جو اُن سے کرم کے اشارے ہوئے
منور ہیں سارے نظارے ہوئے
ہیں ذرے فروزاں اسی نور سے
اڑے جو فضا میں ستارے ہوئے
عطائے نبی نے بھری جھولیاں
غموں کے سمندر کنارے ہوئے
بھنور موج میں تھے ملا ہے سکوت
مُمِد جو پیا کے سہارے ہوئے
یہ امت کو قدرت کے انعام ہیں
لگے غیر تھے جو پیارے ہوئے
دہر کو نبی سے ملا فیض جب
درخشاں مقدر کے تارے ہوئے
ہے محمود بردہ سخی آل کا
انوکھے نرالے جو سارے ہوئے

2
15
Masha Allah

0
Masha Allah

0