Circle Image

محمد طیب

@Mtaiyab

اس نئے دور میں ہر درد کو راحت لکھیے
عزّتیں لٹتی ہیں لٹ جائیں ، حفاظت لکھیے
بات اتنی سی قلم کاروں سے کہنی ہے مجھے
حق اگر لکھ نہیں سکتے ہیں تو کچھ مت لکھیے
جھوٹ، دھوکہ ہو حسد ، لڑنا ، لڑانا ، چوری
سب کو اک ساتھ اگر لکھیے ، سیاست لکھیے

0
1
4
مصائب سے نکلنے کی چلو تدبیر کرتے ہیں
جلے ہیں آگ میں تو خود کو ہی شمشیر کرتے ہیں
جھکائے سر جو بیٹھا ہوں تو نہ ذرہ سمجھ لینا
سنو ہم آسماں کو فرش سے تعبیر کرتے ہیں
جہاں والوں پہ تکیہ سوچ کر کرنا کہ اکثر یہ
مسائل حل نہیں کرتے ہیں بس تقریر کرتے ہیں

0
8
ضمانت چھین لی رب نے حفاظت چھین لی رب نے
جہاں میں سب پریشاں ہیں حمایت چھین لی رب نے
بلانے پر نہ آتے تھے بہانے ہم بناتے تھے
مسلمانوں نمازِ باجماعت چھین لی رب نے
اذانیں روز ہوتی تھیں مگر ہم سوئے رہتے تھے
اذانیں چھین لی رب نے ثقافت چھین لی رب نے

13
مجھ سے ملنے میں صنم رسوائیوں کا خوف تھا
آپ کو توبھیڑکی پرچھائیوں کا خوف تھا
دشمنوں کی چال سے مجھ کو نہیں لگتا تھا ڈر
نا سمجھ کی کی ہوئی اچھائیوں کا خوف تھا
ہم سمندر پار کر لیتے تھے یوں ہی تیر کر
موج کا نا تو ہمیں گہرائیوں کا خوف تھا

0
24
ہر شئی سے شیتل ہے قرآنِ اکرم
رحمت کا بادل ہے قرآنِ اکرم
پاگل ہی کہتا ہے قرآں کو ناقص
کامل ہے اکمل ہے قرآنِ اکرم
جو چاہے پڑھنا وہ پڑھ لے یقیناً
آسان و اسہل ہے قرآنِ اکرم

0
22
کالے بادل کو صنم رخ سے ہٹا دیتے ہیں
اس طرح دل میں لگی آگ بجھا دیتے ہیں
دلنشیں انکی ادائیں ہیں، نگاہیں قاتل
زخم دل پر وہ نگاہوں سے لگادیتے ہیں
ہم نے منزل پے پہنچنے کی قسم کھائی ہے
آندھیوں میں بھی قدم اپنا بڑھا دیتے ہیں

0
32
تھوڑا مشکل تھا مگر زخم سنبھالے ہم نے
درد میں ہنس کے ہی ایام نکالے ہم نے
اب ہمیں فکر نہیں جو بھی ہو بہتر ہوگا
خود کو جب کر ہی دیا رب کے حوالے ہم نے
پوچھنے حال کوئی رات میں آیا ہی نہیں
دیگ پانی سے بھرے کتنے ابالے ہم نے

0
60
پنچایت کے لوگوں نے اس بار یہ ملکے ٹھانا ہے
اب کی بار تو مکھیا پد پے سیف خان کو لانا ہے
ہر گھر کو ہے روشن کرنا ہر بچے کو پڑھانا ہے
علم و ہنر کا دیپ نگر کے ہر ہر گھر میں جلانا ہے
اب کی بار تو مکھیا پد پے سیف خان کو لانا ہے
بجلی، پانی چھت اور روٹی ، پہلا مشن ہمارا ہے

0
33
ضلالت تو ہے ہی حقیقت میں آگ
ولی نے لگائی ولایت میں آگ
بھروسہ وفا پر بھی ہوتا نہیں
صداقت، شرافت ، اطاعت میں آگ
کبھی دشمنوں میں بھڑکتی تھی پر
بھڑکتی ہے اب تو اخوت میں آگ

0
45
گزرگاہِ محبت میں بہت بیمار بیٹھے ہیں
پتنگے جان دینے کے لیے تیار بیٹھے ہیں
دلوں کو موہ لیتے ہیں جو اپنی پیاری باتوں سے
چھپاکر آستینوں میں وہی تلوار بیٹھے ہیں
غریبوں سے چراکر مالداروں کو کھلاتے ہیں
ہمارے شہر میں ایسے کئی دلدار بیٹھے ہیں

42
دریا جو سمندر سے مل جائے امر ہوگا
مضبوط جڑیں ہوں تو مضبوط شجر ہوگا
غیروں کے بھروسے پر بھٹکو گے بھلا کب تک
اپنا ہو اگر رہبر محفوظ سفر ہوگا

0
18
سن تو ذرا کرم کی آواز آ رہی ہے
روٹھے ہوئے صنم کی آواز آ رہی ہے
تم کیوں نہ آئے ملنے ہم کو صنم منانے
پیاری سی چشمِ نم کی آواز آ رہی ہے
فرقت تو ہوگی لمبی اب منتظر رہو تم
پھر سے نئے الم کی آواز آ رہی ہے

27
کیا اثر ہوتا ہے بے بس کی دعا کا دیکھنا
حوصلہ ٹوٹے گا ظالم ناخدا کا دیکھنا
پیڑ جو اکڑا ہوا ہے کوئی اسکو دے بتا
توڑ ہی دیگا تجھے جھوکا ہوا کا دیکھنا
روز سورج سوچتا ہے آج میرا راج ہے
خون روتا ہے ذرا منظر مسا کا دیکھنا

3
37
لگا ہوں جس کو مصیبت سے میں بچانے میں
وہی لگا ہے مری مشکلیں بڑھانے میں
لگے ہیں یار مرے گھر مرا جلانے میں
مرے دیار سے مجھ کو ہی اب بھگانے میں
غموں نے گھیر لیا درد ہے مصیبت ہے
لگے ہو تم تو فقط حال ہی سنانے میں

31
بادل سے پیار برسے بس اتنا چاہتے ہیں
نفرت مٹے ڈگر سےبس اتنا چاہتے ہیں
بیٹی رہے سلامت ہر گھر کی ہو حفاظت
شیطان کی نظر سے بس اتنا چاہتے ہیں
ظالم ہو جو درندہ تھرّائے کپ کپائے
انسانیت کے ڈر سے بس اتنا چاہتے ہیں

0
27
ذرا ہوا سے اتر، آ زمیں پے آکر دیکھ
کبھی تو یار کسی کو تو مسکرا کر دیکھ
ملے گی تجھ کو خوشی دل کا بوجھ کم ہوگا
کسی غریب کو سینے سے تو لگا کر دیکھ
بہت غرور ہے تجھکو تری بلندی پر
اے آسمان ذرا مجھکو آزما کر دیکھ

0
41
ترقی دیش کی یوں ہو رہی ہے
بہن ماں اور بیٹی رو رہی ہے
درندے گھومتے ہیں راستوں میں
قفس میں پیاری بلبل سو رہی ہے
جو کہتے ہیں بچاؤ بیٹیوں کو
خطا ان سے ہی سرزد ہو رہی ہے

0
36
حق بات سرِ بزم سناکر گیا ہے وہ
آئینہ حقیقت کا دکھا کر گیا ہے وہ
بے باک، نڈر، الفت و چاہت کا پیمبر
سارے جہاں کو جینا سکھا کر گیا ہے وہ

0
21
سارے عالم کو رلا کر چل دئیے حضرت امیں
سوئے جنت مسکراکر چل دئیے حضرت امیں
دین کی خاطر کھپا دی آپنے یہ زندگی
دعوتِ حق کو سجا کر چل دئیے حضرت امیں
نیک سیرت خوش مزاج و حق کے داعی آپ تھے
زندگی جینا سکھا کر چل دئیے حضرت امیں

0
69
زمیں پر آسماں تیرا اترنا اب ضروری ہے
گھمنڈی ہو گیا ہے تو سدھرنا اب ضروری ہے
بہت تم نے دکھا دی اے سمندر اپنی طغیانی
تمہارا آکے ساحل پر بکھرنا اب ضروری ہے
جلا کر شہر وہ آرام سے بیٹھے ہیں گدی پر
سبھی ظالم کا گدی سے اترنا اب ضروری ہے

0
36