خوشیاں ہیں آج آئے، شاہِ زمان ہیں
جن کے لئے مزین، پورے جہان ہیں
بی آمنہ کے جائے دائی حلیمہ ہیں
جن کی خبر میں تھا یہ، آقا مہان ہیں
حسن و حسین اُن کے، بی بی بتول بھی
مولا علی جو بیتِ اطہر میں خان ہیں
کونین کے ہیں سلطاں کوثر ملی انہیں
لو لاک شان اُن کی، ہستی میں جان ہیں
کون و مکاں ہیں اُن کے، دونوں جہان بھی
قرآں میں درجے اُن کے، کچھ کچھ بیان ہیں
اُن کے لئے سجے یوں، کونین کے کراں
اُن پر فدا جہاں میں، پیر و جوان ہیں
نبیوں کے سب سمائے، ہادی میں معجزات
کل انبیا میں رکھتے وہ، آن بان ہیں
لیتے ہیں فیض اُن سے، بے جان تک تمام
اُن کی عطا عوامی، وہ مہربان ہیں
کھاری کنویں ہیں شیریں، جن کے لعاب سے
محبوبِ حق کریمی، کے اعلیٰ دان ہیں
پہچان مصطفیٰ کی، ہجر و شجر کو ہے
لیتے چرند تک بھی، اُن سے امان ہیں
محمود! اُن سے نوری گردوں میں رونقیں
یعنی حبیبِ رب کی، خاطر جہان ہیں

0
1