سزا وارِ حمد و ثنا میرے مولا
صمد ہے تو واحد خدا میرے مولا
مقدر ہیں خفتہ جگا دے انہیں تو
مجھے شہرِ جاناں دکھا میرے مولا
حسیں سبز گنبد وہ جالی سنہری
وہ فانوس نوری ضیا میرے مولا
درِ مصطفیٰ کے نظارے میں دیکھوں
بلند آئے دل سے صدا میرے مولا
میں آؤں منور مدینہ میں یا رب
نبی کا میں ادنیٰ گدا میرے مولا
خیالوں میں میرے بسا دے مدینہ
تخیل توانا بنا میرے مولا
خوشی سے ہیں آتے مدینے میں سائل
عطا ہے جہاں کی غنیٰ میرے مولا
یہ محمود مانگے اُنہیں اُن سے داتا
سدا ہے یہ اس کی صدا میرے مولا

1
7
روحانی خلاصہ تشریح

یہ کلام دراصل توحید سے محبتِ رسول ﷺ تک کے سفرِ قلب کی مکمل تصویر ہے۔ آغاز اللہ تعالیٰ کی حمد سے ہوتا ہے، جہاں شاعر اعتراف کرتا ہے کہ حمد و ثنا کا حقیقی مستحق صرف وہی واحد و صمد رب ہے، جو سب کی حاجتیں پوری کرنے والا اور خود ہر احتیاج سے پاک ہے۔ یہ توحید کی مضبوط بنیاد ہے جس پر آگے سارا جذبہ قائم ہے۔

اس کے بعد شاعر تقدیر کو اللہ کے ہاتھ میں مانتے ہوئے دعا کرتا ہے کہ اگر نصیب سویا ہوا ہو تو اسے بیدار کر دیا جائے، اور اسے اس شہرِ محبوب تک پہنچا دیا جائے جو دلوں کی جان ہے، یعنی مدینہ منورہ۔ یہ اس یقین کا اظہار ہے کہ مدینہ کی حاضری محض سفر نہیں بلکہ اللہ کی خاص عطا ہے۔

سبز گنبد، سنہری جالی اور نوری فانوس کا ذکر دراصل ظاہری حسن نہیں بلکہ اس نورِ مصطفیٰ ﷺ کی علامت ہے جو صدیوں سے دلوں کو منور کر رہا ہے۔ شاعر کا دل چاہتا ہے کہ وہ درِ مصطفیٰ ﷺ پر کھڑا ہو کر ایسی دعا کرے جو محض زبان کی نہیں بلکہ دل کی گہرائی سے نکلے، ادب اور محبت سے لبریز۔

آگے چل کر شاعر اپنی عاجزی کا اعلان کرتا ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کا کوئی بڑا دعوے دار نہیں بلکہ ایک ادنیٰ گدا ہے، اور یہی گدائی اس کے لیے سب سے بڑی عزت ہے۔ مدینہ کی یاد، چاہے خیال میں ہی سہی، اس کے ایمان اور تخیل کو قوت عطا کرتی ہے اور دل کو زندہ رکھتی ہے۔

کلام کے آخری حصے میں یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ مدینہ آنے والا کوئی سائل محروم نہیں لوٹتا، کیونکہ اصل عطا اللہ کی ہے مگر اس عطا کا دروازہ نبی ﷺ کی نسبت سے کھلتا ہے۔ آخر میں شاعر اپنے نام کے ساتھ یہ اعلان کرتا ہے کہ وہ ہمیشہ اللہ سے مانگے گا، مگر محبوبِ خدا ﷺ کے وسیلے سے—اور یہی اس کی زندگی بھر کی صدا ہے۔

0