مدینہ ہے منزل خدارا ملے
کریمی کرم ہو سہارا ملے
ہے بوسیدہ ناؤ بھنور میں شہا
یہ ساحل پہ پہنچے کنارہ ملے
ہو مقصود حاصل نہیں ہے مجال
حبیبی وسیلہ تمہارا ملے
بلا لیں نبی جی یہ فریاد ہے
سفر تیرے در کا دوبارہ ملے
فضائے مدینہ میں یہ دلکشی
مجھے منزلوں کا ستارہ ملے
شب و روز گزریں مدینے میں جاں
سفر کا حزیں کو اشارہ ملے
اے داتا یہ عرضی ہے محمود! کی
مدینے میں نوری نظارہ ملے

14