معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



398
6089
کم ہی ہیں جو یہاں وفا کریں گے
کریں گے جو بے موت وہ مریں گے
بیٹھے ہیں پنچھی جو شجر پر نم
خُشک موسم میں وہ نِکل پڑیں گے

0
2
ہر خیر کے قاسم صلے علیٰ کیا فیض سخی سرکار کے ہیں
کونین میں جتنی زینت ہے یہ جلوے حُسنِ یار کے ہیں
فیاض نگر ہے در اُن کا اور سب سے سخی یہ گھر اُن کا
نورانی جس سے خُلد ہوا یہ روپ نبی مختار کے ہیں
سرکار کے بردے جو بنتے وہ راہِ نبی پر ہیں چلتے
دلدار کے در پر چلتے ہیں بٹیں دان جہاں انوار کے ہیں

0
1
4
کیا شان تُساڈی حافظ جیؒ، تُساں پیار بازار سَجائی بیٹھے ہو
"نَحْنُ اَقْرَب" سِہرا پا کے، تُساں یار مُرادؒ رِجھائی بیٹھے ہو
لوکی تَرسن یار جھلک تائیں، تُساں گُھٹ گُھٹ جَپھیاں پائی بیٹھے ہو
آپے ای آپنا رُوپ وَٹا کے، خواجہ اللہ بخشؒ بَنائی بیٹھے ہو

0
3
تم کیا گئے کہ رنگِ خیالوں سے دور ہیں
ہم روشنی کے سب ہی حوالوں سے دور ہیں
اس کے بغیر کٹ تو رہی ہے مری حیات
پر ہم حیات کے سبھی حالوں سے دور ہیں
وہ اک جواب کیا ملا، خاموش ہو گئے
اب ہم زمانے بھر کے سوالوں سے دور ہیں

0
5
فخر تھا جتنے لوگوں کو ہماری ہم نوائی کا
وہی بنے ہیں اب کے مستقل سبب جدائی کا
عبث ہے شکوہ تیرا ایسے بد مزاج لوگوں سے
یہاں تو بھائی بھی نہیں ہے خیر خواہ بھائی کا
مفاد زیرِ دست لاتا ہے کئی کمینوں کو
اٹھاتے ہیں یہاں پہ فائدہ سب آشنائی کا

0
8
کیسی نحوست دیکھ چمن پر طاری ہے
پھولوں پر برسات کی رُت بھی بھاری ہے
دنیا میں بھی گندم ہی کے پھندے ہیں
بھوک مٹانے میں کتنی دشواری ہے
غربت اپنے ساتھ مصایب لاتی ہے
کچھ تو ریاست کی بھی ذمہ داری ہے

0
3
چرچے ہیں اب عام تمہارے
دیکھ رہا ہوں کام تمہارے
پیار جو دیکھا ان آنکھوں میں
ہم تو ہوئے بے دام تمہارے
ہجرت میری مجبوری تھی
پر جیون ہے نام تمہارے

0
3
جس کے پاؤں میں غم کا چھالا ہے
اُس نے کانٹوں کو بھی سنبھالا ہے
ظلم کی شب بھی ہم نے اے ہمدم
خون سے اپنے دِیپ پالا ہے
بات سچ ہے کہ دشتِ ہجرت میں
تیری یادوں کا ایک ہالا ہے

0
4
اِرشاد بَھٹی کی اداکارہ مِیرا پَر ذاتِیات پَر مَبْنی غَلِیظ تَرِین سوالات کی بَوچھاڑ!!!
——
ایک سے اِک گَھٹْیا باتیں تھیں جو تُم اُس سے کرتے رَہے
اِک لَمحے کے لیے بھی تُم میں خُوئے نَرْم نَہِیں آئی
مِیرا نے تو آخِر دَم تک سَب کُچھ ہی بَرْداشْت کیا
لیکن تُم وہ بے غَیرَت ہو جِس کو شَرْم نَہِیں آئی

0
4
عشق کی ہر شرط پر ہر وقت آمادہ رہے
وہ نجانے کیوں عدو کے پھر بھی دلدادہ رہے
ہم پہ کیوں خود غرضیوں کے حرف برسائے گئے
ہم تو اپنے کم رہے لوگوں کے زیادہ رہے
ہم کسی بھی تین میں تھے ناں کبھی تیرہ میں تھے
ہر طرف پُتلے ہمارے پھر بھی ایستادہ رہے

0
5
وفا کے رستے میں جو ملی ہیں، عداوتیں بھی شمار کرنا
جو ہم نے ہنس کر سہی ہیں اب تک، ملامتیں بھی شمار کرنا
وہ جن کے سائے میں کٹ گئی تھی ہماری عمرِ رواں کی خوشبو
بچھڑتے لمحوں کی وہ رسیلی حکایتیں بھی شمار کرنا
کبھی جو فرصت ملے تو دل کے شکستہ خانوں میں جھانک لینا
جو اس میں مدفون ہو چکی ہیں، وہ حسرتیں بھی شمار کرنا

0
9
اٹھی یوں ان کے چہرے سے نقاب آہستہ آہستہ
چھٹے جوں چاند پر چھایا سحاب آہستہ آہستہ
وہ چہرے سے اٹھائیں یوں نقاب آہستہ آہستہ
افق سے جیسے نکلے آفتاب آہستہ آہستہ
ان آنکھوں سے برستی ہے شراب آہستہ آہستہ
کہیں نیت نہ ہو جاۓ خراب آہستہ آہستہ

0
8
واللہ مرے نبی دی رحمت کمال دی اے
میرے جے عاصیاں نوں دوزخ توں ٹال دی اے
دنیا دی روشنی اے سورج دے نال ساری
سورج دی ساری تابش تیرے جمال دی اے
اے طور چھڈ دے اپنی شوکت تے ناز کرنا
عظمت بڑی نرالی آقا دی نعل دی اے

0
1
کوئی خواب ٹوٹا کوئی ساتھ چھوٹا تو میں چپ رہا
کوئی آہ نکلی کوئی آنسو نکلا تو میں چپ رہا
/
وگرنہ قیامت بپا تھی شبِ ہجر میں جب کبھی
تری یاد آئی ترا دھیان آیا تو میں چپ رہا
/

0
17
وہ زخمِ تمنا کو چھپائے ہوئے لوگ
خاموشی کا طوفان اٹھائے ہوئے لوگ
پھر لوٹ کے آئے نہ کسی حال میں وہ
اک بار جو نظروں سے گرائے ہوئے لوگ
ہر سانس میں اب زہرِ جدائی ہے بھرا
ہم پیار کی شمعوں سے جلائے ہوئے لوگ

0
3
خود بہ خود تو حال بدلے گا نہیں
اور مَنّ و سلویٰ اُترے گا نہیں
مُنجمد ہے جو یہ ظلمت کا پہاڑ
بددعاوں سے یہ پگھلے گا نہیں
کچھ ذرا سی گرمئ حسرت تو ہو
ورنہ دل میں لہو دوڑے گا نہیں

0
6
اِیْران اَمریکہ مُذاکَرات پَر ہماری قَبْل اَزْ وَقْت خُوشیاں!!!
——
ہَم وہ ویہلے مُشْٹَنْڈے ہیں جِن کو کوئی کام نَہِیں
وَقْت سے پہلے خُوشی مَنا لیں اَپنا کام یَہی تو ہے
بِن سوچے بِن سَمجھے ہم عادی ہیں سَب کُچھ کرنے کے
وَقْت سے پہلے خُوشی مَنانے کا اَنجام یَہی تو ہے

0
2
اک راز کی امیں یہ لولاک کی صدا ہے
آواز تھی یہ جس کو سرکار دلربا ہے
یہ نورِ کبریا پھر مبدأ بنا خلق کا
یوں کارواں جہاں کا مختار سے چلا ہے
ادراک سے ورا جو مخفی جہاں ہیں سارے
اُن کا ہے جو تصور وہ آپ سے ملا ہے

0
2
میں اپنی کہانی کا خود ہوں مصنف
مری اس کہانی کے کردار دو ہیں
کئی باب اس کے میں لکھ بھی چکا ہوں
کئی اس کے اوراق پھاڑے ہیں میں نے
کئی بار اس میں قلم بھی ہے توڑا
کئی اس کے منظر سنوارے ہیں میں نے

0
اُترا نہیں ہے کوئی تنہا اس دھرتی پر
یعنی اک دن تیری اور میری جوڑی ہو گی

0
4
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

195
7827
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

398
6089
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ الفاظ صرف آوازیں ہیں، چند جملے ہیں جو لبوں سے نکل کر فضا میں بکھر جاتے ہیں۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔لفظ کبھی خالی نہیں ہوتے اپنا اثر رکھتے ہیں وہ ہمارے باطن کے عکاس ہوتے ہیں،لفظ ہماری سوچ، ہمارے تجربات، ہماری نیت اور ہمارے اندر چھپی دنیا کو آشکار کرتے ہیں۔جو کچھ ہم بولتے ہیں، وہ اچانک پیدا نہیں ہو جاتا۔ وہ ہمارے ذہن کی زمین میں بویا گیا  بیج ہوتا ہے، جو  خیال بنتا ہے، اور آخرکار لفظ کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ذہن ایک کھیت کی مانند ہے۔اگر اس میں علم کے بیج بوئے جائیں، مثبت سوچ کا پانی دیا جائے اور اچھی صحبت کی دھوپ اور چھاؤں ملے، تو ، سچائی اور حکمت کی فصل اگتی ہے۔لیکن اگر اسی زمین میں نفرت، حسد، بدگمانی اور جھوٹ کے کانٹے بو دیے جائیں، تو زبان سے نکلنے والے الفاظ تلوار سے زیادہ تیز اور  نیزوں کی طرح چبھنے لگتے ہیں۔ لفظوں کے ساتھ لہجہ  اندر کی کیفیت کا عکس ہوتا ہے۔جو دل میں سکون رکھتا ہے، اس کی شخصیت میں ٹھہراؤ ،زبان میں نرمی ہوتی ہے۔جو دل میں آگ رکھتا ہے، اس کے لفظ بھی جلانے لگتے ہیں۔کسی انسان کو جاننے کے لیے  اس کا ماضی، حال، لباس دیکھنا  یا

0
19