مدینے ہے گلشن حسیں پُر بہار
سدا گل فشانی کرے ذی وقار
یہاں ملتے بحشش کے پروانے ہیں
ہے دامانِ شیطاں یہاں تار تار
صنم ہر کدورت کے دل سے گئے
ملا خاک میں ظلمتوں کا وقار
غموں سے ہوا ہے پریشان جو
مدینے نے اس کو دیا ہے حصار
رہائی ہے اس جا زیاں کار کی
مدینہ نبی ہے سدا ساز گار
خوشی اس مدینے میں ہر آن ہے
کہاں ہے مدینے کوئی دل فگار
ہے محمود رحمت خدا کی یہاں
مدینہ ہے اُن کا بڑا شان دار

1
4

یہ نعت مدینہ منورہ کو **رحمت، مغفرت، سکونِ قلب اور نورِ نبوت کا مرکز** قرار دیتی ہے۔ شاعر کے مطابق مدینہ غم زدہ دلوں کی پناہ، گناہ گاروں کے لیے نجات اور ایمان والوں کے لیے دائمی خوشی کا سرچشمہ ہے، کیونکہ یہ شہر حضور نبی کریم ﷺ سے منسوب اور اللہ کی خاص رحمت کا مظہر ہے۔

0