یہ آمد، مصطفیٰ کی ہے، خوشی کا ہے، سماں یارو
فلک پر محفلیں جاری، سجے ہیں، دو جہاں یارو
مبارک ہو مبارک ہو، ہیں نغمے، جا بجا جاری
مسرت میں لگے گردوں، گراں ہے ضوفشاں یارو
سجے ہیں عرش و کرسی بھی، ہے رونق بے بہا ہر جا
منور دہر کو دیکھیں، ہے روشن لا مکاں یارو
ہیں لرزے قصر، قیصر کے، ہوئے آتش کدے ٹھنڈے
زہے سالار آئے ہیں، حبیبِ مرسلاں یارو
چمک پکڑی ہے ذروں نے، یہ مکہ بھی فروزاں ہے
رواں دنیا سے ہے ظلمت، اندھیرا ہے کہاں یارو
خدا کے نور جو بن کر، نبی تشریف لائے ہیں
ہے قرآں میں عیاں آیا، خدا کا یہ، بیاں یارو
بجے جو شادیانے ہیں، سخی سلطاں کے آنے ہیں
وجودِ دہر نازاں ہے، ہوئے تاباں زماں یارو
بڑی محمود! عظمت ہے، جو آنے مصطفیٰ کے ہیں
قدم دلدار کے آئے، ہوئے رفتہ زیاں یارو

4