خوشیاں جو رمضان ہے لایا
بخشش کا سامان ہے آیا
برکت والی دھوم ہے ہر جا
سر پر ہے غفران سے چھایا
لوٹیں سارے رحمتِ باری
لنگر ہیں مختار کے جاری
قدروں والی آن ہے اس میں
علت کا درمان ہے جس میں
قادر سے قرآن ملا ہے
قدرت کا فرمان ملا ہے
پکڑو یہ فرقان ہے نوری
دیتا ہے عرفان یہ نوری
شاکر ہے محمود پیا کا
رحمت کی گھنگھور گھٹا کا

1
5
خلاصہ

یہ نظم صرف رمضان کی تعریف نہیں ہے —
یہ کہتی ہے: ✔️ رمضان عظیم ہے ✔️ لیلۃُ القدر اس کی شان ہے ✔️ قرآن اس کا نور ہے
لیکن
یہ سب نعمتیں ہمیں رسولِ کریم ﷺ کے ذریعے ملیں
اسی لئے شاعر شکر ادا کرتا ہے۔

0