جو من میں آرزو ہے کیسے عیاں کروں |
افشاں یہ راز سینہ یارو کہاں کروں |
کچھ حالِ من ہے کہنا اپنے حبیب سے |
کیسے بیاں میں اُن سے یہ داستاں کروں |
وہ جانتے ہیں سارے حالات میرے دل |
پوچھیں اگر حبیبی وردِ زباں کروں |
نامہ سیاہ میرا بھولیں ہزار ہیں |
چاہوں عیاں نہ اُن پر اپنے زیاں کروں |
آقا کریم میرے سرکار مصطفیٰ |
صدقے میں جن کے ہمدم اچھے گماں کروں |
ہادی حبیبِ ہستی رب کے لبیب ہیں |
دربار میں نہ اُن کے ایسی فغاں کروں |
اللہ کریم میرے پردے رہیں سدا |
مولا بیاں نہ اپنے رازِ نہاں کروں |
بارِ دگر خدایا دیکھوں دیارِ یار |
یہ حوصلے میں قادر پھر سے جواں کروں |
معلومات