بسمل کی التجا ہے
مسکین پُر خطا ہے
کر دیں کرم کریمی
بے بس حزیں کھڑا ہے
دوری میں ہے پریشاں
اک آسرا ندا ہے
آقا نظر کرم کی
یہ عاجزی صدا ہے
لایا ہوں تار داماں
تو صاحبِ سخا ہے
مشکورِ کبریا ہوں
کوثر میں جو عطا ہے
تیری یہ دل ربائی
خود آپ بھی فدا ہے
گلشن سے مصطفیٰ کے
الطاف کی ہوا ہے
میری خبر بھی رکھنا
تو صاحبِ عطا ہے
در پر رکھیں حبیبی
محمود یہ دعا ہے

1
6
مجموعی فکری و روحانی تجزیہ
یہ نعت تین بڑے مضامین پر قائم ہے:
عاجزی و اعترافِ گناہ
“مسکین، پُر خطا، تار داماں” — صوفیانہ خود احتسابی۔
توسل و استغاثہ
“نظرِ کرم، آسرا، خبر رکھنا” — بارگاہِ رسالت ﷺ سے فریاد۔
مدح و محبوبیتِ مصطفیٰ ﷺ
“صاحبِ سخا، دل ربائی، گلشنِ مصطفیٰ” — جمال و جودِ نبوی ﷺ۔
ادبی محاسن
تکرارِ صفت: صاحبِ سخا، صاحبِ عطا
استعارہ: تار داماں، گلشنِ مصطفیٰ
صوفیانہ انداز: عاجزی + عشق + توسل
حسنِ تخلص: بسمل / محمود

0