چلو مے کشو ہم مدینہ چلیں گے
کہ ساغر سکر کے اسی جا بھریں گے
پلائیں گے توحید کے جام ساقی
زمانے میں مستی سے ہم بھی جئیں گے
بڑی دور لاگے مدینہ نبی کا
بلاوا جو آئے تُرت پھر چلیں گے
بلائیں گے آقا غلاموں کو در پر
کرم عاجزوں پر سخی یہ کریں گے
ہوں آسان راہیں جو جائیں مدینہ
مدینہ کے راہی مجھے گر ملیں گے
نبی کی گلی میں ملے پھر بسیرا
فرشتوں سے اُن کی ثنا بھی سنیں گے
اترتے ہیں بارانِ رحمت مدینے
خطا والے نامے انہی میں دھلیں گے
کریمی یہ محمود آئے مدینہ
حضوری کے لمحے مجھے کب ملیں گے

9