Circle Image

Ali Shaida

@Shaida

اٹھائے جانا ہمیں راستہ ہے آگے تک
کوئی نہ ساتھ چلے دوسرا ہے آگے تک
کہاں یہ دشت نوردی تھکا ہمیں دے گی
ہمارے ساتھ جنوں کی دعا ہے آگے تک
بری خبر ہے سنائی جو اہل موسم نے
ملول یونہی چمن کی فضا ہے آگے تک

0
4
ہمیںں بیمار کر ڈالا دوا نے
طوالت بخش دی اپنی دعا نے
بہت گہرائیاں لیکر تھے ڈوبے
جھٹک کر کھینچ لایا ہے خلا نے
ہزاروں سلوٹیں ہیں پانیوں پر
دوپٹہ کس کا چھیڑا ہے ہوا نے

0
5
حرفِ مصلے لے کر بیٹھے ہیں میخانہ چھوڑ دیا
آئینے سے پردہ کرکے آنکھ ملانا چھوڑ دیا
اوڑھ کے نکلے خاک بدن پر عریانی کا پیراہن
روشندانوں کی نظروں سے یوں گھبرانا چھوڑ دیا
وقت نے جب دیوار اٹھائی چاہت کی اونچائی تک
پھر ہم نے بھی اس کی گلی میں آنا جانا چھوڑ دیا

0
2
دھیان میں بیٹھے چھان جو مارا کونا کونا چھوڑ دیا
ہجر کی ہر ساعت سے لپٹے وصل میں کھونا چھوڑ دیا
مجنوں بن کے سیکھ لیا ہے خاک اڑا کر ہنس لینا
لیلی تیرے ہجر میں ہم نے رونا دھونا چھوڑدیا
مٹی کے برتن لے آیا گاؤں کی کمہارن سے
یادوں کی دہلیز پہ تیری چاندی سونا چھوڑ دیا

0
6
مسئلہ ہے ۔۔دھوپ چھاؤں ۔۔۔ زندگی
گھر نہیں آنگن نہ گاؤں ۔۔۔۔۔ زندگی
ڈھونڈنے نکلا ہوں۔۔۔۔۔ اپنے آپ کو
تو بتا آؤں کہ جاؤں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔زندگی
دکھ کے سارے لفظ باہم کرلئے
عمر بھر غزلیں سناؤں ۔۔۔۔۔۔۔زندگی

0
9
کیسا رشتہ بحال ہونا ہے
خاک ہوں، انتقال ہونا ہے
اتنا صحرا ہوں چھان کیا ماروں
تھک کے آخر نڈھال ہونا ہے
وقت مجھ کو تلاش ہے کرتا
یعنی پھر سے سوال ہونا ہے

0
9
رقص ٹوٹا دشت میں دیکھا نہ دیوانہ گیا
زندگی کے ہاتھ میں کچھ ہے نہیں، مانا گیا
دھول جب بھی خاک کے پیکر پہ ڈالی وقت نے
آئنے میں عکس لاکر ہم سے پہچانا گیا
کرگئی صحبت خیالِ یار کی سرشار یوں
پیاس ہونٹوں سے گئی ہاتھوں سے پیمانہ گیا

0
5
اپنی پرچھائی سے ہونا آشنا ممکن نہیں
رقص میں ہم ہیں تو دامن تھامنا ممکن نہیں
اوڑھ لے خوابوں کی چادر صبح تک سوجائیو
رات بھر آنکھوں میں اپنی جاگنا ممکن نہیں
شہر بھر کے شور سے دامن چھڑا کر آگئے
اب یہ مشکل ہے کہ خود سے بھاگنا ممکن نہیں

0
4
گھر سے نکلے ہو تو رفتار پکڑ لی جائے
راہ دشوار کہ ہموار ، پکڑ لی جائے
دشت کاٹے تو ذرا خاک اڑا کر دیکھو
آبلہ پائی ء بیمار پکڑ لی جائے
ہمسفر کرلو ملے شور و فغانِ جنگل
شہر سنسان ہو، دیوار پکڑ لی جائے

0
10
خلوت کدے میں چاہ کے نا عکسِ غیر رکھ
اپنے مکاں میں کوئی نہ اپنے بغیر رکھ
پکی سڑک پہ دھوپ نے مرہم بچھا دیا
تو آبلوں کا سوچ نہ بے فکر پیر رکھ
دشتِ جنوں کے ظرف میں ہو آشنائے غم
پاؤں کی ٹھوکروں پہ تماشائے سیر رکھ

0
11
زخم سارے نچوڑ کر نکلا
درد کا گاؤں چھوڑ کر نکلا
ہاتھ ملتے رہے درو دیوار
چپ رہا، ہاتھ جوڑ کر نکلا
پختہ دیوار تھی نہیں حائل
آئنہ تھا جو توڑ کر نکلا

0
27
آئنے میں اتر گئے ہوتے
ٹوٹ کے ہم بکھر گئے ہوتے
زندگی کے بھی کچھ تقاضے ہیں
ورنہ جاں سے گزر گئے ہوتے
غم کی ہوتی مٹھاس ہے اپنی
کوئی چارہ تو کر گئے ہوتے

0
10
شوق کو آر پار ڈالا ہے
دل کی سرحد کو مار ڈالا ہے
روز اٹھتا دھواں ہے دل سے کیوں
کس نے یہ انتشار ڈالا ہے
ہجر کا ہائے ناتواں دل پر
بوجھ کیوں بار بار ڈالا ہے

0
15
رنگ و بو کے استعاروں سے سنواری ہے غزل
تیرے آنچل کی فضاؤں سے گزاری ہے غزل
چاندنی کو آئنے کے عکس میں رکھا گیا
دھوپ نے پھر ہم سے لکھوائی تمہاری ہے غزل
تیرا سایہ آ پڑا ہے سادہ رو قرطاس پر
ورنہ کب لفظوں سے ہوتی اتنی پیاری ہے غزل

0
5
سرابِ دشت سے آگے نہیں کچھ
ہوا کچھ آگ یا پانی زمیں کچھ
بہت ساماں مرے گھر میں پڑا تھا
نظر آتا نہیں لیکن کہیں کچھ
اٹھا کر وقت شاید لے گیا ہو
کھلونا ساجو رکھا تھا یہیں کچھ

0
18
وقت ہے ہم خیال ۔۔۔ رہنے دے
وقت ہی کی ہے چال ۔۔ رہنے دے
جانے کس کی تلاش میں گزرے
زندگی ! ماہ و سال۔۔۔۔۔رہنے دے
چڑھ رہا ہے جو سیڑھیاں سورج
لے کے اپنا زوال ۔۔۔۔ رہنے دے

0
9
یہ جنگل لکڑیاں رکھتا نہیں ہے
کہ گاؤں لڑکیاں رکھتا نہیں ہے
دھواں ہم نے زمینوں میں اگایا
چمن اب تتلیاں رکھتا نہیں ہے
پیاسا دشت جھانکے نا کہیں سے
سمندر کھڑکیاں رکھتا نہیں ہے

0
12
جانے کس دورِ فِتن کی رسم دہرائی گئی
عشق زادے کو قبائے خاک پہنائی گئی
اور کیا کارِ جنوں تھا رزم گاہے عشق میں
اک ہزیمت در بدر تھی ہم سے اپنائی گئی
ہجر کا موسم تھا سورج سات نیزے پہ تپاں
شاہ زادے کو حشیشِ دشت دکھلائی گئی

0
8
بجھی راکھ کیوں خواب گاہوں پہ ڈالیں
دھواں گرم ہے سرد آہوں پہ ڈالیں
نیا مسئلہ ہے نئی گفتگو ہو
نیا بوجھ کتنا گناہوں پہ ڈالیں
ہمیں پوچھنا آہٹوں سے پڑے گا
اٹھا کر سفر کتنی راہوں پہ ڈالیں

0
9
میں خود ہی درمیاں اک فاصلہ ہوں
سفر مشکل ہے لیکن چل پڑا ہوں
سمٹ آتا ہوں جیسے ہوں نہیں میں
بکھر جاتا ہوں جیسے جابجا ہوں
مجھے یوں آئنہ کیوں گھورتا ہے
میں شاید اور کوئی دوسرا ہوں

0
8
نفرتوں کا تہ و بالا کیجئے
آدمی کو عشق والا کیجئے
ترش چیزیں لے کے مت گھوما کریں
جیب میں میٹھا بھی ڈالا کیجئے
آنے والوں کا سفر آسان ہو
راہ ٹوٹی ہے سنبھالا کیجئے

0
6
فیصلہ دل کا سنایا جائے گا
حشر کہتے ہیں اٹھایا جائے گا
دھوپ رستہ کاٹتی رہ جائے گی
جس طرف یادوں کا سایا جائے گا
پھر چناروں سے دھواں اٹھنے لگے
پھر کوئی منظر جلایا جائے گا

0
12
یعنی وفاؤں پر نہ جفاؤں پہ ڈال دی
آخر وہ بات ہم نے خطاؤں پہ ڈال دی
رخصت ہوا تو سارے کھلونے سمیٹ کر
اک آخری نگاہ جو گاؤں پہ ڈال دی
برسوں کا بوجھ تھا جو کہیں پر اتارنا
اپنی تکان اپنی ہی چھاؤں پہ ڈال دی

0
11
سرابِ دشت سے آگے نہیں کچھ
ہوا کچھ آگ یا پانی زمیں کچھ
بہت ساماں مرے گھر میں پڑا تھا
نظر آتا نہیں لیکن کہیں کچھ
اٹھا کر وقت شاید لے گیا ہو
کھلونا ساجو رکھا تھا وہیں کچھ

0
21
کتنی ترتیب سے خوش بخت سنبھالا ہے نمک
بند مٹھی میں کسی شخص نے پالا ہے نمک
حرمتِ دید پہ احسان جتایا جائے
اشک آلودہ سمندر سے نکالا ہے نمک
وقت لگتا ہے چھڑکنے میں ' ہے فرصت کس کو
اس نے یکمشت ہی زخموں پہ جو ڈالا ہے نمک

0
8
وقت خود پیچھے رہا دکھ درد کو آگے کیا
ہم نے بازو کھول کر چپ چاپ بانہوں میں لیا
شام کی خوشبو میں تھیں پاگل ہوا کی دھڑکنیں
ہم نے بھی کھڑکی پہ اک جلتا ہوا رکھا دیا
شاعری کو آپکے رخسار سے چھو کر پڑھیں
ہو غزل دلی کی یا پنجاب کا ہو ماہِیا

0
5
دھوپ کا راستہ ہے آنکھوں میں
ابر کیوں آئنہ ہے آنکھوں میں
دشتِ داماں پہ خیمہ زن ہوگا
چل پڑا قافلہ ہے آنکھوں میں
وہ جو نمکین تھا مزہ نہ رہا
اک نیا ذائقہ ہے آنکھوں میں

0
15
غزل
وفورِ اشک یوں ماتم نہ کیجئے
غمستاں ہےغموں کا غم نہ کیجئے
پلک پہ ضبط کا رہنے دیں پہرہ
لہو سے تر کُشا پرچم نہ کیجئے
تصور میں سنوارے ہیں کسی کو

0
12
دل میں کہرا ٗ آنکھ میں آنسو بھرا رہ جائے گا
ذرہ ذرہ یوں سمٹ کر اک ذرا رہ جائے گا
زرد موسم کی ہوائیں جھاڑ ہی دیں گی شجر
شاخ جاں پر ہجر کا پتا ہرا رہ جائے گا
ہم نے کھینچا ہے جو نقشہ دشتِ امکانات کا
دیکھنا اک روز یہ سارا دھرا رہ جائے گا

0
67
*غزل*
دل کا اجڑا گھر بسا کر چل دئے
آئنہ خود کو دکھا کر چل دئے
گھر کے اندر اور کچھ ساماں نہ تھا
تیری تصویریں اٹھا کر چل دئے
کراس وے پر آنے والوں کے لئے

0
20
یہی اک انترا ہے آج کل جو عام چلتا ہے
کسی کا کام ٹھہرا ہے کسی کا نام چلتا ہے
ہمارے شہر میں اک کہکشاں ہے سرخ لفظوں کی
اسی سے خوں طلب افسانہ صبح و شام چلتا ہے
کوئی سکہ نہیں کھوٹا سیاست کی تجوری میں
کوئی سکہ نہیں سکے کا لیکن دام چلتا ہے

0
8
سبیلِ اشک ہے غم ابر سا دے
دہکتی آتشِ ہجراں بجھا دے
سلگتی ہے جنوں کی سرحدوں تک
بکھرتی ریت پر شبنم بچھا دے
فراغِ دیدنی میں ہے بہت شور
شعورِ چشم کو پھر خوابِ لا دے

0
5
کچھ نہیں ہوتا ہے تو ہوتا ہے کیا
آئنے سے پوچھ لو ہوتا ہے کیا
کیوں پڑھاتے ہو ریاضی کا سبق
عشق میں بھی ایک دو ہوتا ہے کیا !
کچھ نہیں ہے ہونے والا کچھ نہ کچھ
جو ہوا ّ جانے بھی دو ّ ہوتا ہے کیا

0
15
ہم ہی نے اشکوں کی لاج رکھ لی ہم ہی پہ ہنستا رہا زمانہ
ہم ہی سے مانگی گئی کہانی ہم ہی کو سُننا پڑا فسانہ
تمہارے موسم میں اور کیا ہے جو میرا موسم ادھار مانگے
یہاں بھی آنسو تھرک رہے ہیں وہاں بھی بارش کا ہے ترانہ
محبتوں کی حکایتوں کا نچوڑ آخر ہے دو ہی باتیں
قریب ان کے ہیں چاند تارے نصیب اپنا بے رایگانہ

0
17
یہ تقاضے بدل بھی جاتے ہیں
وقت کے آج کل بھی جاتے ہیں
اک دریچہ کھلا جو رہتا ہے
لوگ دل سے نکل بھی جاتے ہیں
درد رہتا ہے لڑکھڑانے کا
پاؤں جن کے سنبھل بھی جاتے ہیں

0
14
آج پھر دشت ہار کر آئے
رہ نوردی سنوار کر آئے
زندگی کی بدل گئی نیّت
ہاتھ تربت پہ مار کر آئے
ہم بھی تھے آئنوں کے میلے میں
خود سے آنکھیں نہ چار کر آئے

0
25
کتنی میٹھی یہ بھوک ہے بابا
تشنگی کا سلوک ہے بابا
ہجر وارد نہ اس طرح کیجئے
ہو رہی بھول چوک ہے بابا
حسن سے بول کردے صرفِ نظر
لب پہ ٹھہری جو اوک ہے بابا

0
15
*غزل*
دل میں اتری سی نوک ہے بابا
عشق پر کوئی روک ہے بابا !
زخم پرچون میں ملے لیکن
درد کا مال تھوک ہے بابا
آہ بھرنے کی چھوٹ ہے اے دل

0
70
ہم کسی خواب کو لے کر ہی چلے ہیں صاحب
دشت در دشت سرابوں میں پلے ہیں صاحب
پُر سکوں دھوپ میں لے کر ہی سکھا دو پل بھر
تیز بارش میں کئی روز جلے ہیں صاحب
درد کی راہ میں پھولوں کی دُکانیں کھولی
حادثے غم کے اسی طرح ٹلے ہیں صاحب

0
36
*غزل*
خشک دریا تھا آب تھا ہی نہیں
آنکھ کھولی تو خواب تھا ہی نہیں
اب تلک جو پڑھا سنا سمجھا
زندگی تیرا باب تھا ہی نہیں
آخری خط اُسی کا آیا تھا

0
54
مکمل کوشش۔۔
ابھی ہے رات میری دن ہے میرا
ابھی بوتل میں میری جِن ہے میرا
ہوں خود کو جوڑنے کی کوششوں میں
وجودِ خاک ہی بِن بِن ہے میرا
کھلاڑی عشق میں آیا نیا ہوں

0
70
*غزل*
ہم کو اس دشت کے اس پار سلا کر رکھنا
اپنی چھاؤں کی ہری شاخ جھکا کر رکھنا
راہ اپنا بھی اندھیرا ہے بھٹکنے والا
اب دِیا طاق پہ تم بھی تو بجھا کر رکھنا
دشتِ ہجراں سے گزارا ہوں میں جاتا لوگو

0
85
*غزل*
رکی ہوا پہ کہانی تلاش کرتا ہوں
حروفِ ابرِ معانی تلاش کرتا ہوں
نصابِ رنگ ابھاروں رِدائے کاغذ پر
کہ بے زباں ہوں زبانی تلاش کرتا ہوں
یہی تو اپنا گماں زار ہے رہے آباد

0
82
*غزل*
بات کوئی نہ تھی خلاصہ تھا
اک ستارے پہ اک خرابہ تھا
اک ہوا کے سپرد کر بیٹھے
راستے میں پڑا لفافہ تھا
جتنے ہندسے تھے خرچ کر ڈالے

0
49
درد آخر گھٹا دیا ہم نے
زندگی کو بڑھا دیا ہم نے
حسرتو ں کے پرانے آنگن سے
دل کا لاشہ اٹھا دیا ہم نے
ایک ہی خواب تھا کنارے پر
آنسؤں میں بہا دیا ہم نے

0
44