معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



397
5956
چھوڑ کے اشک بہانہ ہم نے
پی لیا درد پرانا ہم نے
اک سجائی ہے ہنسی ہونٹوں پر
سیکھا جو غم کو چھپانا ہم نے
بھینچ کے غنچۂ دل ہاتھوں میں
گھر دیا چھوڑ ، ٹھکانا ہم نے

0
1
عَلی مُصْطَفیٰ ڈار کے سَرکاری چَیمبَر میں مَریَم کی تَصْوِیر آویزاں!!!
——
جِن کو جُوتوں سے پیار ہوتا ہے
وَقت کے ساتھ ڈَھلْتے رَہتے ہیں
اور تو کُچھ بَدل نَہِیں سَکتے
صِرف ”جُوتے“ بَدلتے رَہتے ہیں

0
مثلِ شاخِ گُلاب مونا
شاعر کا کوئی خواب مونا
زُلفیں جیسے گھٹائیں کالی
اور  چہرا ہے آفتاب مونا
ہر نقش میں رنگ   ہیں بھرے یوں
رنگوں سے لکھی کتاب مونا

0
3
کتنے طوفان سہہ گیا ساحل
پھر بھی خاموش رہ گیا ساحل
بس ذرا دیر میں رکا تھا وہاں
داستاں کتنی کہہ گیا ساحل
پانی اترا تو پھر وہیں پہ ملا
لوگ کہتے تھے بہہ گیا ساحل

0
3
مسرت شادمانی ہے دلوں میں آشتی آئی
مقدر جاگے ہستی کے فضائے راستی آئی
حسیں نغمے گلستاں میں بہاریں گیت گاتی ہیں
قدم جاناں کے آئے ہیں چمن میں تازگی آئی
بڑی مدت سے تاریکی جہاں میں پیر گاڑے تھی
درخشانی جہاں میں ہے نبی سے چاندنی آئی

0
2
عِشق میں یہ کون دیکھے نُور ہے یا نَار ہے
عاشق و مَعشوق کا ایک ہی دَربار ہے
ایک حُسن و عِشق ہیں اور ایک ہی بُنیاد ہے
حُسن میں اِظہار ہے تو عِشق میں اَسرار ہے
عِشق میں اِک یار ہو، وہ یار ہی سَرکار ہو
عِشق کے مَیدان میں تَفریق سے اِنکار ہے

0
14
آج تنہائی سے جو پریشان تھے
کل تلک محفلوں کی وہی جان تھے
قبر میں خاموشی سے ہیں سوئے ہوئے
جو کبھی میلوں ٹھیلوں کی پہچان تھے
کھو گیا پہلوانوں کا جاہ و جلال
کیا سے کیا ہو گئے ہم تو حیران تھے

1
12
پاگل ہوں جو دنیا میں وفا ڈھونڈ رہا ہوں
کانٹوں میں میں پھولوں کی ادا ڈھونڈ رہا ہوں
پھرتا ہوں ہواؤں میں، فضاؤں میں کبھی میں
معلوم نہیں مجھ کو کہ کیا ڈھونڈ رہا ہوں

2
25
پھول کو خار نے کیا اونچا
تخت کو دار نے کیا اونچا
سرو کو میرے قد سے کیا نسبت
مجھکو کردار نے کیا اونچا
میں پڑا تھا فنا کی چوکھٹ پر
جب ترے پیار نے کیا اونچا

0
10
جو بولے سو نہال ہاشمی!!!
——
جو کل تک تُمھیں گالیاں دے رہا تھا
اُسے تُم نے کِیُوں اپنے سَر پَر بِٹھایا؟
جَجوں تک کو جو دَھمْکیاں دے رہا تھا
اُسے تُم نے کِیونکَر گورنر لگایا؟

0
2
جو تیرے لہجے میں اِتنی مِٹھاس ہے
غرض کی آئے مجھے اِس سے باس ہے
مجھے تو زنداں میں مرنے کا ڈر نہیں
تُو قَصر میں بھی نِشیں بدحواس ہے
پی بھی لو شوق کا دریا جو تم اگر
نفس کی بُجھتی کہاں یارو پیاس ہے

0
3
یہ نا مہرباں سے رویے جہاں کے
لیے جا رہے ہیں ہر اک روز مجھ کو
کسی سوچ کے اندھے جنگل میں جیسے
جہاں سے پلٹنا
کسی طور ممکن نہیں ہے
ہیں کچھ وسوسے ، ایسی مایوس کن سوچیں، جن سے

0
9
یہ جان مسلمان کہیں چوک ہوئی ہے
دکھ حالتِ ایمان، کہیں چوک ہوئی ہے
تھا عدل بھی تلوار، امانت بھی دیانت
وہ شانِ نگہبان کہیں چوک ہوئی ہے
تھے علم سے تہذیب کے مینار کے چرچے
اب فخر کا عنوان کہیں چوک ہوئی ہے

0
1
6
تخیل میں جِلا آئی مدینے سے ہوا آئی
مقدر جاگے ہستی کے زبانوں پر ثنا آئی
مہک پھیلی فضاؤں میں جہاں میں رونقیں ہر جا
ہزاروں نعمتیں اس میں لئے لطف و عطا آئی
شرارے کفر کے ٹھنڈے گرے طاغوت کے پھندے
زہے نوری مدینے سے شفاعت کی دعا آئی

1
6
جہازِ مَرْیَم پَہ ہَنی مُونِ اولادِ مَرْیَم!!!
——
نَہ تَصْوِیر کوئی نَہ کوئی حَوالَہ
کہ جیسے کوئی جُرْم سا ہو گیا ہے
جَہازوں میں اُڑْنا تو چُھپ چُھپ کے اُڑْنا
یِہ چُھپَن چُھپَائی تو خُود اِک سَزا ہے

0
2
دشمن ہے تیرے سامنے رسمِ دعا سمیٹ
اے ذوالفقار کے امیں ہمت ذرا سمیٹ
طوفان اپنے وقت سے پہلے نہ جائے گا
جب تک شدید ہے ہوا اپنا دیا سمیٹ
میں دے رہا ہوں مشورہ اپنے غنیم کو
لڑنے کا حوصلہ نہیں اپنی زرہ سمیٹ

0
7
اپنے ہی گھر میں جب کوئی مہمان ہو
کیوں نہ ایسے میں کوئی پریشان ہو
نا کوئی آرزو نا کوئی جستجو
شہرِ دل کیوں نہ ایسے میں ویران ہو
عشق کے رنگ نے سب کو یکساں رنگا
کیا بھلا کیا برا کیسے پہچان ہو

0
5
اس عہدِ نارسا میں ہے کارِ وفا عبث
جینے کی دوڑ دھوپ میں مرنا ہوا عبث
بلوے خدا کے واسطے جنگیں بنامِ امن
خوفِ خدا نہیں ہے تو نامِ خدا عبث
ظلم و ستم کے واسطے پیدا ہوئے ہیں آپ
راز و نیاز کس لئے ناز و ادا عبث

0
11
میرا دھیاں فلک کے ستاروں میں بٹ گیا
تو کیا گیا کہ راستہ منزل سے کٹ گیا
کتنی ہی تیز دھوپ ہے بادل نہیں کوئی
وہ موسمِ بہارِ محبت بھی چھٹ گیا
آنکھوں میں دھول جمنے لگی تیری راہ کی
یہ دل غبارِ دردِ اذیت میں اٹ گیا

0
4
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

397
5956
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

193
7725
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ الفاظ صرف آوازیں ہیں، چند جملے ہیں جو لبوں سے نکل کر فضا میں بکھر جاتے ہیں۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔لفظ کبھی خالی نہیں ہوتے اپنا اثر رکھتے ہیں وہ ہمارے باطن کے عکاس ہوتے ہیں،لفظ ہماری سوچ، ہمارے تجربات، ہماری نیت اور ہمارے اندر چھپی دنیا کو آشکار کرتے ہیں۔جو کچھ ہم بولتے ہیں، وہ اچانک پیدا نہیں ہو جاتا۔ وہ ہمارے ذہن کی زمین میں بویا گیا  بیج ہوتا ہے، جو  خیال بنتا ہے، اور آخرکار لفظ کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ذہن ایک کھیت کی مانند ہے۔اگر اس میں علم کے بیج بوئے جائیں، مثبت سوچ کا پانی دیا جائے اور اچھی صحبت کی دھوپ اور چھاؤں ملے، تو ، سچائی اور حکمت کی فصل اگتی ہے۔لیکن اگر اسی زمین میں نفرت، حسد، بدگمانی اور جھوٹ کے کانٹے بو دیے جائیں، تو زبان سے نکلنے والے الفاظ تلوار سے زیادہ تیز اور  نیزوں کی طرح چبھنے لگتے ہیں۔ لفظوں کے ساتھ لہجہ  اندر کی کیفیت کا عکس ہوتا ہے۔جو دل میں سکون رکھتا ہے، اس کی شخصیت میں ٹھہراؤ ،زبان میں نرمی ہوتی ہے۔جو دل میں آگ رکھتا ہے، اس کے لفظ بھی جلانے لگتے ہیں۔کسی انسان کو جاننے کے لیے  اس کا ماضی، حال، لباس دیکھنا  یا

0
10