معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



29
291
جو تیرے ساتھ نہ گزرے وہ زندگی کیا ہے
متاع جاں تُو نہیں تو کوئی خوشی کیا ہے
شریرو شوخ سہی پر یہ بے رخی کیا ہے
وہ جانے کیا، شبِ ہجراں کی بے کلی کیا ہے
جو تیرے لب ہوں میسر تو مے کشی کیا ہے
کہ دیکھیے دلِ ناداں کی کج روی کیا ہے

1
8
اصلاح سیکشن میں حال ہی میں کچھ تبدیلیاں کی گئی ہیں

4
155
مشہور و معروف شاعر ڈاکٹر راحت اندوری صاحب کو خراج عقیدت
ایک قطعہ سے
راحت تھے ایک اچھے سخنور چلے گئے
سب کی نگاہوں کے تھے جو محور چلے گئے
جانے سے ان کے بزم بھی تاریک ہو گئی
افسوس ہے وہ ماہِ منور چلے گئے

1
بہت ہوا اب خمار یارو
نہیں ہے اپنا شمار یارو
نہ فکر کیوں ہو مجھے کہ میں تو
نہیں تغافل شعار یارو
کہ لوٹ آنا نہیں ہے ممکن
کرو نہ اب انتظار یارو

13
123
میں نے محبت کا اجڑتا ہوا شجردیکھا
خشک چٹختی ہوئی بے جان شاخیں
جو نصیحت تھیں
کئی منتظر پھلوں کی بکھرتی امیدیں
کہر میں چھپ چھپ کہ گرتے بے جان پتے
جن کے لاشے ہوا کی چوٹ سے بکھرتے تھے

9
60
تم اپنی محبت کے انداز بدل ڈالو
ہو مجھ پہ یقیں نا تو ہمراز بدل ڈالو
معلوم اگر ہے تم کو اپنے خسارے کا
انجام سے پہلے تم آغاز بدل ڈالو
دشمن کے ارادوں کو ظاہر ہے اگر کرنا
تم اپنے کھیل کا ہی انداز بدل ڈالو

0
4
جب سے اپنے آپ پر ہم منکشف ہونے لگے
اپنے ہونے پر بھی ہم ہیں مضطرب ہونے لگے
احتساب اپنا وہ خود کرتا فرشتے بھی مگر
بیٹھ کر کندھوں پہ اپنے محتسب ہونے لگے

1
6
پھیلا ہے اسی شام کا منظر مرے آگے
جب نرم اندھیرے ہوۓ پتھر مرے آگے
حالات وہی تو وہی امید بھی تجھ سے
دشمن مرے پیچھے ہے سمندر مرے آگے
اک عمر سے پھر جاگتی آنکھوں کے مرے خواب
پیچھے مرے رہتے ہیں یا اکثر مرے آگے

4
123
سنو...!! کہتے رہو تم
ہمہ تن گوش ہوں میں
ابھی گویائی میں بس
کسی صحرا کی مانند
فقط خاموشیوں کی
وہی دلدوز چیخیں

0
3
رات کے اندھیروں میں ناچتی ہے چاندنی
پُو جو پھُوٹنے لگے بھاگتی ہے چاندنی
دیکھتا ہے جس طرح چھُپ کے کوئی دِلرُبا
نیم وا دریچوں سے جھانکتی ہے چاندنی
دھڑکنوں کی تھاپ پر چاندنی ہے رقص میں
رات کے سکوت میں ہانپتی ہے چاندنی

0
3
عشق ہے یا بلا ہے کیا کہیے
ضبط کی انتہا ہے کیا کہیے
اُس کی آنکھوں کی نیم خوابی میں
درد ہے رت جگا ہے کیا کہیے
گونجتی ہے جو اب بھی کانوں میں
میرے دل کی صدا ہے کیا کہیے

0
2
24
محبوبِ رب کو اے دل خیر البشر ہیں کہتے
سدرہ سے آگے ممکن ان کا سفر ہیں کہتے
روشن ہے صبحِ اول دانِ نبی سے ساری
اس ابتدا کو سارے نوری سحر ہیں کہتے
جس خیر کا بھکاری ہے مہر چندہ تارہ
اس فیض کو اے ہمدم جانِ قمر ہیں کہتے

0
2
گھیرے دہر کو پورا رحمت ہے آپ کی
اوجِ فلک کو حاصل برکت ہے آپ کی
ذکرِ نبی ہے اونچا حکمِ خدا سے ہی
سارے جہاں میں بر تر رفعت ہے آپ کی
حبِ نبی سے حاصل ہے چین میرے دل
زریں اثاثہ ہمدم الفت ہے آپ کی

0
5
ہوگیا جو بھی پرستار علی والوں کا
مل گیا اس کو ہی دربار علی والوں کا
دوجہاں پر ہے جو اپکار علی والوں کا
کیا کرے گا کوئی اظہار علی والوں کا
میں بھی تو دیکھ لو دربار علی والو ں کا
دل ہوا جاتا ہے بیمار علی والوں کا

0
2
12
سخی مصطفیٰ میرے دل کی ندا ہیں
وہ محبوبِ رب ہیں وہ خیر الوریٰ ہیں
دکھا دے اے مولا مجھے روضہ ان کا
یہ ہی یادیں اس دل میں رہتی سدا ہیں
ہو نامِ نبی اب حزیں دل میں روشن
جو اسرار من تھے بنے اب ندا ہیں

0
1
دیکھا جو وہ چہرہ کبھی جی بھر نہیں دیکھا
نظریں تو اُٹھیں ، نظریں ملا کر نہیں دیکھا
اک حسن کے جلوے کا تصور تو ہے محفوظ
آنکھوں نے اسے نور سے باہر نہیں دیکھا
اک شمعِ فروزاں پہ فدا ہم بھی ہوئے ہیں
پروانوں کا واں جلتے ہوئے پر نہیں دیکھا

0
2
ہے عاجز یہاں جس سے سب کی زباں
کرے گا قلم کیسے میرا بیاں
ہے خواہش کروں یوں ثنائے خدا
کہ بن جائے ہر بات بگڑی وہاں
مکیں لا مکاں میں تری ذات ہے
گماں کا گزر بھی نہیں ہے جہاں

0
2
16
دیکھتے دیکھتے برسوں کو گذرتے دیکھا
کھلتے کھلتے سبھی پھولوں کو بکھرتے دیکھا
خضر کی عمر بھلا کس کو میسر ہے یہاں
جینے والوں کو اسی فکر میں مرتے دیکھا

0
15
نبی میرے جو سرور ہیں خدا کے راز داروں میں
عیاں قرآن سے ہے یہ وحی کے سب اشاروں میں
محمد مصطفیٰ آقا گروہِ انبیا میں یوں
چمکتا چندہ ہے جیسے سما کے سب ستاروں میں
سبق سرکار سے آیا فضائے دہر میں ایسا
غلاموں کو بدل ڈالا ہے جس نے تاجداوں میں

0
2
میں نے دلِ مضطر کو یہ سنا رکھا ہے
ان سب مہ جبینوں میں خدا نے دغا رکھا ہے
بل کھاتی گرتی ہے تیرے رخسار پہ یوں
تو نے اس زلف کو سر پہ ہی چڑھا رکھا ہے
الفاظ گری نے بھی گھٹنے ہیں ٹیک دیے
تجھ سے بولوں یہ حوصلہ ہی کہاں رکھا ہے

1
6
معزز صارفین،یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 

29
291
میرا نام ماجداسلام ماجدؔ ہے۔ عرصہ 3 ماہ سے بحور پہ مکمل اوزان کے ساتھ مصروفِ سخن ہوں۔ نعتیہ کلام لکھنا پسند ہے مجھے۔ دوسرے موضوعات جیسا کہ عاشقی اور معشوقی پہ لکھنا توہین سے کم نہیں سمجھتا۔ امید ہے کہ آپ سب میرا استقبال کریں گے۔ فقط:ماجداسلام ماجدؔ

1
24