| سخی ہے زمانے میں در مصطفیٰ کا |
| حبیبِ خدا سیدِ انبیا کا |
| گھرانوں میں اک خاص ہے جو گھرانہ |
| وہ قصرِ عطا ہے شہے دو سریٰ کا |
| عطائے خدا کے نبی میرے قاسم |
| حسیں باغِ عرفاں ہے گھر دلربا کا |
| مدینے کے شام و سخر ہیں فروزاں |
| مدینے میں نوری ہے منظر صبا کا |
| عدو آئے دیکھو کھڑے سائلوں میں |
| کشادہ ہے دروازہ اُن کی عطا کا |
| ہیں مسرور جاتے تھے مجبوریوں میں |
| عُلیٰ باجے ڈنکا نبی کی سخا کا |
| درود اُن پہ مولا کے آتے ہیں دائم |
| لو تریاق آیا دلوں کی شفا کا |
| اے محمود مولا سنے اُن کے صدقہ |
| گراں درجہ اونچا نبی کی ثنا کا |
معلومات