Circle Image

Muhammad Naseem Ashraf

@Naseem

جو گھر میں شیر ہوتے ہیں
وہ باہر ڈھیر ہوتے ہیں
نہیں رہتے جو آپے میں
وہ خود ہی زیر ہوتے ہیں

0
6
کرونا اک حقیقت ہے اسے سازش نہ سمجھو تم
اسے دشمن کی بھڑکائی ہوئی آتش نہ سمجھو تم
یہ آفت ناگہانی ہے نہیں یہ تاج ہیروں کا
اسے پیسہ کمانے کی کوئی کوشش نہ سمجھو تم
بہت ہیں ٹوٹکے لیکن دوا ہے ویکسی نیشن
اسے ہرگز گلے کی عام سی سوزش نہ سمجھو تم

0
8
اے نفسِ مطمئنہ
تو رب کی اور آ یوں
کہ تو راضی ہو اس سے
وہ بھی راضی ہو تجھ سے
ہو بندوں میں تو شامل
ہو جنت میں تو داخل

0
6
ہے نعمت کا اظہار بھی اک عبادت
خدا نے یہ قرآں میں دی ہے اجازت
تشکر کا کرتی ہے گرچہ تقاضا
خدا کی عطا کردہ ہر ایک ساعت
ہے سترہ ستمبر بھی یومِ سعادت
یہ ہے میرے مرشد کا یومِ ولادت

0
17
تیرا پیغام ہے روح عرض و سماں
نور قرآں سے روشن ہے سارا جہاں
تیرے اہلِ حرم ، کعبے کے پاسباں
تیرے اہلِِ صفا، علم کے ترجماں
تیرے اصحاب تاروں بھری کہکشاں
جنکے نقشِ قدم منزلوں کے نشاں

0
13
مئے عشق ہے باقی
پلا اور مجھے ساقی
کبھی ختم نے ہوگا
یہ نشہ ہے آفاقی

0
11
دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہے
درسِ شر جو دے وہ مکتب نہیں ہے
فطرت دیتی ہے انساں کو حقِ دفاع
خونِ ناحق جو مانگے وہ رب نہیں ہے

0
4
سارے جہاں کا مرکز و محور ہے زمیں
گو عقل نہ مانے پر دل کو ہے یقیں
سب تاروں کا قبلہ و کعبہ ہے یہیں
محبوبِﷺ خدا ہیں سبز گنبد میں مکیں

0
4
دوزخ کا ہوں گے ایندھن انسان اور پتھر
ناجی ہے ایک فرقہ اور ناری ہیں بہتر
نکلے یہود سے ہم آگے ہیں اس طرح سے
ان کے تھے بس بہتر پر اپنے ہیں تہتر

0
4
کرکٹ بھی عصر نو کا اک دیوتا ہے
ہندوستاں اب اس کو بھی پوجتا ہے
شاہینوں کا شکار کرنے کے لئے
مکڑی کا جال ہر سو پھیلا ہوا ہے

0
6
یو این سے انصاف کی امید نہ رکھ
پرکھے ہوئے بازو دوبارہ نہ پرکھ
مومن اک بل سے پھر کھاتا نہیں ڈنک
ناکامی کا ذائقہ دوبارہ نہ چکھ

0
1
"کشمیر بنے گا پاکستان"
جب سارا اٹھے گا پاکستان
آزادی کے ایجنڈے کی
تکمیل کرے گا پاکستان
اپنے اس سچے دعوے سے
پیچھے نہ ہٹے گا پاکستان

0
16
ہر بندے کو جگ میں اپنی فکر پڑی ہے
ایسا لگے جیسے محشر کی یہ گھڑی ہے
اک نادیدہ خوف نے واضح کیا ہے پھر
کمزور ہیں ہم سب رب کی ذات بڑی ہے

0
7
سگرٹ نوشی کی اجازت ہے
دینے والوں پر لعنت ہے
حاکم کو تو ٹیکس چاہیے بس
تیری جاں کی کیا قیمت ہے

0
3
خدا کے رستے پہ چلنے والے
تلاش حق میں نکلنے والے
کہیں تو رستے میں کھو گیا ہے
کہیں تو تھک کر ہی سو گیا ہے
اگر تو سوتے ذہن کو تیرے
گھڑی کی ٹک ٹک جگا نہ پائے

0
4
آساں ہے انگلیاں اٹھانا
مشکل ہے گردنیں جھکانا
دونوں ہی کچھ جھکیں اگر تو
ممکن ہے ساتھ پھر نبانا

0
4
قطار خواہشوں کی گو طویل ہے بہت
سفر یہ زندگی کا پر قلیل ہے بہت
حیاتِ جاوِداں کی گر ہے آرزو تو پھر
صراطِ مستقیم ہی سبیل ہے بہت

0
3
اک بار پھر سے ماہِ رمضان آ رہا ہے
تازہ دلوں میں کرنے ایمان آ رہا ہے
پھر زندگی میں رب کا مہمان آ رہا ہے
ماہِ شبِ نزولِ قرآن آ رہا ہے
کم کرنے پھر ہمارے عصیان آ رہا ہے
قابو اسی مہینے شیطان آ رہا ہے

0
6
ہزار راہیں دکھاۓ شیطاں
بھٹک نہ جانا کہیں اے ناداں
خدا کے رستے کو چھوڑنا مت
ملے گی منزل تجھے اے انساں
سماجی راہوں میں کھو نہ جانا
خودی کو اپنی بنا تو پہچاں

0
3
کوئی لو لگانے والا ہو
کوئی دیپ جلانے والا ہو
کفار کے ظلمت خانے میں
کوئی راہ دکھانے والا ہو
مغرب میں قلبِ مسلم کو
کوئی آس دلانے والا ہو

0
5
یارب تو مومنوں کا قبلہ درست کر دے
بہکے ہوئے دلوں کا قبلہ درست کر دے
آپس میں لڑ رہے ہیں سب مسلمان بھائی
گھر کے محافظوں کا قبلہ درست کر دے
قصرِ سفید سے اب لیتے ہیں یہ ہدائت
کعبے کے خادموں کا قبلہ درست کر دے

0
4
انساں بدل رہا ہے فیضانِ مصطفیﷺ سے
گر کے سنبھل رہا ہے فیضانِ مصطفیﷺ سے
جو سجدے کر رہا تھا بے جان پتھروں کو
اب ان پہ چل رہا ہے فیضانِ مصطفیﷺ سے
پوجا گیا تھا اپنے جو نور کی وجہ سے
سورج وہ ڈھل رہا ہے فیضانِ مصطفیﷺ سے

0
7
یارب دعا ہے سیدھا رستہ ہمیں دکھا دے
اسلام کے مطابق جینا ہمیں سکھا دے
ہم کلمہ گو ہیں لیکن کچھ ڈگمگا رہے ہیں
ایمان پختہ کرکے مومن ہمیں بنا دے
ہر امتی کے دل میں یادِ نبیﷺ بسا دے
سنتِ نبیﷺ کا پیکر ہر فرد کو بنا دے

0
6
میرے لبوں پہ یارب ہر وقت یہ دعا ہو
ہر کام سے مرے اب تیرا ہی حق ادا ہو
سر کو جھکا کے میں نے یہ عرض کی خدا سے
تقدیر ہو کچھ ایسی جس میں تری رضا ہو
محفوظ ہوں بشر سب اک دوسرے کے شر سے
انساں سے میرے مولا کوئی نہ اب جفا ہو

0
9
بنتا ہے مقدر والا ہی مہمان مدینے والے کا
ہوتا ہے کرم خوش بختوں پر ہر آن مدینے والے کا
سرکار کے سچے عاشق کی تاریخ گواہی دیتی ہے
کرتا ہے حکومت دنیا پر دربان مدینے والے کا
باقی نہ رہی دل میں کوئی اس فانی دنیا کی چاہت
ہر عاشق کے سینے میں ہے ارمان مدینے والے کا

0
13
ہر دن ہے آپﷺ کا دن ہر رات آپﷺ کی رات
ہے ماورا زمانے کی رو سے آپﷺ کی ذات
خالی نہیں ہے پَل کوئی آپﷺ کی ثنا سے
عشاق بھیجتے ہیں ہر دم درود و صلواتﷺ

0
ماہِ ربیع الاول آیا
ساتھ خدا کی رحمت لایا
رحمتِ عالم کی آمد سے
انساں نے ہے رب کو پایا

0
2
بارہ ربیع الاول کا دن سب دنوں سے افضل ہے
میلاد ہے یہ اس ہستی کا جو سبھی سے اکمل ہے
ظلمت کدہ تھی دنیا محمدﷺ کی آمد سے پہلے
روشن اسی کی برکت سے وحدانیت کی مشعل ہے

0
2
دل رو رہا ہے برمی مسلم کی خوں کشی پر
افسوس ہو رہا ہے امت کی بے بسی پر
خوں کھولتا رگوں میں اپنوں کی بے رخی پر
کیوں پیچ و تاب کھا‌ؤں غیروں کی بے حسی پر
ہیں گونگے اندھے بہرے یہ منکرین محشر
خیرت نہیں ہے مجھ کو دنیا کی خامشی پر

14
نہیں تھا سکوں پاتا جب رات بھر میں
ستارے ہی گنتا تھا تب رات بھر میں
ہے دل جب سے کرنے لگا یاد رب کو
ہوں سو پاتا بے فکر اب رات بھر میں
جہاں بھر میں اڑتا ہوں بن کے میں طائر
کبھی خواب دیکھوں عجب رات بھر میں

12
دل کی دھڑکن ہی زندگانی ہے
زندہ ہونے کی یہ نشانی ہے
رحمِ مادر میں بھی سنائی دے
یہ نہ دھڑکے تو موت آنی ہے

0
18
یارب ہمیں عطا کر اک اور بن خطاب
قائم ہو پھر خلافت پھر آۓ انقلاب
امت کی بے بسی کا دیکھا نہ جاۓ حال
ظالم سے ظلم کا اب کوئی تو لے حساب
سنتی نہیں ہے دنیا مظلوم کی پکار
٘محکوم کی صدا کا کوئی تو دے جواب

30