کافور کر دے غم جو سرکار کی نظر ہے
طالع ہیں بنتے جس جا سرکار کا وہ در ہے
ہیں پالنے میں لیٹے دیکھیں کھلونے اُن کے
ایما پہ مصطفیٰ کے آکاش کا قمر ہے
آمد سے مصطفیٰ کی یسرب بنا مدینہ
کتنا حسین یارو سرکار کا نگر ہے
ہستی پہ سارے احساں سرکار دو سریٰ کے
آفاق کے کراں تک دلدار کی خبر ہے
بھیجیں درود اُن پر بھیجیں صلات سارے
مولا جو کہہ رہا ہے اس کا بڑا ثمر ہے
یادِ جمالِ دلبر تدبیرِ غم ہے میری
ذکرِ حبیبِ یزداں حاصل مجھے حصر ہے
محمود خوف کیسا روزِ قیام کا یوں
دامانِ مصطفیٰ جو تیرے لئے مفر ہے

1
3
**:مختصر خلاصہ:**
یہ نعت حضور نبی کریم ﷺ کی نگاہِ کرم، ولادت کی برکت، مدینہ کی عظمت اور آپ ﷺ کی شفاعت پر کامل یقین کا اظہار ہے۔ شاعر بتاتا ہے کہ مصطفیٰ ﷺ کی یاد غموں کا علاج ہے، درود و سلام نجات کا ذریعہ ہے، اور قیامت کے دن آپ ﷺ کی نسبت و دامان ہر خوف سے پناہ ہے۔

0