عقیدت کے لئے گجرے شہے سلطان آیا ہوں |
مگر غوطے کریمی میں لَہْو میں خوب کھایا ہوں |
اٹھائے بوجھ ہیں بھاری ہوں شرمندہ خطا کاری |
کرم کی آرزو لے کر خطائیں ساتھ لایا ہوں |
میں حیراں ہوں میں ناداں ہوں میں لغزش سے پریشاں ہوں |
خلاصی ہو سخی سرور غموں کا میں ستایا ہوں |
درِ افضال وا کر دیں حبیبی یا رسول اللہ |
نگاہِ کرم ہو داتا زمانے کا رلایا ہوں |
کمالِ لطف سے ہادی کریں آساں کٹھن راہیں |
قدم ہیں میرے لرزیدہ میں عصیاں کا دبایا ہوں |
میں راندہ ہوں زمانے کا خلق نے بھی ہے ٹھکرایا |
سوالی ہوں سخی در کا گو بھولوں کا میں مایہ ہوں |
کرم محمود پر کر دیں نہ جانے کب قضا آئے |
چراغِ سحر لگتا ہوں میں ڈھلتا ایک سایہ ہوں |
۔ |
معلومات