معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



398
6058
میری ذات کا اظہار اب بھی تو ادھورا ہے
اصل سوچ و احساس اشعار میں نہیں آئے

0
2
بیٹھے ہیں ان کی یاد میں ساۓ میں پیڑ کے
چلتی ہے کیوں تو بادِ صبا ہم کو چھیڑ کے
حاصل ہوا نہ کچھ یاں بکھیڑے نبیڑ کے
چلتا ہوں بس گناہوں سے دامن لتھیڑ کے
قابل نہیں رہا ہے یہ بخیہ گری کے اب
رکھ دی یوں دل کی کھال غموں نے ادھیڑ کے

0
2
اِیْران کے 10 آئل ٹینکرز کی امریکہ کو غَیر قانُونی تَرْسِیل!!!
——
اَیسی چَمْچہ گِیری سے تو ذِلَّت مِلنا لازم تھی
اَیسی گَھٹْیا حَرَکَت سے کُچھ بول نَہ بالا ہونا تھا
اِتنا گِر جانے سے پہلے کُچھ تو سوچ لیا ہوتا
آئل کی اِس دَلّالی میں مُنہ تو کالا ہونا تھا

0
2
رُت ہے آئی نَظر مِلانے کی
کیا ضرورت کسی بَہانے کی
بَن سَنْور کے وہ آئے بیٹھے ہیں
عید ہے آج آشیانے کی
کہہ رہے ہیں سُناؤ حالِ دل
بات بُھولے سَبھی سُنانے کی

0
9
رُت ہے آئی نَظر مِلانے کی
کیا ضرورت کسی بَہانے کی
بَن سَنْور کے وہ آئے بیٹھے ہیں
عید ہے آج آشیانے کی
کہہ رہے ہیں سُناؤ حالِ دل
بات بُھولے سَبھی سُنانے کی

0
2
نظر اس رخ پہ جب ہم نے جمائی
تو باڑ اک اس نے بیچوں بیچ اٹھائی
اتر کر آپ گاڑی سے گئے کیا
اداسی آ کے پہلو میں سمائی
رہِیں چمگادڑیں آنکھوں میں شب بھر
ہنسی بے شرم شبنم نے اڑائی

0
3
نبی پیارے دلبر رسولِ خدا ہیں
حسیں جانِ عالم سخی مصطفیٰ ہیں
ملے اُن کے در پر نداؤں سے پہلے
عطا کے جو قاسم لبیبِ الہ ہیں
ہے میداں میں ہمدم عطا عام اُن کی
جو دولہائے محشر حسیں دلربا ہیں

0
2
یادِ نبی میں پنہاں وہ رمزِ آشتی
جس سے قرار جاں ہو سینے میں روشنی
ذکرِ حبیبِ یزداں ہے زینتِ جہاں
کونین کی ہے مستی دل جان کی خوشی
یسرب بنا مدینہ اُن کے ورود سے
شاخِ امید جس جا دائم رہے پھلی

0
1
4
ہو میسر جس کو بھی تیری طرف
دیکھ لے وہ آسماں اپنی طرف
رقص بارش خواب موسم اتفاق
کچھ تو لے آئے اسے میری طرف

0
3
ہم نے جھومر کی طرح ماتھے پہ سجائے رشتے
چاک سینہ تھا مگر سینے سے لگائے رشتے
ہم صداؤں پہ صدائیں دیے جاتے تھے انہیں
اور ایک وہ تھے کہ پیروں میں بچھائے رشتے
ہم نے تیز طوفاں میں بھی ہر ہاتھ کو تھامے رکھا
ہم نے پت جھڑ میں ہواؤں سے بچائے رشتے

0
3
نظر سے دور سہی دل کے آس پاس رہے
کہ کچھ رہے نہ رہے زندگی میں آس رہے
شمارِ زخمِ دلِ ناصبور کس کے لیے
یہی بہت ہے کسی درد کا احساس رہے
کسی کے ہجر میں ایسی بھی روشنی دیکھی
دیا بھی جل نہ سکا اور دل شناس رہے

4
وہ اور ہمارے یِہ دو جانُو جَرمَن!!!
——
جِن کے یِہ جانُو جَرمَن چَمچے بنے ہُوئے ہیں
اُن چَکْرِیوں نے کوئی چَکَّر چَلا دیا ہو
جِن کے مُعاملوں میں مامے بنے ہُوئے ہیں
ایسا نہ ہو اُنہوں نے مامُوں بنا دیا ہو

0
2
آئی جو مصطفی سے وہ روشنی ملی
الطافِ دلربا ہیں یہ آشتی ملی
راحت سکونِ دل اور فرحت ہے تازگی
ذکرِ کریم والی جو زندگی ملی
ناپید کشمکش ہے کافور اضطراب
دلبر سے یاد میں جو اعلی خوشی ملی

0
1
4
اظہار ہوں کسی کے حسنِ خیال کا
یا عکس ہوں کسی کے جاہ و جلال کا
میں کون ہوں کہاں سے آیا ہوں اس جگہ
کیوں میں ہی مستحق تھا ایسے وبال کا
عادت سی ہوگئی ہے بے سود مجھ کو کیوں
رکھنا حساب روز و شب،   ماہ و سال کا

0
4
جب ترے لہجے کی شبنم نے تمازت اوڑھ لی
میں نے خاموشی سے پھر تنہا مسافت اوڑھ لی
بے حسوں کی بھیڑ میں کیا بات کرتا درد کی
اس لیے میں نے بھی چہرے پر متانت اوڑھ لی
ہار کر بھی عشق میں خود دار رہنا شرط تھا
دل کے زخموں نے تبسم کی شباہت اوڑھ لی

0
17
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

194
7777
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

398
6058
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ الفاظ صرف آوازیں ہیں، چند جملے ہیں جو لبوں سے نکل کر فضا میں بکھر جاتے ہیں۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔لفظ کبھی خالی نہیں ہوتے اپنا اثر رکھتے ہیں وہ ہمارے باطن کے عکاس ہوتے ہیں،لفظ ہماری سوچ، ہمارے تجربات، ہماری نیت اور ہمارے اندر چھپی دنیا کو آشکار کرتے ہیں۔جو کچھ ہم بولتے ہیں، وہ اچانک پیدا نہیں ہو جاتا۔ وہ ہمارے ذہن کی زمین میں بویا گیا  بیج ہوتا ہے، جو  خیال بنتا ہے، اور آخرکار لفظ کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ذہن ایک کھیت کی مانند ہے۔اگر اس میں علم کے بیج بوئے جائیں، مثبت سوچ کا پانی دیا جائے اور اچھی صحبت کی دھوپ اور چھاؤں ملے، تو ، سچائی اور حکمت کی فصل اگتی ہے۔لیکن اگر اسی زمین میں نفرت، حسد، بدگمانی اور جھوٹ کے کانٹے بو دیے جائیں، تو زبان سے نکلنے والے الفاظ تلوار سے زیادہ تیز اور  نیزوں کی طرح چبھنے لگتے ہیں۔ لفظوں کے ساتھ لہجہ  اندر کی کیفیت کا عکس ہوتا ہے۔جو دل میں سکون رکھتا ہے، اس کی شخصیت میں ٹھہراؤ ،زبان میں نرمی ہوتی ہے۔جو دل میں آگ رکھتا ہے، اس کے لفظ بھی جلانے لگتے ہیں۔کسی انسان کو جاننے کے لیے  اس کا ماضی، حال، لباس دیکھنا  یا

0
13