| آرام و راحتِ جاں الفت حضور کی |
| کرتے ہیں جن و انساں مدحت حضور کی |
| سدرہ نواز کر وہ عرشِ بریں پہ ہیں |
| کیسے دکھائے مولا عظمت حضور کی |
| منظر نظارے اُن کا عکسِ جمال ہیں |
| واحد خدا نے دیکھی صورت حضور کی |
| کروبیاں ہیں در پر دیدار کے لئے |
| بھاتی ہے نوریوں کو خلعت حضور کی |
| انوار سے فروزاں سرکار کا ہے گھر |
| باغِ کریم میں ہے نکہت حضور کی |
| ساری یہ برکتیں ہیں سرکارِ پاک سے |
| جنت کو جائے گی یہ امت حضور کی |
| محمود طیبہ میں مدفن اگر ملے |
| ملتی سدا رہے گی رحمت حضور کی |
معلومات