کرم تیرے ساری خلق پر شہا
کریمی حبیبی رسولِ خدا
سہارا دیا تو نے لاچار کو
تو احسانِ یزداں تو مشکل کشا
سخی جانِ ہستی نبی جانِ ما
ہے لولاک تجھ کو خدا نے کہا
اے ہستی کے رہبر شہے دو سریٰ
تو سرکارِ من تو شفیع الوریٰ
ہیں شیر و شکر اب عدو تھے کبھی
خلق کو سبق یہ تمہی سے ملا
یہ شمس و قمر کہنہ تیرا سنیں
ہے کلمہ حجر کا نبی مصطفیٰ
ابر رحمتوں کے رواں تجھ سے ہیں
ثمر تیرے صدقے شجر نے دیا
اے محمود دیکھو ہریرہ سے جام
کہ لشکر کو سیراب اس نے کیا

1
5
مختصر خلاصہ
یہ نعت حضور ﷺ کی
رحمت
شفاعت
اخلاق
معجزات
اور امت پر احسانات
کو قرآنی اصولوں کے مطابق بیان کرتی ہے۔
جہاں عقیدے کا پہلو ہے وہ نصوص سے ثابت ہے، اور جہاں شاعرانہ مبالغہ ہے اسے
محبت و ادب کے دائرے میں رکھا گیا ہے۔

0