عقیدت کے لئے گجرے شہے سلطان آیا ہوں
مگر غوطے کریمی میں لَہْو میں خوب کھایا ہوں
اٹھائے بوجھ ہیں بھاری ہوں شرمندہ خطا کاری
کرم کی آرزو لے کر خطائیں ساتھ لایا ہوں
میں حیراں ہوں میں ناداں ہوں میں لغزش سے پریشاں ہوں
خلاصی ہو سخی سرور غموں کا میں ستایا ہوں
درِ افضال وا کر دیں حبیبی یا رسول اللہ
نگاہِ کرم ہو داتا زمانے کا رلایا ہوں
کمالِ لطف سے ہادی کریں آساں کٹھن راہیں
قدم ہیں میرے لرزیدہ میں عصیاں کا دبایا ہوں
میں راندہ ہوں زمانے کا خلق نے بھی ہے ٹھکرایا
سوالی ہوں سخی در کا گو بھولوں کا میں مایہ ہوں
کرم محمود پر کر دیں نہ جانے کب قضا آئے
چراغِ سحر لگتا ہوں میں ڈھلتا ایک سایہ ہوں
۔

0
8