شہنشاہِ ذیشاں شہے دو سریٰ ہیں
انیسِ غریباں شہے دو سریٰ ہیں
طفیلِ نبی ہے مرورِ زمانہ
جہاں جن سے دوراں شہے دو سریٰ ہیں
ہیں لگتے جہاں سب مدینے سے روشن
نبی نورِ رحماں شہے دو سریٰ ہیں
ملا طیبہ سے بصیرت کو سرمہ
دیا جس نے قرآں شہے دو سریٰ ہیں
ضمیرِ دہر ہے مدینے سے زندہ
ہوا جن سے تاباں شہے دو سریٰ ہیں
ہے باندی سہولت درِ مصطفیٰ کی
ملے جن سے درماں شہے دو سریٰ ہیں
قدم میں نبی کے زیاں کار آئیں
کریں گے جو ساماں شہے دو سریٰ ہیں
رواں نبضِ ہستی حبیبِ خدا سے
جہانوں کے دل جاں شہے دو سریٰ ہیں
اے محمود رشکِ ارم ہے مدینہ
مدارت کے سلطاں شہے دو سریٰ ہیں

5