| مقدر اُنہی کو نیارے ملے |
| جنہیں مصطفیٰ ہیں سہارے ملے |
| جو عشقِ نبی سے سجے داماں ہیں |
| عجب پیارے ان کو ستارے ملے |
| وہ طوفانوں میں سارے محفوظ ہیں |
| جنہیں مصطفیٰ سے اشارے ملے |
| ہے تحفہ ملا فیضِ دلدار سے |
| تلاطم میں یوں جو کنارے ملے |
| کرم سے خدا کے ملے جانِ ما |
| یہ محبوب رب سے ہمارے ملے |
| جنہیں یادِ جاں سے رہی دل لگی |
| خوشی کے انہیں خوب دھارے ملے |
| گراں فیضِ یزداں انہیں مل گیا |
| مدینہ کے جن کو نظارے ملے |
| فدائے نبی ہیں جو محمود سن |
| حبیبِ خدا ان کو پیارے ملے |
معلومات