دونوں جہاں میں رونق سرکار کے کرم ہیں |
داتا ہیں جو عطا کے اور صاحبِ حِلم ہیں |
تصویرِ دو سریٰ میں ہیں رنگ دل ربا سے |
بعد از خدا ہیں اعلیٰ وہ سب سے محترم ہیں |
چاحت میں عرشِ رب تھا جو بے کلی سے ہمدم |
خوشیوں میں جس نے بدلی سرکار کے قدم ہیں |
لپٹی ہے رحمتوں میں کونین ہر کراں تک |
دیکھیں وجودِ ہستی اس کو ملے جو دم ہیں |
آقا حبیبِ رب ہیں خلقِ خدا کے محسن |
ہر آن خیر بانٹیں اونچے سدا عَلم ہیں |
رحمت ہیں وہ خدا کی ہر آن ہر زماں میں |
بھاگے ورودِ جاں سے دارین کے ستم ہیں |
وہ جانتے ہیں ہر دم حالات میرے دل کے |
رہتے ہیں ساتھ اُن کے دلبر کے جن کو غم ہیں |
محمود جن سے بحشش دارین میں ہے ملتی |
اُن کو ملے خدا سے تقدیر کے قلم ہیں |
معلومات