| جس شمعِ ہدایت سے دارین درخشاں ہیں |
| نازاں ہے خدا اُن پر دلدارِ غریباں ہیں |
| کیا خوب جہاں دیکھے اُس رُوپ سے تابانی |
| جس حُسن سے سب چمکے گلزار و گلستاں ہیں |
| یہ فیض ہیں سرور سے آفاق جو روشن ہیں |
| ذیشان سخی دلبر دل اُن سے فروزاں ہیں |
| مختارِ دو عالم ہیں برہانِ خدا ہادی |
| کونین رواں اُن سے دارین کے دل جاں ہیں |
| فردوس کے کل گلشن ہیں عکسِ جمال اُن کا |
| یہ دہر میں سب رونق سرکار کے احساں ہیں |
| ہر ذرے میں ملتی ہے پہچان سدا اُن کی |
| دل جان یہ ہستی کے خود حاملِ قرآں ہیں |
| یہ نورِ جہاں سرور جو زینتِ عالم ہیں |
| دارین پہ رحمت ہیں ہر درد کے درماں ہیں |
| کرتے ہیں عنایت وہ ہر آن غلاموں پر |
| ہیں اُن کے کرم سب پر جو ہجر میں حیراں ہیں |
| محمود نبی سرور کونین کے ہیں دلبر |
| دل جانِ جہاں جن پر کس شان سے قرباں ہیں |
معلومات