مقدر اُنہی کو نیارے ملے
جنہیں مصطفیٰ ہیں سہارے ملے
جو عشقِ نبی سے سجے داماں ہیں
عجب پیارے ان کو ستارے ملے
وہ طوفانوں میں سارے محفوظ ہیں
جنہیں مصطفیٰ سے اشارے ملے
ہے تحفہ ملا فیضِ دلدار سے
تلاطم میں یوں جو کنارے ملے
کرم سے خدا کے ملے جانِ ما
یہ محبوب رب سے ہمارے ملے
جنہیں یادِ جاں سے رہی دل لگی
خوشی کے انہیں خوب دھارے ملے
گراں فیضِ یزداں انہیں مل گیا
مدینہ کے جن کو نظارے ملے
فدائے نبی ہیں جو محمود سن
حبیبِ خدا ان کو پیارے ملے

1
9

یہ نعتِ شریف مجموعی طور پر **عشقِ مصطفیٰ ﷺ کو نجات، تحفظ اور سعادتِ دارین کا واحد سرچشمہ** قرار دیتی ہے۔ شاعر کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ انسان کی قسمت، اس کی روحانی سلامتی اور اس کے باطنی سکون کا دار و مدار رسولِ اکرم ﷺ سے وابستگی پر ہے۔
نعت میں یہ تصور واضح کیا گیا ہے کہ
* جن لوگوں کو حضور ﷺ کی محبت اور سہارا نصیب ہو، وہی حقیقی طور پر خوش نصیب ہیں۔
* عشقِ نبی ﷺ محض جذباتی کیفیت نہیں بلکہ ایک ایسی قوت ہے جو طوفانوں، تلاطم اور آزمائشوں میں بھی بندے کو محفوظ رکھتی ہے۔
* حضور ﷺ کی نسبت سے ملنے والا فیض، خدا کے خاص کرم کا مظہر ہے، کیونکہ نبی ﷺ خود محبوبِ رب ہیں۔
* مدینہ کے نظارے دراصل اعلیٰ روحانی فیض کی علامت ہیں، جو منتخب اور خوش نصیب لوگوں کو عطا ہوتا ہے۔
اختتام میں شاعر اپنی ذات (محمود) کو بھی اسی عشق کے دائرے میں رکھ کر یہ اعلان کرتا ہے کہ **فدائیتِ نبی ﷺ ہی قربِ رسول اور محبتِ الٰہی کا ذریعہ ہے**۔
مختصراً، یہ نعت عشقِ رسول ﷺ کو تقدیر سنوارنے، ایمان بچانے اور خدا کے قرب تک پہنچنے کا بنیادی وسیلہ ثابت کرتی ہے، اور اسی عقیدے کو فکری اور ایمانی استحکام کے ساتھ پیش کرتی ہے۔

0