تُو ہی سوچ میری خیالوں میں تُو
ہے گردوں میں تیری ضیا چار سو
اے سلطانِ ہستی حبیبِ خدا
بنا نُور تیرا جہاں کی نمو
بڑی شان تیری عطا بے شمار
حبیبی ہے تیری مجھے جُستجو
حسیں نغمے تیرے ملائک میں ہیں
عُلیٰ ذکر تیرا کرے ذاتِ ہو
سخی میرے دلبر تو سرور شہا
تو ہی دھڑکنِ دل تو ہی آرزو
ہے یکتا خَلق میں تو ہی مصطفیٰ
نہیں اور تجھ سا نہیں یہ غلو
اے ہادی کرم تیرے محمود پر
تو چاحت ہے اس کی تو ہی آرزو
*کوتاہی کمزوری معاف
غرض مدحتِ سرکار ہے

1
9
Masha Allah

0