سید و سرکارِ ما
نورِ حق خیر الوریٰ
تو سخی مختارِ من
یا نبی المصطفیٰ
جان جانِ دو جہاں
آنِ من صلے علیٰ
کبریا ہے مانتا
میرے حق تیری دعا
المدد یا سیدا
یومِ محشر ہے صدا
مصطفیٰ المجتبیٰ
جان قرباں اے شہا
فیضِ حق تیری ثنا
راہ تیری میں بھلا
مالک و مختار تو
رتبے تیرے ہیں عُلیٰ
عشقِ جاناں خیر سے
ہے عطائے کبریا
شہر جاں اے کبریا
پھر دکھا دے بادشاہ
یا حبیبِ دو سریٰ
ہو بھلا محمود کا

1
4
پیش کردہ یہ اشعار ایک مختصر مگر پُرمعانی نعت/مناجات ہیں، جن میں حضور نبی اکرم ﷺ کی سیادت، نورانیت، شفاعت، اختیارِ عطا، اور فیض رسانی کو خاص انداز میں بیان کیا گیا ہے۔

خلاصہ:
حضور ﷺ کو سردارِ کائنات، اللہ کے نور اور تمام مخلوق سے افضل قرار دیا گیا ہے۔
آپ ﷺ کو اللہ کے عطا کردہ اختیار کے ساتھ سخی اور مختار بتایا گیا ہے۔
قیامت کے دن آپ ﷺ کی شفاعت اور مدد کی امید ظاہر کی گئی ہے۔
آپ ﷺ کی اطاعت کو نجات اور بھلائی کا راستہ کہا گیا ہے۔
محبتِ رسول ﷺ کو اللہ کی عطا اور ایمان کی دولت قرار دیا گیا ہے۔
شاعر آخر میں اپنی بھلائی، بخشش اور قربِ مصطفیٰ ﷺ کی دعا کرتا ہے۔
یعنی پورا کلام حضور ﷺ کی شان، شفاعت، فیض اور محبت کو مرکز بنا کر عقیدت و التجا کے انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

0