معزز صارفین،

یہاں پرکمنٹس میں آپ اس سائٹ کے بارے میں ہمیں اپنے مشوروں سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ 



109
1358
سلام،
ذیشان صاحب، لفظ "دَرَس" بمعنی درشن یا دیدار ، یہ اصلاح کے وقت میں صرف فعل کے وزن میں آ رہا ہے مگر فعَل کے وزن میں نہیں، براہِ کرم اسے فعَل کے وزن میں بھی شامل کر دیں، شکریہ

سلام محترم ذیشان صاحب، لفظ "شاہکار" کی تقطیع کو لغت میں شامل کر دیجئے، شکریہ

علاوہ ازیں لفظ "ہمسائگی" کو بھی لفظ کی تقطیع میں شامل فرما لیجئے، شکریہ

مزید برآں، لفظ "گُمرہی" کو بھی شاملِ لغت کرنے کی درخواست ہے، شکریہ

@Hatim شکریہ۔ ان الفاط کو شامل کر دیا ہے۔ :)

نوازش۔۔۔
آپ لفظ "سبھاؤ" اور "رکھاؤ" کی تقطیع کو چیک کیجئے، میرے تئیں ان میں اصلاح درکار ہے، شکریہ

اسلام علیکم

میں بہت شکر گزار ہوں، سید زیشان صاحب اور تمام منتظمین کا انکی کاوشیں نہ صرف لائکِ تعریف ہے بلکہ روز مرہ زندگی میں جزِ تزکرہ بھی ہے۔ اس سائٹ مجھے جو امداد حاصل ہے میں اسکے لئے حد درجہ مشکور ہوں اور تمام عمر اسکی حفاظت و کفالت پہلوں زن رہنے کوشش کروں گا اور جس درجے امداد ہو سکے گی کرتا رہوں گا۔۔۔۔ جناب سید زیشان صاحب میرا ایک مشورہ ہیں ہمارے درمیان کئی معزز سجنور ہیں، ان میں کچھ عالی جناب کو استاد مکرر کیا جاۓ۔ تاکہ ہم نۓ افراد جو کہ اردو کی مجلسوں میں نہیں وہ سکے، اس زریعۓ فیز حاصل کر سکے۔



اسلام علیکم

وعلیکم السلام،

آپ کا بہت شکریہ @Masroof اس مشورے کے لئے۔
یہاں پر محترم آسی صاحب @yaqubassy موجود ہیں جو کہ استاد ہیں اور انہوں نے ایک سلسلہ شروع کیا ہے جس کو وہ پیش بھی کر رہے ہیں۔ امید ہے اس سے ہم سب سیکھتے رہیں گے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ آسی صاحب اس سلسلے میں تعاون فرمائیں گے۔

جی مینے دیکھا شکریہ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
سید ذیشان صاحب
آپ کی کاوشیں قابلِ صد تبریک ہیں
مجھے یہ مسئلہ درپیش ہے کہ یہاں میرا ایک کلام تو شائع ہوگیا لیکن دوسرا کلام شائع نہیں ہورہا
اس کا حل ارشاد فرمائیں

آپ اشاعت پر کلک کر کے شائع کر رہے ہیں یا پھر تقطیع کے نتیجے میں نمودار والے بٹن کے ذریعے؟ یہ نوٹ فرمائیں کہ دونوں طریقوں سے شائع کرنے کے لئے لاگ ان کرنا ضروری ہے۔

جناب بہت بہت شکریہ
میرا مسئلہ حل ہو گیا
جزاکم اللہ خیرا کثیرا فی الدارین

جناب سید ذیشان صاحب

میرے ساتھ یہ مسئلہ ہے کہ دو دن سے
اصلاح دکھائیں کا بٹن دبانے کے بعد
انتظار فرمائیں ہی نظر آتا ہے
اصلاح دکھائی نہیں دیتی
براہ کرم اس مسئلے کا حل فرمائیں
جزاکم اللہ

آپ اپنے براوزر کے کیشے کو کلیئر کر کے دیکھیں۔ اس سے شائد مسئلہ درست ہو جائے۔

جناب سید ذیشان اصغر صاحب
میرا مسئلہ حل نہیں ہوَا
براؤزر والی ایپ دوبارہ انسٹال کی
مگر پرابلم برقرار ہے اصلاح نہیں دکھائی جاتی

کونسا براوزر استعمال کرتے ہیں؟ گوگل کروم کا نیا ورژن ٹرائی کریں۔

جناب سید ذیشان صاحب
جزاکم اللہ خیرا کثیرا فی الدارین
میرا مسئلہ حل ہوگیا دراصل کلام میں
ایک نام بطور ردیف تھا جس پر بین ہے
اس لیے نہیں کھل رہا ہے باقی کلام چیک کئے
سب ٹھیک ہے
آپ کی راہنمائی کا شکریہ

ہم نے کسی نام پر بین نہیں لگایا۔ یہ کوئی بگ ہو سکتا ہے۔ آپ ہمیں بتائیں تاکہ اس کی مزید تحقیق کی جائے۔

خادم حسین
نام تھا آپ نے تو ظاہر ہے بین نہیں لگایا
لیکن فیسبک وغیرہ پر چونکہ تحریک لبیک کے
حوالے سے بین ہے یہ نام لکھنے سے آئی ڈی بلاک بھی ہوجاتی ہے
اس ردیف والا کلام دوسرے موبائل فون سے
بھی تقطیع کے لئے داخل کرتا تھا
ایک دوبار کھل جاتا پھر وہی پرابلم ہوتی
جب کہ دوسرے کلام آسانی سے کھل جاتے ہیں
اس لیے مجھے تو یہی لگا کہ یہ گوگل کی طرف سے بین ہے تو یہ مسئلہ آرہا ہے
میں وہ کلام بھی آپ کو سینڈ کرتا ہوں
آپ کے توجہ فرمانے کا بہت شکریہ
اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین

وہ کلام یہ ہے

جو اٹھا اور چھاگیا وہ خادم حسین
کفر کو لرزا گیا وہ خادم حسین

بھاگتے تھے اہلِ باطل اس سے سبھی
اہلِ دل کو بھاگیا وہ خادم حسین

دیتا تھا ختمِ نبوت پر پہرا بھی
یہ ادا سمجھا گیا وہ خادم حسین

ہم کہاں سے، ایسا لائیں مردِ بے باک
بس ہمیں تڑپا گیا وہ خادم حسین

اب نہیں ہوگا نظامِ اعداءِ دین
برملا بتلا گیا وہ خادم حسین

اہلِ باطل نے کیا تھا ظلمت کا راج
راہِ حق دکھلا گیا وہ خادم حسین

ہے کہاں وہ دلربا نعرے کی صدا
جو ہمیں سنوا گیا وہ خادم حسین

وہ پکارا، يا رسولَ اللَّه، ہم پر نظر
نعرہ یہ سکھلا گیا وہ خادم حسین

اب گرم جذبہ رہے گا رضْوی وہ عام
جو کبھی گرماگیا وہ خادم حسین

@fazalrizvi اب درست ہو جانا چاہیے۔ اپکے کیبورڈ میں حرف ہ کیساتھ کوئی مسئلہ ہے۔ میں نے اپنی طرف سے اس کو درست حرف سے تبدیل کر دیا ہے۔


دل کی اتھاہ گہرائیوں سے آپ کا بہت بہت شکریہ
آپاس قدر تعاون فرماتے ہیں
میرا مسئلہ اب حل ہوگیا

السلام وعلیکم ، روانی سکور سمجھا دیں

روانی سکور کا تعلق حروف ا اور ی کے گرانے سے جس سے روانی متاثر ہوتی ہے۔


تمام شاعری لکھنے والوں دوستو کو مخلصانہ مشورہ ہے کہ آپ میں سے اکثر شعر تو کہہ رہے ہیں مگر وہ شعریت سے خارج ہیں۔ یاد رکھیں شعر اور شعریت دو الگ الگ چیزیں ہیں۔

دو مصرعوں کو ایک بحر میں لا کر پیش کرنا شعر ہے جو کہ سید ذیشان اصغر کی اس ویب سائٹ کی محنت کے بعد سب ہی کہہ سکتے ہیں' مگر شعریت اس سے بہت آگے کی چیز ہے۔ عمدہ خیال ' الفاظ کی نشست و برخاست صحیح تلفظ درست اردو کا استعمال صنائع بدائع کے لوازمات اور بہت سی چیزیں۔

تو دوستو اپنا مطالعہ بڑھایۓ - آسی صاھب جیسے استاد سے فیض حاصل کیجیۓ محنت کیجیۓ تب ہی آپ اپنے شعر میں شعریت لا سکیں گے۔

اگر کسی کو برا لگا ہو تو بندہ معافی کا خواستگار ہے

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
سر لفظ چکھے میں کھ مشدد ہے
برون فعْلَن ہے لیکن تقطیع میں کھ مخفف بروزن فَعِل آتی ہے
جبکہ چکھی کی تقطیع درست آتی ہے بر وزن فعْلَن
اسی طرح لفظ سَکھِّے دوست وغیرہ کے معنی میں اس کی تقطیع بھی یہاں درست ظاہر نہیں ہوتی
امید ہے توجہ فرمائیں گے شکریہ

سر روانی سکور سمجھا دیں مثال کے ساتھ۔ شعر کو کیسے سکور کیا جاتا ہے تاکہ ہم بھی اپنے اشعار کی روانی بہتر کر سکیں

@ranarashid05 روانی سکور کا تعلق حروف کے گرانے سے ہے۔ خاص طور پر الف اور ی۔ ان حروف کو جتنا کم گرائیں گے اتنا ہی سکور بہتر آئے گا۔

السلام وعلیکم، ذیشان بھائی، لفظ "بَہلا" کی تقطیع پر نظرِ ثانی کی جئے گا

السلام عليكم ذیشان بھائی...آپکی کاوشوں کی دل سے قدردان ہوں اور دعاگو ہوں.
میری درخواست ہے کہ نظم کی تمام اقسام اور انکی مختصر اور جامع تعریف شامل کی جائے جس پر کوئی اختلاف نہ کر سکے چند مثالیں بھی ہوں تو بہترین ہو جائے گا ... اور اگر اس سائٹ پر موجود ہے تو مجھے لنک شیئر کر دیجیے.
شکریہ

وعلیکم السلام @SadiaSadaf ,
عروض سائٹ پر خوش آمدید۔
عروضی لحاظ سے تو نظم کی دو ہی اقسام ہیں۔ پابند اور آزاد۔ پابند نظم میں بحر کے ارکان کی تعداد متعین ہوتی ہے۔ یعنی اگر آٹھ رکنی بحر پہلے شعر میں استعمال ہوئی ہو تو باقی اشعار میں بھی اسی تسلسل کو قائم رکھنا پڑتا ہے۔ آزاد نظم میں بحر کے ارکان کی تعداد متعین نہیں ہوتی تو لائنیں لمبی چھوٹی ہو سکتی ہیں۔
پابند نظموں کی مثالیں: https://aruuz.com/selection/type?name=%D9%86%D8%B8%D9%85

آزاد نظموں کی مثالیں:
https://aruuz.com/selection/type?name=%D8%A2%D8%B2%D8%A7%D8%AF%20%D9%86%D8%B8%D9%85

امید ہے اس سے آپ کے سوال کا جواب مل گیا ہوگا۔ نہیں تو مزید وضاحت بھی کی جا سکتی ہے 🙂

جی بالکل بھائی یہ تو سمجھ میں تھا باقی آپ نے اچھے سے سمجھا دیا مگر خلش جو تھی سو ہے..
مجھے یہ اصطلاح" نثری نظم" کے بارے بتائیں. کیونکہ کچھ ادیب اس کے حق میں ہیں اور کچھ اس کے وجود سے انکار کرتے ہیں.
باقی میں نے اصل میں نظم کے زمرے میں جتنی اقسام یوں کہہ لیں شاعری کی سب اقسام اور انکی تعریف کے بارے کہا تھا جیسے نثر کے زمرے ناول، افسانہ، مکالمہ، ڈرامہ وغیرہ وغیرہ آتا ہے.. اگر ممکن ہو سکے تو تکلیف کے لیے معذرت چاہتی ہوں..

نثری نظم دراصل فرانسیسی شاعری میں شروع ہوئی تھی، اور وہاں سے انگریزی شاعری میں داخل ہوئی۔ اس کو free verse یا vers libre کہا جاتا ہے۔ اس میں بحر اور وزن کا استعمال نہیں ہوتا ہے۔ اردو شاعری میں بھی ستر سال سے بھی پہلے سے یہ رائج ہے لیکن بہت زیادہ مقبولیت حاصل نہیں کر سکی۔ اس کے مقابلے میں آزاد نظم کافی مقبول ہے، اور اس میں وزن کی پابندی ایک طرز پر ہوتی ہے، کہ بحر کے ارکان کم زیادہ کر سکتے ہیں۔

نظم کی کافی اقسام ہیں۔ اس میں پابند نظم، نظم معرّیٰ، قصیدہ، مرثیہ، مثنوی، مخمس، مسدس، قطعہ، رباعی،مستزاد، وغیرہ شامل ہیں۔

مکمل فہرست اور تفصیل کے لئے درج ذیل کتاب کا مطالعہ فرمائیں:
https://www.rekhta.org/ebook-detail/urdu-nazm-aur-uski-qismein-sahil-ahmad-ebooks?lang=ur

بہت بہت شکریہ ذیشان بھائی آپ نے تصدیق کی کہ یہ ہوتی ہے.. کہ الگ بات ہے کہ اسے قبول کرنے سے انکار کیا جاتا ہے..
شمسہ نجم صاحبہ نے بڑا جامع مقالہ لکھا ہے جس میں وہ لکھتی ہیں
1۔نثری نظم اول تا آخر ایک ہی موضوع پر رہے تو بہتر ہے۔ لیکن ہر دو صورتوں میں نظم کی زندگی برقرار رہے۔
2۔ کہیں کہیں ردیف کے استعمال سے نغمگی پیدا کی جائے۔
3۔ اول تا آخر نظم نظم محسوس ہو۔ یعنی نثم کا تاثر برقرار رہے بالکل نثری پیرہ گراف نہ لگنے لگے۔
4۔ نظم کا ہر مصرعہ دوسرے مصرعے سے جڑا ہو۔
شکریہ...

بہت اعلی ذیشان صاحب ۔ اللہ آپ سے راضی ہو ۔ آمین ❤🌸

سلام ذیشان صاحب، لفظ "کہکشاؤں" کی تقطیع کو شامل کر دیں، شکریہ

تمام شاعری لکھنے والے دوستوں سے ایک دردمندانہ درخواست ہے
شاعری کرنا کوئ فرض نہیں ہے کہ آپکو آۓ یا نہ آۓ کرنا ہی ہے
اگر اتنا ہی شوق ہے تو کم از کم پہلے وہ زبان تو سیکھیں جس میں شاعری کرنا ہے

اکثر احباب کو نہ مذکر مؤنث پتہ ، نہ لفظوں کے مطلب پتہ نہ لفظ کو برتنے کا سلیقہ پتہ مگر پھر بھی شاعری کرنی ہے-
یہ آپ اپنے ساتھ اور اردو زبان دونوں کے ساتھ زیادتی کر رہے ہیں

برا لگے تو معذرت مگر اس سائٹ کے کلام کے معیار سے میں سخت مایوس ہوا ۔ اکثر کلام تو کلام کہلانے کے بھی قابل نہیں ہوتے ۔ میں ہی خدائ فوجدار بن کر کافی عرصے سے تبصرہ کرتا رہا کہ شاید کوئ میری بات سن لے۔
سواۓ ایک آدھ کے کسی نے اسے در خورِ اعتنا بھی نہ سمجھا،

- خوش رہو اہلِ وطن ہم تو سفر کرتے ہیں

اسلام علیکم
جناب عالی میرا اک عرض ہے اس ویب سائٹ کے حوالے سے اور وہ یہ کہ ایک ایسا search filter بنایا جائے کہ جس سے ایک مخصوص بحر کے تمام کلام نکل کر سامنے آجائیں۔
مثلاً اگر search box میں بحر سریع لکھ کر تلاش کریں تو ویب سائٹ پر جتنا بھی بحر سریع میں کلام ہے وہ ایک طرف الگ ہوکر آجائے تاکہ اس بحر کے استعمال کو سمجھنے میں آسانی ہو۔
شکریہ

وعلیکم السلام،

اسطرح کا فلٹر پہلے سے موجود ہے:
https://aruuz.com/resources/meterslist

0
شکریہ جناب مجھ اس کا علم نہیں تھا۔

0
نون غنہ سے پہلے والا الف یہ ویب سائیٹ گرا دیتی ہے جیسے پاکستاں کا وزن مفعول بتائے گی، اساتذہ اس الف کو گرانے سے منع کرتے ہیں، اس کو دیکھیں

جناب اس میں ویب سائٹ کا کوئ قصور نہیں۔
جب آپ کوئ بحر چنتے ہیں تو یہ پروگرام آپ کے مصرعے کو اس وزن میں لانے کی کوشش کرتا ہے اور تمام ممکنہ اصول و ضوبط کو استعمال کرتا ہے جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اگر آپ نے پاکستان کو پاکستاں لکھے ہے تو نون غنہ تو شمار ہی نہیں ہوگا اور اس سے پہلے والا الف بحر کی ضرورت کے مطابق گرا بھی سکتا ہے۔
ایسا کرنے میں پرگرام اس مصرعے کی روانی کا اسکور کم کر دیتا یے تا کہ آپ کو پتہ چل سکے۔
اب یہ آپکی زمہ داری ہے کہ لفظ کو مصرعے میں ایسی جگہ لائٰیں جہاں الف نہ گرے ۔

السلام و علیکم
سید ذیشان اصغر صاحب
مجھے یہ سائٹ بے حد مفید اور عمدہ لگی ممکن ہو تو
آپ اپنا وٹس ایپ نمبر ارسال کریں
بڑی نوازش
آباد رہیں جیتے رہیں

0
وعلیکم السلام،

اس لنک پر ڈائرکٹ مسیج کر سکتے ہیں:
https://aruuz.com/message/newmessage?id=zeeshan

0
محترم جناب سید ذیشان اصغر صاحب
یہ مصرع اعلی حضرت احمد رضا خان بریلوی کا
وزن پر ہے مگر تقطیع میں درست نہیں آتا
فیض ہے یا شہِ تسنيم نرالا
امید ہے راہنمائی فرمائیں گے

0
جناب ذیشان صاحب ! کسی نے میرے بلاگ پر کمنٹ ڈال کر نام کی جگہ انگریزی میں نَل لکھ دیا ہے جس پر کلک کرنے سے ایرر آ جاتا ہے اس کو کیسے دور کیا جا سکتا ہے؟

0
السلام علیکم
جو حروف پیلے رنگ کے ہو جاتے ہیں براہِ کرم اُنکا بتا دیں کہ وہ کس لیے ہوتے ہیں؟

0
پیلے حروف کے لئے یہ لنک دیکھیں:


https://www.aruuz.com/discussion?id=TgcO55BIiwg4dljRkP1e

سید ذیشان اصغر صاحب ممنونِ محبت ہوں

محترم! اگر ہو سکے تو سسٹم میں ایسا سسٹم کر دیں کہ لائک کرنے والے حضرات کو شاعرِ خاکسار خود آنکھوں سے دیکھ سکے۔
شکریہ!

0
لائک کے بٹن ❤ کیساتھ نمبر پر کلک کرنے لائک کرنے والوں کی فہرست نمودار ہو جاتی ہے۔

0
محترم! کوئی لسٹ نہیں کھلتی اسی لئے کہا ہے
آپ سسٹم کو چیک کریں

0
محترم! لائک 👆 کرنے والے حضرات کی فہرست نہیں کھلتی۔۔۔❤ والی اور تبصرہ والی کھل جاتیں
سسٹم چیک کیجئے گا۔

0
آپ اس پتے پر سکرین شاٹ بجھوائیں: admin@aruuz.com

محترم سید ذیشان اصغر صاحب! الفاظ ”طلباں“ اور ”طلبش“ کے اوزان درست کیے جائیں۔ ان دونوں الفاظ کا وزن فعِلن ہے یعنی 211
اور ”سوختگاں“ کو اسی طرح لکھا جاتا ہے، اسے ”سوخت گاں“ لکھنا درست نہیں۔ ”سوختگاں“ کا وزن بھی درست کیا جائے۔ اس کا وزن فاعلتن ہے یعنی 2112

حلقۂ بے طلباں رنجِ گراں باری کیا
اٹھ کے چلنا ہی تو ہے، کوچ کی تیاری کیا
عرفان صدیقی

رخنۂ زر طلباں سرزنشِ تیرہ شباں
ایسے قصے تو یہاں شام و سحر ہوتے ہیں
محشر بدایونی

اب بزمِ سخن صحبتِ لب سوختگاں ہے
اب حلقۂ مے طائفۂ بے طلباں ہے
فیض احمد فیض

اندر رہِ عشق جملہ صافاں دردند
واندر طلبش جملہ بزرگاں خردند
امروز شب و روز ز فردا اینست
فردا طلباں در غمِ فردا مردند
عمر خیام

محترم سید ذیشان اصغر صاحب! لفظ ”علیحدہ“ کا وزن درست کیا جائے۔ اس کا وزن فعولن ہے یعنی 221

اس سے پہلے کہ مجھے وقت علیحدہ رکھ دے
میرے ہونٹوں پہ مرے نام کا بوسہ رکھ دے
نثار ناسک

جو کسی کے جسم کا کل تک رہا تھا اک لباس
اب علیحدہ یوں ہوا کہ کوئی ننگا رہ گیا
مستحسن خیال

تمام فتنۂ دوراں مجھی سے ابھرے ہیں
کہاں ہے زیست میں مجھ سے علیحدہ ذات کوئی
خلیل مامون

0
محترم سید ذیشان اصغر صاحب! ”اناالحق“ اور ”باذن اللہ“ کے اوزان درست کیے جائیں۔ ”اناالحق“ کا وزن فعولن ہے یعنی 221
اور ”باذن اللہ“ کا وزن مفاعیلان ہے یعنی 12221

کیا نوائے 'اناالحق' کو آتشیں جس نے
تری رگوں میں وہی خوں ہے ، قم باذن اللہ
حکیم الامت ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؔ

0
محترم سید ذیشان اصغر صاحب! لفظ ”خشم“ کا وزن درست کیا جائے۔ اس کا وزن فعْل ہے یعنی 12

دیکھے ہے مجھے دیدۂ پُر خشم سے وہ میرؔ
میرے ہی نصیبوں میں تھا یہ زہر کا پیالہ
میر تقی میر

اپنے حق میں مائلِ لطف و کرم قاتل ہے آج
ہر ادائے خشم گیں ہمت فضائے دل ہے آج
رشید شاہجہانپوری

اندھیرا آ گیا آنکھوں کے آگے خشم سوں میری
جبھی اس چھوکرے کی بوالہوس نیں زلف ٹک چھوئی
آبرو شاہ مبارک

0
شکریہ جنید صاحب
باقی الفاظ شامل ہو گئے ہیں۔ جہاں تک انا الحق اور اس جیسے دیگر مرکبات کا تعلق ہے تو اس کے لئے پہلے لفظ کے آخر میں زبر یا پیش لگائیں۔ مثال:
اناَ الحق

شکریہ والی کوئی بات نہیں۔۔۔خاکسار کو شرمندہ مت کیجے۔
اردو ہماری زبان ہے اور اس کی ذمہ داری ہم ادب سے وابستہ سبھی لوگوں پر ہے۔

محترم سید ذیشان اصغر صاحب! لفظ ”سفری“ کا وزن درست کیا جائے۔ اس کا وزن فعِلن ہے یعنی 211

مصحفیؔ ہے یہی اب سوچ کہ دیکھیں تو فلک
پھر بھی دکھلائے گا یار سفری کی صورت
غلام ہمدانی مصحفیؔ

بادشاہی ہو کہ دریوزہ گری کا موسم
بھولتا ہی نہیں وہ ہم سفری کا موسم
لئیق عاجزؔ

تھی مری ہم سفری ایک دعا اس کے لیے
یہ بچھڑنا ہے بڑی سخت سزا اس کے لیے
محمد احمد رمزؔ

سفری اپنے آپ سے تھا میں
ہجر کس کا وصال کس کا تھا
جونؔ ایلیا

روشنی میرے چراغوں کی دھری رہنا تھی
پھر بھی سورج سے مری ہم سفری رہنا تھی
یعقوب یاور

کیا عجب تم کو ہی یہ ہم سفری راس آ جائے
دو قدم ہی سہی تم ساتھ تو چل کر دیکھو
پیرزادہ قاسم

ہے جو اغیار کے ہر دم کی تری آمد و شد
جسم میں جان ہماری سفری رہتی ہے
ولی اللہ محب

محترم سید ذیشان اصغر صاحب! لفظ ”معبّر“ کا وزن درست کیا جائے۔ اس کا وزن فعولن ہے یعنی 221

سن کے اک خواب حسیں میرے معبّر نے کہا
یہ ترا خواب ترے خواب کی تعبیر بھی ہے
رشید کوثر فاروقی

محترم سید ذیشان اصغر صاحب! لفظ ”گزشت“ کا وزن درست کیا جائے۔ اس کا وزن فعول ہے یعنی 121

سر گزشتِ ہوا میں لکھا ہے
آسماں ریت کا سمندر تھا
رسا چغتائی

حاصل اس ذکرِ تغافل سے گزشت انچہ گزشت
فائدہ فتنۂ خفتہ کو جگانا شبِ وصل
ظہیر دہلوی

سر گزشتِ دلِ بیتاب سنا دی لیکن
غم گساروں سے ترا نام چھپا رکھا ہے
مشیر جھنجھانوی

رسیدہ بود بلائے ولے بخیر گزشت
تمہاری زلف سے خاطر کو پیچ و تاب نہیں
نسیم میسوری

رفت و گزشت بھی ہوا وحشت کا ولولہ
سوزن برائے چاکِ گریباں خریدیے
آغا حجو شرف

محترم سید ذیشان اصغر صاحب! لفظ ”متوقع“ کا وزن درست کیا جائے۔ اس کا وزن فعلاتن ہے یعنی 2211

ہر چند کہ دامن تئیں ہے چاکِ گریباں
ہم ہیں متوقع کفِ چالاک سے اب تک
میر تقی میرؔ

محترم سید ذیشان اصغر صاحب! لفظ ”برانگیختہ“ کا وزن درست کیا جائے۔ اس کا وزن فعولن فعل ہے یعنی 21221

کسی صدا نے برانگیختہ کیا مجھ کو
وگرنہ میں بھی اسی حلقۂ خمود میں تھا
نقاش علی بلوچ

محترم سید ذیشان اصغر صاحب! لفظ ”بچّگی“ کا وزن درست کیا جائے۔ اس کا وزن فاعلن فعل ہے یعنی 212

رہا ہمیشہ سے وہ مرغ مستعدِ جنگ
طرف نہ اس کے ہوئے بچگی میں قاز و کلنگ
میر تقی میرؔ

محترم سید ذیشان اصغر صاحب! لفظ ”بچّگی“ کا وزن درست کیا جائے۔ اس کا وزن فاعلن ہے یعنی 212

رہا ہمیشہ سے وہ مرغ مستعدِ جنگ
طرف نہ اس کے ہوئے بچّگی میں قاز و کلنگ
میر تقی میرؔ

محترم سید ذیشان اصغر صاحب! لفظ ”متوسط“ کا وزن درست کیا جائے۔ اس کا وزن فعلاتن ہے یعنی 2211

ہم بھی آخر ہیں یکے از متوسط طبقہ
موت کے بعد بھی بیمار سمجھئے ہم کو
فضیل جعفری

محترم سید ذیشان اصغر صاحب!
ابوبکر میں لفظ بَکْر فَعْل کے وزن پر ہے
جبکہ اس کے علاوہ بَکَر بروزن فَعَل دوسرا لفظ ہے
مگر ابوبکر والا بَکْر بھی بَکَر بروزن فَعَل ہی آتا ہے
امید ہے توجہ فرمائیں گے شکریہ

0
محترم سید ذیشان اصغر صاحب! لفظ ”برشتہ“ کا وزن درست کیا جائے۔ اس کا وزن فعولن ہے یعنی 221

برشتہ سوختہ اس واقعے سے حیراں سب
زباں پہ ہائے حسین اور لب پہ ہائے حسین
میر تقی میرؔ

ہے میرؔ عجب کوئی درویش برشتہ دل
بات اس کی سنو تم تو چھاتی بھی بھلس جاوے
میر تقی میرؔ

اپنی گرمی سے برشتہ ہوا حسنِ رخِ یار
لالہ رنگ آتشِ گل سے ہے گلستاں میرا
ولی عزلت

دلِ برشتہ کو میرے نہ چھوڑو مے خوارو
جو لذت اس میں ہے ایسا مزا کباب تو دے
شیخ ابراہیم ذوقؔ

شراب خونِ جگر ہے ہم کو شراب ہم لے کے کیا کریں گے
گزک کی جا ہے دلِ برشتہ کباب ہم لے کے کیا کریں گے
امداد امام اثرؔ

My main purpose in joining Aruuz Community was to improve my poetry, but I have found the esteemed members shy away from giving feedback. I am a new writer, don’t claim to be a poet as I am still ignorant about the technicalities of poetry. I have found Aruuz a great resource, so far trying to self- correct through hit and trial. I will need a lot of help with aruuz and taqtee etc. I would request someone please be my mentor….. thank you very much and looking for help

0
جناب میں اس سائٹ پر کلام کا جائزہ پیش کیا کرتا تھا قطعی طور پر تکنیکی لحاظ سے مگر جب سے اس سائٹ پر ایسے لوگوں نے طوفانِ بدتمیزی بپا کیا ہے جو اپنے تیئں خود کو بہت بڑا شاعر اور اکمپلشڈ پوٰئٹ سمجھتے ہیں میں نے خاموشی میں ہی عافیت سمجھئ کیونکہ جاہلوں کا جواب خامشی ہوتا ہے-
آپ اگر واقعی میری راۓ لینا چاہتے ہیں تو اپنا کوئی کلام مکالمہ یعنی اس سایٹ کے ایمیل سے صرف مجھے بھہیجیں۔
جو بتا سکا ضرور بتاوں گا۔

Junaab, I can understand your feelings. To start with I would like to learn the art of taqtee as I have stopped writing poetry and would like to learn the technical aspects first. Please advise how to learn the art of TAQTEE. Sorry I dont have urdu typing software so writing in English.

0
سائٹ کے مین پیج پر بھی یہ لنک ہے
https://www.youtube.com/watch?v=i4zZy-7Y3Ic
ریختہ کے شاداب بھٹنا گر نے بہت تفصیل سے یہ سمجھایا ہے - کل 26 اسباق ہیں-
سب کو دیکھیے اور بار بار دیکھیے بہت کچھ سمجھ میں آئیگا۔ کوئ کنفیوژن ہو تو پوچھ لیجیے گا۔
- اور اردو میں ٹائپنگ کرنی ہے تو اسی سائٹ کا اصلاح پیج ہے جو بہت اچھا اردو ایڈیٹر ہے اسی میں لکھیے اور کہیں بھی کٹ پیسٹ کر دیجے -

Sir, grateful for such a generous offer. I will watch the youtube videos and get back to you for further guidance. 

تسلیماتِ کثیرہ مسنونہ
جناب سید ذیشان اصغر صاحب آپ سلامت رہیں شاد و آباد رہیں ،یہ ویب سائٹ اور بلاگ اردو شعر و سخن کے جملہ طلبہ کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ۔ آپ کی یہ بے لوث خدمت رب العزت قبول فرمائے، آمین ثم آمین یا رب العالمین!
مشاہد رضوی، مالیگاﺅں (انڈیا)

جناب سید ذیشان اصغر صاحب
اندھیر تقطیع میں صرف فعول کے وزن پر آتا ہے
جب کہ اساتذہ کے کلام میں یہ مفعول کے وزن پر بھی مستعمل ہے

ہے جو اندھیر شہر میں خورشید
دن کو لے کر چراغ نکلے ہے

میر تقی میر
امید ہے توجہ فرمائیں گے

محترمی ذیشان صاحب!
آپ کی کاوش قابلِ ستائش ہے اور میرے علم میں یہ پہلی ایسی ویب سائٹ ہے جو اچھے سرور پر بلا ایڈز دیکھائے چل رہی ہے۔۔۔
آپ پر اس کے اخراجات کا بوجھ ضرور ہوگا۔۔۔ اس لیے میں اور کچھ نہیں تو یہ اتنا مشورہ تو دے سکتا ہوں کے آپ اپنی سائٹ میں مناسب جگہ پر ایڈز کا احتمام کر سکتے ہیں۔۔
😇
آپ ہمارا اتنا بھلا کر رہے ہیں۔۔ ہماری وجہ سے اگر آپ کا بھی بوجھ بٹ جائے تو اس سے بہتر بات اور کیا یوگی۔؟

سلام!
کلام شائع کرنے کے بعد نیچے جو مختلف اپشنز ظاہر ہوتے ہیں اور ساتھ گنتی کے کچھ حروف بھی ان کا کیا مطلب ہے براہ کرم رہنمائی فرمادیں۔

گنتی بتاتی ہے کہ اس کلام کو کتنی مرتبہ کھول کر دیکھا گیا ہے۔

ہم نے یا کسی اور نے تھوڑی وضاحت کر دیں سر

جناب ذیشان! اسلام علیکم!
ایک مشورہ آپ کی خدمت میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ آپ کی سائٹ پر تبصرے حذف کرنے کا کوئی نظام نہیں ہے۔۔
اگر ہے تو مجھے بتا دیں ۔۔۔
ورنہ ترکش سے نکلا تیر اور پتھر پر لکیر والی بات اس سائٹ کے تبصروں پر صادق آتی ہے😅

محترمی ذیشان صاحب
اسلام علیکم!
کئی روز ایک نوٹیفکیشن گھنٹی کے نشان پر نظر آرہا ہے۔۔۔ جس کا نام صرف null ہے
جب اس پر کلک کرتا ہوں تو page not found والا ایرر آجاتا ہے۔۔۔ اور تو اور اس پر بار ہا کلک کرنے کے باوجود بھی گھنٹی کے نشان سے سرخ رنگ میں لکھا ایک ختم نہیں ہو رہا۔۔۔
یہ کیا ماجرا ہے؟؟

سلام و عرض ادب.
ویب سايئٹ گرداند کی تقطیع کرنے سے معذور ہے. مزید یه بھی دریافت کرنا مقصود تھا کہ بعض دفعه تقطیع میں آرِنج رنگ میں بعض حروف مشاهده میں آتے ہے، اس کا کیا معانی ہے؟

سلام وارثی صاحب
جہاں تک آرنج رنگ کی بات ہے ۔۔ جن الفاظ کے درمیان وصلِ ہمزہ ہو رہا ہوتا ہے ۔ ان میں سے پہلے لفظ کو نارنجی رنگ میں لکھا جاتا ہے ۔۔
مثلآ تم اس طرح کیوں۔۔۔۔۔مفاعلاتن
اس میں تم کو نارنجی لکھا جائے گا

تشکر بسسار....
..... اور گرداند کے بارے میں کیا ارشاد ہے؟
یا پھر فارسی تقطیع کے لیے یہ ویب سائٹ مؤثر نهیں ہے؟

حضرت کیا اردو کیا فارسی - کوئ بھی سائٹ ہو اس میں آپ کو تمام الفاظ تو نہیں مل سکتے-
اس سائٹ نے آپکو کلیہ بنا کر دیا ہے - اگر آپ کو لفظ پتہ ہے تو آپ خود اسے توڑ کے وزن کے مطابق لکھ لیں
جیسے گرداند کو آپ گر دا د لکھیں سائٹ کو اسکا مطلب سمجھ میں آۓ یا نہ آۓ وہ اسے فاعیل کے وزن پر تقطیع کر دے گی - آپ کا کام ہو جاۓ گا۔
یہ سائٹ دنیا میں اپنی نوعیت کی واحد سائٹ ہے آپ اردو فارسی یا عربی کسی بھی زبان کے لفظ میں کلام وزن پہ لا سکتے ہیں آپ کو بس اس لفظ کا صحیح صوتی آہنگ آتا ہو۔

ممنون عزیزم.
آپ کی اس بات میں تو کوئی شک نهیں کہ یه بہت عمده سائٹ ہے. مزید یہ کہ کافی اچھے استینڈرڈ پر مینٹین کیا گیا ہے.

0
لفظ "حیرانیاں" لغت میں شامل نہیں ۔
hairaaniyaa.n
amazement, astonishment, wonder

سسلام!
اپ نےشائع شده کلام میں ترمیم کیسے کریں؟

0
سلام و رحمت
از راهِ عنایت بیان هو که یه هجائے اختاری کسے کهتے ہیں؟ اسکےضوابت کیا ہیں؟

یہ جو اصلاح والے صفحہ پہ سب سے اوپر "اشاعت" کا بٹن ہے اسی کو کلک کریں آپکے سارے شائؑع شدہ کلام آجائیں گے- ان ہی کہ آگے "تبدیی" اور "حذف" کے بٹن ہیں ان سے آپ یہ کام لے سکتے ہیں

سر عروض بلاگ پر شائع کی ہوئی اپنی شاعری کو گوگل پر کس طریقے سے سرچ کر سکتے .براے کرم رہنمائی فرما دیں

0
گوگل پر شاعری نمودار ہونے میں دو چار دن لگ سکتے ہیں۔

تمام نۓ لکھنے والوں سے ایک بار پھر دردمندانہ گزارش ہے کہ ادب کسی زبان کا آخری درجہ ہوتا ہے -
پہلے زبان سیکھیں پھر شاعری کریں شعر صرف وزن میں کہنے کا نام نہیں ہے -
نہ لفظوں کا استعمال پتہ نہ ترکیبوں کا علم نہ املا صحیح نہ خیال نہ زبان کی حرمت - مگر شاعری کرنا ہے -
یہ ظلم ہے سراسر۔
اور وہ لوگ جو مذہبی کلام لکھتے ہیں ذرا سوچیں - کیا غلط سلط زبان میں لکھا کلام آپ کو اللہ یا اس کے حبیب کے سامنے پیش کرتے ہوۓ شرم نہیں آتی؟

0
محٹرم ارشد حسین راشد ( اگر نام صحیح نہیں لکھا تو معذرت)
اکثر اساتذہ (میرے کالج کے استاد مرحوم پروفیسر حبیب اُللہ ساجد جو السنہ شرقیہ کے ساتھ ایم اے اسلامیات بھی تھے)
اپنے لیکچرز میں اکثر نصیحت فرماتے کہ شاعری کے لئے زبان کا مطالعہ بہت سود مند ہے مگر چونکہ کوئی بھی زبان ابھی تک مکمّل نہیں ہوئی اور نئے پی ایچ ڈی کرنے والا اپنے مقالے میں زبان کے ارتقائی مراحل طے کرتے ہوئے نئی نئی تحقیق لاتے ہیں جو پہلے سے مختلف ہوتی ہے مگر انکی تحقیق کو کوئی اور آنے والا ہی رد کر سکتا ہے مگر شعرا کو اپنی
شاعری روکنی نہیں چاہئے بلکہ جیسے جیسے آپ شاعری کرتے جائیں گے آپ کے معاصرین آپ کی اغلاط کی نشاندہی کرتے جائیں گے لہٰذا اگر پہلے زبان ہی سیکھتے رہیں تو اسکے لئے تو ساری عمر بھی ناکافی ہے البتّہ کوشش کرتے رہنا چاہئے) لہٰذا مشقِ سخن بھی کرتے رہیں اور تصحیحِ زبان پر بھی توجّہ دیں
اسی طرح تذکیروتانیث اور تراکیب کا استعمال بھی سیکھنے ہی سے اور ناقدین و معاصرین کی نشان دہی پر آتا ہے مثلاً اپنے زمانے کے اعلیٰ پائے کےنعتیہ کلام کہنے والے شاعر مرحوم حافظ نظیر احمد لدھیانوی (آپ کی ایک نعت کا ایک شعر نیچے درج کر رہا ہوں ) نے 1929 میں ایک خط کے ذریعے علاّمہ اقبال رح کے شعر میں تذکیروتانیث کی نشاندہی فرمائی تو آپ نے فوراً علی بخش سے رسالۂ تذکیروتانیث منگوایا اور دیکھ کر فرمایا کہ ہاں مجھ سے ایسی غلطیاں صادر ہو جاتی ہیں اسی طرح ابھی حال ہی میں روزنامہ دنیا کے مشہور کالم نگار جناب ظفر اقبال نے غالب کے ایک شعر کی دھجیاں بکھیر دیں اور اسے مطلق غلط قرار دیا اسلئے انسان سے نسیان کا صدور ہوتا رہے گا اور وہ سیکھنے سے سیکھ بھی جائے گا اس پر نہ تو دل آزار ہونا چاہئے اور نہ مایوس
آپ ماشآاللہ شاعری کے رموزوکنایہ سے آگاہ ہیں مگر سارے آپ ایسے نہیں اسلئے آپ اچھے مبصّر بن سکتے ہیں اور ہیں مگر مبصّر کا کام ناراض ہونا یا کُڑھنا یا سیکھنے والوں پر زجروتوبیخ کرنااور ظالم کہنا نہیں ہوتا بلکہ اپنی بات خاموشی سے کہہ کر باقی سے صرفِ نظر کرنا ہے اسلئے اگر آپ پیار اور اخلاق سے نشاندہی فرما دیں اور اپنا کلام بھی شائع کرتے رہیں تو مجھ ایسے بےشمار آپ سے استفادہ کر سکتے ہیں آپ کے کلام سے بھی ہملوگ اپنی غلطیوں کا احاطہ کر سکتے ہیں
اوپر جو کچھ لکھا اسمیں چند ہی سطور میری ہیں باقی اساتذہ کی ہیں اور مَیں اپنی سطور پر اگر ناگوار گزریں تو پیشگی معذرت کرتا ہوں اور اسمیں بھی آپ کو سمجھانا نہیں بلکہ سب کو آپ ایسے صاحبِ علم سے مستفید ہونے کا مشورہ دینا ہے
علّا مہ نظیر احمد لدھیانوی :
آپ ختمِ رُسُل آپ مُختارِ کُل آپ اور چار گُل صاحبِ چار قُل
بے بہا مہ لقا بے غرض بے ریا بے ہوا باصفا پارسا مصطفےٰ

متفق

خواجہ صاحب بہت پر مغز جواب لکھا آپ نے - بہت اچھا لگا -
مگر یہ میرا مسئلہ نہیں ہے - مطالعہ تو کسی بھی زبان کو سیکھنے کے لیۓ لازمی امر ہے - اس سے کون انکاری ہے
مگر جب کوئ شاعری کرتا ہے تو اسکا مطلب ہوتا ہے وہ ایک خاص حد تک زبان کا مطلالعہ کر چکا ہے - میں اسی حد کی بات کرتا ہوں ورنہ سیکھنے کا عمل تو ساری زندگی جاری رہتا ہے اور غلطیاں تو بڑے سے بڑے علالم سے بھی ہو سکتی ہیں-
مسئلہ یہ ہے کہ لوگ سیکھنا نہیں چاہتے - میں نے پہلی بار جسکو بھی لکھا نرم ہی لکھا - مگر مجھے نہیں پتہ کہ آپ نے وہ کمنٹس پڑحے بھی ہیں کہ نہیں - لوگوں نے مجھے برا بھلا کہا - گالیاں تک دیں - یہ بھی کہا کہ مجھے کیا تکلیف ہے -
میں بات ہمیشہ حوالوں سے کرتا ہوں کہ کس قاعدے کے تحت شعر غلط ہی لوگ پھر بھی نہیں مانتے -
اور دور کیوں جائیں ماضی میں میں نے آپ کو بھی سمجھانے کی کوشش کی کہ آپ کیا غلطی کر رہے ہیں آِپ نے جواب دیا تھا میں تو اب اس عمر میں اپنے لیۓ شاعری کرتا ہوں اور کچھ نیا سیکھنا نہیں چاہتا میرے لیے ایسے ہی صحیح ہے -تب سے میں نے آپکو کبھی نہیں لکھا - اسی طرح ڈاکٹر طارق بھی کچھ سیکھنے کو تیار نہین ہین - برابر لکھے جاتے ہیں دو غزلیں یومیہ کے حساب سے - شروع میں انکو بھی لکھا کرتا تھا انہوں نے مانا بھی پھر بات میں وہ بھی اسے نا پسند کرنے لگے - تو یہاں کسی کو سیکھنا نہیں ہے - اور بتاو تو برا لگتا ہے

تو میں آخر اب اور کیا کر سکتا ہوں - اسی لیے دل کڑھتا ہے


0
راشد بھائی مَیں آپ کے آخری فقرے سے شروع کرتا ہوں کہ آپ کو نہ سیکھنے یا نہ سمجھنے والوں پر کُڑھنا نہیں چاہئے کیونکہ ایک تو آپ کی یہ ذِمّہ داری نہیں ہے کہ سب کو شاعر بنا دیں اور دوسری بات جو مَیں ڈرتے ڈرتے کہنے کی جسارت کر رہا ہوں کہ آپ نے اپنے آپ کو استادانہ اور ناصحانہ نشسست پر متمکّن کر لیا ہے جہاں سے نہ سیکھنے والے آپکو نظر آتے ہیں اور نہ ہی وہ بیچارے آپکو دیکھ سکتے ہیں جس سے دونو اطراف پر ایک بُعد پیدا ہو گیا ہے اور اس فرق کو ختم کرنے کے لئے آپ کو سیکھنے والوں کے ہجوم میں آنا پڑھے گا اور ان سے استاد شاگرد کا نہیں بلکہ دوستی کا رشتہ بنانا پڑے گا اور اگر ایسا آپ نے کیا تو آپ خودبخود ملاحظہ فرمائیں گے کہ سبھی اپ سے استفادہ چاہتے ہیں البتّہ اسمیں کچھ دیر لگ سکتی ہے مگر بالآخر یہ مرحلہ طے ہو کر اپنی خوبصورت منطقی شکل اختیار کر لے گا اور راشد بھائی یہ سب کچھ مَیں کتابی اقوال نہیں لکھ رہا بلکہ میری اپنی زندگی کے تجربات ہیں کہ پیار محبّت شفقت ایثار قربانی احسان میں بڑی طاقت ہے اور اسکے لئے آپکو ہی پہل کرنی پڑے گی کیونکہ وہ آپ تک رسائی نہیں کر سکتے اور بین السّطور میں یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ یہ تو محض شاعری ہے جبکہ لوگوں کو ایجوکیٹ نہ کرنے کا ایک واقعہ اسقدر افسوسناک ہے کہ مولانا طارق جمیل کی بات سنئے وہ فرماتے ہیں کہ پاکستان کے کسی دورافتادہ شہر میں انہوں نے ایک ستّر سالہ بوڑھے سے پوچھا کہ بابا جی کیا آپکو پتہ ہے کہ ہمارے نبی ص ع و س کا نام کیا ہے تو بابا جی نے کہا ؛ قائدِ اعظم رح مگر مولانا محترم ناراض نہیں ہوئے بلکہ انہیں پیار اور ادب سے ساری بات سمجھا دی کہُ : ادب پہلا قرینہ ہے محبتّ کے قرینوں میں
اور اب اختصار سے مَیں اپنی وضاحت کرتا ہوں کہ سب سے پہلے تو آپ نے میری اور اپنی عمر کا امتیاز کئے بغیر مجھ پر استادی چڑھائی کر دی اور پھر آناً فاناً میری اجازت کے بغیر میری تخلیق میں سارا تغیّر و تبدّل فرما دیا جو کسی بھی طور شائستہ نہیں تھا اور مجھے وہاں بھی لفظ تبدیل کرنے کی ترغیب دی جو جناب ذیشان اصغر کی عروض کےاصلاحی معیار پر بھی پورا نہیں اترتا تھا مگر مَیں نے اس مخمصے سے دور رہنے پر ترجیح دی کیونکہ مَیں کسی عوامی پلیٹ فارم پر ردّوکد کو مناسب نہیں سمجھتا مگر ایک دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ اکثر مصلحین یا تو دانستہ شاگرد کو پوری طرح فنِّ شاعری نہیں سکھاتے جس سے شاگرد کبھی انڈیپنڈنٹ شاعر بن سکے اور غلط حرف کو ہٹا کر اپنی طرف سے دوسرا حرف لکھ دیتے ہیں
یا پھر محض اپنی استادی سے مرعوب کر کے شاگرد کو کچھ بھی کہہ دیتے ہیں یا پھر یہ بھی اکثر ہوتا ہے کہ استاد بیچارہ خود بھی فعل مضارع صیغۂ حاضر ماضی حال مستقبل کی چند اصطلاحوں سے زیادہ نہیں جانتے اور شاگرد بیچارہ پھر کسی دوسرے استاد کی تلاش میں صدا بہ صحرا آوارہ گردی کرکے کہنے پر مجبور ہو جاتا ہے
مَیں نا خوش و بیزار ہوں مرمر کی سلوں سے
میرے لئے مِٹّی کا حرم اور بنا دو
مَیں ذیشان صاحب کا ممنون ہوں کہ ان کی بہترین کاوش نے دور دراز کے بسنے والوں کو آپ ایسے کافی دوستوں کے قریب کر دیا اللہ کریم انہیں بہترین جزا سے نوازے آمین
راشد بھائی مجھے اعتراف ہے کہ میرا اختصار بھی طول طویل ہو گیا مگر کسی نے کہا ہے کہ آدھا سچ جھُوٹ سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے اور چونکہ جملۂ معترضہ کے سیاق و سباق میں مجھے اپنی پوزیشن بھی واضح کرنا پڑی اسلئے بات چل نکلی ہے تو اب دیکھیں کہاں تک پہنچے کے مصداق ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر آپ پسند فرمائیں تو ایک آدھ کاوش کبھی کبھی آپکو تصحیح کے لئے بھیج سکتا ہوں اور کیا آپکی ای میل مل سکتی ہے ؟


0
جناب آپ کے محبت نامہ کا شکریہ - عرض ہے کہ مولانا طارق جمیل والی مثال یہاں نہیں لگتی - وہ ناواقف بوڑھا شخص اگر نہ جاننے کے بعد بھی دعویٰ کرتا کہ وہ عالمِ دین تو تب بات تھی۔ یہاں یہی ہو رہا ہے - زبان آۓ نہ آۓ سب شاعر بن کر میدان میں آجاتے ہین- وہاں دل کڑھتا ہے -

اور سر پیار محبت کی بات نہیں - جب میں کسئ کو لکھتا ہوں کہ اس میں عروض کے لحاظ سے یا گرامر کے لحاظ سے یہ یہ غلطیاں ہیں تو دلیل کا جواب دلیل سے ملنے کی توقع رکھتا ہوں نہ کہ دھتکار سے -

آپ صحیح کہتے ہیں میں کوئ خدائ فوجدار نہیں ہوں اسی لئے میں ایک دفعہ بتا کے پیچھے ہٹ جاتا ہوں - ایک دفعہ کہنا میں اپنی ذمہ داری سمجھتا ہوں وہ بھی انکو کہتا ہوں جو کچھ بہتر لکھ رہے ہوتے ہیں اور میری دانست میں کچھ محنت سے اور بہتر لکھ سکتے ہیں
نہ مجھے استادی جھاڑنے کا شوق ہے نا شاگرد بنانے کا- میں صرف دوستانہ مشورہ دیتا ہوں -
- یہ جس میسج سے اس بحث کا آغاز ہوا تھا وہ میں نے اسی لیۓ ایک عمومی پیغام کے طور پر بھیجا تھا خاص کسی کے نام نہیں -

0
جزاک اللہ

0
محترم راشد صاحب! آپ نے خواجہ صاحب کو بڑا تفصیلی جواب دیا ہے جس کا شکریہ۔ میں نے بھی آپ کے لہجے پر اعتراض کیا تھا نہ کہ تنقید پر۔ تنقید برائے اصلاح سر آنکھوں پر لیکن اگر انا بخیرِ مِّنہ کا مظاہرہ ہو تو پھر آپ جانتے ہیں کس سے ناطہ بنتا ہے۔ بہر حال آپ اصلاح تجویز کر دیں تو بہت نوازش ہو گی
جزاک اللہ خیراً
ڈاکٹر طارق انور باجوہ

0
سر آپ کی بات پہ مجھے اپنا ہی ایک مصرعہ یاد آگیا
"کاش لفظوں میں بھی لہجہ مرا سما جاتا"

الفاظ لہجہ نہیں پہنچاتے اسی لیے اتنے سارے اشارے ایجاد کیے گے ہیں جیسے ! یا َ؟ وغیرہ

تو جناب لہجہ تو آپ جیسا سوچیں گے آپ کو ویسا ہی لگے گا - میں اسی لیے سر اور جناب اور حضرت وغیرہ سے آغاز کرتا ہوں - مگر خیر - اگر آپ کو میری تنقید میری بڑائ کی کوشش لگتی ہے تو بہتر ہے میں آپ کو نہ ہی لکھوں -
میں نے اسی وجہ سے آپ کو عرصے سے نہیں لکھا- پہلے بھی اس لیۓ ہی لکھا تھا کہ آپ میں مجھے پوٹنشل نظر آیا تھا مگر میرے حساب سے آپ جس ڈگر پہ چل پڑے تھے وہ راستہ آپ کو کامیابئ کی طرف لے جانے والا نہیں تھا میری نظر میں -

سر ایک بات اور کہوں - میں فل ٹائم جاب کرتا ہوں - تین نان پرافٹس اورگنائیزیشنز چلاتا ہوں مطلب یہ کہ فالتو نہیں ہوں - میں پھر بھی وقت نکال کے اگر آپ کو مشورہ دیتا تھا تو اس میں میری کیا غرض ہو گی -؟ میرا آپ سے کوئ معاصرانہ تعلق بھی نہیں تھا - تو پھر یقینا یہ میرا اخلاص ہی تھا زبان و ادب کے لیۓ کہ آپ جیسے اجنبی شخص کی بھی ترقی کا خواہاں تھا۔

خیر - خوش رہیے -

0
میری معروضات کے باب میں مولانا موصوف کا حوالہ غیر از سیاق و سباق نہیں ہے کہ یہاں ستّر سال کے بوڑھے بیچارے کو اپنی نبی صل الہہ علیہٖ وسلّم کا علم نہیں کہ وہ کون ہیں اسمیں ان کا تو شاید زیادہ قصور نہیں ہے مگر یہ علماء حضرات اور والدین کی ذِمّہ داری تھی کہ وہ اپنے گردونواح کو کم ازکم بنیادی باتیں بتائیں اور اگر یہی بوڑھا کسی عام مولوی صاحب کے استفسار پر یہ جواب دیتا تو شاید اس پر کفر کا فتویٰ لگ جاتا مگر مولانا محترم اس پر ناراض نہیں ہوئے اور اسے پیار سے بتا دیا کہ ہمارے نبی کا نام کیا ہے لہٰذا ہر ناصح اور مصلح کو کسی کی تحقیر کی بجائے اسے پیار محبّت شفقت اور احترام سے پیش آنا چاہئے خواہ وہ ناصح مَیں ہوں زید یا بکر
اللہ کریم ہمارے سب کے دلوں کو ایک دوسرے کے لئے پیار محبت شفقت اور ایثار سے معمور کر دے آمین
اور قرآنِ حکیم تو ًاِدفع بِالّلتی ھِیٰ احسن کا حکم دیتا ہے

َشاید کہ اتر جائےترے دل میں اُتر جائے مری بات َ

0
شاید کہ اُتر جائے ترے دل میں مری بات

0
محترم ذیشان صاحب، پچھلے تین چار دنوں سے عروض کے پور شن کا بالائی حِصّہ بنیادی رنگ سے تبدیل ہو کر براؤن ہو گیا ہے جس سے شاید اس کی کارکردگی پر تو اثر نہ پڑے مگر رفتار کچھ متاثّر ہو رہی ہے امید ہے آپ توجّہ فرمائیں گے

0
محترم ذیشان صاحب، پچھلے تین چار دنوں سے عروض کے پور شن کا بالائی حِصّہ بنیادی رنگ سے تبدیل ہو کر براؤن ہو گیا ہے جس سے شاید اس کی کارکردگی پر تو اثر نہ پڑے مگر رفتار کچھ متاثّر ہو رہی ہے امید ہے آپ توجّہ فرمائیں گے

0
خواجہ صاحب، رنگ کی وجہ سے اسپیڈ پر کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیے۔

0
محترم ذیشان بھائی، اشاعت سیکشن میں دی گئی نظموں غزلوں وغیرہ میں سبھی ترامیم کرنی ممکن ہیں مگر ” عنوان ” میں
تبدیلی ممکن نہیں ( یا مجھ سے نہیں ہو رہی ) اور یہ اسلئے ضروری ہے کہ کبھی کبھی عنوان بھی تبدیل کرنا پڑتا ہے پلیز توجّہ فرمائیں شکریہ

0