Circle Image

mahmood ahmad

@cokar

ہجرِ نبی میں ہمدم دل جان رو رہے ہیں
اور یادِ میں یہ آنسو مالا پرو رہے ہیں
باراں ہیں رحمتوں کے رم جم ضیائے رحمت
دامن کے داغ عاصی ہولے سے دھو رہے ہیں
گجرے سجائے سب نے ان پر درودوں والے
ان پر سلاموں والے کچھ ساتھ ہو رہے ہیں

5
نبی کے کرم پر لگی یہ نظر ہے
اسی دھن میں جاری جہاں کا سفر ہے
نہیں فکرِ امروز و فردا نہیں ہے
سخی کے جو ٹکڑوں پہ اپنی گزر ہے
انہیں کے ہیں آساں جہاں بھر میں رستے
نبی پاک جن کا حسیں چارہ گر ہے

3
نبی شاہِ شاہاں جو سلطان ہیں
انہی کے یہ جبریل دربان ہیں
لکھا عرش پر جب محمد گیا
بتایا دہر کا یہ عنوان ہیں
خدا نے دیا ان کو درجہ عُلیٰ
بنا جن کے دو جگ بیا بان ہیں

2
سلطانِ دوسریٰ وہ جن کا جہاں گدا ہے
خلقِ عظیم ان کو مولا بھی کہہ رہا ہے
ان کے ہی شہر میں ہم دیکھیں گے سبز گنبد
جیسے خبر یہ کوئی ہولے سے دے رہا ہے
وہ جالی دیکھ کر بھی لب پر درود ہوگا
نغمات ان کے یہ دل مجھ کو سنا رہا ہے

2
پردہ دارِ رازِ پنہاں کون ہے ان کے سوا
قاسمِ انعامِ یزداں کون ہے ان کے سوا
کیا چھپا ہے دوستو مولا کے گنجِ پنہاں میں
راز دارِ کنزِ سلطاں کون ہے ان کے سوا
سیدِ بالا نشیں وہ جان جانِ مرسلیں
سارے نبیوں کا وہ سلطاں کون ہے ان کے سوا

2
سب سے حسین مالا وہ ہی پرو رہے ہیں
جو ہجرِ مصطفیٰ میں دن رات رو رہے ہیں
ان پر سدا ہیں رہتی رحمت بھری گھٹائیں
باغات خلد میں یہ پھل دار بو رہے ہیں
جو ہجر کے اثر سے آنکھوں کو تر ہیں رکھتے
ہر آن دل کو وہ ہی رحمت میں دھو رہے ہیں

1
دہر کا اجالا نبی شان والا
زہے سب سے اعلیٰ نبی شان والا
جو محبوبِ ہستی حبیبِ خدا ہے
ہے دلبر نرالا نبی شان والا
ہیں جس کی عطا سے یہ منظر سہانے
ہے دل کا اجالا نبی شان والا

0
4
یہ تو کرم ہے ان کا وہ دل کی آرزو ہیں
کونین کی جو زینت اور آنِ آبرو ہیں
دانائے راز جانیں الطاف مصطفیٰ کے
گو دان کے یہ جلوے ہر آن سو بسو ہیں
ان سے سجی ہیں یادیں دن رات میرے دل کی
جن سے دہر کے منظر ہر آن خوبرو ہیں

6
مختار کے گدا کی جھولی سدا بھری ہے
ثروت ملی جو اس کو شانِ سکندری ہے
زد میں کہاں خزاں کے آیا چمن کبھی وہ
جس پر کرم کی چھایا آقا نے خود رکھی ہے
کب خوف اس کو باقی سودو زیاں ہے رہتا
دانِ نبی سے جس کی کھوٹی بنی کھری ہے

4
دربارِ مصطفیٰ میں جلوے چمک رہے ہیں
خوشبو سے اس حرم کی دل جاں مہک رہے ہیں
نمناک ہیں سب آنکھیں اس جا اے میرے مولا
جزبات کا طلاطم آنسو ٹپک رہے ہیں
سر مست ہیں ہوائیں رحمت کے اس نگر میں
ہر آن بخششوں کے غنچے چٹک رہے ہیں

1
عشقِ نبی کو یوں ہم سینے لگا رہے ہیں
حجرہ حسین ان کا من میں سجا رہے ہیں
اس دل میں مصطفیٰ کا قصرِ حسیں بنے گا
آلِ نبی سے لَو ہم پکی لگا رہے ہیں
کب آئیں گی وہ گھڑیاں گنبد حسیں میں دیکھوں
جانے خدا وہ آقا کب پھر بلا رہے ہیں

4
عکسِ جمالِ حق ہے جلوہ سخی نبی کا
بعد از خدا ہے اعلی درجہ سخی نبی کا
شہکار لاکھ ہوں گے خلقِ خدا میں ہمدم
لیکن رہا ہے یکتا نقشہ سخی نبی کا
رقصاں نظر میں رب کی یکتا جمال ہے جو
روحِ کتاب سے ہے چہرہ سخی نبی کا

5
ملے مصطفیٰ سے دہر کو اجالے
وہ ہستی میں اعلی بڑی شان والے
مثال ان کے پیدا نہ ہو گا کبھی بھی
وہ والا ہیں سب سے وہ سب سے نرالے
نبی کی عطا سے دہر کی ہے زینت
علیٰ درجے سارے نبی نے سنبھالے

9
بطحا کے شان والے نوری نظارے ہیں
پوچھو یہ لمحے جس نے اس میں گزارے ہیں
آتے سلام کو ہیں کروبیاں یہاں
منبع عطائے یزداں آقا ہمارے ہیں
اجرام میں فلک کے جاری ہیں گردشیں
گردوں کو فیض دیتے اُن کے اشارے ہیں

5
جس تاب کی جہاں میں جلوہ نمائی ہے
ہر چیز کبریا نے اس سے بنائی ہے
اک حسن کا ہیں پرتو ہستی کی رنگ و بو
کونین اس کی خاطر رب نے سجائی ہے
ہیں رحمتوں کی زد میں کون و مکان یہ
فیضِ نبی سے اس کی عقدہ کشائی ہے

6
ذاتِ باری سے خلق کو شاہِ سلطاں مِل گیا
فخر موجودات سے ہستی کو ساماں مِل گیا
بے سکوں سی زندگی یہ ہجر میں محصور تھی
دِل جلوں کے کارواں کو خوب استھاں مِل گیا
خلق کو یہ زندگی، کونین کو رونق مِلی
داریں کی اِس بزم کو جانانِ جاناں مِل گیا

8
کن کا سہانا خلق کو فرمانِ یزداں ہے ملا
رونق ملی کونین کو ہستی کو برہاں ہے ملا
سارا جہانِ بحر و بَر صامت پڑا خاموش تھا
اس کی فضا کو خیر والا فیضِ رحمٰں ہے ملا
دانائے حق کی تھیں امیدیں رہبری کے واسطے
میثاق میں لو انبیؑا سے عہد و پیماں ہے ملا

5
انبیا کا لا مکاں میں عہد و پیماں پا لیا
فیض والا مل گیا ہے نورِ یزداں پا لیا
دولتِ ایماں مِلی ہے آنے سے مختار کے
اِس بہانے ہی حرم نے شاہِ سلطاں پا لیا
تیرگی کے جال میں انسان تھا جکڑا ہوا
دہر نے سب سے یگانہ فیضِ پنہاں پا لیا

8
محبوب ہیں جو رب کے صادق امین ہیں
لولاک کے ہیں صاحب سب سے حسین ہیں
چہرہ ہے الضحی کا اللیل زلفوں میں
داتا حسیں حسن کے ماہِ مبین ہیں
امی لقب وہ آقا واقف ہیں راز کے
اخلاق کے بھی اعلیٰ بالا نشین ہیں

6
اس آرزو کو دل سے میں بھی سدا سنوں
وہ جلوہ ہو نظر میں صلے علیٰ پڑھوں
جب ہوش دیکھیں سپنا نورِ جمال کا
لمحات پیارے سارے دل میں چھپا سکوں
میری یہ آنکھ پر نم ہجرِ نبی میں ہو
ہو دید الضحیٰ کی میرا کہے جنوں

5
رحمت سے کبریا کی ہر جان جی رہی ہے
جس پر کرم سے آئی اعزازِ زندگی ہے
محبوبِ کبریا جو رحمت ہیں دو جہاں کی
جن کے کرم سے نبضِ، ہستی سدا چلی ہے
یادِ جمالِ جاں کی حاصل ہے اس کو بَربَط
جس دل کو عشقِ جاں سے یہ روشنی ملی ہے

4
کرے تاباں جو سینے کو روضہ کی جلا دیکھو
جالی جو چمکتی ہے گنبد یہ ہرا دیکھو
ہے نور چھپا دل کا الطافِ حبیبی میں
مسجد میں چلے آؤ خود آ کے ضیا دیکھو
کیا خوب نظارے ہیں اطراف میں منبر کے
کچھ محوِ ثنا اس جا کچھ کرتے دعا دیکھو

8
پرتو جمالِ جاں کا ایسا ہے دیکھ لو
دل اُس کی دید کا ہی پیاسہ ہے دیکھ لو
کرتی ثنا نبی کی یہ کائنات ہے
چرچہ دہر میں اُن کا اونچا ہے دیکھ لو
یہ مُصطفیٰ کے در پر نُوری ہجوم ہے
نوری نبی کے در کا بردہ ہے دیکھ لو

8
جلوہ گاہِ دہر کو رب سے فرماں مل گیا
خاص جامہ مل گیا عام ساماں مِل گیا
تھی مچلتی زندگی ہجر سے بے تاب سی
دل جلوں کو کارواں اور استھاں مل گیا
کل جہاں میں رونقیں زندگی میں سانس ہے
بزمِ ہستی کو زہے جانِ سلطاں مل گیا

4
عطرِ مدینہ لائی بادِ صبا ہے آج
چھائی دہر پہ دیکھو نوری گھٹا ہے آج
وقعت نہیں ہے رکھتی نازش بہار کی
جو یاد میں اے بطحا تیری فضا ہے آج
آمد ہے نوریوں کی ہر آن اس جگہ
لگتا ہے اس فضا میں حرفِ عطا ہے آج

6
اک بزمِ خاص من میں کس شان سے سجی ہے
آئی خیال میں جو سرکار کی گلی ہے
جس در پہ نوریوں کا تانتا بندھا ہوا ہے
ہر آن رحمتوں کی اس پر گھٹا تُلی ہے
بادِ صبا ہے دیتی پیغام عام سب کو
زینت دہر کو ساری اس شہر سے ملی ہے

12
دل جان اس دہر کا نوری مدینہ ہے
محبوب کا نگر یہ وجہِ سکینہ ہے
ان کی عطا سے پیدا نورِ جہان ہے
ہر قول فعل جن کا مثلِ نگینہ ہے
سلطانِ دوسری یہ ہستی کے چاند ہیں
تاباں جہاں میں سب سے ان کا مدینہ ہے

5
میدانِ حشر میں ہم ان کے حوالے ہیں
وہ رحمتوں کے داتا جو نور والے ہیں
دل جان کی ضیا ہیں سرکار مصطفیٰ
ہر اک جہاں میں ہر جا ان سے اُجالے ہیں
محشر کے پیارے دولہا سرکارِ دوسریٰ
درجے دہر میں جن کے سب سے نرالے ہیں

6
پر کیف اس چمن میں منظر حجاز کے ہیں
صد ہا ثواب جس جا واحد نماز کے ہیں
ممنون ہیں سوالی ان کی عنایتوں کے
اس در پہ دام اونچے سوز و گداز کے ہیں
ملتی جو نعمتیں ہیں دیتا ہے کبریا وہ
یہ فیض سارے لیکن بندہ نواز کے ہیں

3
چاہت ہے بصارت کی اندازِ کریمانہ
اور ذوق بھی کا دل ہے الطافِ جداگانہ
دیں خیر حضوری کی کریں کرم نبی سرور
وحدت کے ملیں ساغر اے ساقیٔ میخانہ
ان لیل کی زلفوں کو ہر دم ہی ترستا ہوں
یہ آس رکھے مجھ کو ہر آن میں مستانہ

11
بطحا کے شان والے نوری نظارے ہیں
پوچھو یہ لمحے جس نے اس میں گزارے ہیں
آتے سلام کو ہیں کروبیاں یہاں
منبع عطائے یزداں آقا ہمارے ہیں
اجرام میں فلک کے جاری ہیں گردشیں
گردوں کو فیض دیتے ان کے اشارے ہیں

5
خدایا ملے یہ سہانہ سفر
ملے پھر پیمبر کے کوچے میں گھر
حسیں عشقِ احمد ہو تقدیر گر
عطا گر ہے جس کی نبی کی نظر
ہوں پاک اُن کے جوڑے حسیں تاجِ سر
مقدر پہ دائم ہو اُن کی نظر

5
عشقِ حبیبِ رب کو رہبر کریں گے ہم
ان سے یہ زندگی ہے ان پر مریں گے ہم
مائل سدا کرم پر پیارے ہیں مصطفیٰ
جن کی عطا سے دامن اپنا بھریں گے ہم
امداد حشر میں بھی ہے مصطفیٰ سے کل
دائم درود حب سے ان پر پڑھیں گے ہم

9
سرکارِ دو عالم کے روضہ کی جلا دیکھو
جالی کی چمک ہے جو گنبد ہے ہرا دیکھو
ہے نور چھپا دل کا الطافِ حبیبی میں
مسجد میں چلے آؤ خود آ کے ضیا دیکھو
کیا خوب نظارے ہیں اطراف میں روضہ کے
کچھ محوِ ثنا اس جا کچھ کرتے دعا دیکھو

2
شہادت یہ دیتا جو قرآن ہے
خدا بھی نبی کا ثنا خوان ہے
کرے یادِ آقا اگر من حزیں
یہ ان سے محبت کی پہچان ہے
سدا نعمتیں رب کی کونین میں
نبی ان کے قاسم یہ ایمان ہے

5
تاباں جہاں میں سب سے نوری مدینہ ہے
جس سے سجا دہر کا ہر آن سینہ ہے
رونق جہاں کو دیتا ہے دانِ مصطفیٰ
دینِ مبین جن کا وجہہ قرینہ ہے
شہرِ مدینہ سے ہے زینت جہان میں
مسجد نبی کی اس میں مثلِ نگینہ ہے

2
گر من میں چاہ ان کی رکھتی قرار ہے
رہتا سدا یہ دل پھر ان پر نثار ہے
الطاف ہیں نبی کے ان کے اسیر پر
جن کی عنایتوں کا کس کو شمار ہے
وہ ہی کرم سے ان کے ان کی نظر میں ہیں
سچا جنہیں اے ہمدم دلبر سے پیار ہے

6
جو ہستی کا وسیلہ ہے مدینہ مصطفیٰ کا ہے
جو کعبے کا بھی قبلہ ہے مدینہ مصطفیٰ کا ہے
ہیں قسمت کے دھنی زائر جو جاتے سوئے بطحا ہیں
جو منشا میرے دل کا ہے مدینہ مصطفیٰ کا ہے
گراں عظمت ملی تجھ کو اے مکہ تو مکرم ہے
جہاں تیرا بھی داتا ہے مدینہ مصطفیٰ کا ہے

10
ہر اک جہاں میں چلتے جن کے اشارے ہیں
خلقِ خدا کو حاصل ان سے سہارے ہیں
قدموں تلے نبی کے آئے ہیں کل جہاں
عکسِ جمالِ دلبر ان کے نظارے ہیں
ہستی درخشاں ساری ان کی ضیا سے ہے
فیضان لیتے جن سے چندہ ستارے ہیں

14
جسے رحمت نے سینچا ہے مدینہ ہی مدینہ ہے
جو قبلہ ہر عطا کا ہے مدینہ ہی مدینہ ہے
یہاں آتے ہیں نوری بھی یہ خاکی اور ناری بھی
مقدر جس میں بنتا ہے مدینہ ہی مدینہ ہے
ملی عزت مدینے کو دہر کے کل جہانوں میں
نگر جو مصطفیٰ کا ہے مدینہ ہی مدینہ ہے

11
کھڑے دست بستہ ہیں در پر سوالی
عطا ہے خدا کی جہاں خیر والی
ہیں سامانِ راحت یہ پر کیف منظر
حسیں سامنے ہے یہ دربارِ عالی
نگاہوں میں آئے حضوری کے لمحے
تصور میں میرے سنہری ہے جالی

1
14
یہ پیارا تمہارا بھی سلطان ہے
کیا رب نے نبیوں میں اعلان ہے
یہ میثاق میں ارفع اقرار تھا
رسالت نبی جزوِ ایمان ہے
نبی جانِ ہستی خلق اولیں
دیا کن سے رب نے یہ فرمان ہے

10
لطفِ نبی نے جھولی امید سے بھری ہے
ہوتا ہے کرم جب بھی ملتی سکندری ہے
موسم خزاں سے کب ہے مومن کو کوئی خطرہ
ان کے کرم سے اس کی ہر ڈالی گل بھری ہے
کب امتی میں خوبی ہوتی ہے اس کی اپنی
فیضِ نبی سے اس کی ہر کھوٹی بھی کھری ہے

9
یہ عظمت کا، جو قبلہ ہے، مدینہ ہی مدینہ ہے
جو کعبے کا بھی کعبہ ہے، مدینہ ہی مدینہ ہے
ہیں دل والے یہاں زائر مدینہ تیری گلیوں میں
جو ملجا میرے دل کا ہے مدینہ ہی مدینہ ہے
گراں عظمت ملی تجھ کو اے کعبہ تو مکرم ہے
تو جانب جس میں جھکتا ہے مدینہ ہی مدینہ ہے

8
محبوب ہیں جو رب کے صادق امین ہیں
لولاک کے ہیں صاحب سب سے حسین ہیں
چہرہ ہے الضحی کا اللیل زلفوں میں
داتا حسیں حسن کے ماہِ مبین ہیں
امی لقب وہ آقا واقف ہیں راز کے
اخلاق کے بھی اعلیٰ بالا نشین ہیں

7
جلوہ گاہِ دہر کو رب سے فرماں مل گیا
خاص جامہ مل گیا عام ساماں مِل گیا
تھی مچلتی زندگی ہجر سے بے تاب تھی
دل جلوں کو کارواں اور استھاں مل گیا
کل جہاں میں رونقیں زندگی میں سانس ہے
بزمِ ہستی کو زہے جانِ سلطاں مل گیا

16
رحمت سے کبریا کی ہر جان جی رہی ہے
جس پر کرم سے آئی اعزازِ زندگی ہے
محبوبِ کبریا جو رحمت ہیں دو جہاں میں
ان کے کرم سے نبضِ ہستی سدا چلی ہے
یادِ جمالِ جاں کی حاصل ہے اس کو بربط
جس دل کو عشقِ جاں سے یہ روشنی ملی ہے

9
اس آرزو کو دل سے میں بھی سدا سنوں
وہ جلوہ ہو نظر میں صلے علیٰ پڑھوں
جب ہوش دیکھیں سپنا نورِ جمال کا
لمحات پیارے سارے دل میں چھپا سکوں
میری یہ آنکھ پر نم ہجرِ نبی میں ہو
ہو دید الضحیٰ کی میرا کہے جنوں

8
جس تاب کی جہاں میں جلوہ نمائی ہے
ہر چیز کبریا نے اس سے بنائی ہے
اک حسن کا ہیں پرتو ہستی کی رنگ و بو
کونین اس کی خاطر رب نے سجائی ہے
ہیں رحمتوں کی زد میں کون و مکان یہ
فیضِ نبی سے اس کی عقدہ کشائی ہے

9
انبیا کا لا مکاں میں عہد و پیماں پا لیا
فیض والا مل گیا ہے نورِ یزداں پا لیا
دولتِ ایماں مِلی ہے آنے سے سرکار کے
اِس بہانے ہی حرم نے شاہِ سلطاں پا لیا
تیرگی کے جال میں انسان تھا جکڑا ہوا
دہر نے سب سے یگانہ فیضِ پنہاں پا لیا

13
کن کا سہانا خلق کو فرمانِ یزداں ہے ملا
رونق ملی کونین کو ہستی کو برہاں ہے ملا
سارا جہانِ بحر و بَر صامت پڑا خاموش تھا
اس کی فضا کو خیر والا فیضِ رحمٰں ہے ملا
دانائے حق کی تھیں امیدیں رہبری کے واسطے
میثاق میں لو انبیا سے عہد و پیماں ہے ملا

9
ذاتِ باری سے خلق کو شاہِ سلطاں مِل گیا
فخر موجودات سے ہستی کو ساماں مِل گیا
بے سکوں سی زندگی یہ ہجر میں محصور تھی
دِل جلوں کے کارواں کو خوب استھاں مِل گیا
خلق کو یہ زندگی کونین کو رونق مِلی
داریں کی اِس بزم کو جانانِ جاناں مِل گیا

19
جس مدحت پر مامور ہوئے
اس ذکر سے ہم مسرور ہوئے
ان یادوں میں جو پھول ملے
اس نگہت سے مسحور ہوئے
توحید کدہ یہ دہر لگا
سب کفر اندھیرے دور ہوئے

9
پرتو جمالِ جاں کا کیسا ہے دیکھ لو
دل اس کی دید کا ہی پیاسہ ہے دیکھ لو
کرتی ثنا نبی کی یہ کائنات ہے
چرچہ دہر میں ان کا اونچا ہے دیکھ لو
یہ مُصطفیٰ کے در پر نُوری ہجوم ہے
نوری نبی کے در کا بردہ ہے دیکھ لو

19
ہر کام کبریا کا یکتا ہے دیکھ لیں
عکسِ جمالِ جاناں کیسا ہے دیکھ لیں
منظر فضائے کن میں کس کا جلال ہے
ہستی کو فیض کس سے آتا ہے دیکھ لیں
دلبر جہاں میں کیا کیا کرتا کمال ہے
ان پر فدا زمانہ ایسا ہے دیکھ لیں

12
دہر میں منور سویرا ہوا
جہاں سے رواں پھر اندھیرا ہوا
ثمر بار ہے ہر شجر آس کا
مسرت کا من میں بسیرا ہوا
ملی خاکِ بطحا کو جن سے ضیا
انہی کا مدینے میں ڈیرا ہوا

13
سب سے بڑا یہی ہے اعزازِ زندگی
ہر نفس ہو اگر یوں مدحت گرِ نبی
حسنِ جمالِ جاں کا چرچہ ہو بزم میں
اور بات اس حسیں سے لب کی ہو چاشنی
عشقِ نبی ہے زینت حسنِ جہان کی
دیتا ہے جو خلق کو آدابِ بندگی

8
بخشش تجھی سے مانگوں ہے کرم کام تیرا
رکھ پردے اس حزیں کے مولا ہے نام تیرا
مجرم ہوں پر خطا ہوں دیتا تجھے سدا ہوں
کر فضل اے خدایا میں ہوں غلام تیرا
اس آرزو سے قادر تجھ سے ہوں ملتجی میں
محشر میں دے رہائی حتمی کلام تیرا

37
قربِ حبیبِ داور مولا سے دوستی ہے
اس میں اماں چھپی ہے اور اس میں آشتی ہے
کوثر کے ہیں وہ حامل لو لاک شان ان کی
کرتی سخا انہی کی نادار کو غنی ہے
اُن کی عطا نہ چھوڑے حرصِ مزید باقی
جن کی ثنا میں پنہاں دارین کی خوشی ہے

18
کونین کی ہے مستی رحمت حبیب کی
دیتی ہے جاں کو ہستی چاہت حبیب کی
دارین بھی حسیں ہیں حسنِ جہان سے
ہے آرزو دہر کی رویت حبیب کی
ہستی ہے شاد ساری لطفِ لبیب سے
ہر باغ کی ہے نکہت الفت حبیب کی

1
15
نکہت گرِ چمن ہے چاہت حبیب کی
دے حسن ہر شجر کو مدحت حبیب کی
ہیں نغمے بلبلوں کے اوصافِ دلربا
اور گیت کُل گلوں کے حرمت حبیب کی
اک راگ راحتوں کا جانِ جہان ہے
جوہر جہاں کو دے یہ رحمت حبیب کی

15
جو امتی نبی کا فردوس جا رہا ہے
اُن کی شفاعتوں کا قصہ سنا رہا ہے
جاتے ہیں اُن کے در تک خلدِ بریں کے رستے
ہر رستہ نغمے اُن کی چاہت کے گا رہا ہے
محسن ہے ذات جن کی جانِ سخا نبی ہیں
ہستی میں دان ان کا ہر کوئی کھا رہا ہے

13
نبی نے جسے بھی ہے در پر بلایا
خدا نے مقدر اسی کا سجایا
اجازت ملی ہے جسے اس سخی سے
اسے سمجھو نامہ خدا سے ہے آیا
ملی آگہی ہے اسے رمزِ کن کی
جسے جام وحدت نبی نے پلایا

14
بیاں جن کے حق سے کمالات ہیں
چمن سارے ہی ان کے باغات ہیں
انہی کی عطا سے گلوں کا ہے رنگ
بہاریں ملی اُن سے سوغات ہیں
زمین و زماں یہ فلک کا جہاں
سخی سے دہر کو یہ خیرات ہیں

5
نبیؐ کی عطا آسرا بن گئی ہے
یہ ملجا دکھوں کا دوا بن گئی ہے
بھنور میں گری تھی یہ بوسیدہ ناؤ
نگاہِ نبی ناخدا بن گئی ہے
جو دن رات سوچوں دیارِ نبی کا
یہ چاہت حسیں مدعا بن گئی ہے

6
82
سب سے عُلیٰ نبی جی تیرا مقام ہے
تجھ پر درود رب کا آتا مدام ہے
مدحت حسین تیری مولا کے بس میں ہے
تیری ثنا میں گویا رب کا کلام ہے
تجھ سے ملی ہے مستی گردوں کے دور کو
عرشِ خدا پہ کندہ تیرا ہی نام ہے

16
رونق جہانِ کن ہے رحمت حبیب کی
اور گردوں کی ہے مستی چاہت حبیب کی
دارین بھی حسیں ہیں حسنِ جہان سے
ہے آرزو دہر کی رویت حبیب کی
الطافِ مصطفیٰ سے ہے شاد زندگی
ہر باغ کی ہے نکہت الفت حبیب کی

7
اعلیٰ بلند یوں پر جن کا مقام ہے
اُن پر درودِ ربی آتا دوام ہے
ہستی کے بس میں کب ہے مدحت حبیب کی
کرتا ثنا نبی کی رب کا کلام ہے
ارفع کیا خدا نے ذکرِ لبیب کو
ڈنکا دہر میں اونچا جن کا مدام ہے

11
سب سے حسیں دہر میں اس کا سرود ہے
پڑھتا نبی پہ دل سے جو بھی درود ہے
دربار مصطفیٰ سے خیرات گر ملے
پھر رحمتِ خدا کا ہوتا ورود ہے
ہستی کو گھیرتے ہیں الطافِ مصطفیٰ
زد میں انہی کی رہتا غائب شہود ہے

11
ہے یزداں سے میری یہ ہی التجا
رہوں بردہ میں بھی نبی کا سدا
ادائے نبی پر میں قربان ہوں
یہ جاں چیز کیا دو جہاں ہیں فدا
نچھاور کروں اس پہ کونین کو
جو عشقِ نبی سے ہے سینہ بھرا

21
بربط ثنائے خواجہ فطرت دہر کی ہے
جانِ سرود ہے یہ گرمی جگر کی ہے
ادراک خلق میں بھی اس کا ہی دان ہے
ہستی میں ضوفشانی اس کے اثر کی ہے
یہ ورد کن فکاں سے کو نین کو ملا
رونق یہ انجمن کی حشمت بشر کی ہے

17
چمن یہ خوشنما ہے جو مدینہ کی زمیں دیکھو
درخشاں ہے جہاں جس سے وہ گنبد کا نگیں دیکھو
مقام ان کا جہاں بھر میں جو اعلیٰ اور ارفع ہے
سنہری جالیاں دیکھو یہ کتنی ہیں حسیں دیکھو
منور روضہ کرتا ہے جہاں کے کل کراں ہمدم
یہ رونق جس سے ہے ساری وہ نورِ حق مبیں دیکھو

18
ہر دان ہے ذیشان سے کشکولِ دہر میں
ہے فیض اسی دان کا دامان سحر میں
جو نور حسیں ذات سے ہستی کا ہے مطلع
ہے رنگ اسی نور سے کونین نگر میں
تابانی ہے جس نور سے کونین میں پھیلی
یزداں کا وہ نور ہے پوشاکِ بشر میں

20
کونین معترف ہے جن کے کمال کی
اس من میں آرزو ہے ان کے جمال کی
جلوہ فگن ہو دل میں عکسِ جمالِ جاں
پرواز اوج پر ہو اپنے خیال کی
ان پر درود لاکھوں ان پر سلام ہیں
ہر چاندنی ہے پرتو جن کے خصال کی

10
مخزن عطائے یزداں بطحا مدام ہے
داتا ہے دان کا جو خیر الانام ہے
ہیں انبیا کے رہبر ختم الرسل نبی
آنا کسی شبہ کا اس جا حرام ہے
ہر دم درود ان پر وہ شاہِ دو سریٰ
اور آلِ مصطفیٰ پر دائم سلام ہے

13
جنہیں مصطفیٰ سے اجازت ملی
انہیں حاضری کی سعادت ملی
مداوا دکھوں کا نبی کی نظر
یہ ہی ان کے گھر سے شہادت ملی
زیاں کار نے بھی پکارا اگر
اسے بھی نبی سے اعانت ملی

14
سپنے میں جب نبی جی تشریف لائیں گے
ہر حالِ دل یہ آنسو ان کو سنائیں گے
دیں گے مجھے دلاسا میرے کریم پھر
کچھ دیپ چاہتوں کے دل میں جلائیں گے
بطحا میں چاہوں گا میں ہو وقت آخری
امید ہے وہ طالع میرے جگائیں گے

6
جسے مصطفیٰ سے شناسائی ہے
لگے اس کو بے مایہ دارائی ہے
خدا کی خلق کو ملا فیض جو
کرم ہے نبی کا جو ہر جائی ہے
چمن میں دہر کے خزاں عام تھا
ورودِ نبی سے بہار آئی ہے

14
رہا شاد ہر دم وہ ہی ہر زماں
ملا عشقِ احمد جسے نورِ جاں
درخشاں سدا ہے اسی کا جہاں
نبی پاک جس کو ملے جانِ جاں
فروزاں ہے دل ان کے دیوانے کا
سکوں میں ہے من ان کے پروانے کا

13
مولا دکھا دے مجھ کو عکسِ جمال ان کا
پیدا ہوا نہ ہو گا کوئی کمال جن سا
ان سا حسیں ںنظر کو آیا نظر کہاں ہے
ایسے لطیف ہیں جو جن کا نہیں ہے سایہ
پہلے نظارہ سے تو دے ظرف میرے مولا
ہر جا جہاں میں دیکھوں سرکار کا ہو جلوہ

15
اٹھتی ہے جھوم کر جب رحمت کی وہ گھٹا
آتی ہے لب پہ میرے سرکار کی ثنا
تارے درخشاں کرتا جس کا جمالِ ہے
اس سے دہر کی ہوتی نوری ہے ہر فضا
لولاک کے ترانے ہر جا ہیں گونجتے
والیل سے معطر ہوتی ہے پھر ہوا

10
اک چاہ میرے من میں ہے آرزو بنی
جو اشک سے عیاں ہے یا درد میں دبی
بدرِ منیر ہے وہ نورِ ضمیر بھی
ہے مہربان بھی وہ سب سے بڑا غنی
یہ ابر رحمتوں کا منبع ہے دان کا
ہے خرد اور جنوں کو اس سے ہی رہبری

16
عطائے خدا سے جو مختار ہے
نبی مصطفیٰ کا وہ دربار ہے
خدا کی جہاں ہیں سدا رحمتیں
یہاں برکتوں کا ہی تکرار ہے
حسیں ہیں یہاں کے مناظر بڑے
چمن یہ ہی نکہت سے سرشار ہے

12
نورِ مجسم ذات ہے ان کی نیرِ اعظم ہیں یہ نبی
رہبرِ کامل سب سے معظم سیدِ عالم ہیں یہ نبی
اول خلق میں نورِ نبی ہستی ہے ساری جس سے چلی
جن سے ہے روشن شمع ہدات حاکمِ محکم ہیں یہ نبی
بگڑی کو بھی بناتے ہیں یہ ڈوبے ہوؤں کو تراتے ہیں
جگر کی ٹھنڈک جان کی راحت زخم کی مرہم ہیں یہ نبی

14
نازاں ہے دستِ قدرت خِلقِ حبیب پر
اور وجد میں ہے گردوں شانِ لبیب پر
جب وہم پوچھتا ہے اُن کی مثل بتا
کہتا اسے یقیں ہے کوثر ذرا سنا
سب سے سوا خلق میں یہ شاہکار ہے
قادر کی قدرتیں ہیں پرور دگار ہے

20
عکسِ مدینہ اے دل لگتا بڑا حسیں ہے
ہستی میں شان اس کی اک تاج کا نگیں ہے
شانیں کجا ملی ہیں اس شہرِ دوسریٰ کو
جنت کے باغ رکھتی بطحا کی یہ زمیں ہے
جس نے مٹائی ظلمت ہے فیض اس نگر سے
منبع عطائے رب کا دلدارِ مرسلیں ہے

15
یکتا خلق میں اعلیٰ شاہِ حجاز ہے
قادر کرے جو چاہے وہ کار ساز ہے
نازاں ہے دستِ قدرت خلقِ حبیب پر
اس شاہکار رب پر عالم کو ناز ہے
ہستی کی نبض آقا ہیں جانِ ہر جہاں
اور بزمِ کن فکاں میں ان سے ہی ساز ہے

11
زمیں بھی ہے روشن درخشاں سماں ہے
نبی کی ہے آمد سجا کل جہاں ہے
معزز ہیں ماں ان کی بی آمنہ جی
حلیمہ کا گھر ان کا پہلا مکاں ہے
رواں ظلمتیں ہیں وحی کی صدا سے
اٹھی فاراں سے جو بلالی اذاں ہے

19
نبی گر ہیں راضی ہے آمادہ یزداں
نظر ہو نبی کی کرے فضل رحمٰں
نہیں چارہ ملتا اگر بے کسی کا
کرم ہے نبی کا جو بنتا ہے درماں
اشارے سے ان کے رواں میٹھے چشمے
ہیں شاداب ان سے دہر کے گلستاں

12
سدا رہنے والی بڑھائی ہے ان کی
خدا نے یہ عظمت بنائی ہے ان کی
ہیں سلطان وہ ہی زماں اور مکاں کے
ہے رب کی عطا یہ خدائی ہے ان کی
نبی کی نظر سے ہے خارا بھی ہیرا
یہ شوکت خدا نے دکھائی ہے ان کی

21
لب پر جو نام آیا آقا کریم کا
احسان ہے گراں یہ ربِ رحیم کا
آئے نبی جہاں میں مانند لعلِ ناب
رتبہ کجا ہے ان میں درِ یتیم کا
میرا خیال بھی ہے بطحا کی سیر ہیں
شاید پیام لایا جھونکا نسیم کا

9
سدا درجہ عمدہ سے اعلیٰ ہے جن کا
جہاں ہر زماں میں ہی شیدا ہے ان کا
سجی ان کی خاطر جہاں کی ہے زینت
ملک باغ ان کی یہ صحرا ہے ان کا
ملی بے نیازی اسے دو جہاں میں
ملا جس کو دائم سہارا ہے ان کا

12
نبی جانِ ہستی ہیں خیر البشر ہیں
سنیں حکم ان کا جو مہر و قمر ہیں
ہے شاہی سے اعلیٰ غلامی نبی کی
جہاں سارے آقا کے زیرِ اثر ہیں
اسے بے نیازی ملی ہر جہاں میں
سخی جس پہ کرتے کرم کی نظر ہیں

10
بنیں ان کے مہماں مدینے چلیں
وہاں شاہِ شاہاں مدینے چلیں
بٹے دانِ رحمت سدا ہی یہاں
چلیں بھرنے داماں مدینے چلیں
گراں فیض ہستی کو جن سے ملیں
ہیں محبوبِ رحمٰں مدینے چلیں

8
آنا دہر میں ان کا احسانِ داوری ہے
معراج مومنوں کی اس در پہ حاضری ہے
الطاف مصطفیٰ کے قسمت میں جس کی آئے
اس کو ملی جہاں میں شانِ سکندری ہے
ان کی عطا سے ہوتا اک سیسہ بھی ہے کندن
پارس بنا وہ خارا یہ خیر گر ملی ہے

12
جن کا کرم اے ہمدم رحمت شعار ہے
اوصاف ان کے گنتا پرور دگار ہے
عکسِ جمال ان کا زینت جہان کی
یہ ہی جہانِ کن کا لگتا حصار ہے
خیرات لینے نوری آئیں سخی کے در
کروبیاں کی اس جا لمبی قطار ہے

11
برہانِ حق صلے علیٰ محبوب ربِ کبریا
ہیں زینتِ ہر دوسریٰ محبوب ربِ کبریا
آغاز کا جو راز ہیں وہ لا مکاں کے باز ہیں
اور مطلعِ صبحِ صفا محبوب ربِ کبریا
نورِ خدا وہ دلربا یعنی حبیبِ دو سریٰ
اول خلق میں مصطفیٰ محبوب ربِ کبریا

17
نذر مصطفیٰ کی یہ جان و جگر ہے
زہے دان جن کا جہاں کی حصر ہے
قدم ان کے کرتے ہیں صحرا کو گلشن
انہی سے فروزاں دہر کا نگر ہے
صبا کب تو لائے گی پیغام اس کا
لگے مجھ کو پیارا نبی کا جو در ہے

9
بڑی شان والا نبی کا مدینہ
ہے راحت یہ جاں کی خوشی کا خزینہ
یہ مخزن جو آقا کے الطاف کا ہے
یہاں آؤں میں بھی ہے چاہت درینہ
گلوں کی وہ خوشبو جو رہبر سنی تھی
ہے گلیوں میں اب بھی وہ عطرِ پسینہ

21
ہستی کو فیض اقدس بطحا سے آ رہا ہے
رونق ہے جو جہاں کی اور نور کی فضا ہے
گلشن میں اس دہر کے انوار جس سے پھیلے
اب آرزو میں مولا بطحا کی وہ جگہ ہے
یادِ نبی سکوں ہے ہستی کے ہر کراں کا
راحت ہے جو دلوں کی اور سینے کی ضیا ہے

17
دل سے زباں پہ ہم بھی تعریفِ جاناں لائیں
یعنی جمالِ جاں سے سپنوں کو بھی سجائیں
بھولیں دہر کے جنجھٹ یادِ نبی میں اے دل
گجرے درود لے کر در دلربا پہ جائیں
قربان جان کردیں آلِ نبی پہ ہم بھی
آقا کرم سے اپنے دل کو قوی بنائیں

10
رواں ہر زماں میں نبی کی ثنا ہے
سوا اس کے کوئی کہاں ماجرا ہے
بڑائی میں اول وہ قادر خدا ہے
جو چاہے کرے وہ یہ مشکل کیا ہے
مدینے کے داتا ہیں نعمت کے قاسم
یہ احسان مومن پہ رب نے کیا ہے

10
یہ پیارا ہے قرآں قصیدہ نبی کا
خوشی کا ہے ساماں قصیدہ نبی کا
ورودِ نبی سے ہے رونق جہاں میں
جہاں کی حسیں جاں قصیدہ نبی کا
ترانہ نبی کا لبوں کی ہے زینت
کہے خلقِ یزداں قصیدہ نبی کا

10
وہ ہی پیارے مولا کی پہچان ہیں
جہاں پر بڑے جن کے احسان ہیں
کیا فعل ان کا شریعت بنی
وحی اُن کے سارے ہی فرمان ہیں
وہ مہماں خدا کے گئے عرش پر
دنیٰ کے وہ صاحب ہیں ذیشان ہیں

14
نبی میرے ہستی کے سلطان ہیں
وہ رب کے ہیں پیارے وہ ذیشان ہیں
انہی سے دہر کا یہ گلشن سجا
بنا نور جن کا جہاں کی بنا
بنے شمعِ محفل وہ میثاق میں
صفِ انبیا کے ہیں اسباق میں

8
مجھے راس جو آئی ہے دلبر کی گدائی ہے
ہر غم سے خزیں دل کو یہ ہی دیتی رہائی ہے
ملے جس کو بھی میرے دل الطاف ہیں سرور سے
رب راضی ہوا اس پر دل شاد خدائی ہے
ملی اس کو گراں ثروت مولا کے جہانوں میں
جس پر بھی نظر اُن کے اکرام کی آئی ہے

27
قصیدہ ہے جن کا سہانی ثنا
نبی ہیں خدا کے وہ خیر الوریٰ
انہی کے کرم سے ہے آتی صدا
درِ فیض وا ہے کریں التجا
سدا منہ سے مانگا ہے جن سے ملا
نبی ہیں خدا کے وہ خیر الوریٰ

16
بڑے فیض والی گدائی ہے اُن کی
فضیلت یہ رب نے بنائی ہے اُن کی
ہے لولاک آقا کو پیغامِ ربی
ملی ان کو کوثر خدائی ہے اُن کی
اُسے کامرانی ملی دو جہاں میں
نظر خیر سے جس پہ آئی ہے اُن کی

15
کہے جن کو رحمت وہ رحمٰن ہے
جہانوں میں اُن کی بڑی شان ہے
ہے مبدا دہر کا بھی نورِ نبی
نبی ہے جو میرا وہ سلطان ہے
وہ ہی لامکاں میں تھے دولہا بنے
وہ میثاق آقا کی پہچان ہے

15
ہر آرزو میں پنہاں چاہت حبیب کی ہے
محور بھی فکر کی دل مدحت حبیب کی ہے
الطاف عام ان کے ہیں کن کے ہر جہاں پر
یہ خُلق ہے نبی کا الفت حبیب کی ہے
آدابِ آدمیت سیکھا جہاں نے ان سے
قرآن کا بیاں ہے سیرت حبیب کی ہے

13
ہیں کن کے جہاں زیرِ فرماں نبی کے
بنے ان کے باسی ثنا خواں نبی کے
بڑا راِز رب کا نبی کی حقیقت
رہے سارے رتبے ہیں پنہاں نبی کے
نہیں مانگتا دل وہ انعامِ جنت
چھپے جلوے چاہت میں سلطاں نبی کے

15
ہر آن میرے دل کی آشا حضور ہیں
محور مرادِ من بھی یکتا حضور ہیں
رتبہ علیٰ ہے سب سے پیارے حبیب کا
جو عرش جا کے ٹھہرے مولا حضور ہیں
خٰیرات کھائے جن کی ہر ذرہ دہر کا
بہتا عطائے رب کا دریا حضور ہیں

28
گراں فیض ان کے سدا آ رہے ہیں
مقدر کے تاروں کو چمکا رہے ہیں
اٹھے ابرِ رحمت جو بطحا نگر سے
کرم کی وہ برکھا کو برسا رہے ہیں
یہ شہرِ نبی سے جو دان آ رہے ہیں
مرادیں غریبوں کی بر لا رہے ہیں

12
تونگر رکھے جو گدائی ہے ان کی
خلق ساری اے دل فدائی ہے ان کی
جہانوں کی سانسیں ہیں ممنون جن کی
بڑی رب نے حشمت بنائی ہے ان کی
جھکیں جن کے در پر یہ سلطاں جہاں کے
وہ محبوبِ رب ہیں خدائی ہے ان کی

19
نامِ نبی پہ جو بھی قربان ہو گیا
اس کے لئے بقا کا سامان ہو گیا
ان پر درود رب سے آتے دوام ہیں
شاہد اسی امر کا قرآن ہو گیا
عشقِ نبی کی دولت بھی اس کو ہی ملی
جس کے لئے نبی کا یہ دان ہو گیا

21
کہے میرا وجداں کہوں نعت اُن کی
ہو بخشش کا ساماں کہوں نعت اُن کی
میں قربان جاؤں نبی مہرباں پر
جو ناطق ہیں قرآں کہوں نعت اُن کی
عطا ہو مجھے حوصلہ میرے مولا
جو کامل ہیں انساں کہوں نعت اُن کی

21
ہے دل کا یہ ارماں میں نعتیں سناؤں
ہو خوشیوں کا ساماں میں نعتیں سناؤں
نبی کے ہوں نغمے سدا میرے من میں
پڑھوں رب کا قرآں میں نعتیں سناؤں
مجھے بھی اے مولا عطا ہو بصیرت
جو کامل ہیں سلطاں میں نعتیں سناؤں

22
کتنا حسیں ہے اس کا جو انتخاب ہے
طالب نبی کے در کا ہی کامیاب ہے
لطفِ نبی سے اس کو ایسی طلب ملی
عمدہ سہانا ہے یہ جو اضطراب ہے
گر دھول بھی ہوا وہ دلبر کی راہ میں
ہر ایک گام اس کا کارِ ثواب ہے

11
کسی سے نہ مانگے جو شیدا ہے تیرا
اسے کافی ہر جا سہارا ہے تیرا
جہاں میں سدا ہی وہ مسرور ہو گا
ملی جس کو دولت کفِ پا ہے تیرا
سخی یاد تیری ہے میری بھی مونس
میں جاؤں جہاں ساتھ ہوتا ہے تیرا

20
دنیا ہے دشتِ ویراں گلزار ذات تیری
لائی ہے ظلمتوں میں انوار ذات تیری
ہو گی تپش مہر کی میدانِ حشر میں جب
امت کو کافی سایہء دیوار ذات تیری
بس گرد راہ رکھنا ایسے گروہ کی ہی
جس قافلے کی ہے جاں سالار ذات تیری

22
محور حزیں کے فکر کی مدحت حبیب کی ہے
اور آرزو میں پنہاں چاہت حبیب کی ہے
الطاف عام ان کے سارے جہان پر ہیں
یہ خُلق ہے نبی کا الفت حبیب کی ہے
آدابِ آدمیت سیکھا جہاں نے ان سے
قرآں کی شرح اے دل سیرت حبیب کی ہے

17
آیا ندا میں میری جو ذوقِ بندگی ہے
یہ ہے کرم تمہارا اس در سے لو لگی ہے
جو آرزو ہے دل میں کہنے کا دیں سلیقہ
ہے فضل تیرا داتا ہر بات جو بنی ہے
ہیں اشک حسرتوں کے دامن جو تر ہیں کرتے
اس در سے ہے جو نسبت اک آسرا یہی ہے

16
گدا ہوں سدا ہی نبی مصطفیٰ کا
حبیبِ خدا اس شہِے دو سریٰ کا
لگی لا مکاں میں تھی نبیوں کی مجلس
تعارف تھا اولیٰ یہ ہی دلربا کا
چلی نبضِ ہستی ہے جس جانِ ما سے
وہ شہکارِ یکتا بنا ہے خدا کا

17
سجائے دہر کو ثنا مصطفیٰ کی
سخی آنِ ہستی نبی جانِ ما کی
منور ضحیٰ سے جہاں کے ہیں منظر
عطا جو جہاں کو ہے اس دلربا کی
گئی ساری ظلمت جو طاغوت کی تھی
چمک ہے جہاں میں نبی کی ضیا کی

18
مختار کے گدا کی جھولی سدا بھری ہے
ثروت ملے جو اِس کو، شانِ سکندری ہے
زد میں کہاں خزاں کے، آیا چمن کبھی وہ
جس پر کرم کی چھایا، آقا نے خود رکھی ہے
کب خوف اس کو باقی ،سودو زیاں ہے رہتا
دانِ نبی سے جس کی کھوٹی بنی کھری ہے

13
مقدر میں جس کے گدائی ہے تیری
اسے راہ رب نے دکھائی ہے تیری
تجھے اس نے سلطاں بنایا دہر کا
خدا کا تو دلبر خدائی ہے تیری
غلاموں کو تجھ سے ملی بادشاہی
خدا نے یہ عزت بنائی ہے تیری

14
اس من کو بھی عطا ہو وہ حوصلہ اے مولا
حبِ نبی سے میرے دل کو سجا اے مولا
جس سے ملے حزیں کو جو زندگی ہے دائم
عشقِ حبیب کی وہ شیریں چکھا اے مولا
کافور کر دے میرے طالع کی تیرگی جو
مدحت لبیب رب کی وہ ہی سکھا اے مولا

0
13
جگت باغ ان کے زماں ان کے ہیں
یہ چشمے چمن میں رواں ان کے ہیں
ہے ممنون ان کی جہاں میں حیات
بنے سیفِ یزداں بیاں ان کے ہیں
اجالا ضحیٰ سے ہوا دہر میں
یہ ہستی کے مرکز کراں ان کے ہیں

27
کہاں بھائے من کو سوائے نبی
ہے دل کی صدا بھی لقائے نبی
بلایا خدا نے انہیں عرش پر
پسند آئی رب کو ادائے نبی
ذرا پاس آؤ ہے جس کو خطاب
کہا کبریا نے بتائے نبی

19
نہ شاہی نہ عزت نہ زر مانگتا ہوں
گدا ہوں نبی جی نظر مانگتا ہوں
نگاہوں میں ہر دم رہے دید تیری
ندا ہے یہ دل کی اثر مانگتا ہوں
رہے سبز گنبد کا سایہ حزیں پر
میں کوچے میں دلبر کے گھر مانگتا ہوں

21
وجہہ کن ہیں نورِ یزداں تاج دارِ سروراں
جانِ جاں محبوبِ سبحاں تاج دارِ سروراں
نورِ ہستی نورِ دیں وہ مقتدائے مرسلیں
پردہ دارِ راز پنہاں تاج دارِ سروراں
نورِ عرفاں ظلِ سبحاں دلبرِ کون و مکاں
نکہتِ ہر اک گلستاں تاج دارِ سروراں

12
مقصود میں سہارا اس کے سوا نہیں
بہتر نبی کے در سے کوئی جگہ نہیں
امیدِِ مغفرت ہے مولا سے حشر میں
سرکار کے علاوہ اب آسرا نہیں
ہستی کو گھیریں ہر دم مولا کی رحمتیں
رحمت ہیں مصطفی کوئی دوسرا نہیں

20
رتبہ بڑا ہے اعلیٰ درِ یتیم کا
جو مصطفیٰ ہے دلبر مولا کریم کا
سب کفر کے اندھیرے کافور ہو کئے
منظر جہاں نے دیکھا خلدِ نعیم کا
گھیرا ہے رحمتوں کا کونین کو ملا
آیا ہے لطف سب کو ذاتِ حلیم کا

13
سلطانِ دو سریٰ ہی وہ تاجدار ہیں
جن کو خدا سے حاصل سب اختیار ہیں
دنیا کی بادشاہی ان پر نثار ہے
جن کے کرم کے ہم بھی امید وار ہیں
آباد ہیں یہ گلشن ان کے قدم سے ہی
جو جانِ جان بھی ہیں دل کی بہار ہیں

15
زہے ان کے قدموں میں سر کو جھکا دوں
جو باتیں ہیں دل کی وہ ساری بتا دوں
سخی سے حضوری کی مانگوں عطائیں
یہ تن من میں اپنا نبی پر لٹا دوں
طلب مصطفیٰ ہیں یہ عرضی کروں گا
ملے خیر جو بھی وہ سینے لگا لوں

15
کجا رتبہ ان کا بڑی شان ہے
مدیحہ ہے جن کا جو قرآن ہے
ثنا ان کی جاری دہر میں دوام
جہانِ خلق کا جو دل جان ہے
مقدس جہاں میں مدینہ نبی
اسی جا دہر کا وہ سلطان ہے

23
کب ختم ہونے والا یہ انتظار ہے
یہ دل خزیں ہے مولا اور بے قرار ہے
حسنِ نبی کے جلوے چاہت حزیں کی ہیں
جس کا جہانِ من کو بھی انتظار ہے
منظر حسین سارے روضہ نبی کے ہیں
آمد بھی نوریوں کی پروانہ وار ہے

16
سوالی نے جب بھی نبی کو پکارا
ملا اس کو طغیانی میں بھی کنارا
کرو گے سدا گر درِ دلربا پر
سخی کبریا سے ملے گا سہارا
انیسِ غریباں وہ دانی کرم کے
ہیں ٹھنڈک نگہ کی دلوں کا سہارا

18
نقشہ خیال میرا کچھ یوں بنا رہا ہے
ارضِ جناں کی رونق دل کو دکھا رہا ہے
بطحا کی سیر میں ہے مرغِ خیال میرا
دیکھا جو اس نے اس جا من کو بتا رہا ہے
خیرات بٹ رہی ہے ہر جا شفاعتوں کی
ہر کوئی لطف اس سے گونا اٹھا رہا ہے

14
ہیں دل کے یہ ارماں مدینے چلیں
خوشی کا ہے ساماں مدینے چلیں
کرم جائے ان کا سدا ساتھ میں
بنیں راہیں آساں مدینے چلیں
یہ شہرِ مدینہ نگر ہے حسیں
جہاں پیارے سلطاں مدینے چلیں

15
اعلیٰ ہے ہر جہان میں حشمت حبیب کی
یہ زندگی دہر میں بھی رحمت حبیب کی
ہر دم ہیں اس خیال میں بطحا کی رونقیں
ارمان ہیں حزیں کے زیارت حبیب کی
سمجھو کے کھل گئے ہیں سدا باب دان کے
دامن میں گر ہے آ گئی چاہت حبیب کی

0
23
نبی نورِ ہستی دلوں کی ضیا ہیں
درود ان پہ رب کے وہ صلے علیٰ ہیں
ورودِ نبی سے درخشاں جہاں ہیں
وہ ہی جانِ جاناں دلوں کی ضیا ہیں
خبر کب مَلک کو ہے ان کے جہاں کی
ہوئے رتبے جن کے علیٰ سے علیٰ ہیں

27
خرد سے وریٰ دارِ حب کی زمیں ہے
مگر حب پہ دانش سدا نکتہ چیں ہے
درِ مصطفیٰ پر جبیں خم اگر ہے
بھلا ہے گراں اس میں کامل یقیں ہے
بجا ناز کرتی ہے جنت فلک پر
عُلیٰ اُس سے بطحا کی یہ سرزمیں ہے

27
سوالی نے نامِ نبی جب پکارا
طلاطم نے اس کو دیا ہے کنارا
کرو گے صدا گر درِ دلربا پر
ملے گا خدا سے مکمل سہارا
انیسِ غریباں وہ دانی کرم کے
ہیں ٹھنڈک نگہ کی دلوں کا سہارا

24
یہ منتظر جو گوناں ذاتِ خدا ہے آج
کس کے لیے سجایا عرشِ الہ ہے آج
طالب وہ کبریا ہے مطلوب دلربا
معبود عبد میں جو پردہ اٹھا ہے آج
سب کچھ دیا خدا نے اپنے حبیب کو
محبوب اپنے رب سے سب لے رہا ہے آج

26
جو ناتواں دلوں کی ہر دم پکار ہیں
رحمت ہیں وہ خدا کی من کا قرار ہیں
سب انبیا دہر میں ہادی ہیں بن کے آئے
اس قافلہ کے ہمدم وہ تاج دار ہیں
لا ریب ذات ان کی محبوب رب کے وہ
دونوں جہان جن کے اپنے دیار ہیں

10
مبارک ہو جن کی گئی بے کلی
مدینے چلے ان کی قسمت کھلی
خدا کے نبی پر ہیں دائم درود
اسی کی خلق کو اجازت ملی
جسے وہ بلائیں وہ ہی آئے گا
دھنی کو نبی نے بشارت ہے دی

15
گوناں ملی خرد کو وسعت حبیب سے
ہے آگہی کے من میں صنعت حبیب سے
بے سود کچھ جہاں میں پیدا نہیں ہوا
کہتے ہیں جن کو حاصل نصرت حبیب سے
خارا کو تاباں کر دے سرکار کی نظر
بے مایہ کو ہے حاصل قیمت حبیب سے

24
جو خیر البشر ہیں سخی جانِ ما ہیں
وہ ہی نبضِ ہستی حبیبِ خدا ہیں
اجالا جہاں کا وہ شاہِ حرم ہیں
جو جود و سخا کے بھی ابرِ کرم ہیں
جہاں جن سے تاباں ہیں بدرِ دجیٰ وہ
خلق کے بھی رہبر ہیں نورِ ہدیٰ وہ

11
خلقِ خدا میں سب سے اولیٰ حبیب ہیں
رتبے میں وہ ہی بالا اعلیٰ حبیب ہیں
جن کو خدا نے اپنا دلبر ہے کہہ دیا
محبوبِ کبریا وہ یکتا حبیب ہیں
جن کے قدم کا دھوون آبِ حیات ہے
وہ جانِ جاں دہر کے داتا حبیب ہیں

16
سخی ہر زماں میں نبی تاجدار
ملا جن کو رب سے گراں اختیار
جہاں بھی ہے لگتا نثارِ نبی
ملی ساری ہستی کو جن سے بہار
غلام ان کے بانٹیں بھلائی سدا
غریبوں کے ہیں جو بڑے پاس دار

30
بطحا سے خوشبو لائی فاراں کی جو ہوا ہے
اس فیض سے ملی پھر ہر جان کو ضیا ہے
رحمت کی جو گھٹائیں آتی ہیں جھوم کر پھر
پر کیف ان سے لگتی ہر باغ کی فضا ہے
شہرِ نبی میں تاباں ہے خلد اس زمیں پر
ہے فیض جس سے اس کو محبوبِ کبریا ہے

19
جدا ہے جہاں اُن کے دیوانوں کا
حدف ہے سوا جن کے مستانوں کا
کجا ضوفشانی سخی سے ملی
درخشاں ہوا دل ہے پروانوں کا
دہر کے یہ داتا سخی مصطفیٰ
بھرم رکھتے ہیں ہم سے نادانوں کا

29
دیالو مدینے کا ماحول ہے
گدا کی بھری اس نے کشکول ہے
جو رحمت نگر ہے یہی شہر ہے
ملائک کا اس جا بڑا غول ہے
ہیں جاری یہاں پر درود و سلام
صلاۃ ان پہ دائم بڑا بول ہے

17
ہے رنگ ان کی حب کا بڑا ہی جدا
اسی سے ہے انساں کو ملتا خدا
سوالی جو آیا درِ پاک پر
بھرے اس کی جھولی وہ دستِ عطا
ہیں سلطاں دہر کے بھی مختاجِ او
شہی کو تو بانٹے نبی کا گدا

21
عطائے خدا ہے یہ الفت نبی کی
عجب رنگ دیتی ہے چاہت نبی کی
ملے فیض ان کا گداؤں کو ہر دم
مخیر ہے سب سے سخاوت نبی کی
حبیبِ خدا ہی خلق کے ہیں دلبر
بڑھائی خدا نے ہے خلعت نبی کی

15
بھری جھولی ہے ہر گدائے نبی کی
مچی دھوم بھی ہے عطائے نبی کی
جہاں کو سجاتے ہیں الطاف ان کے
دلوں کو ہے راحت ثنائے نبی کی
ورودِ نبی سے ہے طاغوت باطل
نظر غیرِ حق کو مٹائے نبی کی

21
کرے اس کو ثابت جو قرآن ہے
خدا مصطفیٰ کا ثنا خوان ہے
ہے انعامِ قدرت عطائے نبی
دہر کو نبی سے ملی جان ہے
ہیں محشر کے دولہا نبی مصطفیٰ
شفاعت کریں گے وہ ایمان ہے

12
کرم میرے سلطاں مدینے چلیں
دکھوں کا ہو درماں مدینے چلیں
یہ دل ہجرِ آقا میں ہے بے قرار
بہیں اشک آنکھوں سے زار و قطار
لئے من میں ارماں مدینے چلیں
دکھوں کا ہو درماں مدینے چلیں

19
اے مولا ہو احساں مدینے چلیں
دکھوں کا ہو درماں مدینے چلیں
یہ دل ہجرِ آقا میں ہے بے قرار
بہیں اشک آنکھوں سے زار و قطار
لئے من میں ارماں مدینے چلیں
دکھوں کا ہو درماں مدینے چلیں

0
33
رحمت سدا ملی کوچے میں تیرے آقا
عاصی نے خلد لی کوچے میں تیرے آقا
ششدر ہوئے وہ سن کر یہ سوال جو تھا میرا
پوچھی تیری گلی کوچے میں تیرے آقا
یہ نوری تجلیاں ہیں ہر آن اس گلی میں
کب سایہ اور کوئی کوچے میں تیرے آقا

17
پنہاں سراغ حق ہے جامہ مجاز میں
آئے ہیں شاہِ مرسل ارضِ حجاز میں
کچھ موجزن ہیں جلوے دربارِ یار میں
شانِ محمدی ہے رازوں کے راز میں
ارفع کیا گیا ہے ذکرِ حبیب کو
لاکھوں تجلیاں ہیں دلبر کے ناز میں

42
روحُ الامین بھی ہیں دربانِ مصطفیٰ
اوجِ کمال پر ہیں ذیشان مصطفیٰ
آمد ہے نوریوں کی ہر آن اس گلی
ششدر وہ دیکھ کر ہیں یہ شانِ مصطفیٰ
رکھتے ہیں پَر خوشی سے زائر کے قدموں میں
عزت گراں ہے رکھتا مہمانِ مصطفیٰ

25
حبیب ان کو کہتا ہے پروردگار
ملی شان جن کو بڑی شان دار
علیٰ ذکر ان کا ہے ہر دور میں
ہے قرآن کہتا کہے کردگار
قدم سے نبی کے شگفتہ چمن
ورودِ نبی سے ہے اس میں بہار

20
خدا سے نبی کو ملی شانِ عالی
عُلیٰ ذکر ان کا ہے درجہ مثالی
ہیں پرتو جمالِ نبی سے یہ منظر
دہر کی بھی رونق یہ ہی خوش جمالی
ہے طاغوت لرزاں اسی بت شکن سے
فروزاں ہے جس کی ستودہ خصالی

12
لب پر جو نام آیا عزت مآب کا
در کھل گیا کرم سے عالی جناب کا
خوشبو ملی چمن کو عطرِ نبی سے ہے
گل فیض لے رہا ہے آقا کے باب کا
آتا ہے ہجر کو بھی کلمہ حضور کا
پتھر کو دان آیا ان کے خطاب کا

34
یہ جھلمل جہاں میں ہے عکسِ مدینہ
جو شہرِ نبی ہے دہر کا نگینہ
اے من ذکرِ بطحا بھی یادِ نبی ہے
بہت اس سے کھلتی دلوں کی کلی ہے
اسی سےٍ درخشاں جہاں کا ہے سینہ
جو شہرِ نبی ہے دہر کا نگینہ

27
کہاں کوئی پیدا ہے ہم شان ان کا
ہے یکتا جہاں میں گلستان ان کا
منور دہر ہے ضیائے ضحٰٰی سے
گراں نور بانٹے یہ احسان ان کا
وہ اذنِ الہ سے ہیں بے مثل ہر جا
چلے گردوں پر بھی ہے فرمان جن کا

17
ہے آمد نبی کی مبارک مبارک
محمد یہ احمد مبارک مبارک
عنایت خدا کی جہانِ مسرت
خوشی کی ہے یہ مد مبارک مبارک
وہ رحمت خدا کی ازل سے ابد ہیں
یہ فرحت ہے بے حد مبارک مبارک

29
انہیں زندگی کا خزانہ ملا ہے
جنہیں ان کے کوچے ٹھکانہ ملا ہے
کہاں ان کی مرغوب کچھ اور ہمدم
جنہیں شاہ کا آستانہ ملا ہے
مبارک مبارک انہیں راز دارو
جنہیں مصطفیٰ کا گھرانہ ملا ہے

23
زبانِ دہر پر ترانہ ہے ان کا
جہانوں میں اعلیٰ فسانہ ہے ان کا
جواں خلد لیتے ہیں شبیر سے دل
ارم دے جو مومن کو نانا ہے ان کا
ہے مبدا دہر کا جو نورِ نبی ہے
نبی آخری وہ زمانہ ہے ان کا

35
درود ان پہ پڑھتا ہے پروردگار
سخی ہیں وہ آقا حسیں تاجدار
زمان و مکاں بھی ہیں سرکار کے
ورودِ نبی سے ہے باغ و بہار
دیا خلقِ اعظم خدا نے انہیں
ہیں اوصاف ان کے بڑے شان دار

18
بڑے بھاگ والا گدائے نبی ہے
غنی اس کو کرتی عطائے نبی ہے
سجایا جہاں کو ہے نورِ نبی نے
دہر کا بھی زیور ثنائے نبی ہے
ورودِ نبی سے ہیں طاغوت لرزاں
یہ ہیبت اے ہم دم برائے نبی ہے

0
18
خدا سے ملی ہے جسے بھی بڑائی
یہ سمجھو نبی مصطفیٰ نے دلائی
وہ نعمت کے قاسم جو جانِ جہاں ہیں
ملی دہر کو ان کے در کی گدائی
ضیا جو جہاں میں کراں سے کراں ہے
تجلیٰ یہ نوری حرا سے ہے آئی

15
رونق جہاں میں ساری دلبر سے آ رہی ہے
جن کے ذکر سے ہر دم ہستی میں تازگی ہے
ہر جان کی ہی راحت مدحت حبیبِ رب ہے
یادِ نبی اے ہمدم ہر حال میں خوشی ہے
مجھ کو بھی اب بلالیں روضہ پہ یا حبیبی
اک روپ کی تجلی عاصی نے دیکھنی ہے

14
زہے نورِ رب سے ہوئی ابتدا
نہیں جس کے اوصاف کی انتہا
یہ سینے کی رونق ہے دل کی ضیا
جمالِ نبی کا ہے یہ ماجرا
سدا جن کی مدحت ہے کرتا خدا
خدائی بھی قرباں انہیں پر سدا

12
سجی ساری ہستی سخی مصطفیٰ سے
نبی دلربا ہیں عطائے خدا سے
کسی بھی عدو کا نہیں ڈر اے ہمدم
حسیں ساتھ اب یادِ خیر الوریٰ ہے
نہیں ہو گا لرزاں کسی بھی امر سے
تعلق ہے تیرا اگر مصطفیٰ سے

18
یکتا نبی ہیں سرور سلطانِ انبیا
دلدار بھی ہیں سب کے وہ جانِ دو سریٰ
ڈنکے علیٰ جہاں میں ذرہ نواز کے
ہر لب پہ ہے قصیدہ سرکارِ مصطفیٰ
یہ دل مچل رہا ہے بطحا کی یاد میں
دلبر کا عطر لائی فاراں سے یہ ہوا

23
ملے ان کی رحمت مدینے چلیں
بنے گی یہ قسمت مدینے چلیں
حزیں دل کی پھر ہی کھلے گی کلی
اگر دیکھیں گے ہم سخی کی گلی
خیالوں سے من میں چلی آئے گی
نظر یہ کبھی مجھ کو دکھلائے گی

19
لگیں خوب شہرِ نبی کے نظارے
کرے یاد پل جس نے اس میں گزارے
بجا ساری سختی ہے محشر کے دن کی
مگر جانوں رحمت نبی ہیں ہمارے
میں عاصی ہوں لیکن ہے امید یہ بھی
ہیں میداں میں چلتے نبی کے اشارے

0
24
ہر دم لگے جو شیریں آقا کا نام ہے
بے حد درود ان پر بے حد سلام ہے
ہے نور ان کا اول تشریف آخری
سب انبیا میں لیکن اعلیٰ مقام ہے
عترت نبی کی خاطر قربان جان ہے
آقا سے ہے یہ عرضی حاضر غلام ہے