معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



262
3304
جلوہ گر گل بدن نہیں ہوتا
یہ چمن پھر چمن نہیں ہوتا
روز ہوتی ہے کوئی ان ہونی
میرا تجھ سے ملن نہیں ہوتا
تیرے بن ہی گذار دوں جیون
نہیں ہوتا سجن نہیں ہوتا

0
عقیدہ ختم نبوت کا ہے جو بھی انکاری
اللہ و رسول کے ساتھ ہے صریحاً غداری
طویل جدوجہد کے بعد ملی کامیابی
مل بیٹھے بریلوی، دیوبندی اور وہابی
سات ستمبر 1974 کا ہے یادگار دن
بالآخر قادیانی احمدیوں کا قابو میں آیا جن

0
1
بن ترے چین سے یہ زیست گزارا کرتے
ہم یہاں کیسے اذیت یہ گوارا کرتے
موم سمجھے تھے ترے دل کو سو پتھر نکلا
پھر بھی ہم  تجھ کو یوں شدت سے پکارا کرتے
توڑ ڈالا ہے یوں ایقان ہی ورنہ ہم بھی
تیری آنکھوں سے ہی دنیا کا نظارا کرتے

0
7
جلتا، ترس رہا ہے وطن اک سکون کو
کہہ دو نہ آئے اب کے برس ماہِ جون کو
میسج نہ کوئی کال تری کل سے آئی ہے
لگ جائے آگ میرے خدا ایسے فون کو
ہے کھیل مار دھاڑ سیاست کا، آج کل
ماحول ساز گار ہے اس کشت و خون کو

0
2
ان کی راہوں سے ملیں جب سے یہ راہیں اپنی
ہم نے خود سے بھی چرا لی ہیں نگاہیں اپنی
جان و دل ہوش گنوا کر بھی ہیں خنداں لیکن
رنگ کب لائیں گی شب ہجر دعائیں اپنی

6
سارا چکر ہی خواہشوں کا ہے
سُکھ نہ مانگو تو دُکھ نہیں ملتے
منزلوں پر کبھی نہیں پہنچے
اپنے رستے کبھی نہیں چلتے
آگ سے بچ کے ہم نکل آئے
آنسو رکتے تو آگ میں جلتے

0
5
میں خواب میں زندہ رہتا ہوں
جب آنکھ کھلے مر جاتا ہوں

0
2
زندگی کو سیکھنے میں زندگی گذار دی
شاعری کیا سیکھتے یاں وقت ہی نہیں ملا

0
2
تمہاری بے رخی اچھی سزا ہے
سزا میں بھی مزا بے انتہا ہے
سہارے کی بہت ہی تھی ضرورت
سہارا بے رخی کا ہی ملا ہے
غرض کے ساتھ سب رشتے جڑے تھے
غرض کے بعد اب رشتہ جدا ہے

0
3
ہم نے سیکھا ہی نہیں کچھ بھی گزرتے پل سے
ورنہ اتنا بھی بُرا آج نہ ہوتا کل سے
ہم نے زم زم سے نہا کر بھی نہ پائی منزل
ورنہ غیروں نے تو پائی ہیں مرادیں جل سے
اب کے شہروں میں بھی نافذ ہیں قوانیں ایسے
کم تو لگتے ہی نہیں شہر کسی جنگل سے

5
اے ! تری امید میں ، میں کھا رہا ہوں پیچ و تاب
روز و شب تیرے تصور میں سراپا اضطراب
دل کے آئینے میں تیری اک حسیں تصویر ہے
جس کی شوخی پر ہے شیدا اہل دل کا انتخاب
ہر نفس بیدار رکھتی ہے تری یہ جستجو
لحظہ لحظہ یہ مرے اعصاب پر ہے اب عذاب

1
8
اے خدا ہم پر عنایت کیجیے
ہم تو ہیں عاصی ہدایت دیجیے
جو دعا مانگی ہیں ہم نے آج تک
اس کو بھی منظور اب کر لیجیے

0
3
یاروں کی کچھ خطا تھی نہ دل کا قصور تھا
جس نے کیا تباہ وہ میرا غرور تھا
فوری جزا ملے یہی خواہش میں چور تھا
میں اس قدر ازل سے یہاں ناصَبُور تھا
شام و سحر عجب سی بلا کا ظہور تھا
لگتے گلے ہی تیرے یہ دل چور چور تھا

0
2
ہمیشہ دیر کی میں ‌نے
ضروری کام کرنے میں خودی کی جنگ لڑنے میں
انا دل سے مٹانے میں دل اپنا پاک کرنے میں
ہمیشہ دیر کی میں ‌نے
کسی مظلوم کی دستار گرنے سے بچانے میں
کہ ضربیں جاکے ظالم کے واں ہاتھوں پر لگانے میں

0
4
جیتے ہیں گر زندگانی اور ہے
دیکھیے اب ہم نے ٹھانی اور ہے
جھیلے ہیں سارے یہاں کے رنج و غم
پر ہمیں اب سرگرانی اور ہے
میرا بھی دامن بھرا ہے داغ سے
کارِ بد ہاۓ  نِہانی اور ہے

0
3
ایک زمانے میں ایک بادشاہ ہوا کرتا تھا۔ ہمارا تمہارا خدا بادشاہ۔ وہ بادشاہ نہایت ذہین و فطین تھا اور تمام بادشاہوں کی طرح حسن کا دلدادہ تھا۔ لیکن ملک کے تمام حسن کو اپنی جاگیر سمجھتا تھا۔ لہٰذا رعایا کی شادی بیاہ کے سخت خلاف تھا۔ اس نے اسمبلی میں قانون پاس کروایا، جس کو وکیلوں کی طرف سے بھی بھرپور سپورٹ ملی، کہ آج کے بعد اس ملک میں کوئی شادی نہیں ہو گی۔ اسی زمانے کا سب سے بڑا پادری، نام جس کا ولنٹائن تھا، وہ ”دل پھینک“ تخلص کرتا تھا۔ بادشاہ کے پاس جا کر مجرا بجا لایا۔ جس سے بادشاہ کا دل باغ باغ ہو گیا۔ پادری نے فرمایا، ”اے ظل الٰہی، یہ کیا غضب کر دیا۔ ہماری تو روزی پر گویا آپ نے لات ہی مار دی۔“ بادشاہ نے کہا، ”کیسے بھلا؟“ پادری گویا ہوا،”وہ ایسے کہ نکاح کے کاروبار سے تو ہمارا جہاں آباد تھا۔ دو عربی کے بول پڑھوا کر ہمیں کچھ انعام و اکرام مل جاتا تھا“۔ بادشاہ نے کہا، ”بھلا یہ بھی کوئی بات ہوئی۔ انعام و اکرام سے ہم تمہیں نوازتے ہیں۔“ اس پر بادشاہ نے پادری کو انعام و اکرام سے نواز کرخانقاہ کا راستہ دکھایا۔ ”یہاں سے سیدھا جاؤ، دائیں طرف مڑ لو۔ باقی راستہ چوبدار سے معلوم کر لو۔ یا پھر گوگل میپس کو استعمال میں لاؤ۔ ی

3
320

0
5
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

157
6052