منظر مدینہ تھا جب وہ لمحہ یاد ہے
وہ جالیاں سنہری وہ روضہ یاد ہے
ادراک میں بسی ہے مسجد حبیب کی
وہ گلیاں نور والی وہ نقشہ یاد ہے
مسجد نبی میں مغرب نورانیاں وہاں
اپنا قیامِ مسجد وہ سجدہ یاد ہے
تعریف خُلقِ جاں کی قرآں بیاں کرے
دنیا کو فتحِ مکہ کا قصہ یاد ہے
جبریل کی یہ آنکھیں قدموں کو آ لگیں
وہ تلوہ یا نبی جی وہ بوسہ یاد ہے
قصرِ دنیٰ میں محفل قوسین سے سجی
اُن سے یہ اُدنُ مولا کا کہنہ یاد ہے
محمود درجے اُن کے جانے نہ خلق نے
راضی خدا کرے گا وہ وعدہ یاد ہے

2
11
ماشاءاللہ

0
Jazak Allah Khair 🌹

0