مُخیّر دہر میں حبیبِ خدا ہے
نبی جانِ جاناں نبی جانِ ما ہے
گراں فیض والا ہے اُن کا گھرانہ
سخی آپ جیسا نہ پیدا ہوا ہے
سجایا خدا نے ہے اخلاق اُن کا
یوں منبع سخا کا شہے انبیا ہے
جہاں میں فروزاں مدینہ نبی کا
منور جو اس میں درِ دلربا ہے
ہیں الطاف اُن کے عوامی جہاں میں
جہاں کھائے جس سے انہی کی عطا ہے
ہے شاہی سے بہتر گدائی نبی کی
جو دیتے ہیں دلبر عطائے خدا ہے
درودِ خدا ہے سدا مصطفیٰ پر
ازل سے ابد تک یہ ہی سلسلہ ہے
اے محمود بھرتے ہیں جھولی نبی جی
زمانہ درِ دلربا کا گدا ہے

1
3
یہ نعتیہ کلام حضور نبی اکرم ﷺ کی **محبوبیتِ الٰہی، اخلاقِ عظیم، سخاوت، فیض رسانی، اور درِ مصطفیٰ ﷺ کی روحانی عظمت** کو بیان کرتا ہے۔

**مختصر مگر جامع خلاصہ:**
* حضور ﷺ کو اللہ کا سب سے برگزیدہ محبوب اور کائنات کی جان قرار دیا گیا ہے۔
* آپ ﷺ کے گھرانے (اہلِ بیت) کو فیض و برکت کا سرچشمہ بتایا گیا ہے۔
* آپ ﷺ کے اخلاق کو اللہ کی طرف سے مزین اور آپ کو سخاوت کا منبع کہا گیا ہے۔
* مدینہ منورہ اور درِ نبوی ﷺ کو نور و تجلی کا مرکز بیان کیا گیا ہے۔
* دنیا میں جو بھی عطائیں اور فیوض ملتے ہیں، انہیں فیضِ نبوی کا صدقہ کہا گیا ہے۔
* نبی ﷺ کی غلامی کو دنیاوی بادشاہی سے بہتر قرار دیا گیا ہے۔
* ازل تا ابد حضور ﷺ پر درود کا جاری رہنا بیان ہوا ہے۔
* آخر میں شاعر خود کو اور ساری دنیا کو درِ مصطفیٰ ﷺ کا محتاج و گدا قرار دیتا ہے۔

**مرکزی مضامین:**
محبوبیتِ رسول ﷺ، فیضِ نبوی، اخلاقِ مصطفوی، نورانیتِ مدینہ، غلامیِ رسول ﷺ، اور دوامِ درود۔

0