جو چرچے نبی کے فلک پر ہوئے
قصیدے ملائک نے اُن کے پڑھے
سجی ایک مجلس تھی میثاق کی
نبی میر مجلس کے دلدار تھے
صفِ انبیا کے نبی ہیں امام
پیمبر رسولوں کو دلبر لگے
مدینے سے آئی ہوا پُر فضا
سلاموں کے گجرے لبوں پر سجے
فضا ہے مدینے میں خوشبو بھری
گلوں کو نبی جی معطر لگے
جہاں ہے ثنائے نبی میں لگا
ذکر مصطفیٰ کا خدا خود کرے
درودِ نبی ہے دلوں کی ضیا
ہے مسرور کرتا پڑھے جو سنے
ہیں زینت جہاں کی یہ سلطانِ دیں
کرم سے سخی کے یہ گردوں چلے
ہیں محبوبِ ہستی حبیبِ خدا
ہے توصیف اُن کی جو قرآں کرے
ہیں محمود ہادی لبیبِ خدا
یہ دارین خاطر انہی کے سجے

0
3