نصیبے سرِ اوج اس کے ہیں آئے
قصیدے ہیں جس نے نبی کے سنائے
نبی جی مجھے بھی بُلا لیں مدینے
درودوں کے گجرے ہیں دل نے سجائے
شہا مدحتِ تُو جہاں میں ہے جاری
یوں میلاد تیرے یہ ہستی منائے
تو محبوبِ داور مقیمِ دنیٰ ہے
جہاں تک یہ ادراک پہنچا نہ جائے
نہیں مثل تیرا ہوا ہے نہ ہو گا
خرد یہ معمہ سمجھ کیسے پائے
حبیبی تو سالارِ خلقِ خدا ہے
سدا گیت تیرے دہر نے ہیں گائے
ثنائے نبی ہے زباں پر اُسی کی
کریمی جسے جامِ الفت پلائے
اے محمود مدحت نبی کی کرو تم
کہ سرکار در پر تمہیں پھر بلائے

2
12
سبحان اللہ
بہت اعلیٰ

0
جزاک اللہ خیر۔ اللہ کریم سدا راضی رکھے۔