سجائیں جو یادیں شہے دو جہاں
لگے داماں میں ہیں زمیں آسماں
نہ زاری ہو اس سے نہ شکوہ کرے
مگر مدحتِ جاں کرے یہ زباں
مدینے میں لائے جو میری صدا
الہٰی عطا ہو مجھے وہ بیاں
ملوں میں مدینے حسیں آل کو
ہے ممنون جن کا زمان و مکاں
ثنائے نبی ہے سہانا ذکر
اسی سے ضمیرِ دہر ضوفشاں
وہ مقصودِ ہستی وہ مطلوب ہیں
انہی سے رواں ہست کا کارواں
نبی کے لئے رونقِ دو جہاں
ہے منظر سے واضع یہی داستاں
یہ سچ ہے کہ محمود شاعر نہیں
ہیں کرتے کرم اس پہ شاہِ جہاں

0
2