معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



398
6087
عجیب تنہا سا میں مسافر
نجانے کب سے بھٹک رہا ہوں
ہے غائبانہ عجیب رستہ
کہیں پہ بھیتر میں بڑھ رہا ہے
اداس صبحیں اندھیری شامیں
میں ٹوٹے خوابوں کی انگلی تھامے

0
3
پرسشِ غم کا تکلف، محترم! مت کیجیے
زخمِ گریہ تازہ ہے، اسبابِ نم مت کیجیے
خوش بہت ہوں بزم میں تیری چھپا کر زخم کو
فاش میرے مسکرانے کا بھرم مت کیجیے
جھیل سی اس چشمِ نم میں شورِ محشر غرق ہے
اک تبسم پر قیاسِ صد الم مت کیجیے

0
3
تِین سال میں سو اَرب ڈالر بیرُون مُلک بھیجے گئے۔مُحسن نَقوی!!!
——
یُوں بھی ڈالر وَاپس لانا آپ کے بَس کی بات نَہِیں
مُلک میں ہوں یا باہَر ہوں چوروں کے لَمبے کھاتے ہیں
آپ کے حَق میں بَہَتَّر ہے بَس خَیر مَنائیں چوروں کی
ڈالروں کو تو گولی ماریں ڈالر آتے جاتے ہیں

0
2
شیطان کی ہیں بیٹیاں یہ غلط فہمیاں
عناد کی ہیں کھیتیاں یہ غلط فہمیاں
رشتوں کو کاٹ دیتی ہیں پل بھر میں یہ عتیقؔ
دلوں کی ہیں بیماریاں یہ غلط فہمیاں

0
2
دیکھتے ہی دیکھتے کافی زمانہ ہو گیا
میں کبھی شاہدؔ نیا تھا اب پرانا ہو گیا
ان کے ہر اک جھوٹ پر سچ کا گماں ہونے لگا
اور اپنا سچ بھی آخر اک فسانا ہو گیا
وہ تعلق کو فقط اک کھیل سمجھا اور مجھے
عشق اس سے کیوں نجانے والہانا ہو گیا

0
5
ہے طرزِ صُوفِیا جنوں، ہے طورِ اصفیا جنوں
وصف ہے عالیہ جنوں، رفعتِ اولیا جنوں
عشق کی ابتدا فنا، عشق کی انتہا جنوں
رازوں کا راز کھل گیا، عشق کی بقا جنوں
عشق جو پا لِیا فنا، تو وہ مکمل ہو گیا
اس کے ہے بعد مرحلہ، عشق وہ پائے گا جنوں

0
1
مدد کو ہے دست گیر میرا
ہے پیر روشن ضمیر میرا
دِکھایا مرشِد نے کس طرح ہے
خدا علیم و خبیر میرا
ثبوت مرشِد نے ہیں دِکھائے
ہے رب سمیع و بصیر میرا

0
1
یہ دل میں میرے جو دل ترا ہے، نہ سب مرا ہے نہ سب ترا ہے
ہے جو بھی کچھ سب ترا مرا ہے، نہ سب مرا ہے نہ سب ترا ہے
کبھی میں معشوق اور تو عاشق، کبھی تو معشوق اور میں عاشق
یہ عشق ہم میں مِلا جُلا ہے، نہ سب مرا ہے نہ سب ترا ہے
کبھی میں دل، تو کلیم میرا، کبھی تو دل، میں کلیم تیرا
کلیم خود دل سے کہہ رہا ہے، نہ سب مرا ہے نہ سب ترا ہے

2
ہے صدر میں دل تو دل میں مستی، یہ کچھ ہے میری تو کچھ ہے تیری
تو ہست ہے میں تبھی ہوں ہستی، یہ کچھ ہے میری تو کچھ ہے تیری
عیاں میں مَیں ہوں نہاں میں تُو ہوں، خودی میں مَیں تیرے روبرو ہوں
میں ہوں اَنَا تو اَنَا پرستی، یہ کچھ ہے میری تو کچھ ہے تیری
کبھی تصور میں ہے مصور، کبھی مصور میں ہے تصور
میں گھر ہوں تیرا تو گھر گِرَسْتی، یہ کچھ ہے میری تو کچھ ہے تیری

0
1
مُرشِد خودی میں میری کمالات کرے ہے
میری خودی میں رہ کے مجھے بات کرے ہے
تعلیمِ خود آگاہی کو چھپ کر مرے اندر
مجھ سے وہ ہر اک آن سُوالات کرے ہے
مرشد خودی میں کیوں ہے، میں جان گیا ہوں
اعمالِ حسن کی وہ ہدایات کرے ہے

0
2
لفظ با معنی اور سَہَل لکّھو
بات چھیڑو کوئی غزل لکّھو
کچھ جو لکھنا ہے حسنِ جاناں کو
تم اسے حسنِ بے بدل لکّھو
ما سوا اس کے سب کو بھولوں میں
یار ایسا کوئی عمل لکّھو

0
1
بنایا تھا مجھے مشہور جو زمانے میں
"کسر نہ چھوڑی تھی اس نے مجھے گرانے میں"
ہوس نہیں ہے تو کیا ہے یہ شہرتوں کی طلب
یہ عیب داری ہے اللہ کے خزانے میں
فقیر گوشہ نشینی کی چاہ رکھتے ہیں
جو کام آتی ہے خود کی خودی سجانے میں

0
2
"مرے دل میں ہے تری آرزو، مرے لب پہ بس ترا نام ہے"
ترا ذکر کرتا ہوں دم بہ دم، یہی صبح و شام کا کام ہے
ترا ذکر کرتا ہوں دم بہ دم، رہا خوف مجھ کو نہ کوئی غم
ترا ذکر ہوگا کبھی جو کم، تو یہ سانس لینا حرام ہے
دلِ بے قرار کی جستجو، کرے چشم تر تری آرزو
مرے چشم و دل مری آبرو، وہ شراب ہے تو یہ جام ہے

0
نبی پیارے آقا نگاۂ کرم ہو
کرم ہو خدا را نگاۂ کرم ہو
دلیلِ خدا ہو شَہَا مصطفیٰ ہو
دیں رتبے کا صدقہ نگاۂ کرم ہو
خدائی میں سب سے بڑے آپ ہی ہیں
خدا خود بنایا نگاۂ کرم ہو

0
3
حجاب! تیرا حساب کیسا، جو میں نہ دیکھوں شباب کیسا
پڑھا ہے تو نے نصاب کیسا، حبیب سے یہ حجاب کیسا
تو روبرو بے حجاب ہوجا، کرم میں یوں بے حساب ہوجا
کہ اک مبیّن کتاب ہوجا، نہ رکھ تو باقی نقاب کیسا
جمال تیرا کرم کا پیکر، جمیل ہے تو جمل کا ساگر
مکینِ دل تو ہے میں ترا گھر، تو مجھ پہ کوئی عتاب کیسا

0
1
گر ایک نظر یار کے چہرے سے ہٹے گی
محرومیِ نظّارہ سے اس آن پھٹے گی
تو جسم، جگر، دل کو مرے دیکھ جَلا کر
مٹ جائے گا سب، پھر بھی محبت نہ مٹے گی
دل جان جگر میرا جلا دے تو چِتا پر
اے جان! مری راکھ ترا نام رٹے گی

0
1
بروزِ محشر مجھے ملے گا، تو تیرے دامن کو تھام لوں گا
خدا جو پوچھے ستایا کس نے، پکار کر تیرا نام لوں گا
وہ دل کو توڑے ہیں دل میں رہ کر، رہا ہوں میں بے وفائی سہہ کر
وفا نبھاؤں گا جان دے کر، میں ان سے یوں انتقام لوں گا
وہ گرچہ مجھ سے چھپا رہے گا، تلاش میں اس کی دل جلے گا
وہ بے وفائی سے کام لے گا، تو بھی وفا ہی سے کام لوں گا

0
نورِ صوفی سے چمک اٹھے ہیں احمد کے چراغ
پھول ایسے ہیں کھلے کہ دل ہوئے ہیں باغ باغ
با خدا با مصطفیٰ کہئے ادب سے اے جناب
کھل رہے ہیں دل پہ ان سے کون ہستی کے سراغ

0
1
اپنی مجھے پہچان بتاتا ہے کہ میں ہوں
خود میں مرے طوفان مچاتا ہے کہ میں ہوں
یہ کون ہے بے شکل جو آ کر مرے اندر
خود میں مجھے خود سے ہی ملاتا ہے کہ میں ہوں
دیتا ہے بڑے چاؤ سے یہ خود کی شہادت
خود نازِ گواہی بھی اُٹھاتا ہے کہ میں ہوں

0
میں بے خود مست بنتا جا رہا ہوں
نگاہوں سے پلایا جا رہا ہوں
شرابِ پاک کے پی کر میں دھارے
"اسی رستے پہ بڑھتا جا رہا ہوں"
مری مستی سمجھ آتی نہیں ہے
ہزاروں بار سوچا جا رہا ہوں

0
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

195
7814
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

398
6087
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ الفاظ صرف آوازیں ہیں، چند جملے ہیں جو لبوں سے نکل کر فضا میں بکھر جاتے ہیں۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔لفظ کبھی خالی نہیں ہوتے اپنا اثر رکھتے ہیں وہ ہمارے باطن کے عکاس ہوتے ہیں،لفظ ہماری سوچ، ہمارے تجربات، ہماری نیت اور ہمارے اندر چھپی دنیا کو آشکار کرتے ہیں۔جو کچھ ہم بولتے ہیں، وہ اچانک پیدا نہیں ہو جاتا۔ وہ ہمارے ذہن کی زمین میں بویا گیا  بیج ہوتا ہے، جو  خیال بنتا ہے، اور آخرکار لفظ کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ذہن ایک کھیت کی مانند ہے۔اگر اس میں علم کے بیج بوئے جائیں، مثبت سوچ کا پانی دیا جائے اور اچھی صحبت کی دھوپ اور چھاؤں ملے، تو ، سچائی اور حکمت کی فصل اگتی ہے۔لیکن اگر اسی زمین میں نفرت، حسد، بدگمانی اور جھوٹ کے کانٹے بو دیے جائیں، تو زبان سے نکلنے والے الفاظ تلوار سے زیادہ تیز اور  نیزوں کی طرح چبھنے لگتے ہیں۔ لفظوں کے ساتھ لہجہ  اندر کی کیفیت کا عکس ہوتا ہے۔جو دل میں سکون رکھتا ہے، اس کی شخصیت میں ٹھہراؤ ،زبان میں نرمی ہوتی ہے۔جو دل میں آگ رکھتا ہے، اس کے لفظ بھی جلانے لگتے ہیں۔کسی انسان کو جاننے کے لیے  اس کا ماضی، حال، لباس دیکھنا  یا

0
17