رب کا حبیب پیارا آقا نبی ہمارا
دارین کا ہے داتا کونین کا سہارا
اس دشتِ میں پنپنا آسان ہو گیا پھر
دلدار کے کرم نے سارے غموں کو مارا
مایوس جب کیا ہے دنیا میں مشکلوں نے
سرکار مصطفیٰ سے کامل ملا ہے چارہ
درماں دکھوں میں کامل سرکار کی عطا ہے
بوسیدہ ناؤ کو ہے در مصطفیٰ کنارا
دانِ نبی سے پھیلا توحید کا اُجالا
اذہانِ خلقِ رب کو ہادی نے یوں نکھارا
دشمن ہیں میرے پکے شیطان و نفس یارو
الطافِ مصطفائی عمدہ بنے ہیں یارا
محمود حسُنِ ہستی عکسِ جمال اُن کا
جن سے وجودِ عالم ہے شادمان سارا

2