معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



414
6548
سنگ جوڑا تم نے میرا نام بھی
ہے چھپایا اس میں تیرا نام بھی
عشق کی اس بے خودی کے شہر میں
آ گیا ہے یاد چہرہ، نام بھی
زندگی کی دھوپ میں ہر موڑ پر
بن گیا ہے ایک سایہ، نام بھی

0
4
میں نے شہباز شَرِیف کوعوام کے غَم میں بَنْد کمروں میں روتے دیکھا ہے۔ رانا مَشہُود!!!
——
ڈرامے باز ہے اور جُھوٹ مُوٹ روتا ہے
جو پِھر سے روئے تو تُم اور بھی رُلا دینا
اِسے یِہ مِصْرَعَہ مَگر یاد سے سُنانا تُم
تُمھی نے دَرْد دیا ہے تُمھی دَوا دینا

0
2
ہاں وہی ہاں وہی میرا استاد ہے
میرے علم و ہنر کی جو بنیاد ہے
میری ہر سانس پر جس کا سایہ ہے آج
جس کی محنت سے گلشن یہ آباد ہے
جس کی باتوں میں حکمت کا دریا بہے
جو سلیقے قرینے میں شہزاد ہے

3
ہم نے بدلی جو روش، گل سے، نشیمن سے گئے
پھوڑے اعضا میں پڑے، من سے گئے، تن سے گئے
آ کے بیٹھے ہیں سرِ راہ گذر، کھیلیں قِمار
کتنے عزت سے گئے، جوئے سبب دھن سے گئے
موڑ آیا ہے حیاتی میں نیا درد لیے
اب کے گھر بار سے، صحرا سے گئے، بن سے گئے

0
2
اپنے جگری دوست مشتاق احمد کے لیے
توشیحی غزل۔
مرے دل میں محبت آپ کی ہے
جہاں رکھے یہ قسمت آپ کی ہے
شرافت میں گزاری زندگانی
یہی تو وجہِ عزت آپ کی ہے

0
1
خدا کی رِضا میں ہی دل شاد رکھنا
خودی کو زمانے سے آزاد رکھنا
فقیری میں بھی سر جھکانا نہیں ہے
کہ دل میں خودی کو ہی شہزاد رکھنا
بگڑ جائے دنیا تَو پرواہ نہ کرنا
لہو میں وفا کو ہی فولاد رکھنا

43
گونجتی ہے الست کی جو صدا
روح نے تب کہا تڑپ کے، بلیٰ
دل کو دیوانہ کر گئی آخر
حُسنِ مطلق کی دل نشیں اک ادا
چھوڑ کر لامکاں کی وسعت کو
بن گیا خاک کا اسیرِ فنا

0
7
ظمِ معرّیٰ
وہ کہتا ہے
میں ہر انسان کے دل میں چھپے رازوں سے واقف ہوں
دعائیں اس کے ہونٹوں پر جو رہ رہ کر مچلتی ہیں
انہیں میں تب سے سنتا ہوں
کہ جب اس کو ابھی الفاظ کے معنی نہ آتے تھے

0
4
میرے اشعار میں اقبال کی نسبت آ جائے
کاش پھر فکر و نظر میں وہ بصیرت آ جائے
فاصلہ ساتھ نبھانے کو ہے لازم ورنہ
سورج آ جائے زمیں پر تو قیامت آ جائے
پھر نہیں خوف کوئی دونوں بڑے جابروں سے
سبز گلفاموں کو گر رسمِ بغاوت آ جائے

6
نثروں سے مری نطمیں بناتے تھے جو
اب درس مجھے اردو کا دیتے ہیں وہ
© ساگر حیدر عباسی

0
6
درپیش مسائل کا سبب ڈھونڈ رہا ہوں
ٹوٹے ہوئے خوابوں کا نسب ڈھونڈ رہا ہوں
دل لے کے نکل آیا ہوں بازارِ جہاں میں
اب تجھ سا کوئی دستِ طلب ڈھونڈ رہا ہوں
محمد اویس قرنی

0
3
حق کی خاطر جو سر اٹھاتے ہیں
ان پہ خاصے عذاب آتے ہیں
ہم سے بزدل مزاج بندوں کو
روز جھگڑوں کے خواب آتے ہیں
محمد اویس قرنی

0
3
کوچ کرتے ہیں کوئے جاناں سے
ورنہ ہم کو یہ گالیاں دیں گے
محمد اویس قرنی

0
2
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

414
6548
•─═══﷽═══─•سورۂ فاتحہ کی منظوم ترجمانی(2)شاعر: مہر مہسلائی رحمہ اللہ════❁✿❁════تعارف:قرآنِ مجید کی پہلی سورت سورۂ فاتحہ اپنے اندر توحید، حمد، عبادت، استعانت اور ہدایت کی جامع تعلیمات سموئے ہوئے ہے۔ معروف شاعر”مہر مھسلائی“نے اس عظیم سورت کے مفاہیم کو نہایت سادہ، مؤثر اور دل نشین شعری قالب میں پیش کیا ہے، تاکہ عام قاری بھی اس کے پیغام کو آسانی سے سمجھ سکے۔ملاحظہ فرمائیے:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(اللہ کے نامِ پاک سے ہے آغاز ہمارے کاموں کا)(بے مثل محبت ہے جس کی جو رحم و کرم میں ہے یکتا)۔۔اصل مطلع۔۔آغاز ہمارے کاموں کاہے نام سے تیرے جگ داتاتو رحم و کرم کا سر چشمہ ہے فیض تیرا ہی لہراتاسب حمد تجھے ہی زیبا ہے، تو رب ہے سارے جہانوں کاسب سُورج چاند ستارُوں کا، سب جانوں کا بے جانوں کابے تھاہ سمندر رَحمت کا ، سَرچشمہ مہر و محبت کاخالق ہے عمل کی قوت کا ، اور مالک روزِ قیامت کاہم بندے تیرے اَے آقا ، تیری ہی عبادت کرتے ہیںتوفیقِ اطاعت ، جوشِ عمل کی تُجھ سے چاہت کرتے ہیںہاں راہ دِکھا اُس منزل کی ، جو منزلِ فتح و نصرت ہےاسلاف نے جس پر چل کر پائی دونوں جہاں کی نعمت ہےوہ راہ نہ ہو گُمراہوں کی ، جو تیرے غضب میں آئے ہیںناکامی اور ہلاکت

48
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

196
8047