معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



416
6605
یہ مقدر کبھی مجھ سے روٹھا نہیں
رب کی رحمت کا دامن بھی چھوٹا نہیں
سنگِ رہ نے تراشا مری زیست کو
پائے ہمت کا پیمان ٹوٹا نہیں
اہلِ دنیا نے لوٹا ہے ظاہر مرا
گنجِ ایماں تو سینے سے لوٹا نہیں

0
ہم ترے ساتھ چلے، خود سے جدا بھی ہوئے
تیرے جانے پہ مگر خود سے شناسا بھی ہوئے
اپنی آواز دبائی تو سکوں مل نہ سکا
بول اٹھے تو کئی لوگ خفا بھی ہوئے
جن سے امید نہ تھی، وقت پہ وہ کام آئے
جن پہ تکیہ تھا، وہی لوگ بے وفا بھی ہوئے

0
2
دن بھر سب کے دکھ سنتے ہیں، سب کو ہنسنا سکھلاتے ہیں
رات گئے جب گھر آتے ہیں، خود سے نظر چراتے ہیں
جن کی خاطر اپنے حصے کے سارے خواب بھلاتے ہیں
وہ بھی ہم سے ملتے ہیں تو اپنے حق جتلاتے ہیں
لوگوں کی الجھن سلجھاتے، سب کو رستہ دکھلاتے ہیں
اپنی باری آ جاتی ہے، خود بھی ٹھوکر کھاتے ہیں

0
3
ہم نے کتنے جھوٹ پالے خوش گمانی کے لیے
کتنے سچ دل میں دبائے زندگانی کے لیے
عمر بھر خود کو بدلتے ہی رہے دنیا کے ساتھ
ہم ترستے رہ گئے اپنی نشانی کے لیے
ہم نے اپنے زخم جن لوگوں سے پوشیدہ رکھے
وہ بہت بے تاب تھے بس اک کہانی کے لیے

0
4
شور ، خوف و ہراس رہتے ہیں
غم میں مختل حواس رہتے ہیں
رب سے گر التماس رہتا ہے
آنکھ میں مور طاس رہتے ہیں
ہجر کی دل کشی سے ظاہر ہے
چاند ، شب آس پاس رہتے ہیں

0
3
چِین نے چِھتَّر مارنے والی مَشِین اِیْجاد کر لی!!!
——
غَرِیبوں میں خُوشی کی لَہر دَوڑی
نَہ ظَالِم، نَہ کَمِینوں سے پَڑیں گے
غَرِیبوں کو جو چِھتَّر پَڑ رہے تھے
وہ چِھتَّر اَب مَشِینوں سے پَڑیں گے

0
3
ہم سفر بھی، راہ بھی، منزل بھی تم ہو
حال، ماضی اور مستقبل بھی تم ہو
دھوپ بھی تم ہی، تمہی ہو سائباں بھی
تم ہی دھڑکن، تم ہی سانس اور دل بھی تم ہو

0
4
کسی کو حال بتایا نہیں ہے تیرے بعد
کسی کو پاس بلایا نہیں ہے تیرے بعد
وہ کرسی آج بھی رکھی ہے میز کے نزدیک
کسی کو اس پہ بٹھایا نہیں ہے تیرے بعد
کسی نے ہاتھ بڑھایا تو یہ خبر بھی ہوئی
ہر ایک شخص پرایا نہیں ہے تیرے بعد

0
5
پوچھتے ہیں جو مجھ سے سخنور ہو کیوں
دل کے اندر یہ بہتا سمندر ہو کیوں
جب نگاہوں میں آباد ہو تم ہی تم
سامنے دوسرا اور منظر ہو کیوں
پیار کی راہ میں دشمنی کیوں بھلا
اک ذرا سی خطا پر یہ محشر ہو کیوں

0
5
آپﷺ کا نور ہے آپﷺ کے شہر میں
آپﷺ کے نور سے نور ہے دہر میں
آپﷺ ہیں خالقِ کُل کے نورِ ازل
آپﷺ سے روشنی ہے بَر و بحر میں
آپﷺ کے قلب میں نورِ قرآن ہے
آپﷺ پر نور اُترا شبِ قدر میں

0
23
کبھی بے وجہ کوئی بات ہنساتی ہے مجھے
کبھی بے نام سی خاموشی رلاتی ہے مجھے
مرے بچوں کی پرانی سی وہ تصویر ابھی
ان کے بچپن کا زمانہ دکھاتی ہے مجھے
چائے کے دو کپ ابھی میز پہ رکھے ہیں مگر
ایک خالی سی جگہ روز ستاتی ہے مجھے

0
5
ایک معروف ریستوراں کے آگے
کار روکی تو ایک دم جیسے
خوشبوؤں اور رنگوں کا
ایک سیلاب سا امڈ آیا
ریستوران میں حشر برپا ہے
اور باہر الگ ہجوم سا ہے

0
21
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

416
6605
•─═══﷽═══─•سورۂ فاتحہ کی منظوم ترجمانی(2)شاعر: مہر مہسلائی رحمہ اللہ════❁✿❁════تعارف:قرآنِ مجید کی پہلی سورت سورۂ فاتحہ اپنے اندر توحید، حمد، عبادت، استعانت اور ہدایت کی جامع تعلیمات سموئے ہوئے ہے۔ معروف شاعر”مہر مھسلائی“نے اس عظیم سورت کے مفاہیم کو نہایت سادہ، مؤثر اور دل نشین شعری قالب میں پیش کیا ہے، تاکہ عام قاری بھی اس کے پیغام کو آسانی سے سمجھ سکے۔ملاحظہ فرمائیے:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(اللہ کے نامِ پاک سے ہے آغاز ہمارے کاموں کا)(بے مثل محبت ہے جس کی جو رحم و کرم میں ہے یکتا)۔۔اصل مطلع۔۔آغاز ہمارے کاموں کاہے نام سے تیرے جگ داتاتو رحم و کرم کا سر چشمہ ہے فیض تیرا ہی لہراتاسب حمد تجھے ہی زیبا ہے، تو رب ہے سارے جہانوں کاسب سُورج چاند ستارُوں کا، سب جانوں کا بے جانوں کابے تھاہ سمندر رَحمت کا ، سَرچشمہ مہر و محبت کاخالق ہے عمل کی قوت کا ، اور مالک روزِ قیامت کاہم بندے تیرے اَے آقا ، تیری ہی عبادت کرتے ہیںتوفیقِ اطاعت ، جوشِ عمل کی تُجھ سے چاہت کرتے ہیںہاں راہ دِکھا اُس منزل کی ، جو منزلِ فتح و نصرت ہےاسلاف نے جس پر چل کر پائی دونوں جہاں کی نعمت ہےوہ راہ نہ ہو گُمراہوں کی ، جو تیرے غضب میں آئے ہیںناکامی اور ہلاکت

58
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

196
8074