معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



416
6630
بتاؤں تمہیں میں کہاں ہیں محمد
جہاں پر خدا ہے وہاں ہیں محمد
خدا لا پتہ لا مکاں کا مکیں ہے
اُسی بے نشاں کا نشاں ہیں محمد
وہ باطن وہ ظاہر بہ یک وقت یوں ہے
خدا گر نِہَاں ہے عیاں ہیں محمد

0
نہ ہی لی خبر مرے حال کی ، نہ ہی کچھ سنی مری بات بھی
وہ یوں چل دیا کہ مرے بنا وہ گزار لے گا حیات بھی
۔
دلِ بے قرار یہ بات سن کوئی ڈھونڈ اور ہی چارہ گر
یہ ترے مرض سے ہیں بے خبر ،نہیں ان کے بس کی یہ بات بھی
۔

0
1
3
عمر بھر ورڈ زبان کا رہا زہرا زہرا
روزِ محشر بھی تمہیں دیں سدا یا زہرا
کاش دکھلائے خدا دِن کوئی ایسا زہرا
خاکِ تربت پہ تری ہو مرا سجدہ زہرا
کتنا مھکم ہے وصیلہ وہ دعاؤں کا مری
بن گیا میری دعاؤں کا وسیلہ محکم

0
1
یہ بھی مایوسیوں کا رستہ ہے
کوئی اُمید ہے جو ختم نہیں

0
6
مضمون سناتا ہے یہ قرآنِ محمد
اللہَ کی پہچان ہے عرفانِ محمد
رب کا ہے جہاں ذکر، وہاں ذکرِ نبی ہے
ایمان کو کافی ہے یہ برہانِ محمد
دیدار محمد کا ہے، دیدار خدا کا
مخلوق میں ہے سب سے بڑی شانِ محمد

0
6
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

198
8093
مغرب میں مشکلات ہیں ایمان کے لیے
رستے بہت کھٹن ہیں مسلمان کے لیے
آسان زندگی ہے جو پیسے کی وجہ سے
کافی نہیں وہ جنتی سامان کے لیے

0
4
اٹھا کر بوجھ باطل کا کہاں تک تم کو چلنا ہے
اگر رستہ بدلنا ہے تو پہلے خود بدلنا ہے
اگر کینہ، حسد کا بوجھ کاندھوں پر اٹھاؤ گے
بتاؤ اس گرانی میں سفر کیسے سنبھلنا ہے
لگا رکھے ہیں چہرے پر عجب جھوٹے کئی چہرے
یہ جھوٹا روپ آخر کار اک دن تو بدلنا ہے

0
2
لاکھوں پیروکار ہیں اس کے نیٹ پر
دیکھتے ہیں روز جو اس کو سیٹ پر
یہ دکھاتا ہے کبھی کرتب جسم سے
اور کبھی اڑتا ہے یہ جمبو جیٹ پر

0
5
عشق و جنوں بھری داستاں یاد آگئی
رہتی کبھی تھی وردِ زباں یاد آگئی
ماضی کا اک دریچہ ءِ جورو جفا کھلا
صبحِ بہار شامِ خزاں یاد آ گئی
دیکھا فلک پہ چودھویں کا چاند تو ہمیں
اک ماہتاب جانِ جہاں یاد آگئی

0
5
اپنے قبیلے کا چنو سردار سوچ کر
سر پر کسی کے رکھتے ہیں دستار سوچ کر
وزرا کے واسطے ہیں خزانوں کے منہ کھلے
سرکار دے عوام کو زنگار سوچ کر
ہم نے کیا ہے پیار کا اظہار آپ سے
ٹھکرائیے گا پیار کو سو بار سوچ کر

5
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

416
6630
•─═══﷽═══─•سورۂ فاتحہ کی منظوم ترجمانی(2)شاعر: مہر مہسلائی رحمہ اللہ════❁✿❁════تعارف:قرآنِ مجید کی پہلی سورت سورۂ فاتحہ اپنے اندر توحید، حمد، عبادت، استعانت اور ہدایت کی جامع تعلیمات سموئے ہوئے ہے۔ معروف شاعر”مہر مھسلائی“نے اس عظیم سورت کے مفاہیم کو نہایت سادہ، مؤثر اور دل نشین شعری قالب میں پیش کیا ہے، تاکہ عام قاری بھی اس کے پیغام کو آسانی سے سمجھ سکے۔ملاحظہ فرمائیے:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(اللہ کے نامِ پاک سے ہے آغاز ہمارے کاموں کا)(بے مثل محبت ہے جس کی جو رحم و کرم میں ہے یکتا)۔۔اصل مطلع۔۔آغاز ہمارے کاموں کاہے نام سے تیرے جگ داتاتو رحم و کرم کا سر چشمہ ہے فیض تیرا ہی لہراتاسب حمد تجھے ہی زیبا ہے، تو رب ہے سارے جہانوں کاسب سُورج چاند ستارُوں کا، سب جانوں کا بے جانوں کابے تھاہ سمندر رَحمت کا ، سَرچشمہ مہر و محبت کاخالق ہے عمل کی قوت کا ، اور مالک روزِ قیامت کاہم بندے تیرے اَے آقا ، تیری ہی عبادت کرتے ہیںتوفیقِ اطاعت ، جوشِ عمل کی تُجھ سے چاہت کرتے ہیںہاں راہ دِکھا اُس منزل کی ، جو منزلِ فتح و نصرت ہےاسلاف نے جس پر چل کر پائی دونوں جہاں کی نعمت ہےوہ راہ نہ ہو گُمراہوں کی ، جو تیرے غضب میں آئے ہیںناکامی اور ہلاکت

61