معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



414
6549
ہے وظیفہ مرا آپ کے نام کا
خوف رخصت ہوا اپنے انجام کا
وقت رک سا گیا آپ کو دیکھ کر
ہوش جاتا رہا صبح کا شام کا
آپ کی یاد میں تھے رواں عمر بھر
فاصلہ رہ گیا ایک دو گام کا

0
3
حال دل جب کہیں بیاں ہو تا ہے
درد ہر لفظ سے عیاں ہو تا ہے
چاند کو دیکھا تو تم آے نظر
اب تو ہر شے پہ یہ گماں ہو تا ہے
اشک آنکھوں سے بہتا ہے لیکن
جانے کیا دل سے بھی رواں ہو تا ہے

8
علم و ادب کے پیکر ہیں شیخ مفتی طاہر
فہم و خِرَد کے گوہر ہیں شیخ مفتی طاہر
لہجے میں نرمی ایسی، جیسے نسیم گلشن
اخلاق کے وہ مظہر ہیں شیخ مفتی طاہر
مسند پہ جب وہ بیٹھیں ، انوار علم بکھرے
علموں کے ایسے مصدر، ہیں شیخ مفتی طاہر

0
11
پہلے آدابِ عشق و وفا سیکھ لوں
پھر ثنائے حبیبِ خداﷺ سیکھ لوں
مَدحِ سرکار ﷺ میں لب کشائی نہیں
پہلے آدابِ قول و نَوا سیکھ لوں
خود کو آتا نہیں فَنِّ مِدحَت ابھی
پہلے اِس فن کی ہر اِبْتِدا سیکھ لوں

0
7
آٹھ کروڑ میں ایک نَہِیں بلکہ پُوری فیملی کے جُوتے بنوائے ہیں۔ عظمیٰ بُخاری!!!
——
لوگوں کا تو مَت ہی پُوچھو لوگوں کا کُچھ حال نَہِیں
گَھٹیا سی حَرَکَت بھی کر کے لوگ اَکڑ ہی جاتے ہیں
اِٹلی سے موچی بُلوانے کی کیا خاص ضَرُورَت تھی؟
جُوتے قِسمَت میں ہوں تو جُوتے تو پَڑ ہی جاتے ہیں

0
2
لوگ ایسے بھی ہیں زمانے میں
لطف پاتے ہیں جو ستانے میں
​
آسماں کی نوازشوں سے کہو
ہم ہیں مشاق چوٹ کھانے میں
​

0
3
کیا شانِ مصطفائی کون و مکاں ہیں اُن کے
لولاک شان اُن کی دونوں جہاں ہیں اُن کے
یہ جانِ جاں کریمی دلدار یزداں بھی ہیں
دانائے خلقِ رحمٰں سارے زماں ہیں اُن کے
سالارِ دین ہادی محشر کے بھی ہیں دولہا
جو حشر میں لگیں گے وہ سائباں ہیں اُن کے

0
2
اہلِ زر کا نہیں یہ گھر، یہ ہمارا دل ہے
مست و مجنون و قلندر، یہ ہمارا دل ہے
ماں کے قدموں سے رہا کرتا ہے یہ چمٹا ہوا
جس کو کچھ خوف ہے نہ ڈر، یہ ہمارا دل ہے
اپنے بابا کی حمایت اسے حاصل ہے تبھی
بڑا بے خوف ہے نیڈر، یہ ہمارا دل ہے

5
سنگ جوڑا تم نے میرا نام بھی
ہے چھپایا اس میں تیرا نام بھی
عشق کی اس بے خودی کے شہر میں
آ گیا ہے یاد چہرہ، نام بھی
زندگی کی دھوپ میں ہر موڑ پر
بن گیا ہے ایک سایہ، نام بھی

0
8
میں نے شہباز شَرِیف کوعوام کے غَم میں بَنْد کمروں میں روتے دیکھا ہے۔ رانا مَشہُود!!!
——
ڈرامے باز ہے اور جُھوٹ مُوٹ روتا ہے
جو پِھر سے روئے تو تُم اور بھی رُلا دینا
اِسے یِہ مِصْرَعَہ مَگر یاد سے سُنانا تُم
تُمھی نے دَرْد دیا ہے تُمھی دَوا دینا

0
3
ہاں وہی ہاں وہی میرا استاد ہے
میرے علم و ہنر کی جو بنیاد ہے
میری ہر سانس پر جس کا سایہ ہے آج
جس کی محنت سے گلشن یہ آباد ہے
جس کی باتوں میں حکمت کا دریا بہے
جو سلیقے قرینے میں شہزاد ہے

6
ہم نے بدلی جو روش، گل سے، نشیمن سے گئے
پھوڑے اعضا میں پڑے، من سے گئے، تن سے گئے
آ کے بیٹھے ہیں سرِ راہ گذر، کھیلیں قِمار
کتنے عزت سے گئے، جوئے سبب دھن سے گئے
موڑ آیا ہے حیاتی میں نیا درد لیے
اب کے گھر بار سے، صحرا سے گئے، بن سے گئے

0
3
اپنے جگری دوست مشتاق احمد کے لیے
توشیحی غزل۔
مرے دل میں محبت آپ کی ہے
جہاں رکھے یہ قسمت آپ کی ہے
شرافت میں گزاری زندگانی
یہی تو وجہِ عزت آپ کی ہے

0
1
خدا کی رِضا میں ہی دل شاد رکھنا
خودی کو زمانے سے آزاد رکھنا
فقیری میں بھی سر جھکانا نہیں ہے
کہ دل میں خودی کو ہی شہزاد رکھنا
بگڑ جائے دنیا تَو پرواہ نہ کرنا
لہو میں وفا کو ہی فولاد رکھنا

43
گونجتی ہے الست کی جو صدا
روح نے تب کہا تڑپ کے، بلیٰ
دل کو دیوانہ کر گئی آخر
حُسنِ مطلق کی دل نشیں اک ادا
چھوڑ کر لامکاں کی وسعت کو
بن گیا خاک کا اسیرِ فنا

0
8
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

414
6549
•─═══﷽═══─•سورۂ فاتحہ کی منظوم ترجمانی(2)شاعر: مہر مہسلائی رحمہ اللہ════❁✿❁════تعارف:قرآنِ مجید کی پہلی سورت سورۂ فاتحہ اپنے اندر توحید، حمد، عبادت، استعانت اور ہدایت کی جامع تعلیمات سموئے ہوئے ہے۔ معروف شاعر”مہر مھسلائی“نے اس عظیم سورت کے مفاہیم کو نہایت سادہ، مؤثر اور دل نشین شعری قالب میں پیش کیا ہے، تاکہ عام قاری بھی اس کے پیغام کو آسانی سے سمجھ سکے۔ملاحظہ فرمائیے:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(اللہ کے نامِ پاک سے ہے آغاز ہمارے کاموں کا)(بے مثل محبت ہے جس کی جو رحم و کرم میں ہے یکتا)۔۔اصل مطلع۔۔آغاز ہمارے کاموں کاہے نام سے تیرے جگ داتاتو رحم و کرم کا سر چشمہ ہے فیض تیرا ہی لہراتاسب حمد تجھے ہی زیبا ہے، تو رب ہے سارے جہانوں کاسب سُورج چاند ستارُوں کا، سب جانوں کا بے جانوں کابے تھاہ سمندر رَحمت کا ، سَرچشمہ مہر و محبت کاخالق ہے عمل کی قوت کا ، اور مالک روزِ قیامت کاہم بندے تیرے اَے آقا ، تیری ہی عبادت کرتے ہیںتوفیقِ اطاعت ، جوشِ عمل کی تُجھ سے چاہت کرتے ہیںہاں راہ دِکھا اُس منزل کی ، جو منزلِ فتح و نصرت ہےاسلاف نے جس پر چل کر پائی دونوں جہاں کی نعمت ہےوہ راہ نہ ہو گُمراہوں کی ، جو تیرے غضب میں آئے ہیںناکامی اور ہلاکت

49
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

196
8049