محبت کی یہ منشا ہے عیاں جو اس بیاں میں ہے
ہے مدحت مصطفیٰ کی جو وہ جاری ہر زماں میں ہے
شریعت سوچیں گرمائے ہوں سنت پر عمل سارے
یہی پہچانِ اُمت ہے یہی دین و اماں میں ہے
حسیں منزل مدینہ ہے سدا یادیں سجیں اس سے
روانی اس سے باتوں میں یہ ہی ہر داستاں میں ہے
نہ مانگوں تاج و زر مولا نہ شہرت کی تمنا کی
جُڑا ناتا نبی سے جو وہ چاہوں ہر جہاں میں ہے
خُلق سرکار سے آئے سدا اخلاق میں میرے
جو یادیں زینتِ دل ہیں ذکر اُن کا سماں میں ہے
دعا ہے میرے مولا سے رہے عشقِ نبی دل میں
رہے اُن کے غلاموں میں یہ بندہ جس مکاں میں ہے
نہ لفظوں پر ہے نازاں یہ گھمنڈ اس کے نہیں دل میں
کرم محمود پر مولا یہ لرزے امتحاں میں ہے

7