یہ جینا دہر میں جو دشوار ہے
نبی سے جڑیں گر یہ گلزار ہے
گھٹا رحمتوں کی مدینہ سے ہے
جو الطافِ یزداں سے سرشار ہے
سنہری حسیں روضہ کی جالیاں
جہاں جانِ جاناں گُہر بار ہے
جو استھانِ یسرب کبھی تھا یہاں
منور گلستانِ سرکار ہے
یہاں ہوتے قسمت کے ہیں فیصلے
یہ دربار سلطانِ ابرار ہے
لئے ظلم سر پر جو آیا یہاں
اسے بخشے مولا جو غفار ہے
ہو عشقِ نبی سے جو لبریز دل
یہ ہی زندگی ہے جو بیدار ہے
نبی کی ہے رحمت عوامی سدا
یہ دلبر ہیں جس کے وہ ستار ہے
جو ریگِ مدینہ ہے محمود کہہ
زہے میرے سر کی یہ دستار ہے

3