| دہر جن سے تاباں مدینے میں ہیں |
| شفاعت کے سلطاں مدینے میں ہیں |
| ہیں دلدارِ ہستی حبیبِ خدا |
| جہاں جن پہ نازاں مدینے میں ہیں |
| غریبِ وطن ایک مجبور میں |
| جنم جن پہ قرباں مدینے میں ہیں |
| چلیں ساتھ میرے زیاں کار سب |
| کہ بخشش کے ساماں مدینے میں ہیں |
| مدینے سے روشن ضمیرِ جہاں |
| جو ناطق ہیں قرآں مدینے میں ہیں |
| یہاں پر ملے گی بصیرت تمہیں |
| سعادت کے ساماں مدینے میں ہیں |
| یہ جن سے مزین لگے کائنات |
| حبیبی وہ دل جاں مدینے میں ہیں |
| فروزاں ہیں جن سے زمان و مکاں |
| وہ مومن پہ احساں مدینے میں ہیں |
| فرشتے ہیں جن کی غلامی میں شاد |
| وہی نورِ رحمٰں مدینے میں ہیں |
| چلیں خیر لینے مدینہ چلیں |
| شہنشاہِ دوراں مدینے میں ہیں |
| زیاں تیرے محمود دھل جائیں گے |
| کہ رحمت کے باراں مدینے میں ہیں |
معلومات