معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



398
6058
قَوْم کے تو کِسی نَہ کام کے ہو
حَدْ یِہ ہے بار بار ہو تُم لوگ
کِن کے بھیجے ہُوئے ہو کیا مَعْلُوم؟
کِن کے خِدْمَت گُذار ہو تُم لوگ؟
(مرزا رضی اُلرّحمان)

0
حسیں جانِ عالم یہ محبوبِ یزداں
شہے دو سریٰ ہیں زمانے کے سلطاں
نہ ٹھہرا کہیں بھی جو ہمسر ہو اُن کا
سدا جن کے اوصاف ہیں فخرِ انساں
ہوا ذکر جس جا نبی مصطفیٰ کا
وہیں جھک گئے سب مراتب کے ایواں

2
9
یادِ نبی میں رہتی تازہ ہے زندگی
دارِ سخی پہ آئیں حاصل ہو تازگی
نقشِ قدم کریمی دیں کامرانیاں
الطافِ مصطفیٰ میں سکھ چین آشتی
آیا سکون دل کو راحت میں جان ہے
لائے حبیبِ یزداں قرآن روشنی

0
2
10
آئی جو مصطفی سے وہ روشنی ملی
الطافِ دلربا ہیں یہ آشتی ملی
راحت سکونِ دل اور فرحت ہے تازگی
ذکرِ کریم والی جو زندگی ملی
ناپید کشمکش ہے کافور اضطراب
دلبر سے یاد میں جو اعلی خوشی ملی

0
3
9
یادِ نبی میں پنہاں وہ رمزِ آشتی
جس سے قرار جاں ہو سینے میں روشنی
ذکرِ حبیبِ یزداں ہے زینتِ جہاں
کونین کی ہے مستی دل جان کی خوشی
یسرب بنا مدینہ اُن کے ورود سے
شاخِ امید جس جا دائم رہے پھلی

0
2
5
نبی پیارے دلبر رسولِ خدا ہیں
حسیں جانِ عالم سخی مصطفیٰ ہیں
ملے اُن کے در پر نداؤں سے پہلے
عطا کے جو قاسم لبیبِ الہ ہیں
ہے میداں میں ہمدم عطا عام اُن کی
جو دولہائے محشر حسیں دلربا ہیں

0
1
4
دیتے ہیں ندا سے پہلے وہ کیا جود و کرم سرکار کے ہیں
احسان خدائی پر اُن کے کیا فیض سخی مختار کے ہیں
یہ بابِ رسالت کے زینے الطافِ خدا کے مرکز ہیں
دو جگ میں جس کی دھوم مچی کیا لطف و کرم دربار کے ہیں
گر واصلِ باللہ ہونا ہے اور نامہ اپنا دھونا ہے
بن منگتے در پر جاتے ہیں بڑے دان حسیں دلدار کے ہیں

0
3
13
رُت ہے آئی نَظر مِلانے کی
کیا ضرورت کسی بَہانے کی
بَن سَنْور کے وہ آئے بیٹھے ہیں
عید ہے آج آشیانے کی
کہہ رہے ہیں سُناؤ حالِ دل
بات بُھولے سَبھی سُنانے کی

0
1
12
زندگی نام کرنا پڑتی ہے
تب محبت ذرا سنبھلتی ہے
یاد تم بے حساب آتے ہو
بھیگے ساون میں شام ڈھلتی ہے
قرض اترے گا کب محبت کا
کم سے کم جان دینا پڑتی ہے

0
2
زندگی نام کرنا پڑتی ہے
تب محبت ذرا سنبھلتی ہے
یاد تم بے حساب آتے ہو
بھیگے ساون میں شام ڈھلتی ہے
قرض اترے گا کب محبت کا
کم سے کم جان دینی پڑتی ہے

0
1
سامنے میز پر رکھے شیشے کے گلاس میں
رکا ہوا پانی
تمہاری آنکھوں کی طرح خاموش، ٹھنڈا
اور اتنا گہرا ہے کہ جھیلیں بھی حقیر لگیں
میں تمہیں چھونا تو چاہتا ہوں
مگر ڈرتا ہوں...

0
4
یَہ جو ہاتھ میں تیرے میرا ہاتھ باقی ہے
تیرے ذہن میں گویا ، کوئی بات باقی ہے
۔
عِشق میں فنا ہونا ، تُو کہاں سَمَجھ پایا
تُجھ میں ذات سے اپنی اِلتِفات باقی ہے
۔

0
5
ہزار طوفاں جو میری نظر کے ساحل میں ہیں
یوں لگتا ہے ابھی تکمیل کے مراحل میں ہیں
مجھے نہیں ہے شکوہ کسی بھی دشمن سے اب
یہاں تو میرے اپنے مرے مقابل میں ہیں
لگا کے سینے سے وہ بے جان کر دیتا ہے
عجب کرشمے اب اُس کے لمسِ قاتل میں ہیں

0
6
میری ذات کا اظہار اب بھی تو ادھورا ہے
اصل سوچ و احساس اشعار میں نہیں آئے

0
6
بیٹھے ہیں ان کی یاد میں ساۓ میں پیڑ کے
چلتی ہے کیوں تو بادِ صبا ہم کو چھیڑ کے
حاصل ہوا نہ کچھ یاں بکھیڑے نبیڑ کے
چلتا ہوں بس گناہوں سے دامن لتھیڑ کے
قابل نہیں رہا ہے یہ بخیہ گری کے اب
رکھ دی یوں دل کی کھال غموں نے ادھیڑ کے

0
2
اِیْران کے 10 آئل ٹینکرز کی امریکہ کو غَیر قانُونی تَرْسِیل!!!
——
اَیسی چَمْچہ گِیری سے تو ذِلَّت مِلنا لازم تھی
اَیسی گَھٹْیا حَرَکَت سے کُچھ بول نَہ بالا ہونا تھا
اِتنا گِر جانے سے پہلے کُچھ تو سوچ لیا ہوتا
آئل کی اِس دَلّالی میں مُنہ تو کالا ہونا تھا

0
2
رُت ہے آئی نَظر مِلانے کی
کیا ضرورت کسی بَہانے کی
بَن سَنْور کے وہ آئے بیٹھے ہیں
عید ہے آج آشیانے کی
کہہ رہے ہیں سُناؤ حالِ دل
بات بُھولے سَبھی سُنانے کی

0
2
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

194
7777
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

398
6058
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ الفاظ صرف آوازیں ہیں، چند جملے ہیں جو لبوں سے نکل کر فضا میں بکھر جاتے ہیں۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔لفظ کبھی خالی نہیں ہوتے اپنا اثر رکھتے ہیں وہ ہمارے باطن کے عکاس ہوتے ہیں،لفظ ہماری سوچ، ہمارے تجربات، ہماری نیت اور ہمارے اندر چھپی دنیا کو آشکار کرتے ہیں۔جو کچھ ہم بولتے ہیں، وہ اچانک پیدا نہیں ہو جاتا۔ وہ ہمارے ذہن کی زمین میں بویا گیا  بیج ہوتا ہے، جو  خیال بنتا ہے، اور آخرکار لفظ کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ذہن ایک کھیت کی مانند ہے۔اگر اس میں علم کے بیج بوئے جائیں، مثبت سوچ کا پانی دیا جائے اور اچھی صحبت کی دھوپ اور چھاؤں ملے، تو ، سچائی اور حکمت کی فصل اگتی ہے۔لیکن اگر اسی زمین میں نفرت، حسد، بدگمانی اور جھوٹ کے کانٹے بو دیے جائیں، تو زبان سے نکلنے والے الفاظ تلوار سے زیادہ تیز اور  نیزوں کی طرح چبھنے لگتے ہیں۔ لفظوں کے ساتھ لہجہ  اندر کی کیفیت کا عکس ہوتا ہے۔جو دل میں سکون رکھتا ہے، اس کی شخصیت میں ٹھہراؤ ،زبان میں نرمی ہوتی ہے۔جو دل میں آگ رکھتا ہے، اس کے لفظ بھی جلانے لگتے ہیں۔کسی انسان کو جاننے کے لیے  اس کا ماضی، حال، لباس دیکھنا  یا

0
13