معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



410
6476
پوچھ مجھ سے کبھی گِلہ کیا ہے
عشق کر کے مجھے ملا کیا ہے
اب کسی پر یقیں نہیں کرتا
جانتا ہوں میں اب دغا کیا ہے
تیرے جانے کے بعد سوچا ہے
میرے حصے میں اب رہا کیا ہے

0
2
اَپنے ہی شَہْر میں مِہْمان ہیں پِنڈی والے
یادِ یاراں سے کوئی شام نَہ خالی جائے
دِل کے خُوش رَکھنے کو غالب یہ خیال اَچّھا ہے
کیوں نَہ ہَر شَہْر میں ہی فوج بُلا لی جائے
(مرزا رضی اُلرّحمان)

0
3
زخم اپنے دل کے سہہ کر مسکرانے والی تھی
وہ نمک کی ایک عورت بھی زمانے والی تھی
لوگ کہتے تھے کہ یہ عورت بہت خاموش ہے
کون جانے کتنی آوازیں دبانے والی تھی
آنکھ میں آنسو لیے ہونٹوں پہ اک خاموشی تھی
درد لکھتی تھی مگر سب کو ہنسانے والی تھی

0
3
تضمین:- مِلٔکِ خاصِ کِبْرِیا ہو
کلام:- الشاہ امام احمد رضا خان بریلوی قدس سرہ العزیز
مَظْہَرِ نُورِ خُدا ہو
مَرْکَزِ دَورِ ہُدٰی ہو
مِحْوَرِ اَرْضُ و سَما ہو
مِلٔکِ خاصِ کِبْرِیا ہو

0
4
اختیار بھی نہ ہو اور ارادہ بھی نہ ہو
زندگی مرے خدا ایسے سادہ بھی نہ ہو
تو کریم ہے بہت میں غریب ہوں بہت
وزن میں کوئی مصیبت زیادہ بھی نہ ہو

0
7
دل نے پوچھا مری خطا کیا ہے
تو نے ہنس کر کہا، وفا کیا ہے
جس کو سمجھا متاعِ جاں ہم نے
اس نے آخر ہمیں دیا کیا ہے
تیری محفل میں سب ترے تھے مگر
اپنی قسمت میں فاصلہ کیا ہے

0
7
جو ستم کو ہی وفا مانتے ہیں
خود کو شاید وہ خدا مانتے ہیں
ہم نے پوچھا تو وہ ہنس کر بولے
ہم محبت کو سزا مانتے ہیں
جن کو نسبت ہے ترے کوچے سے
خاک کو بھی وہ شفا مانتے ہیں

0
7
درد سے آنکھ کی ویرانی سے
خوف آتا ہے مجھے پانی سے
کاٹ دیتا ہے محبت کا دکھ
راس آتا نہیں آسانی سے
بھاؤ الفت کا نہیں دنیا میں
جنس لٹ جاتی ہے ارزانی سے

0
5
محبتوں کی ڈگر پر اسیرِ غم ٹھہرے
کبھی تھے خندہ جبیں ہم، فقیرِ غم ٹھہرے
​جو حالِ دل کو بتائیں تو کس طرح جاناں
ہماری چشم کے آنسو سفیرِ غم ٹھہرے
​مِلی ہے ہم کو محبت میں بس یہی دولت
کہ ہم دیارِ وفا میں امیرِ غم ٹھہرے

0
14
یاں بات بن نہ پائے گی شاید بیان سے
اب سوچتا ہوں تیغ نکالوں میان سے
کردار ہیں کہانی کے ہم ہی تو مرکزی
ہم کو نکال پاؤ گے تم داستان سے
میں ہی ہوں جس کو آپ نے ٹھکرا دیا تھا کل
حیراں پھر آج کیوں ہو یوں میری اڑان سے

0
9
جو خوب  شور  مچائے وہی حسینی ہے
ستم جو خود پہ ہی ڈھائے وہی حسینی ہے
بھلے ہو سارا عمل ہی یزیدیوں والا
حسینی خود کو بتائے وہی حسینی ہے
بجائے ڈھول بھی تاشہ بھی خوب جو یاں پر
جو تعزیہ بھی اٹھائے وہی حسینی ہے

0
6
آزادی کا گیت سنایا جاتا ہے
آج کے دن یوں دل بہلایا جاتا ہے
علم سبھی کو ہے کہ غلامی قائم ہے
پھر بھی یہاں پر جشن منایا جاتا ہے

0
7
لاٹھیاں ہم پہ چلاؤ یا چلاؤ گولی
خوف ہرگز نہیں ہم لوگ ہیں کھانے والے
جب تلک ہٹ نہیں جاتا یہ وزیر تعلیم
جو بھی کرنا ہے کرو ہم نہیں جانے والے

0
7
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

410
6476
•─═══﷽═══─•سورۂ فاتحہ کی منظوم ترجمانی(2)شاعر: مہر مہسلائی رحمہ اللہ════❁✿❁════تعارف:قرآنِ مجید کی پہلی سورت سورۂ فاتحہ اپنے اندر توحید، حمد، عبادت، استعانت اور ہدایت کی جامع تعلیمات سموئے ہوئے ہے۔ معروف شاعر”مہر مھسلائی“نے اس عظیم سورت کے مفاہیم کو نہایت سادہ، مؤثر اور دل نشین شعری قالب میں پیش کیا ہے، تاکہ عام قاری بھی اس کے پیغام کو آسانی سے سمجھ سکے۔ملاحظہ فرمائیے:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(اللہ کے نامِ پاک سے ہے آغاز ہمارے کاموں کا)(بے مثل محبت ہے جس کی جو رحم و کرم میں ہے یکتا)۔۔اصل مطلع۔۔آغاز ہمارے کاموں کاہے نام سے تیرے جگ داتاتو رحم و کرم کا سر چشمہ ہے فیض تیرا ہی لہراتاسب حمد تجھے ہی زیبا ہے، تو رب ہے سارے جہانوں کاسب سُورج چاند ستارُوں کا، سب جانوں کا بے جانوں کابے تھاہ سمندر رَحمت کا ، سَرچشمہ مہر و محبت کاخالق ہے عمل کی قوت کا ، اور مالک روزِ قیامت کاہم بندے تیرے اَے آقا ، تیری ہی عبادت کرتے ہیںتوفیقِ اطاعت ، جوشِ عمل کی تُجھ سے چاہت کرتے ہیںہاں راہ دِکھا اُس منزل کی ، جو منزلِ فتح و نصرت ہےاسلاف نے جس پر چل کر پائی دونوں جہاں کی نعمت ہےوہ راہ نہ ہو گُمراہوں کی ، جو تیرے غضب میں آئے ہیںناکامی اور ہلاکت

37
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

196
8001