نرمی ہوتی ہے۔جو دل میں آگ رکھتا ہے، اس کے لفظ بھی جلانے لگتے ہیں۔کسی انسان کو جاننے کے لیے  اس کا ماضی، حال، لباس دیکھنا  یا

0
30