معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



398
6137
شب اندھیروں کی مٹا سکتا میں
یاد ماضی کی بھلا سکتا میں
دیکھنے کو نہیں باقی کچھ بھی
کاش ! دیپک کو بجھا سکتا میں
جنکے پیچھے لکھی ہیں تاریخیں
خط ، وہ تصویر جلا سکتا میں

0
مقتل بھی نیا قتل کے آلے بھی نئے ہیں
جاں دینے جو آئے ہیں دِوانے بھی نئے ہیں
زردار کو ہر جرم کی ہوتی ہے اجازت
انصاف کے دنیا میں طریقے بھی نئے ہیں
انسان خدا بن گئے کچھ رزق لٹا کر
یہ قربِ قیامت ہے سو فتنے بھی نئے ہیں

4
اے عمرِ فاروق کہاں ہو
امت کی حالت پہ دھ یاں ہو
دستِ ستم کو کیسے روکیں
اور کہاں تک آہ و فغاں ہو
نظمِ خلافت پھر ہو قائم
پھر اسلام کا حکم رواں ہو

0
3
عمر بڑھتی رہی رزق گھٹتا رہا
آدمی قبر کی سمت بڑھتا رہا
صبح سے شام کی، شام سے صبح کی
وقت ہاتھوں سے یوں ہی پھسلتا رہا
رفتہ رفتہ مرا دل سنبھل ہی گیا
دیر تک میں تری راہ تکتا رہا

0
3
خاک ہوں اور پھر خاک سے ہی الفت ہے مجھے
خاک غرور بھی کرتی ہے؟ حیرت ہے مجھے
غربت میں بھی شکر ہے دل کو سکون تو ہے
جرم سے حاصل دولت ہو نفرت ہے مجھے
دل بہلا دیتی ہے رونق دنیا کی
ہجر میں رہ کر وصل سی ہی راحت ہے مجھے

0
3
مغموم تو نہیں ہوں مگر کچھ ملال ہے
بچھڑے ہوؤں کی یاد میں آیا ابال ہے
اچھا گزر گیا یا برا وقت، کیا پتا
حاصل تمام عمر کا وہم و خیال ہے
کچھ آرزوئیں اور بھی دل میں ضرور ہیں
لیکن ترے بغیر تو جینا محال ہے

0
2
وہ نرم بستر پہ اپنے کمرے میں سو رہا تھا
لہو کے آنسو میں اس کی فرقت میں رو رہا تھا
انا بچا کر، بچھڑ کے مجھ سے، وہ خوش تھا لیکن
اسے خبر ہی نہیں تھی وہ کس کو کھو رہا تھا
کریدتا تھا وہ زخم نوکِ سناں سے میرے
میں دامنِ ضب ط تھامے پلکیں بھگو رہا تھا

0
2
عمر بھر ہم نہ کسی کے ہوں گے
مر گئے تو بھی انھی کے ہوں گے
بس گئی آنکھ میں صورت جن کی
دل میں پیوست ہے چاہت جن کی
الوداع کیسے کہیں گے ان سے
دل جدا کیسے کریں گے ان سے

0
2
دکھ درد ہر انسان کے چہرے پہ عیاں ہے
یہ ظلم و ستم جب سے فلسطیں میں رواں ہے
گلشن یہ مہکتا تھا گلوں سے کبھی، اب تو
ہر سمت یہاں آگ ہے ہر سمت دھواں ہے
ہم کر نہ سکے قبلۂِ اول کی حفاظت
اک اور ہمیں چاہیے ایوبی، کہاں ہے

0
2
(نِہایَت) اَنْمول عَُرْف پِنْکی!!!
——
اَیسے پائے کے مُلْزِم کو قَید میں رَکھنا مُشْکِل ہے
جِس کے پاس کروڑوں اور اَربوں کا لَمبا کھاتا ہو
سِیدھی سادی بات تو یِہ ہے اُس مُرغی کو پَکڑے کون؟
جِس مُرغی کا اِک اِک اَنْڈا لاکھوں میں بِک جاتا ہو

0
3
کیا یادِ مدینہ ہے سینے میں سجانے دو
لمحات میں فرقت کے کچھ اشک بہانے دو
پامال ہیں سب یادیں اک یادِ مدینہ سے
جو راز ہے دل بستہ لوگوں سے چھپانے دو
سینے میں ضیا کر دیں انوار درودوں کے
جو نامِ محمد ہے سینے سے لگانے دو

0
1
3
شہر میں جب نہ مسیحا ہو گا
پھر نہ بستی میں تماشا ہو گا
چوٹ کا ہو گا نہ مرہم کوئی
زخم ملموں سے ہی اچھا ہو گا
دل کے دورے پہ پئیں گے قطرے
ہر پیا قطرہ ہی میٹھا ہو گا

0
7
پیار ہی پیار دے گی یہ دنیا
تجھ سے پھر پیار کم نہیں ہوگا
تو جو کر لے سلام چھوٹوں سے
تیرا معیار کم نہیں ہوگا

0
8
عدم پگڑی اچھالن کا ہنر ہم کو نہیں آتا
اگر مقصود ہوتا تو گلے بھی روبرو کرتے

0
3
نہ بچپن لڑکپن جوانی رہی ہے
محبت کہاں اب کہانی رہی ہے
ذرا سا طبیعت میں خم آ گیا ہے
نہ باتیں نہ لہجے روانی رہی ہے
سبھی لوگ اب مطلبی ہو گئے ہیں
نہ رشتوں میں چاہت پرانی رہی ہے

0
5
کچھ زخم دعا بن جاتے ہیں
کچھ زخم صدا بن جاتے ہیں
کچھ زخم اندھیروں کے باسی
کچھ زخم قبا بن جاتے ہیں
کچھ زخم چھپاتے ہیں خود سے
کچھ زخم ادا بن جاتے ہیں

0
10
زندگی ، ایک آس ، تنہائی
آئی ہے کس کو راس تنہائی
ہے یہی رسم مے کدہ یارو
بھیڑ سوچوں کی پاس تنہائی
اڑ گئے سب پرندے دیسوں کو
اب ہے میرا لباس تنہائی

5
کوکِین کی مَلِکَہ اَنْمول عَُرْف پِنْکی گِرِفْتار!!!
——
قائِم تھی جو جُوتے چاٹتے رَہنے سے
اَب اُس جُھوٹی سَرداری کی خَیر نَہِیں
ایک فَقَط اَنْمول کے پَکڑے جانے سے
لَگتا ہے اَب زَرْدارِی کی خَیر نَہِیں

0
1
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

195
7857
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

398
6137
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ الفاظ صرف آوازیں ہیں، چند جملے ہیں جو لبوں سے نکل کر فضا میں بکھر جاتے ہیں۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔لفظ کبھی خالی نہیں ہوتے اپنا اثر رکھتے ہیں وہ ہمارے باطن کے عکاس ہوتے ہیں،لفظ ہماری سوچ، ہمارے تجربات، ہماری نیت اور ہمارے اندر چھپی دنیا کو آشکار کرتے ہیں۔جو کچھ ہم بولتے ہیں، وہ اچانک پیدا نہیں ہو جاتا۔ وہ ہمارے ذہن کی زمین میں بویا گیا  بیج ہوتا ہے، جو  خیال بنتا ہے، اور آخرکار لفظ کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ذہن ایک کھیت کی مانند ہے۔اگر اس میں علم کے بیج بوئے جائیں، مثبت سوچ کا پانی دیا جائے اور اچھی صحبت کی دھوپ اور چھاؤں ملے، تو ، سچائی اور حکمت کی فصل اگتی ہے۔لیکن اگر اسی زمین میں نفرت، حسد، بدگمانی اور جھوٹ کے کانٹے بو دیے جائیں، تو زبان سے نکلنے والے الفاظ تلوار سے زیادہ تیز اور  نیزوں کی طرح چبھنے لگتے ہیں۔ لفظوں کے ساتھ لہجہ  اندر کی کیفیت کا عکس ہوتا ہے۔جو دل میں سکون رکھتا ہے، اس کی شخصیت میں ٹھہراؤ ،زبان میں نرمی ہوتی ہے۔جو دل میں آگ رکھتا ہے، اس کے لفظ بھی جلانے لگتے ہیں۔کسی انسان کو جاننے کے لیے  اس کا ماضی، حال، لباس دیکھنا  یا

0
26