معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



398
5977
اے ربِِّ کُل کائنات!
اس مرکزِ علم و دانش کے
ہر گوشۂ جاں کو
شعور کی روشنی عطا کر
لفظ کو معنی
معنی کو تاثیر کی دولت دے

0
2
آئی ہے عید عید پہ خوشیاں اچھال رکھ
 خود کو نہ یومِ عید تو آشفتہ حال رکھ 
دعوت پہ جا رہا ہے تو جیبوں میں مال رکھ
دینی پڑے گی بچوں کو عیدی خیال رکھ
 مل جائے گی کسی نا کسی سے نہ فکر کر
عیدی کے واسطے نہ تو جاں کو نڈھال رکھ

4
میٹھی عید ہے پھر سے آئی
ساتھ میں چھ تکبیریں لائی
ہاتھ اٹھانا ہاتھ گرانا
کب ہے رکوع میں ہم کو جانا؟
دیکھوں جِس کو آنکھ چُرا کر
وہ بھی کھڑا ہے مُنہ کو بنا کر

0
4
میٹھی عید ہے پھر سے آئی
ساتھ میں چھ تکبیریں لائی
ہاتھ اٹھانا ہاتھ گرانا
کب ہے رکوع میں ہم کو جانا؟
دیکھوں جِس کو آنکھ چُرا کر
وہ بھی کھڑا ہے مُنہ کو بنا کر

0
5
خیالوں کو زینت دے دل میں صفائی
زہے تحفہ بادِ مدینہ جو لائی
مزین ہے خلوت سجی محفلیں بھی
کرے ذکرِ جاناں معطر خدائی
ضیا صبح دیکھی سہانی جہاں نے
گراں فیض اس میں نبی سے عطائی

0
1
4
الھڑ بلھڑ باوے دا
باوا چن چڑھاوے گا
رل کے عید مناوے گا
رج سِوَیّاں کھاوے گا

0
2
الھڑ بلھڑ باوے دا
باوا چن چڑھاوے گا
رل کے عید مناوے گا
رج سِوَیّاں کھاوے گا

0
2
چھوڑ کے اشک بہانہ ہم نے
پی لیا درد پرانا ہم نے
اک سجائی ہے ہنسی ہونٹوں پر
غم کو سیکھا ہے چھپانا ہم نے
بھینچ کے غنچۂ دل ہاتھوں میں
گھر دیا چھوڑ ، ٹھکانا ہم نے

0
2
ایک مُتَنازَعَہ تَریِن جَہاز کی ایک مَشْکُوک تَریِن پَرْواز!!!
——
زَمِیں پَہ گِرتے ہیں اِک روز آ کے اَونْدھے مُنْہ
کِسی سے کر کے جو یُوں ساز باز اُڑتے ہیں
اُڑان تک تو تَفاوُت نَہِیں ہمارے بیچ
ہمارے طوطے، تُمھارے جَہاز اُڑتے ہیں

0
2
اُن کو محبوب رب نے کہا ہے
شان جن کی خلق میں سوا ہے
ہر جہاں پر وہ رحمت کے باراں
اُن کو کوثر خدائی عطا ہے
قال حق ہے حبیبِ الہ سے
قول اُن کا رضائے خدا ہے

2
9
عطائے نبی کا نہیں ہے کنارا
گھرانہ سخی کا ہے فیاض سارا
کریمِ جہاں ہیں پسر سیدہ کے
حسیں کا یہ گلشن خدا کو ہے پیارا
نہ ڈھونڈیں خلق میں مثالِ نبی کو
ہے پکا جہاں میں نبی کا اجارہ

0
2
8
تخیل میں جِلا آئی مدینے سے ہوا آئی
مقدر جاگے ہستی کے زبانوں پر ثنا آئی
مہک پھیلی فضاؤں میں جہاں میں رونقیں ہر جا
ہزاروں نعمتیں اس میں لئے لطف و عطا آئی
شرارے کفر کے ٹھنڈے گرے طاغوت کے پھندے
زہے نوری مدینے سے شفاعت کی دعا آئی

2
9
مسرت شادمانی ہے دلوں میں آشتی آئی
مقدر جاگے ہستی کے فضائے راستی آئی
حسیں نغمے گلستاں میں بہاریں گیت گاتی ہیں
قدم جاناں کے آئے ہیں چمن میں تازگی آئی
بڑی مدت سے تاریکی جہاں میں پیر گاڑے تھی
درخشانی جہاں میں ہے نبی سے چاندنی آئی

0
1
7
سلطانِ دہر آقا دارین کے دل جاں ہیں
ہیں زینتِ ہستی بھی اور جانِ گلستاں ہیں
جس نورِ فروزاں سے دارین ہوئے روشن
وہ شمعِ ہدایت ہیں اور صاحبِ قرآں ہیں
رحمت ہیں خدائی پر احسانِ سخی سرور
مختارِ زماں دلبر دکھ درد کے درماں ہیں

2
10
دوستی اب ختم کرنا چاہتی ہے
خود کو بھی آخر مٹانا چاہتی ہے
اختلافات آ گئے ہیں درمیاں اب
پھر بھی میرا دم ہی بھرنا چاہتی ہے
جیت سکتی ہے وہ آسانی سے لیکن
میرے آگے ہار جانا چاہتی ہے

0
2
دوستی اب ختم کرنا چاہتی ہے
خود کو بھی شاید مٹانا چاہتی ہے
اختلافات آ گئے ہیں درمیاں اب
پھر بھی میرا دم بھرنا چاہتی ہے
جیت سکتی ہے وہ آسانی سے لیکن
میرے آگے ہار جانا چاہتی ہے

0
4
دل ٹوٹ جائے اور دلاسا کوئی نہ ہو
مولا ہمارے جیسا بھی تنہا کوئی نہ ہو
مولا ہمیں بھی چاہیے اک زخم اس طرح
بِن عشق جس کا اور مداوی کوئی نہ ہو
غربت میں عمر کٹ گئی پر سر نہیں جھکا
بے حس جہاں کے سامنے رسوا کوئی نہ ہو

0
2
حق گوئی سے اکثر مُلّاں ڈرتے ہیں
حالانکہ زباں طویل یہ رکھتے ہیں
بچوں کو تھما کر یہ جہادی شمشیر
خود صحن میں اپنے کلیاں چنتے ہیں

0
2
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

398
5977
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

193
7727
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ الفاظ صرف آوازیں ہیں، چند جملے ہیں جو لبوں سے نکل کر فضا میں بکھر جاتے ہیں۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔لفظ کبھی خالی نہیں ہوتے اپنا اثر رکھتے ہیں وہ ہمارے باطن کے عکاس ہوتے ہیں،لفظ ہماری سوچ، ہمارے تجربات، ہماری نیت اور ہمارے اندر چھپی دنیا کو آشکار کرتے ہیں۔جو کچھ ہم بولتے ہیں، وہ اچانک پیدا نہیں ہو جاتا۔ وہ ہمارے ذہن کی زمین میں بویا گیا  بیج ہوتا ہے، جو  خیال بنتا ہے، اور آخرکار لفظ کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ذہن ایک کھیت کی مانند ہے۔اگر اس میں علم کے بیج بوئے جائیں، مثبت سوچ کا پانی دیا جائے اور اچھی صحبت کی دھوپ اور چھاؤں ملے، تو ، سچائی اور حکمت کی فصل اگتی ہے۔لیکن اگر اسی زمین میں نفرت، حسد، بدگمانی اور جھوٹ کے کانٹے بو دیے جائیں، تو زبان سے نکلنے والے الفاظ تلوار سے زیادہ تیز اور  نیزوں کی طرح چبھنے لگتے ہیں۔ لفظوں کے ساتھ لہجہ  اندر کی کیفیت کا عکس ہوتا ہے۔جو دل میں سکون رکھتا ہے، اس کی شخصیت میں ٹھہراؤ ،زبان میں نرمی ہوتی ہے۔جو دل میں آگ رکھتا ہے، اس کے لفظ بھی جلانے لگتے ہیں۔کسی انسان کو جاننے کے لیے  اس کا ماضی، حال، لباس دیکھنا  یا

0
11