یہ عاجزانہ عرضی مولا قبول ہو
وردِ زبان ہر دم شانِ رسول ہو
مولود کی ہیں گھڑیاں وقتِ ورود ہے
اُن پر سلامِ دائم میرا حصول ہو
آئے حبیبِ داور لائے ہیں نعمتیں
خوشیاں منائیں سارے ہر گِز نہ بھول ہو
من میں سجے ہوئے ہیں گجرے درود کے
عکسِ جمالِ جاناں سینے میں پھول ہو
لمحے فراق والے مولا قلیل کر
راہِ مدینہ کی اب بالوں میں دھول ہو
باغِ مدینہ سے ہی آتی رہے ہوا
یہ دل کبھی نہ میرا اتنا ملول ہو
محمود چاہے دیکھے دلدار کی گلی
یہ التجا ہے اس کی مولا قبول ہو

2
18
ماشا اللّہ

شکریہ

0