ساتھ زرا سا چاہئے ہاتھ بڑھا کے دیجئے |
دستِ ہنر میں جان ہے زادِ سفر ہے لیجئے |
زخم ہرا بھرا رہے داغِ غلامِ عشق ہے |
درد جگر کے واسطے کوئی دوا ہی کیجئے |
دستِ طلب اٹھائے ہیں صبر و سکوں کے واسطے |
ہم نے کہاں صدا یہ دی، "غم سے رہائی دیجئے" |
کارِ طبیب ہے نہیں بس کہ دعائے بے نوا |
ہجر گزیدہ تشنہ جاں زہرِ گماں ہی پیجئے |
رقصِ خبر سے ماورا عکسِ نظر میں آئنہ |
دل سے کہیں کہ یار کے در سے دعائیں لیجئے |
بین کریں تو کیا کریں چاک ہوا ہے پیرہن |
ایک نگاہ وصل کا ہجر پہ دم تو کیجئے |
عمر ہے شؔیدا کاٹنی یوں جو سرابِ دشت میں |
تشنہ لبی ہے جاں گسل دیدہ نمی ہے پیجئے |
معلومات