| تاباں کرے جہاں کو مدینے سے روشنی |
| عکسِ جمالِ جان کے روضے سے روشنی |
| دائم صلاۃ آتے ہیں مولا سے آپ پر |
| آئے دلوں میں ذکرِ جاں سننے سے روشنی |
| منظر نظارے نور سے جس نے سجا دیے |
| آئی یہ حسنِ یار کے جلوے سے روشنی |
| نوری جو آئیں طیبہ عرضِ سلام سے |
| وہ دیکھ کر اترتے ہیں نقشے سے روشنی |
| تھی چودھویں کی رات یہ کامل وہ چاند تھا |
| دیتی تھی مات بدر کو چہرے سے روشنی |
| سینہ جو تابدار ہے نامِ نبی سے گر |
| پھر دے یہ یادِ مصطفیٰ سینے سے روشنی |
| محمود کر ارادہ تو شہرِ مدینہ کا |
| تم دیکھ لو گے شہر کے رستے سے روشنی |
معلومات