حبیبی کہے جس کو رحمٰن ہے
تو یکتا خلق میں وہ ذیشان ہے
ملائک میں اُن کا ہے استاد جو
وہ تیرا شہا ایک دربان ہے
حسیں یاد تیری ہے تریاقِ جاں
لگے سینہ جیسے گلستان ہے
ملی شان تجھ کو انوکھی ملی
شہنشاہِ شاہاں تو سلطان ہے
دیا ہے سبق تو نے توحید کا
لیا جس نے دل سے مسلمان ہے
کریمی ہے اعزاز تکریمِ تو
اے داتا یہ دل تجھ پہ قربان ہے
ہے محمود رحمت نبی کا ورود
جو مومن پہ مولا سے احسان ہے

0
7