آرام و راحتِ جاں الفت حضور کی
کرتے ہیں جن و انساں مدحت حضور کی
سدرہ نواز کر وہ عرشِ بریں پہ ہیں
کیسے دکھائے مولا عظمت حضور کی
منظر نظارے اُن کا عکسِ جمال ہیں
واحد خدا نے دیکھی صورت حضور کی
کروبیاں ہیں در پر دیدار کے لئے
بھاتی ہے نوریوں کو خلعت حضور کی
انوار سے فروزاں سرکار کا ہے گھر
باغِ کریم میں ہے نکہت حضور کی
ساری یہ برکتیں ہیں سرکارِ پاک سے
جنت کو جائے گی یہ امت حضور کی
محمود طیبہ میں مدفن اگر ملے
ملتی سدا رہے گی رحمت حضور کی

1
6
خلاصہ
یہ کلام سراسر:
عشقِ رسول ﷺ
تعظیمِ مصطفیٰ ﷺ
عقیدۂ معراج
عقیدۂ شفاعت
فضیلتِ اہلِ بیتؑ
نورانیتِ مصطفیٰ ﷺ
پر مبنی ہے۔
یہ اشعار غلو نہیں بلکہ وہی محبت ہیں جس کا حکم حدیث میں ہے:
“تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اس کے ماں باپ، اولاد اور سب لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں” (صحیح بخاری)

0