معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



414
6561
غزل
عجب ہنر سے دِلوں کو ملا کے رکھتی ہے
بہشت عالیہ گھر کو بنا کے رکھتی ہے
اگرچہ پیار پہ اصرار تو نہیں اس کو
نفیس پلکوں پہ کاجل بنا کے رکھتی ہے
گلاب حُسنِ تبَسم پہ رَشک کرتے ہیں

0
1
تمہارے ہی تغافل سے یہ سب ممکن ہوا ورنہ
یوں اپنی مرضی سے خوابِ پریشاں دیکھتا ہے کون

0
2
کسی کو کھو کے زمانے سے کیا گلہ کرنا
مقدروں کے لکھے کا حساب کیا کرنا
اگر یہ طے ہے زمانہ رَوِش نہ چھوڑے گا
ہجوم شہر سے خود کو ذرا جدا کرنا
جو بات لب پہ نہ آئے اُسے خموشی سے
ہُوا کے دوش پہ لکھ کر بہا دیا کرنا

0
1
یہ دردِ پیہم لہو کے جیسے رگوں میں اپنی رواں دواں ہے
نہیں ٹھہرتا ہے اک جگہ پر کبھی یہاں تو کبھی وہاں ہے
سمجھ سکے یا نہ کوئی سمجھے ہر ایک غم کی الگ زباں ہے
یہ کہہ رہا ہے ہر ایک آنسو جو دل پہ گزری وہی بیاں ہے
مقیم ہوں میں کہ جس جگہ پر مقام شاید یہ لامکاں ہے
قدم کے نیچے زمیں ہے میرے نہ سر کے اوپر ہی آسماں ہے

0
3
کسی کو کھو کے زمانے سے کیا گلہ کرنا
مقدروں کے لکھے کا حساب کیا کرنا
اگر یہ طے ہے زمانہ رَوِش نہ چھوڑے گا
ہجوم شہر سے خود کو ذرا جدا کرنا

0
4
نبی کے نام کا صدقہ یہ دل ذندہ ہمارا ہے
یہی وہ نام ہے بے شک جو بخشش کا سہارا ہے
فدا ان پر ہو جاں میری، وہ مالک ہیں مری جاں کے
انہیں کے دم سے ہی چمکا مری قسمت کا تارا ہے
کرم کی اک نظر مجھ پر بھی ہو جائے مرے مولا
تمہارے در کے ٹکڑوں پر مرا واللہ گزارا ہے

0
9
میں اس کے سامنے سچ بولنے ہی والا تھا
پھر اس نے کہہ دیا، تم پر یقیں بہت ہے مجھے

0
1
مری ماں دعاؤں کی اک کہکشاں ہے
مری ماں تو مجھ پے بڑی مہرباں ہے
وہ ہنس دے تو گھر بھر میں ہر سو چراغاں
اسی مسکراہٹ سے روشن مکاں ہے
مری ماں کی چادر حیا کی امانت
مری ماں کا آنچل بڑا سائباں ہے

2
بچھڑ کر روح سے جب جسم بے جاں چھوڑ جاتے ہیں
بہت جلد اپنے بھی کتنا پشیماں چھوڑ جاتے ہیں
ذرا سی دیر دھڑکن دل کی رہتی ہے گواہی پر
سو وہ بھی رفتہ رفتہ ضبط امکاں چھوڑ جاتے ہیں
دماغ و فکر بھی کچھ دیر تک بیدار رہتے ہیں
پھر اپنے سوچنے کے سب دبستاں چھوڑ جاتے ہیں

0
2
کس ادا سے وہ لجایا تھا، ہاں کہتے کہتے
وہی لمحہ مجھے تڑپائے ہے، رہتے رہتے
گل بیاں کرتے نہیں رازِ نہاں گلچیں سے
مسکراتے ہیں چبھن خار کی سہتے سہتے
غم مرے دل میں ہی دریا سا رواں رہتا ہے
اشک کب رکتے ہیں تنہائی میں بہتے بہتے

0
4
*طرحی غزل*
ہم حقائق سے منہ چھپانے لگے
فاختہ مر گئی گدھ آنے لگے
امن کی بات صرف ہم نے کی
باقی سب جنگ کو بڑھانے لگے
سچ کا حلیہ بگاڑ کر سرِشام

0
3
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

414
6561
•─═══﷽═══─•سورۂ فاتحہ کی منظوم ترجمانی(2)شاعر: مہر مہسلائی رحمہ اللہ════❁✿❁════تعارف:قرآنِ مجید کی پہلی سورت سورۂ فاتحہ اپنے اندر توحید، حمد، عبادت، استعانت اور ہدایت کی جامع تعلیمات سموئے ہوئے ہے۔ معروف شاعر”مہر مھسلائی“نے اس عظیم سورت کے مفاہیم کو نہایت سادہ، مؤثر اور دل نشین شعری قالب میں پیش کیا ہے، تاکہ عام قاری بھی اس کے پیغام کو آسانی سے سمجھ سکے۔ملاحظہ فرمائیے:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(اللہ کے نامِ پاک سے ہے آغاز ہمارے کاموں کا)(بے مثل محبت ہے جس کی جو رحم و کرم میں ہے یکتا)۔۔اصل مطلع۔۔آغاز ہمارے کاموں کاہے نام سے تیرے جگ داتاتو رحم و کرم کا سر چشمہ ہے فیض تیرا ہی لہراتاسب حمد تجھے ہی زیبا ہے، تو رب ہے سارے جہانوں کاسب سُورج چاند ستارُوں کا، سب جانوں کا بے جانوں کابے تھاہ سمندر رَحمت کا ، سَرچشمہ مہر و محبت کاخالق ہے عمل کی قوت کا ، اور مالک روزِ قیامت کاہم بندے تیرے اَے آقا ، تیری ہی عبادت کرتے ہیںتوفیقِ اطاعت ، جوشِ عمل کی تُجھ سے چاہت کرتے ہیںہاں راہ دِکھا اُس منزل کی ، جو منزلِ فتح و نصرت ہےاسلاف نے جس پر چل کر پائی دونوں جہاں کی نعمت ہےوہ راہ نہ ہو گُمراہوں کی ، جو تیرے غضب میں آئے ہیںناکامی اور ہلاکت

53
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

196
8054