جو من میں آرزو ہے کیسے عیاں کروں
افشاں یہ راز سینہ یارو کہاں کروں
کچھ حالِ من ہے کہنا اپنے حبیب سے
کیسے بیاں میں اُن سے یہ داستاں کروں
وہ جانتے ہیں سارے حالات میرے دل
پوچھیں اگر حبیبی وردِ زباں کروں
نامہ سیاہ میرا بھولیں ہزار ہیں
چاہوں عیاں نہ اُن پر اپنے زیاں کروں
آقا کریم میرے سرکار مصطفیٰ
صدقے میں جن کے ہمدم اچھے گماں کروں
ہادی حبیبِ ہستی رب کے لبیب ہیں
دربار میں نہ اُن کے ایسی فغاں کروں
اللہ کریم میرے پردے رہیں سدا
مولا بیاں نہ اپنے رازِ نہاں کروں
بارِ دگر خدایا دیکھوں دیارِ یار
یہ حوصلے میں قادر پھر سے جواں کروں

3
17
انشا اللّہ

0
Mashallah

0
Masha Allah

0