| سرکار مصطفیٰ جو جانِ سرور ہیں |
| مقصودِ کن فکاں ہیں آقا حضور ہیں |
| سب اُن سے زندگی کے روشن اصول ہیں |
| الطافِ کبریا کے اُن سے ظہور ہیں |
| جن سے رواں زماں ہیں وہ جانِ دو سریٰ |
| دلدارِ کبریا ہیں مولا کے نور ہیں |
| کروبیاں مدینے آتے ادب سے ہیں |
| جن و بشر کے دلبر ہادی ضرور ہیں |
| قائم رکھو نبی سے اپنی محبتیں |
| منزل کٹھن کو مومن کرتے عبور ہیں |
| درجہ کمال دیکھیں صبرِ حسین میں |
| صحنِ نبی میں جن کے پنپے شعور ہیں |
| مختار کے چمن میں آقا سے ہے مہک |
| آلِؑ نبیؐ کے نامے عیبوں سے دور ہیں |
| محمود دے گواہی نوری مدینہ یوں |
| منظر نظارے روضہ کے بُقْعَہ نور ہیں |
معلومات