| وہ جھولیاں بھر کر دیتے ہیں، کیا جود و کرم سرکار کے ہیں
|
| احسان خدائی پر سارے سلطان سخی دلدار کے ہیں
|
| یہ بابِ رسالت زینہ ہے مولا سے عنایت اس در پر
|
| جو دھومیں مچیں دو جگ میں عُلیٰ، یہ ڈنکے اسی دربار کے ہیں
|
| گر نامے کو اپنے دھونا ہے، کہ کارِ زیاں کا رونا ہے
|
| دلدار کے در پر جاتے ہیں بڑے درجے اُس مختار کے ہیں
|
|
|