Circle Image

mahmood ahmad

@cokar

نبیؐ کی عطا آسرا بن گئی ہے
یہ ملجا دکھوں کا دوا بن گئی ہے
بھنور میں گری تھی یہ بوسیدہ ناؤ
نگاہِ نبی ناخدا بن گئی ہے
جو دن رات سوچوں دیارِ نبی کا
یہ چاہت حسیں مدعا بن گئی ہے

4
35
کہاں میرے دل میں تمنا ہے زر کی
مگر من میں چاہ ہے نوری نگر کی
کبھی دوش پر لے ہوا اس چمن کی
بڑی آرزو ہے مجھے ایسے پر کی
ہے پر کیف خاصی فضا اس حرم کی
مگر جالی علت ہے سوزِ جگر کی

0
3
اے دل تجھ کو ان پر فدا کر رہے ہیں
یہ حق ہے نبی کا ادا کر رہے ہیں
اے مولا مدینہ وطن ہو حزیں کا
گدا ہیں سخی جی دعا کر رہے ہیں
جو نغمہ سرا ہیں یہ بلبل چمن کے
نبی کی یہ مل کر ثنا کر رہے ہیں

0
2
رونقِ عالم جانِ جہاں
اکمل عالم جانِ جہاں
جانیں جو مبدا سے معاد
شانِ معلم جانِ جہاں
دانیِ راہ وہ نورِ مبیں
رہبرِ اعظم جانِ جہاں

0
3
جن کی وجہ سے روشن منظر تمام ہیں
رفتہ زماں ہے ان سے اور صبح و شام ہیں
وہ صاحبِ دنیٰ تھے معراج والے دن
اونچے ہیں عزم جن کے عالی مقام ہیں
سب نعمتوں کے قاسم ہر اک جہان میں
جن کی عطا ہے سب کو اور فیض عام ہیں

0
3
کونین میں ہر جا ہی انوار کی کثرت ہے
محبوبِ خدا کی ہے جو عیدِ ولادت ہے
گلشن میں یہ رونق بھی ہے جانِ بہاراں سے
ہر گل کے حسن میں ہی سرکار سے نزہت ہے
ہے جس کا ظہور آخر تخلیق میں اول ہیں
تکوینِ جہاں ان کی جو ختمِ نبوت ہے

0
2
منظر حسیں ہیں سارے دلبر کے ہی نگر میں
ہے شان زائروں کی اس شہر کے سفر میں
ذرے جو راہ میں تھے میں نے اٹھائے ہیں یوں
سارے رکھے سنبھل کر دھیرے سے ہیں نظر میں
ہے دردِ عشقِ جاں جب آیا کسی کے دل میں
الطاف ان کے آئے یک دم اسی کے گھر میں

0
3
جو دل میں ہیں مدت سے ارماں ہیں مدینے کے
ملے ناز انہیں جس سے سلطاں ہیں مدینے کے
ہر دم ہیں ابر چھائے اس شہر پہ رحمت کے
سدا نور کی چادر میں مہماں ہیں مدینے کے
برکت کے ہیں دریا جو اس شہر سے ہستی کو
اس دان کا منبع بھی ذیشاں ہیں مدینے کے

0
1
جو دل کی ندا ہیں صلے علیٰ
وہ فضلِ خدا ہیں صلے علیٰ
تو فکر سے اے دل مت گھبرا
درماں ہیں تیرا صلے علیٰ
ہر بات بھی جن کی حقیقت ہے
وہ دل کی ضیا ہیں صلے علیٰ

1
نور و جمال ہستی آقا نبی ہیں میرے
باعث قرارِ من بھی تنہا نبی ہیں میرے
دی جاں ہے زندگی کو سرکار کی عطا نے
دل جس سے ہے دھڑکتا آشا نبی ہیں میرے
آباد یہ چمن ہے جس آگہی کی خاطر
اس سوچ کی بھی غایت مولیٰ نبی ہیں میرے

0
2
سیدِ دو سریٰ مصطفیٰ مصطفیٰ
نورِ جاں جانِ ما مصطفیٰ مصطفیٰ
تو ہے سلطان بھی تو ہے ایمان بھی
ربی صلے علیٰ مصطفیٰ مصطفیٰ
جانبِ لا مکاں تو اکیلا گیا
تیرا قصرِ دنیٰ مصطفیٰ مصطفیٰ

0
گھٹائے غم سے میں بھی ہوں پریشاں یا حبیب اللہ
ملے گا تیرے در پر اس کا درماں یا حبیب اللہ
نگاہِ لطف کن ہادی رکھی جھولی یہ خالی ہے
نظر تیری سے ہی مشکل ہے آساں یا حبیب اللہ
نظارے چندہ تارے بھی ہیں پرتو حسن تیرے کے
سجھے خاطر ہیں تیری ہی گلستاں یا حبیب اللہ

0
2
نہ عزت نہ دولت نہ زر مانگتا ہوں
کرم تیرا شاہا مگر مانگتا ہوں
اٹھے ہاتھ جب بھی لئے جھولی خالی
سخی جی عطا کی نظر مانگتا ہوں
کھلے آنکھ دیکھوں نظارہ ضحیٰ کا
اے مولا دعا میں اثر مانگتا ہوں

0
2
نہیں ہے لبوں پر سوائے محمد
سدا دل بھی چاہے ادائے محمد
یہ من بھی حزیں کا ندا کر رہا ہے
ہے اس کی صدا بھی برائے محمد
چھپی آرزو دل میں بھی کہہ رہی ہے
ہیں منشا بنے جلوہ ہائے محمد

0
1
نہ جاہ و جلالت نہ زر کی تمنا
مگر دل میں ہے ان کے در کی تمنا
حسیں کوچہ ہادی دلی مدعا ہے
چھپی جس میں ہے اس نظر کی تمنا
میں قربان جاؤں سخی آل پر جاں
دعا میں مگر ہے اثر کی تمنا

0
مدینے سے لائی جو خوشبو ہوا ہے
یہ دافع الم اور رنج و بلا ہے
نظارے سہانے دہر کی ہیں رونق
مدینے سے ان پر حسن آ رہا ہے
ملی جس سے کونین کو یہ رمق ہے
سخی وہ ہی داتا نبی مصطفیٰ ہے

0
2
مدینے سے آئی کرم کی ہوا ہے
کیا دور جس نے ہی رنج و بلا ہے
ملا دینِ حق ہے نبی سے ہمیں بھی
سخی ہے جو ہادی وہ ہی مصطفیٰ ہے
جو منظر سہانے ہیں ہستی کے سارے
مدینے سے اس پر کرم کی ہوا ہے

0
2
سخی دلربا بھی رسولِ خدا ہیں
نبی جانِ ما بھی رسولِ خدا ہیں
وہ شاہوں کی شاں سرورِ انبیا ہیں
صحیح آسرا بھی رسولِ خدا ہیں
یہ سج دھج دہر کی نبی کے لئے ہے
جہاں کی ضیا بھی رسولِ خدا ہیں

0
3
جو جنت نما ہے مدینے کی بستی
وہ دلبر کی جا ہے مدینے کی بستی
ہیں روشن قمر سے بھی ذرے جہاں کے
وہ ہی یہ جگہ ہے مدینے کی بستی
ملے زندگی گر ملیں سانس اس جا
یہ دل کی ضیا ہے مدینے کی بستی

0
1
محمد میرے سرور ہیں خدا کے راز داروں میں
عیاں یہ راز ہے دیکھیں وحی کے سب اشاروں میں
ہیں تارے انبیا سارے خدا کے نور والوں میں
بدر ہیں میرے آقا پھر خدا کے نوری تاروں میں
غلاموں کو ملی عظمت حبیبِ کبریا سے یوں
اٹھا کے رکھ دیا ان کو دہر کے تاجداروں میں

3
اس دل میں مدت سے ارمان ہیں طیبہ کے
ملے ناز انہیں جس سے سلطان ہیں طیبہ کے
ہر دم ہیں ابر چھائے اس شہر پہ رحمت کے
تلے نور کے پرچم ہی مہمان ہیں طیبہ کے
برکت کے ہیں دریا ہی اس شہر سے ہستی کو
جو دان کے داتا ہیں ذیشان ہیں طیبہ کے

4
درِ جانِ جاں کا سفر مانگتا ہوں
رہے ان کے قدموں میں سر مانگتا ہوں
نہیں کوئی منظر حسیں اس سے آگے
ضیا نورِ خیر البشر مانگتا ہوں
چراغاں سے مٹتی نہیں دل کی ظلمت
چمک نورِ حق بے ضرر مانگتا ہوں

7
دیوانے ہی دلبر کے محفل کو سجاتے ہیں
آتے ہیں نبی سرور آثار بتاتے ہیں
ہم نغمے درودوں کے سرکار پہ پڑھتے ہیں
پھر شان میں دلبر کی نعرے بھی لگاتے ہیں
آتے ہیں جو مجلس میں ان پر ہیں کرم ان کے
کب اپنوں کی محفل میں کبھی غیر بھی آتے ہیں

8
جھولی بھری ہے جس نے سرکار کی عطا ہے
راضی ہے جس پہ مولا وہ جانِ دو سریٰ ہے
زینت جہانِ بھر کی الطاف سے نبی کے
دامن میں ہر جہاں کے ہی فیض دلربا ہے
ہستی نے سانس کھینچا خاطر حبیبِ رب کی
سارے جہان کو دم ہادی سے ہی ملا ہے

12
جب یاد سے دلبر کی ہم سینہ سجاتے ہیں
دل سوز میں آتے ہیں ہم آنسو بہاتے ہیں
جو ہجرِ نبی میں من دن رات سلگتے ہیں
وہ گیت سدا ان کے ہر سانس میں گاتے ہیں
ہیں دررماں بنے دکھ کے اطہار محمد کے
تریاق جو ہر غم کے سرِ عام پلاتے ہیں

10
ذکر دلربا کا جو کرتے ہیں دائم
وہ موتی سے جھولی کو بھرتے ہیں دائم
ملی زندگی بھی سدا ان کو رب سے
جو نامِ نبی جان دیتے ہیں دائم
گراں ان کو بخشش کے ساماں ملے ہیں
جو دلبر کے رستے پہ چلتے ہیں دائم

8
ممکن ہو سبک آنا در پر غلام کا
میں بھی ہوں منتظر اب پیارے پیام کا
سرکار تیرے در پر سارے ہیں آ گئے
سوچوں کہاں ہے نامہ فدوی کے نام کا
ہے آرزو کے دیکھوں منظر حسین میں
اس سبز سبز گنبد روضے تمام کا

1
15
ہستی تمام ہمدم جس نور سے ہے تاباں
رنگت ہے پھول کی وہ ہے رونقِ گلستاں
بے مثل رب نے ان کو پیدا کیا جہاں میں
ہستی میں میرے آقا یکتا ہیں ایسے سلطاں
مولا عطا ہو دل جو عکسِ جمال دیکھے
وہ سر ملے مجھے بھی دلبر پہ ہو جو قرباں

6
اوصافِ مصطفیٰ ہیں جو بے حساب ہیں
درجے حبیبِ رب کے ہی لاجواب ہیں
کہتے زباں سے ہیں جو منشا خدا کی ہے
سب قول فعل ان کے نور الکتاب ہیں
مانندِ ریگ ہی تھے انسان دہر کے
اک نظرِ ِکیمیا سے سب لعلِ ناب ہیں

10
کانِ کرم سدا ہے بطحا حبیب کا
ہے ذرہ ذرہ جگ کا کھاتا حبیب کا
ان کی عطا سے قطرہ قلزم سے ہے سوا
سیراب ہر طرح ہے بردہ حبیب کا
سگ ان کا کب ہے جاتا اغیار کی گلی
کہتا ہے بس سوا ہے تلوا حبیب کا

9
رحمت مدام جن کی سرکارِ دو سریٰ ہیں
برکت ہے تام جن کی سرکارِ دو سریٰ ہیں
روشن قدم سے ان کے سب دہر کے جہاں ہیں
نصرت ہے عام جن کی سرکارِ دو سریٰ ہیں
آنے سے ان کے غائب طاغوت کے ہیں پھندے
ہمت لے تھام جن کی سرکارِ دو سریٰ ہیں

10
گلشن میں رنگ و بو ہے سرکار کے کرم سے
ہستی کی آبرو ہے سرکار کے کرم سے
قربان ساری عزت دلدارِ دو سریٰ پر
فطرت بھی خوبرو ہے سرکار کے کرم سے
ہیں وجہہ امرِ کن بھی سرکارِ دو سریٰ ہی
منظر میں کاح و کو ہے سرکار کے کرم سے

12
نہ عزت نہ دولت نہ زر کی تمنا
حزیں دل میں ہے ان کے در کی تمنا
بنوں مصطفیٰ کے چمن کا میں بلبل
جو لے جائے اس جا ہے پر کی تمنا
فضا طیبہ کی بڑا خوب منظر
دکھا دے جو بطحا بصر کی تمنا

16
دلِ ما یہ در ہے رسولِ خدا کا
حبیبِ الہ کا سخی بادشاہ کا
چمک لیتے اس سے فلک کے ستارے
یہ داتا ہے اے دل نبی کے گدا کا
ہے ملتی رسائی سخی آستاں تک
اگر ہو ارادہ شہے دو سریٰ کا

10
میٹھا ہے ورد اے دل دلبر کے نام کا
شاہوں کے شاہ سرور عالی مقام کا
اے من بناؤ گجرا لے کر مدینے جائیں
مدحت کے پھولوں کا اور حب کے سلام کا
میرے نبی اے ہمدم ایسے ہیں داد رس
رکھتے خیال ہیں جو فدوی کے کام کا

19
چلی برکتوں کی چمن میں ہوا ہے
ملی گلشنوں کو یہ نوری صبا ہے
ہے عطرِ نبی سے جو خوشبو گلوں میں
شجر کے لبوں پر نبی کی ثنا ہے
مدینہ مدینہ حسیں حبِ سینہ
ترت دیکھے بطحا یہ دل کی دعا ہے

7
لاکھوں درود ان پر بے حد سلام ہیں
توفیق جس کی دینا مولا کے کام ہیں
کب کرم ہو گا حادی در پر بلائیں گے
اب لے کے جھولی خالی حاضر غلام ہیں
قربان آل پر ہیں آقا نثار یہ
دل جان آبرو بھی لائے تمام ہیں

11
ان کی مہک چمن میں غنچے کھلا رہی ہے
آمد دہر میں جن کی کوچے بسا رہی ہے
جب بحرِ لطف ان کا آتا ہے جوش میں پھر
ہر موج فیضِ جاں کی روتے ہنسا رہی ہے
دکھ درد میرے دل کے الطاف دیکھ ان کے
رحمت گراں سخی کی مردے جلا رہی ہے

1
32
کونین سجی جس سے رحمت ہے نبی کی وہ
حیراں ہے فلک جس پر رفعت ہے نبی کی وہ
دیتی ہے سکوں دل کو ہر یاد مدینے کی
جو چین ہے ہرمن کا الفت ہے نبی کی وہ
سرکار نبی سرور دلدار زمانے کے
جو چین ہے ہستی کا راحت ہے نبی کی وہ

1
18
اس دل میں بھی تمنا شاہِ حجاز کی ہے
رحمت سے بخششوں کی سوز و گداز کی ہے
ہمت کہاں ہے میری مدحت کہوں نبی کی
کب آگہی مجھے دل عجز و نیاز کی ہے
مدحت سریٰ ہے بلبل ہستی کے ہر چمن میں
امداد جس کو حاصل قدرت سے ساز کی ہے

10
رخِ مصطفیٰ کی جھلک آرزو ہے
حُسن ہے جو نوری چمک آرزو ہے
کیا دان بو کو گلوں میں ہے جس نے
سدا اس بدن کی مہک آرزو ہے
تمنا ہے دل میں لقائے نبی کی
حسیں خارِ ہجراں کھٹک آرزو ہے

20
نہیں اور کوئی نگاہوں میں جچتا
مثل جانِ جاناں جہاں کب ہے رکھتا
کوئی کب حسیں ہے نبی سا خلق میں
نہیں ہے بنایا خدا نے نبی سا
نظر دیکھ تو بھی مگر حد میں رہ کر
یہ حسنِ نبی کا درخشاں ہے جلوہ

14
میں تنہائی میں جب پڑھوں نعت ان کی
بڑا بخشے مجھ کو سکوں نعت ان کی
گھٹا آنسوؤں کی برستی ہیں آنکھیں
میں جب لوحِ دل پر لکھوں نعت ان کی
زیاں کار ہوں میں تمنا ہے دل میں
میں وقتِ نزع بھی سنوں نعت ان کی

14
ہے بندہ وہ اس کا جو مانگے خدا سے
خدا اس کا داتا جو مانگے خدا سے
خدا سے ہے مانگا صفِ انبیا نے
علی کے بھی گھر آلِ کہف الوریٰ نے
سخی شاہِ شاہاں نے سب اولیا نے
وہ خوش ہی رہا ہے جو مانگے خدا سے

11
مولا نظر دے بینا وہ حسنِ پنہاں دیکھیں
عکسِ جمال دیکھیں وہ نورِ یزداں دیکھیں
لو دل میں جائیں در پر سرکارِ دوسریٰ کے
پھر جانِ حسن دیکھیں وہ روئے تاباں دیکھیں
رحمت کے گھیرے میں ہی کونین بھی ہے ساری
جس کی نوازشیں ہم تا حدِ امکاں دیکھیں

16
ان کے غلاموں کا اک اپنا جہان ہے
ہر اک جہاں میں جن کو ان کی امان ہے
در چھوڑ کر نبی کا کس در پہ جائے گا
پیارے چمن یہ سارا ان کا مکان ہے
ہر اک زماں ہے ان کا دونوں جہان میں
لولاک سن لو یارو رب کا بیان ہے

17
پیارا جو نام ان کا اس دل نے جب پکارا
سرکار کا کرم پھر میرا بنا سہارا
اس دشتِ میں پنپنا آسان ہو گیا ہے
تیرے کرم نے ہادی سارے غموں کو مارا
مایوس جب کیا ہے دنیا کے حزن نے دل
ذکرِ حبیبِ رب نے کیا خٰیر سے ہے چارہ

18
اس در پہ میرے ہادی لایا ہوں تار داماں
عاصی ہوں پر خطا ہوں عاجز ہوں ایک انساں
میرے ہے دل میں مولا یہ آرزو قدیمی
باغیچہ ہو نبی کا ان کا بنوں میں مہماں
شرفِ عظیم مجھ کو لمحات اس گلی کے
جو شہر کا ہے سلطاں کونین کی ہے وہ جاں

24
یہ منظر نظارے بڑے دلنشیں ہیں
چمن سب مدینے کے یارو حسیں ہیں
یہ اجرامِ ہستی جو روشن جبیں ہیں
کسی عکس سے ہی یہ اتنے مبیں ہیں
جو باغوں میں ہر جا ہیں گلہائے رنگیں
یہ حسنِ جہاں بھر کے لگتے امیں ہیں

62
مدحت لبیبِ رب کی ہر دم سنا رہے ہیں
کونین کے جہاں جو اک ساتھ گا رہے ہیں
سلطانِ دو سریٰ کی آمد ہے اس دہر میں
دنیا میں شان والے نظریں جھکا رہے ہیں
پر کیف ہے فضا بھی نغماتِ مصطفیٰ سے
گجرے درودوں کے یہ جیسے سجا رہے ہیں

40
ہر لالہ زار میں ہی آئی بہار ہے
موسم ہے جو چمن کا وہ خوشگوار ہے
آئی دہر میں رونق جن کے ورود سے
ہر لمحہ یادیں ان کی دل کا قرار ہے
خیرات لینے نوری آتے ہیں اس جگہ
جس در پہ خلق آتی پروانہ وار ہے

15
کوثر کہے خزانہ سرکار کو ملا ہے
انعامِ مصطفیٰ پر کیا ہم نے آسرا ہے
محبوبِ کبریا ہی داتا جہان کے ہیں
ان کا بنا گدا جو اس کا سدا بھلا ہے
کنکر تھے پھینکے رب نے آقا کے ہاتھ سے خود
وہ عبد خاص رب کے کہتا انہیں خدا ہے

17
مدحت لبیبِ رب کی ہر دم سنا رہے ہیں
کونین کے جہاں جو اک ساتھ گا رہے ہیں
سلطانِ دو سریٰ کی آمد ہے اس دہر میں
دنیا میں شان والے نظریں جھکا رہے ہیں
پر کیف ہے فضا بھی نغماتِ مصطفیٰ سے
گجرے درودوں کے یہ جیسے سجا رہے ہیں

16
خلقِ خدا پہ دلبر تیری ہے بادشاہی
لولاک حکمِ خالق دیتا ہے یہ گواہی
مرغِ چمن مگن ہیں مدحت ثنا میں تیری
تیری عطا کے قائل سب مرغ اور ماہی
ہے انبیا نے تجھ کو مانا امام آقا
اقصیٰ میں ہے درخشاں تیری یہ سربراہی

15
یہ حسن لم یزل جو جلوے دکھا رہا ہے
رب کا حبیب ہمدم دنیا میں آ رہا ہے
نغمے لبیبِ رب کے ہستی بھی گا رہی ہے
کونین کے ہی طالع داتا جگا رہا ہے
ذرہ نواز ان سا کب تھا نہ ہے نہ ہو گا
روتے ہنسا رہا ہے اجڑے بسا رہا ہے

33
نگاہِ کرم ہو مدینے کے والی
سخی در پہ دیتے ندا ہیں سوالی
بہت غم ہیں کھائے حزیں نے دہر میں
دلی آرزو دے غریبوں کے والی
یہ منظر حسیں ہیں سخی در کے ہادی
ہے دربار نوری اے سرکارِ عالی

28
محبوبِ رب کو اے دل خیر البشر ہیں کہتے
سدرہ سے آگے ممکن ان کا سفر ہیں کہتے
روشن ہے صبحِ اول دانِ نبی سے ساری
اس ابتدا کو سارے نوری سحر ہیں کہتے
جس خیر کا بھکاری ہے مہر چندہ تارہ
اس فیض کو اے ہمدم جانِ قمر ہیں کہتے

36
گھیرے دہر کو پورا رحمت ہے آپ کی
اوجِ فلک کو حاصل برکت ہے آپ کی
ذکرِ نبی ہے اونچا حکمِ خدا سے ہی
سارے جہاں میں بر تر رفعت ہے آپ کی
حبِ نبی سے حاصل ہے چین میرے دل
زریں اثاثہ ہمدم الفت ہے آپ کی

37
سخی مصطفیٰ میرے دل کی ندا ہیں
وہ محبوبِ رب ہیں وہ خیر الوریٰ ہیں
دکھا دے اے مولا مجھے روضہ ان کا
یہ ہی یادیں اس دل میں رہتی سدا ہیں
ہو نامِ نبی اب حزیں دل میں روشن
جو اسرار من تھے بنے اب ندا ہیں

16
نبی میرے جو سرور ہیں خدا کے راز داروں میں
عیاں قرآن سے ہے یہ وحی کے سب اشاروں میں
محمد مصطفیٰ آقا گروہِ انبیا میں یوں
چمکتا چندہ ہے جیسے سما کے سب ستاروں میں
سبق سرکار سے آیا فضائے دہر میں ایسا
غلاموں کو بدل ڈالا ہے جس نے تاجداوں میں

19
الطافِ کبریا کی خوشیاں منا رہے ہیں
آمد ہے دلربا کی جو نغمے گا رہے ہیں
خوشیوں کے زریں موتی نکلے جو آنکھ سے ہیں
ان کی ثنا کے نغمے آنسو سنا رہے ہیں
دل چاہے نیند آئے ان کے گلستاں میں بھی
آواز آئے آ جا دلبر بلا رہے ہیں

21
لیئے شوقِ بطحا چلے ہیں جو گھر سے
اگر ہو یہ ممکن چلیں یارو سر سے
کسی سے نہ کہنا کبھی میرے دل یہ
ابھی چاہوں بچنا جہاں کی نظر سے
رواں اشک آنکھوں سے خوشیوں کے ہیں جو
عجب کیف طاری ہے مجھ پر سفر سے

19
مانگوں عطا میں اے دل شاہِ حجاز کی
دلدار مصطفیٰ کی ذرہ نواز کی
مولا ثنا نبی کی ایسی زباں کو دے
تاثیر اس میں آئے ہستی کے راز کی
مدحت سرا ہوں بلبل میری زبان سے
دیکھے تڑپ زماں بھی اس دل کے ساز کی

44
شاخِ امید تو نے میری رکھی ہری ہے
تیری عطا نے آقا جھولی سدا بھری ہے
ہر سینے کی شفا ہے حبِ نبی میں پنہاں
دانِ نبی نے قسمت موتی سے ہی جَڑی ہے
عاجز اگر ہے آیا اس در پہ ہاتھ خالی
اس کو ملی نبی سے خیراتِ سروری ہے

17
الطافِ مصطفیٰ کی خوشیاں منا رہے ہیں
آمد ہے دلربا کی جو نغمے گا رہے ہیں
خوشیوں کے ہیں یہ موتی آئے جو آنکھ میں اب
ان کی ثنا یہ آنسو ایسے سنا رہے ہیں
دل چاہے نیند آئے ان کے گلستاں میں پھر
آواز آئے آ جا دلبر بلا رہے ہیں

20
رونق دہر میں لائے سرکارِ دو سریٰ
فیضِ نبی جہاں کو عترت سے ہے ملا
حسنین مصطفیٰ کے آنگن کے پھول ہیں
راحت علی کے دل کی پسرِ بتول ہیں
مسجد میں مصطفیٰ کی جو چاہے وہ کریں
اور داد اپنے فن کی جبریل سے وہ لیں

20
ہو نظرِ کرم اے مدینے کے والی
ہیں فیاض در پر یہ عاجز سوالی
خزیں ہیں یہ بردے نبی کی ہو بخشش
دیا کر دیں ہم پر اے بطحا کے والی
نرالی ہے رونق حسیں کوچے کی یہ
سخی در ہے تیرا اے سرکار عالی

30
یادوں میں مصطفیٰ کی یہ دل مچل رہا ہے
ہے فیض دلربا کا یہ دم جو چل رہا ہے
اُن کی عطا سے مومن حبِ نبی ہے ملتی
ہے عشقِ مصطفیٰ جو نامہ بدل رہا ہے
کب حوس دل میں باقی انعام و زر ہے رہتی
جب فیض مصطفیٰ سے دارین پل رہا ہے

21
نبی سرور ہیں میرے دل خدا کے رازداروں میں
عیاں قرآن سے ہے یہ وحی کے سب اشاروں میں
محمد مصطفیٰ آقا گروہِ انبیا میں یوں
چمکتا چندہ ہے جیسے سما کے سب ستاروں میں
سبق سرکار سے آیا فضائے دہر میں ایسا
غلاموں کو بدل ڈالا ہے جس نے تاجداوں میں

17
یہ منظر دہر کے یہ چندہ ستارے
بنائے خدا نے ہیں سارے کے سارے
یہ عکسِ جمالِ نبی ہیں اے ہمدم
دکھاتے ہیں جو اس حسن کے نظارے
وہ محبوبِ رب جو خلق کے ہیں دلبر
یہ جلوے جہاں میں ہیں ان کے اشارے

53
مانگوں نظر میں اے دل شاہِ حجاز کی
بخشش کی فیض کی بھی دل کے گداز کی
مدحت نبی کی مولا ایسی زباں پہ ہو
تاثیر اس میں آئے عجز و نیاز کی
مدحت سرا ہوں بلبل میری زبان سے
سن لے تڑپ یہ ہستی پھر دل کے ساز کی

24
سخی ہادی پیمبر ہے زمانے کو خبر کردو
وہ ہی دانائے دلبر ہے زمانے کو خبر کردو
لیے رحمت جو آیا ہے وہ احساں ہے جہاں بھر پر
وہ صادق ہے وہ رہبر ہے زمانے کو خبر کردو
کیا کافور ظلمت کو نبی کے پاک قدموں نے
ورود ان کا ہی بہتر ہے زمانے کو خبر کردو

16
میرے نبی پہ ہر دم رب کے سلام ہیں
خوشیاں منائیں گے ہم ان کے غلام ہیں
ثانی نہیں ہے ان کا پیدا جہان میں
سب سے ورا خلق میں جن کے مقام ہیں
پیتے ہیں ان کے در سے سالک جہان کے
وحدت کے عمدہ سارے آقا سے جام ہیں

19
کتنا بڑا ہے یہ بھی احساں حضور کا
سایہ جو کل کرے گا داماں حضور کا
ہے امتوں میں یکتا امت حبیب کی
ممنون حشر تک ہے انساں حضور کا
گھیرے میں رحمتوں کے ہستی تمام ہے
لطف و کرم ہے سب پر ہر آں حضور کا

22
محفل ہے مصطفی کی سرشار آ رہے ہیں
جو یادِ دلربا میں آنسو بہا رہے ہیں
گردن جھکائی سب نے دل کو بھی ہے جھکایا
ادراک میں یہ اپنے بطحا کو جا رہے ہیں
سننا ثنا نبی کی گھیرا ہے رحمتوں کا
مجلس میں آئے ہیں جو قسمت بنا رہے ہیں

27
سبق جس سے آیا سدا حق نما
صداقت وہ لائے نبی مصطفیٰ
بنایا خدا نے جہاں جس لیے
وہ ہی وجہہ کن کا بنے مدعا
ورودِ نبی سے جہالت گئی
وہ لائے جہانوں میں نور و ضیا

18
ہیں دولہا دہر کے نبی مصطفیٰ
بڑے بھی خلق میں ہیں وہ دلربا
شریعت ہے کہتی ہیں ختم الرسل
وہ محبوبِ رب وہ شہے دو سریٰ
علیٰ شان ان کی ذکر ہر جگہ
وہ زینت جہاں کی وہ صُلے علیٰ

19
پرواز میں ملی جو مدحت ہے مصطفیٰ کی
دل سے زباں پہ آئی چاہت ہے مصطفیٰ کی
اپنا کرے جو سب کو اخلاقِ دلربا ہے
جس کو ملی یہ رحمت شفقت ہے مصطفیٰ کی
آتا ہے انساں بننا اک آدمی کو جس سے
وہ خُلق کا بھی منبع سیرت ہے مصطفیٰ کی

20
ہر لمحہ میرے دل میں ان پر سلام ہیں
تاباں دہر میں جن کے پیارے سے نام ہیں
احساں خدا کے آقا محسن ہیں تام جو
ہر آن ہی بھلے جانِ جاں کے کام ہیں
لاکھو درود اُن پر بے حد سلام بھی
ہم پر عطا ہے رب کی اُن کے غلام ہیں

29
اے مولا مجھے وہ قرینہ ملے
جھکاؤں میں نظریں مدینہ ملے
لگیں ہاتھ سنگِ مدینہ سخی
مجھے وہ حجر وہ نگینہ ملے
نبی میرے آیا ہوں گرداب میں
حزیں کو حرم میں سکینہ ملے

29
کامل جہاں میں ہر جا فرمانِ مصطفیٰ ہے
دارین میں سہارا دامانِ مصطفیٰ ہے
ارفع کیا خدا نے ذکرِ حبیب رب کو
عکسِ جمالِ ایزد ہر شانِ مصطفیٰ ہے
درجے ہیں مصطفائی پوشیدہ ہر بشر سے
پنہاں خرد کے دم سے عرفانِ مصطفیٰ ہے

24
ہر دم نبی سے آتے فیضِ نعیم ہیں
قاسم جو رحمتوں کے دُرِ یتیم ہیں
راحت ملی ہے ان سے بادِ شمیم کو
دانائے کل حبیبی سب سے کریم ہیں
نورِ جمالِ حق کا پرتو ہیں مصطفیٰ
پیکر وہ راحتوں کے خلقِ عظیم ہیں

48