معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



395
5824
کوئی بھی سلسلہ ہو وہ مسلسل تو نہیں رہتا
ابھی جو ربط قائم ہے اسے بھی ختم ہونا ہے
مجھے اب اور نثروں میں نہیں لکھنا ہے غم اپنا
نکھر کر اب مری نثروں کو موزوں نظم ہونا ہے
سہے اب تک کہاں میں نے محبت کے ستم سارے
محبت کا ابھی مجھ پر یہ لطف و کرم ہونا ہے

0
4
شاید مرے عیب میری خوبی ہوں اے جہاں
تیری نظر میں ابھی اتنا اثر ہی کہاں
ساگر حیدر عباسی

4
سدا دل سے نکلے یہی بس دعا
عطا دیدِ دلبر ہو بارِ خدا
ہے جیون اجیرن کیا ہجر نے
دکھا دے اے مولا درِ مصطفیٰ
مدینے کے روشن ہیں شام و سحر
مدینے کو نوری کریں دلربا

0
1
مَیَّت کے لیے مُفْت ایمبولینس سَرْوِس کا آغاز!!!
——
مان لیا جی مان لیا اِک یِہ بھی کام ہے نیکی ہے
مُردوں کو یِہ مُفْت سُہُولَت بھی چاہے دیتی رہیے
زِنْدوں کے بھی ہَم نے سُنا ہے کافی مَسْئَلے ہوتے ہیں
ہو سکے تو زِنْدوں کی بھی خَیر خَبَر لیتی رہیے

0
3
آئے ہیں ستم گر بھی، مخمل کی ردا اوڑھے
چپ چاپ کھڑے ہیں ہم ، چہرے پہ فنا اوڑھے
گونگوں کی عدالت میں، ہم کس کو بتاتے غم!
خاموش کھڑے تھے سب، ہونٹوں پہ صدا اوڑھے
ہونٹوں پہ تبسم ہے، بغل میں ہے چھپا خنجر
ظالم ہیں گلے ملتے، زہریلی وفا اوڑھے

0
8
سرکار مصطفیٰ جو جانِ سرور ہیں
مقصودِ کن فکاں ہیں آقا حضور ہیں
سب اُن سے زندگی کے روشن اصول ہیں
الطافِ کبریا کے اُن سے ظہور ہیں
جن سے رواں زماں ہیں وہ جانِ دو سریٰ
دلدارِ کبریا ہیں مولا کے نور ہیں

1
6
بڑھ کے تجھ سے کوئی خیال نہیں
جگ میں تیری کوئی مثال نہیں
تو مجسم ہے اپنے پیکر میں
ہے سراپا جسے زوال نہیں
کہتے ہیں دیکھ کے تجھے تارے
چاند بھی ایسا با جمال نہیں

0
5
تیرے قلم کی اس طاقت سے کتنے عزائم ہیں وابستہ،
اب ہر وقت کمربستہ رہ، پر تاثیر ہے یہ سیدھا رستہ۔
آسانی سے مقام نہیں ملتا جب شوقِ جُہد ہو پیدا،
منزل کی سمت میں بڑھتا ہے قدم آہستہ آہستہ، دانستہ۔
قربِ ذاتِ الٰہی کی خاطر تو سرنگوں ہو جا اے خاکی،
چشمِ کرم شبستانِ ہستی پر رہتا ہے پیوستہ۔

0
2
سفر کی دھوپ میں، جلتے سرابوں میں مہکتی ہے
تری یاد آج بھی دل کے خرابوں میں مہکتی ہے
شبِ غم کی سیاہی میں شگوفہ بن کے کھلتی ہے
بدل کر روپ راحت کا، عذابوں میں مہکتی ہے
اسے لفظوں کی یا آواز کی حاجت نہیں پڑتی
مقدس، پاک جذبوں کے حجابوں میں مہکتی ہے

0
19
خیال و تجسس کی دنیا مٹا دوں
سبھی حالتِ ہوش اپنی گنوا دوں
ارادہ کیا ہے مرے دل نے ہر بار
حکایت تمہیں دل کی آ کر سنا دوں
قفس کھولنے سے ہوں عاجز وگرنہ
پرندے مرے شوق کے سب اڑا دوں

0
6
زرا دیکھۓ وہاں جھانک کر ہو رہا گلی میں ہے شور کیا
جو نہیں کوئی بھی ادھر تو ذہن کا ہے یہ میرے فطور کیا
تجھے سنگ دل جو کہیں اگر، تجھے بے وفا کا خطاب دیں
تجھے اعتراض ہے جو اگر ، تو بتا تجھے کہیں اور کیا
ترے سنگ در پہ رکھا ہے سر مرے حال پر زرا غور کر
کسے ہوش ہے کہ ہے ہوش کیا نہیں کچھ خبر ہے شعور کیا

0
29
لب ملے تو خامشی نے بات کی
عشق نے تکمیل میری ذات کی
چاندنی میں گھل گئی تھی چاندنی
کہکشاؤں کو طلب اس رات کی
آئینے میں عکس جب مدغم ہوئے
قربتوں نے فاصلوں کو مات کی

0
21
لفظ سارے تھک چکے ہیں، استعارے بولتے ہیں
شوخ سی اس خامشی میں، دل ہمارے بولتے ہیں
فرش پر جب کوئی عاشق درد سے آہیں بھرے ہے
عرش کی پہنائیوں میں، تب ستارے بولتے ہیں
کشتیاں جب ڈگمگائیں، حوصلے مت ہارنا تم
بحرِ غم میں ڈوبتے کو، خود کنارے بولتے ہیں

0
14
آ جا کے اب جہاں کی یہ حالت بگڑ گئی
تیری طویل دوری سے قسمت بگڑ گئی
ہر شخص اب تو مولا جی یزدان بن گیا
سرکارِ مصطفی کی شریعت بگڑ گئی
اپنے بھی بک گئے ہیں جی پیسے کے زور پر
پیسے میں تُل کے سب کی عقیدت بگڑ گئی

0
2
دُعا ہے آیِنْدَہ نَسلیں ہمیں اچھّے لَفْظوں میں یاد رَکھیں۔ آصَف زَرداری!!!
——
کِسی کی یاد میں رَہنا کہاں آسان ہوتا ہے؟
نَہ کوئی پہلے رَکھتا ہے نَہ کوئی بَعْد رَکھے گا
یَہاں تو اَچّھے اَچّھوں کو بُھلا دَیتے ہیں پَل بَھر میں
تُمھارے جیسے لوگوں کو کوئی کیوں یاد رکھے گا؟

0
3
بڑا ہی سوچ کر الفت کی راہوں میں قدم رکھنا

0
3
یہ تمہیں دیکھ کے اندازہ ہوا ہے مجھ کو
عشق دنیا میں مجسم بھی ہوا کرتا ہے

9
اک امتحان سے سارے امتحان نکلے
اور امتحان بھی ایسے ہیں کہ جان نکلے
جتنے ثبوت تھے تیرے ہی نشان نکلے
حق میں ہمارے کس کے منہ سے زبان نکلے
جس طرح کی عنائت پروردگارِ نے کی
کس واسطے یہ آدم بھی مہربان نکلے

0
4
چشمِ نم بھی نہیں جامِ تر بھی نہیں
اس جہاں میں کہیں میرا گھر بھی نہیں
تجھ سا چہرا ملا نہ کہیں بھی مجھے
تیرے در سا ملا کوئ در بھی نہیں
یہ الگ بات تجھ سے محبت بھی ہے
یہ الگ بات تجھ کو قدر بھی نہیں

0
29
راحتیں آپ کی رکھیل میاں
قسمتوں میں ہے اپنی جیل میاں
طوق فولاد کا ہے گردن میں
ناک میں رسی و نکیل میاں
ہم کو آتی ہے عقل لاٹھی سے
سوچ لینے گئی جو تیل میاں

0
4
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ الفاظ صرف آوازیں ہیں، چند جملے ہیں جو لبوں سے نکل کر فضا میں بکھر جاتے ہیں۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔لفظ کبھی خالی نہیں ہوتے اپنا اثر رکھتے ہیں وہ ہمارے باطن کے عکاس ہوتے ہیں،لفظ ہماری سوچ، ہمارے تجربات، ہماری نیت اور ہمارے اندر چھپی دنیا کو آشکار کرتے ہیں۔جو کچھ ہم بولتے ہیں، وہ اچانک پیدا نہیں ہو جاتا۔ وہ ہمارے ذہن کی زمین میں بویا گیا  بیج ہوتا ہے، جو  خیال بنتا ہے، اور آخرکار لفظ کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ذہن ایک کھیت کی مانند ہے۔اگر اس میں علم کے بیج بوئے جائیں، مثبت سوچ کا پانی دیا جائے اور اچھی صحبت کی دھوپ اور چھاؤں ملے، تو ، سچائی اور حکمت کی فصل اگتی ہے۔لیکن اگر اسی زمین میں نفرت، حسد، بدگمانی اور جھوٹ کے کانٹے بو دیے جائیں، تو زبان سے نکلنے والے الفاظ تلوار سے زیادہ تیز اور  نیزوں کی طرح چبھنے لگتے ہیں۔ لفظوں کے ساتھ لہجہ  اندر کی کیفیت کا عکس ہوتا ہے۔جو دل میں سکون رکھتا ہے، اس کی شخصیت میں ٹھہراؤ ،زبان میں نرمی ہوتی ہے۔جو دل میں آگ رکھتا ہے، اس کے لفظ بھی جلانے لگتے ہیں۔کسی انسان کو جاننے کے لیے  اس کا ماضی، حال، لباس دیکھنا  یا

0
6
اس سائٹ کو بنانے کے لئے درج ذیل #سافٹوئر اور #ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے:بیک انڈ پر  c# اور Net Core 3.1. کا استعمال کیا گیا ہے۔ کلائنٹ سائڈ پر JavaScript اور  JQuery  کا استعمال ہے - یوزر انٹرفیس اور سٹائلنگ کے لئے  Boostrap 4.5   کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس سائٹ پر نہائت خوبصورت مہرنستعلیق ویب فانٹ کا استعمال کیا گیا ہے جس کے لئے ہم  مشہور خطاط نصر اللہ مہر صاحب اور  ان کے صاحبزادے ذیشان نصر صاحب کے نہایت شکر گزار ہیں۔سائٹ کا لوگو بھی ذیشان نصر صاحب کا ڈیزائن کردہ ہے۔ اس کے علاوہ اردو محفل کے اراکین کا بھی شکریہ جو کہ مفید مشوروں سے نوازتے ہیں۔اردو کیبورڈ کے لئے yauk  اور  اردو ایڈیٹر کیبورڈ سے استفادہ کیا گیا ہے۔ورژن 1 کا سورس کوڈ گٹ ہب پر موجود ہے۔ 

16
776