معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



414
6554
شب میں ہجر و وصال رہتے ہیں
دل میں الجھے سوال رہتے ہیں
جسم کو گو کہ اک عداوت ہے
روح کو بھی ملال رہتے ہیں
کس کو حاصل عروج ہستی کا
اس کو خوفٍ زوال رہتے ہیں

0
1
دریچے ، کھڑکیاں، در بولتے ہیں
ترے عاشق برابر بولتے ہیں
پیاسے دشت کے خاموش قصے
ہمارے ہی سمندر بولتے ہیں
سماعت کے دریچے کھولتے ہیں
مری آواز کے پر بولتے ہیں

0
3
عاجزی اوڑھ کے جو خود کو جھکایا میں نے
لوگ کم ظرف تھے اتنے کہ خدا بن بیٹھے
شاعر ساگر حیدر عباسی

0
3
لمحہ لمحہ مانگتا ہوں، میں عطائے مصطفٰیؐ
ایک دن مل جائے گی، مُجھ کو رضائے مصطفٰیؐ
مُجھ کو مولا کر عطا، ایسی ثنائے مصطفٰیؐ
جس کے صدقے ہو عطا، مُجھ کو رِدائے مصطفٰیؐ
اس تمنا کے علاوہ کوئی حسرت اب نہیں
نقش میری خاک پر ہو جائے پائے مصطفٰیؐ

0
26
ایک ایک کر کے سب ہی مجھے چھوڑتے گئے
سیلابِ غم کو میری طرف موڑتے گئے
کتنے عجیب لوگ تھے معمولی بات پر
برسوں پرانی دوستی کو توڑتے گئے

0
2
آنکھ ہر غم کو بیاں کرتی ہے
رازِ دل کو بھی عیاں کرتی ہے

0
3
جو کبھی  تھا مثلِ گلشن ، وہ ہوا ہے راغ کیسے ؟
گلِ عشق پر اے سامیؔ ! یہ لگا ہے داغ کیسے ؟
وہ جو شمعِ آرزو تھی دلِ شیفتہ میں روشن 
سرِ راہِ کوئے جاناں وہ بجھا چراغ کیسے ؟

0
4
جمال یار کا جلوہ مرے خدا دیکھوں
دل فسردہ کی مقبول یہ دعا دیکھوں
گھٹا ستم کی چھٹے امن کی فضا دیکھوں
اندھیری رات کٹے صبح جانفزا دیکھوں
دلوں کو زخم لگانا تو کوئی بات نہیں
شکستہ دل کو کبھی جوڑ کر دکھا، دیکھوں

0
5
دلوں کے طاق پہ کوئی دیا جلاؤ، بڑا اندھیرا ہے
نگاہِ شوق سے ذرا پردہ اٹھاؤ، بڑا اندھیرا ہے
بھٹک رہے ہیں جو راہی غموں کی وادی میں
انہیں یقیں کا کوئی راستہ دکھاؤ، بڑا اندھیرا ہے
ہوائے تیز میں لرزاں ہے آج شمعِ حیات
اسے حوادثِ دوراں سے بچاؤ، بڑا اندھیرا ہے

0
9
نہیں تھا اپنے گماں میں بھی ایسا ویسا وقت
کہ گزرا نقل مکانی میں جیسا جیسا وقت
۔
خدا کرے ترے دل کو لگے نہ اس کی ہوا
خدا کرے کہ تو دیکھے نہیں مجھ ایسا وقت
۔

0
9
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

414
6554
•─═══﷽═══─•سورۂ فاتحہ کی منظوم ترجمانی(2)شاعر: مہر مہسلائی رحمہ اللہ════❁✿❁════تعارف:قرآنِ مجید کی پہلی سورت سورۂ فاتحہ اپنے اندر توحید، حمد، عبادت، استعانت اور ہدایت کی جامع تعلیمات سموئے ہوئے ہے۔ معروف شاعر”مہر مھسلائی“نے اس عظیم سورت کے مفاہیم کو نہایت سادہ، مؤثر اور دل نشین شعری قالب میں پیش کیا ہے، تاکہ عام قاری بھی اس کے پیغام کو آسانی سے سمجھ سکے۔ملاحظہ فرمائیے:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(اللہ کے نامِ پاک سے ہے آغاز ہمارے کاموں کا)(بے مثل محبت ہے جس کی جو رحم و کرم میں ہے یکتا)۔۔اصل مطلع۔۔آغاز ہمارے کاموں کاہے نام سے تیرے جگ داتاتو رحم و کرم کا سر چشمہ ہے فیض تیرا ہی لہراتاسب حمد تجھے ہی زیبا ہے، تو رب ہے سارے جہانوں کاسب سُورج چاند ستارُوں کا، سب جانوں کا بے جانوں کابے تھاہ سمندر رَحمت کا ، سَرچشمہ مہر و محبت کاخالق ہے عمل کی قوت کا ، اور مالک روزِ قیامت کاہم بندے تیرے اَے آقا ، تیری ہی عبادت کرتے ہیںتوفیقِ اطاعت ، جوشِ عمل کی تُجھ سے چاہت کرتے ہیںہاں راہ دِکھا اُس منزل کی ، جو منزلِ فتح و نصرت ہےاسلاف نے جس پر چل کر پائی دونوں جہاں کی نعمت ہےوہ راہ نہ ہو گُمراہوں کی ، جو تیرے غضب میں آئے ہیںناکامی اور ہلاکت

52
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

196
8050