نبی میرے آقا ہیں دلدار ہیں
وہ ساقیِ کوثر ہیں مختار ہیں
یہ والیِ ہستی سخی دلربا
سدا حالِ دل سے خبر دار ہیں
سجائیں دہر کے مقدر بھی آپ
جو سلطانِ ہستی جو سرکار ہیں
صفِ انبیا کے بنے ہیں امام
حسیں سب رسولوں میں سالار ہیں
حبیبی سخی ہیں نبی مصطفیٰ
ملے جن کو مولا سے سنسار ہیں
ہیں جبریل خود اُن کے دربانوں میں
گہر بار رکھتے وہ دربار ہیں
نبی کے قدم سے چَھٹی ظلمتیں
فروزاں انہی سے یہ انوار ہیں
انیسِ غریباں نبی مصطفیٰ
بڑے اعلیٰ دلبر کے کردار ہیں
ہیں بہرِ شفاعت نبی شاہِ دیں
جو محشر میں بھی کل مدد گار ہیں
درِ مصطفیٰ ہے دلی آرزو
کہاں میرے دیگر سروکار ہیں
عجب ہے سخائے نبی کا جہاں
جسے مانگنے والے درکار ہیں
نظر ہو کریمی عطا کی نظر
کرم تیرے کے ہم طلب گار ہیں
اے محمود اُن سے انہیں مانگ لے
جہانِ عطا کے وہ سردار ہیں

1
4
ماشاءاللہ

0