ہے خوب ملا جن سے ہستی کو گھنا سایہ
وہ جانِ دو عالم ہیں رحمت ہے لقب پایا
کرتے ہیں سخی آقا امداد غریبوں کی
ہے فیض جو دلبر سے غیروں کے بھی کام آیا
سرکار نبی سرور غم کھاتے ہیں ہر کس کے
انعام سے ہادی کے جھولی میں ہو سرمایا
ملجا ہیں فقیروں کے لاچار کے ماویٰ ہیں
دیں اُس کو دلاسہ یہ مشکل میں جو گھبرایا
یہ سن لو خطا کارو بخشش ہے مدینے میں
ہر آن فدا اُن کا باطل سے ہے ٹکرایا
کونین میں شفقت ہے جس یار کے قدموں سے
سرکار وہ رحمت ہیں قرآن نے فرمایا
ڈنکے سے کھرا پرکھے قانون شریعت کا
محمود ہے قرآں جو مختار سے ہے آیا

1
5
اس نعت شریف کا مرکزی مضمون حضور نبی کریم ﷺ کی ہمہ گیر رحمت، شفقت، سخاوت اور شفاعت کو بیان کرتا ہے۔ اشعار میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ آپ ﷺ تمام جہانوں کے لیے رحمت ہیں اور انسانیت کو آپ کی ذاتِ اقدس سے روحانی سایہ اور سکون ملا۔ آپ ﷺ غریبوں، محتاجوں اور لاچاروں کے مددگار ہیں، اور آپ کا فیض صرف مسلمانوں ہی نہیں بلکہ سب انسانوں تک پہنچتا ہے۔

نعت میں حضور ﷺ کی امت کے دکھ درد میں شمولیت، ان کی دلجوئی، اور مشکل وقت میں سہارا بننے کی صفت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ مدینہ منورہ کو مغفرت اور بخشش کی امید کا مرکز بتایا گیا ہے، جبکہ باطل کے خلاف حضور ﷺ کی جدوجہد کو بھی خراجِ عقیدت پیش کیا گیا ہے۔

آخر میں قرآن کی روشنی میں آپ ﷺ کو “رحمت للعالمین” قرار دے کر اس عقیدے کی تصدیق کی گئی ہے، اور یہ بیان کیا گیا ہے کہ شریعت کا قانون اور ہدایتِ قرآنی آپ ﷺ کے ذریعے ہی امت تک پہنچی۔

0