معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



395
5724
میرے دشمن تھے باوفا، کہہ دو
سارے قاتل ہیں پارسا، کہہ دو
سوچنا اور جاگتے رہنا
عارضہ ہے یہ لا دوا کہہ دو
ہم کو معلوم ہے کہ وہ کیا ہیں
تم انہیں لاکھ باصفا کہہ دو

0
1
دہر جن سے تاباں مدینے میں ہیں
شفاعت کے سلطاں مدینے میں ہیں
ہیں دلدارِ ہستی حبیبِ خدا
جہاں جن پہ نازاں مدینے میں ہیں
غریبِ وطن ایک مجبور میں
جنم جن پہ قرباں مدینے میں ہیں

1
2
پَریس کانْفَرِنْس، عاصِمَہ شِیرازی کا سوال اور جَواب!!!
——
مَیں سَوشل مِیڈِیا پَر گَھر میں بیٹھے
یَقِیں جانیں بَہُت گَھبرا رَہا تھا
وہ دَسْتُوری حَوالے دے رَہے تھے
مَیں اُن کی شَکْل دیکھے جا رَہا تھا

0
تو مجھ سے دور ہو کے بھی میرے قریب ہے
کیوں فاصلہ ہو تجھ سے تو میرا حبیب ہے
آکاش سے زمین ملا کرتی ہے جہاں
وہ جا تلاشتا ہے؟ یہ دل بھی عجیب ہے
تیری ستم ظریفی سے یہ دل اداس ہے
تو جس پہ مہرباں ہے وہ میرا رقیب ہے

0
8
آ تُوں وِی آ کے وَیکھ لئے
کِس عُمرے کِیہ کَروا بَیٹھے
اَسِیں چار سُویٹَر پا کے وِی
پِنڈے نُوں ٹَھنْڈ لَوا بَیٹھے
(مرزا رضی اُلرّحمان)

0
5
کرم کی ہوائیں درِ مصطفیٰ پر
مقدر جگائیں درِ مصطفیٰ پر
لئے بھر کے داماں ہیں مسرور سارے
یوں سلطان آئیں درِ مصطفیٰ پر
عطائے نبی سے ملے چاہتِ دل
لے آئیں دعائیں درِ مصطفیٰ پر

1
5
منہ زور جو وبا ہے مانندِ فیلِ مست
بکھری ہوئی قضا ہے ہر جا چہار سمت
سالِ گزشتہ اپنی دہشت لیے ہوئے
زیرِ نقاب آمد ، زیرِ نقاب رفت
س م د
کراچی

0
3
یکجا تھے سارے فہم و فراست میں پست لوگ
قبلہ بنے ہوئے تھے قبیلہ پرست لوگ
لگتا تھا چھو گیا تھا اُنھیں جنونیت کا جن
اِس طرح اپنے آپ میں رہتے تھے مست لوگ
کیا خوب ہر طرف ہے ترقّی کی دھوم دھام
کشکول تھامے ملک ہے کاسہ بدست لوگ

0
5
ملے خُلد جس جا یہاں ہے وہ در
ہیں نعمت کے قاسم بڑے معتبر
ہے ملجا دکھوں کا اسی شہر میں
عطا کا ہے منبع نبی کی نظر
عُلیٰ درجہ اُن کا ہے بعد از خدا
ہیں اُن کے تصرف ورائے دہر

1
5
پَریس کانْفَرِنْس!!!
——
کَہِیْں پَر گُفْتگُو ہے تو کَہِیْں چُپ بھی ضَرُوری ہے
سَدا مُنْہ کَھولْتے رَہنے سے تو عِزَّت نَہِیں بَڑْھتی
اگر جاں کی اَماں پاؤں تو مَیں مَوصُوف سے کَہہ دُوں؟
زِیَادہ بولْتے رَہنے سے تو عِزَّت نَہِیں بَڑْھتی

0
2
خود کو جتنا خرچ کِیا ہے ہم نے سخن آرائی میں
اِتنا وقت نہیں لگنا تھا زخموں کی تُرپائی میں
کِتنا گہرا گھاؤ لگا تھا آخر اُس دیوانے کو
جس نے خود کو پھینک دیا ہے اِتنی گہری کھائی میں
اب تک دنیا کی آنکھوں نے شاید اِتنے دیکھے نئیں
جتنے موسم آ سمٹے ہیں اُس کی اک انگڑائی میں

0
8
فریبِ ہجر میں کٹتی ہے اب عمرِ رواں کوئی
کہاں منزل ہے اپنی اور کہاں ہے کارواں کوئی
​نہ سمجھا ہے، نہ سمجھے گا غمِ دل کا بیاں کوئی
بنا ہے کب یہاں دردِ دروں کا ترجماں کوئی
​بہت دیکھے ہیں ہم نے دورِ ہستی میں عجب منظر
نہیں ہوتا کسی کے واسطے اب جاں فشاں کوئی

0
7
محبت کی مسافت میں نہیں ہے سائباں کوئی
نہیں ہے ہم سفر کوئی، نہ اپنا کارواں کوئی
​سرِ مژگاں سجائے بیٹھے ہیں اب ہم تری یادیں
بنائے گا بھلا کیا اب نیا دل میں مکاں کوئی
​زمانے بھر کی رسوائی ملی ہے عشق میں ہم کو
نہ دیکھا ہم نے الفت میں یہاں اپنا زیاں کوئی

0
10
کیوں یاد تری دل سے نکالی نہیں جاتی
اک شام تری یاد سے خالی نہیں جاتی
ہر چند مری بے پر و بالی نہیں جاتی
پرواز کی رنگین خیالی نہیں جاتی
احساس میں صورت کبھی ڈھالی نہیں جاتی
خود رسم یہ پڑتی ہے کہ ڈالی نہیں جاتی

0
10
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

191
7590
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

395
5724
السلام علیکم ، اللہ کرے سب بخیر و عافیت ہوں۔سورۃ الفاتحہ کا منظوم ترجمہ مطلوب ہے۔

0
3
69