| جمالِ جہانِ حسن مصطفیٰ ہیں |
| چمن کی ہیں زینت دلوں کی ضیا ہیں |
| حبیبِ خدا نے سجایا جہاں کو |
| کیا خوب تاباں زمان و مکاں کو |
| سدا کام آئیں غریبوں کے آقا |
| امیروں فقیروں گداؤں کے داتا |
| غلاموں کو اُن سے ملی راحتیں سب |
| مساکیں سے دوری پہ ہیں مشکلیں سب |
| بنے خستہ دل کے نبی جی سہارے |
| یہ بیکس کے ماویٰ حبیبی ہمارے |
| جو ذاتِ نبی سے زماں پُر سکوں ہیں |
| دلیلِ جمالِ جہاں شاہِ دیں ہیں |
| قدم مصطفیٰ کے اماں ہیں دہر میں |
| ہیں رکھتے جہاں کو کرم کی نظر میں |
| ورودِ نبی سے رواں ظلمتیں ہیں |
| دعاؤں میں اُن سے بڑی برکتیں ہیں |
| فروزاں اُنہی سے زمان و مکاں ہیں |
| درخشاں انہی سے ہوئے کل جہاں ہیں |
| فقیروں کو چاہیں وہ سلطاں بنائیں |
| کریں دور ہادی وبائیں بلائیں |
| ہیں محمود اُن سے منور فضائیں |
| معطر ہیں آتی اُنہی سے ہوائیں |
معلومات