تاباں کرے جہاں کو مدینے سے روشنی
عکسِ جمالِ جان کے روضے سے روشنی
دائم صلاۃ آتے ہیں مولا سے آپ پر
آئے دلوں میں ذکرِ جاں سننے سے روشنی
منظر نظارے نور سے جس نے سجا دیے
آئی یہ حسنِ یار کے جلوے سے روشنی
نوری جو آئیں طیبہ عرضِ سلام سے
وہ دیکھ کر اترتے ہیں نقشے سے روشنی
تھی چودھویں کی رات یہ کامل وہ چاند تھا
دیتی تھی مات بدر کو چہرے سے روشنی
سینہ جو تابدار ہے نامِ نبی سے گر
پھر دے یہ یادِ مصطفیٰ سینے سے روشنی
محمود کر ارادہ تو شہرِ مدینہ کا
تم دیکھ لو گے شہر کے رستے سے روشنی

1
14
**مختصر توضیح (حوالہ جات کے ساتھ):**

یہ نعتِ رسول ﷺ مدینۂ منورہ اور حضور نبی اکرم ﷺ کے نورِ جمال کی ہمہ گیر روشنی کو بیان کرتی ہے۔ مدینہ کی ہر سمت روشنی حضور ﷺ کے روضۂ اقدس، چہرۂ انور اور ذکرِ مصطفیٰ ﷺ سے پھوٹتی ہے۔ آپ ﷺ کا حسن ایسا کامل ہے کہ بدر کے چاند کو بھی مات دے دے، اور جو دل نامِ نبی ﷺ سے روشن ہو جائے وہ ہمیشہ تاباں رہتا ہے۔ مدینہ کی طرف اخلاص سے سفر کرنے والا راستوں میں بھی نور کا مشاہدہ کرتا ہے۔

**حوالہ جات:**

* قرآن: *“قَدْ جَاءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُّبِينٌ”* (المائدہ: 15) — مفسرین کے نزدیک یہاں “نور” سے مراد حضور ﷺ بھی ہیں۔
* قرآن: *“إِنَّ اللّٰهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ”* (الأحزاب: 56) — حضور ﷺ پر دائمی درود و سلام۔
* حدیث: *“أَنَا دَعْوَةُ أَبِي إِبْرَاهِيمَ…*” (مسلم) — حضور ﷺ کی نورانیت و بعثت کا بیان۔

یہ کلام عشقِ رسول ﷺ اور مدینہ کی روحانی روشنی کا جامع اظہار ہے۔

0