دہر جن سے تاباں مدینے میں ہیں
شفاعت کے سلطاں مدینے میں ہیں
ہیں دلدارِ ہستی حبیبِ خدا
جہاں جن پہ نازاں مدینے میں ہیں
غریبِ وطن ایک مجبور میں
جنم جن پہ قرباں مدینے میں ہیں
چلیں ساتھ میرے زیاں کار سب
کہ بخشش کے ساماں مدینے میں ہیں
مدینے سے روشن ضمیرِ جہاں
جو ناطق ہیں قرآں مدینے میں ہیں
یہاں پر ملے گی بصیرت تمہیں
سعادت کے ساماں مدینے میں ہیں
یہ جن سے مزین لگے کائنات
حبیبی وہ دل جاں مدینے میں ہیں
فروزاں ہیں جن سے زمان و مکاں
وہ مومن پہ احساں مدینے میں ہیں
فرشتے ہیں جن کی غلامی میں شاد
وہی نورِ رحمٰں مدینے میں ہیں
چلیں خیر لینے مدینہ چلیں
شہنشاہِ دوراں مدینے میں ہیں
زیاں تیرے محمود دھل جائیں گے
کہ رحمت کے باراں مدینے میں ہیں

1
5
خلاصۂ نعت
یہ نعت سراپا عقیدت مدینۂ منورہ کو نور، رحمت اور ابدی سعادت کا گلشن قرار دیتی ہے، جہاں حضور نبی کریم ﷺ جلوہ افروز ہیں۔ آپ ﷺ شفاعت کے سلطان ہیں ، قرآنِ ناطق، اور کائنات کی رونق ہیں۔ مدینہ گناہگار دلوں کے لیے بخشش کی بارش، روحوں کے لیے بصیرت، اور مومنوں کے لیے نجات و اطمینان کا مرکز ہے، جہاں حاضری سے محرومیاں مٹتی اور رحمتِ الٰہی کی خوشبو ہر سمت بکھر جاتی ہے۔

0