ہو ذکرِ نبی سے مزین زباں
سجیں گے مقدر جہاں در جہاں
درودِ نبی سے منور ہیں دل
اسی سے فروزاں زمیں آسماں
وہ محبوبِ داور تھے قوسین میں
سرِ لا مکاں کی ہے جو داستاں
ہیں اولیٰ خلق میں نبی آخری
جہاں عرشِ اعظم گئے وہ وہاں
قدم اُس حسیں کے سرِ عرش تھے
ملیں اُس جہاں میں انہیں کے نشاں
وہ لولاک، کوثر، دنیٰ، والے ہیں
رکھے جن کے اوصاف رب نے نہاں
ہیں محمود ہادی جمیلِ دہر
انہیں سے مکاں سب ہوئے ضوفشاں

0
3