نامِ حبیب جس نے ہے من میں سجا لیا
گلزارِ خلد اس نے یوں دل کو بنا لیا
روشن چراغ سینے میں اس کے رہیں سدا
قسمت کو جس نے یاد سے ایسے جگا لیا
ہے جان و دل سے قرباں جو آلِ رسول پر
اس نے نصیبہ خیر سے اپنا سجا لیا
آیا خیال میں ہے جو روضہ رسول پر
سمجھے کے اس نے حالِ دل اُن کو سنا لیا
راضی ہوا کریم ہے اس امتی پہ پھر
جس نے درِ رسول پہ سر کو جھکا لیا
دونوں جہاں میں مشکلیں آسان دیکھے وہ
قدموں میں جانِ جان نے جس کو بلا لیا
دارین سے فلاح ہے قسمت میں آ گئیں
عشقِ نبی کو سینے میں جس نے بسا لیا
الطاف مصطفیٰ سے ہیں وافر ملے اُسے
جس نے فراقِ جان میں آنسو بہا لیا
محمود وہ کریم ہیں فیاضِ دو جہاں
نامِ نبی کو ورد ہے دل نے بنا لیا

0
4