Circle Image

Shahab Ahmad

@Shahaba

غزل
آتش کدہ ہے گھر مرا اس گھر کا کیا کروں
شرمندگی سے جُھک گیا تو سر کا کیا کروں
لتھڑے پڑے ہیں خون میں ماؤں کے چاک دل
ہٹتا نہیں ہے آنکھ سے منظر کا کیا کروں
بچوں کا قتل عام - مذمّت تو فرض ہے

3
غزل
ساتھی ہو تو من کو سب کچھ اچھا اچھا لگتا ہے
ورنہ ہنستا بستا آنگن سونا سونا لگتا ہے
تیرا پیکر تازہ تازہ پھولوں کا گل دستہ ہے
چھو لوں جس پل اپنا تن من مہکا مہکا لگتا ہے
چاندی جیسا تیرا پیکر کپڑوں میں رَچ جاتا ہے

0
2
غزل
گزر چکے ہیں بہت ماہ و سال یہ سوچیں
قریب آمدِ روزِ وصال یہ سوچیں
بہار دیکھی ہے لطفِ خَزاں بھی دیکھیں گے
عروج ہے تو کبھی ہے زوال یہ سوچیں
اگر تو چھوڑ کے جانا ہے مال و زر پیچھے

0
52
غزل
مہکا مہکا ترا گلزارِ بدن یاد آیا
ہنستا ہنستا ترا اندازِ سخن یاد آیا
لب و رخسار کے گل اور مہکتے گیسو
شام آئی تو وہی رشکِ چمن یاد آیا
رکھ لیا غنچۂ گل توڑ کے رخساروں پر

0
13
غزل
دلیلیں تو وکیلوں سے بھی پائیدار دیتی ہے
مباحث جیت کر خود مجھ سے بازی ہار دیتی ہے
اِسی ایثار کے صدقے سے اُونچا ہے مِرا شِملا
مِری سجنی تو بازی جیت کر بھی ہار دیتی ہے
بہت مضبوط ہے عورت اسے کمزور مت سمجھیں

0
17
غزل
مسکراتے ہوئے لب دیکھ مچل جاتا دل
اک شکن ہوتی جبیں پر تو دہل جاتا دل
خوب سنجیدہ مزاجی سے محبت کی ہے
کوئی لونڈا تھا میں اُوباش بدل جاتا دل
گوشے گوشے پہ بدن اس نے ترے بوسے لئے

0
9
غزل
لوگ عالی نصیب ہوتے ہیں
جو دلوں کے قریب ہوتے ہیں
ڈھڑکنیں تیز ہوتی جاتی ہیں
آپ جتنا قریب ہوتے ہیں
جو نبھائیں خُلوص سے رشتے

0
45
غزل
بے سبب تم قیاس مت کرنا
اب طبیعت اداس مت کرنا
عشق کرنا حسین لوگوں سے
اک حسینہ کو خاص مت کرنا
چھیڑ کر ذکر بے وفاؤں کے

0
27
غزل
جھوٹی مطلب کی دنیا میں ڈھونڈے سے مخلص یار نہیں
پر ہم نے سچا پیار کیا اس سچ سے بھی انکار نہیں
انمول محبت کا گہنا بے مول کسی کو سونپ دیا
اک عاشق دل کا سودا تھا یہ دنیا کا بیوپار نہیں
ہم محفل محفل ہنستے ہیں پر تنہائی میں روتے ہیں

0
10
غزل
دل کو شعلے دکھا کے مت جاؤ
ایسے دامن چھڑا کے مت جاؤ
شوخ مہکی لطیف سانسوں سے
دل میں طوفاں اٹھا کے مت جاؤ
جذب کرنے دو لمس کی راحت

36
غزل
بچوں کے ساتھ صحن میں رونق لگی رہے
بچوں بغیر گھر میں اداسی بنی رہے
ماں باپ جھیلتے ہیں کڑی دھوپ کی تپش
بچوں کے سر پہ چھاؤں ہمیشہ گھنی رہے
سر جوڑ کے یوں بیٹھے ہیں ٹہنی پہ جیسے پھول

0
16
غزل
تری دلدار بانہوں کے حسیں گھیرے مری توبہ
تری ترچھی نگاہوں کے حسیں ڈورے مری توبہ
گھنی پلکیں، حسیں ابرو ، نفاست سے سجا کجرا
تری ہنستی ہوئی آنکھیں کہیں نغمے مری توبہ
مرے جذبات گرمائیں شرارت پر یہ اکسائیں

0
1
83
غزل
سب سے آگے سب سے اوّل میرا پاکستان رہے
مجھ کو دُنیا بھر سے افضل میرا پاکستان رہے
اس مٹی کا ذرہ ذرہ چاند ستاروں سے روشن ہو
جھلمل جھلمل جھلمل جھلمل میرا پاکستان رہے
کرکٹ کے میدان سے لے کر چاغی کوہستان تلک

0
57
غزل
رنج بھی راحت فزا ہیں نفس کی تسخیر میں
پھوٹتی ہیں راحتیں ہر حلقۂ زنجیر میں
اب مجھے ظلمات سے کوئی بھی اندیشہ نہیں
آئینہ دل کا مجلا ہے نئی تنویر میں
صرف اِک اسمِ محمدﷺ ہے وہ بس بعد اَز خدا

0
18
الوداع
میری لختِ جگر الوداع الوداع
میری نورِ نظر الوداع الوداع
میری نورِ بصر الوداع الوداع
میری بچی تجھے الوداع الوداع
ہو مبارک نئی زندگی کا سفر

3
29
غزل
یہ چند روزہ خزاں کا شمار ہے پیارے
قریب آمدِ فصلِ بہار ہے پیارے
بگڑ گئیں تو دل و جاں، جگر سے جاؤ گے
حسین آنکھوں کا کچھ اعتبار ہے پیارے
کسی نے دیکھا ہے چاہت بھری نگاہوں سے

28
غزل
جاوداں حسن کی علامت ہو
میرے گلشن کی اصل زینت ہو
میری نیندوں میں جو سحر پھونکے
تم اسی خواب کی حقیقت ہو
تیری قربت مری حسیں جنت

0
15
غزل
اوّل اوّل پیار میں وہ ہچکچانا یاد ہے
رفتہ رفتہ قربتوں کے لطف پانا یاد ہے
لمس کی لذت سے مجھ کو آشنا کرنا ترا
وہ یکایک ہاتھ چھو کر بھاگ جانا یاد ہے
پہلے لکھنا پیار کے نغمے، محبت کے خطوط

0
1
15
غزل
کھنکھناتی ہوئی مٹی سے اُٹھایا مجھ کو
آتشِ عشق میں پھر پُختہ بنایا مجھ کو
وَصف اِبلیس و ملَائک کے وَدیعت کر کے
اپنی تخلیق کا شہکار بتایا مجھ کو
ڈال کر اپنی تمنا مرے دل میں خود ہی

0
90
شکریہ ہمسفر
میرے جیون میں آئی تُو بن کے سَحَر
زندگی بن گئی روشنی کا سفر
مشکلیں زندگی میں رہیں جس قدر
ہاتھ مضبوط تھامے رہی عمر بھر
اے مری ہم نوا اے مری ہم سفر

0
72
بیٹیاں
بیٹیاں نور نظر دل کی صدا ہوتی ہیں
بیٹیاں مثل دعا مثل شفا ہوتی ہیں
تپتے صحراؤں میں یہ باد صَبا ہوتی ہیں
بیٹیاں باپ کی پَگھ ماں کی رِدا ہوتی ہیں
فخر کرتی ہیں وہ اَقدار پہ اپنے اعلٰی

18
نعت
عقل کو وجداں سکھایا آپﷺ کی تعلیم نے
آشنا رب سے کرایا آپﷺ کی تعلیم نے
لائقِ سجدہ نہیں رب کے سوا کوئی یہاں
بندگی کرنا سکھایا آپﷺ کی تعلیم نے
فاتحہ تا ناس اک دانش کدہ ہے القراں

0
44
ایبٹ آباد
ایبٹ آباد مرے شہر تو آباد رہے
دل تری یاد میں اکثر یونہی برباد رہے
تُو مرے شہر سدا شاد ہو آباد رہے
تُو مجھے پہلی محبت کی طرح یاد رہے
تری وادی کے مناظر ہیں زمانے سے جدا

0
11
غزل
حقائق پر نہ مبنی ہو تو چاہت مار دیتی ہے
عقیدت حد سے بڑھ جائے عقیدت مار دیتی ہے
کہیں تنہائیاں انسان کو جینے نہیں دیتیں
کہیں اچھے بھلے انساں کو صحبت مار دیتی ہے
کسی سے پیار کے بدلے کوئی امید مت باندھو

0
35
غزل
صبح آئے نہ کبھی یار بِنا شام آئے
میرے ہونٹوں پہ ہمہ وقت وہی نام آئے
مے بھی ہے چاند بھی پرجوش محبت بھی ہے
لطف آ جائے ہمیں وصل کا پیغام آئے
جان بھی مانگیں تو اک پل نہ تعامل برتوں

0
10
غزل
چھپی ہے دل میں ہزار لالچ، یونہی میں تم پر فدا نہیں ہوں
میں ایک بندہ ہوں بندہ پرور ، خدا نہ سمجھو خدا نہیں ہوں
مرے رفیقوں نے جوڑ رکھے ہیں بے وفائی کے سو فسانے
مرے رقیبوں سے پوچھ لو تم حقیقتاّ میں برا نہیں ہوں
اگر کبھی تم منانے آتے، مرے لبوں سے یہی تو سنتے

0
34
غزل
تُو میرا ساجن من ماہی، تُو ہی میرا دلدار پیّا
تُو میری اکھیوں کی ٹھنڈک، تُو دل کا چین قرار پیّا
میں ڈالر پیسے کیوں جوڑوں، یہ سونے چاندی کِس کارن
تُو میرا جیون سرمایہ، تُو میرا ہار سنگھار پیّا
تیری خوش نُودی کی خاطر، اک دن میں سو سو بار سجوں

22
غزل
قسم زیتون کی اقصی عقیدت ہے جنوں کر کے
نہ رکھ پائیں گے وہ محکوم تجھ کو قتل و خُوں کر کے
برُا دھبہ ہے اسرائیل کا ناموسِ انساں پر
جسے تسکین ملتی ہے ہمیشہ کُُشت و خُوں کر کے
نہایت ہی بُرا بزدل ہے گرچہ سُورما ہو گا

29
غزل
دوستو ۔ ریت پرانی یہ نبھاتے جاتے
آتے جاتے کبھی دو چار سناتے جاتے
جان پیاری ہے صنم آپ سے پیاری تو نہیں
ایک موہوم اشارے پہ لٹاتے جاتے
اب میں اغیار سے کیا دل کے فسانے چھیڑوں

59
غزل
گداز سینوں کی حدت کے لطف مت پوچھو
سیاہ زلف کی ظلمت کے لطف مت پوچھو
شہد ٹپکتا ہے کھلتی نفیس کلیوں سے
حسین لب کی حلاوت کے لطف مت پوچھو
حنا کے رنگ سے آراستہ ہے اک گلشن

0
42
غزل
مُسکراتے ہوئے پیغام وہ کیا دیتے ہیں
آنکھ مِلتی ہے تو شرما کے جُھکا دیتے ہیں
لاکھ مُشتاق نظر سے وہ تغافل برتیں
رَنگ رُخسار کے سچ بات بتا دیتے ہیں
روز آتے ہیں سرِ بام وہ سج کر لیکن

0
22
کبھی کبھی
کبھی کبھی مرے دل میں خیال آتا ہے
ترے بغیر مری زندگی ادھوری تھی
مجھے وفا سے محبت سے سرفراز کیا
مری حیات کو چاہت کی چاشنی بخشی
مرا نصیب درخشاں ترے ملن سے ہوا

37
غزل
چند اپنوں کی عنایات سے دل بوجھل ہے
آج پھر شورشِ جذبات سے دل بوجھل ہے
جانے کب صبحِ مسرت کا اجالا چمکے
ظلمتِ غم کی کڑی رات سے دل بوجھل ہے
بات کہنے کی وہ کہتے ہیں نہ میں کہتا ہوں

0
43
غزل
کہیں سروش صفت ہے کہیں پہ ہے شیطاں
کہ خیر و شر کا حسیں امتزاج ہے انساں
میں منتظر ہوں وہ اک روز بھول جائیں گے
مُکر چکے ہیں وہ سو بار کر کے یہ پیماں
یہ خاک و خون میں لتھڑے پڑے ہیں کیوں لاشے

0
28
غزل
چوڑیوں کا چھن چھنا چھن بولنا اچھا لگا
دست و بازو پر سجا رنگِ حنا اچھا لگا
برق چمکی اور سمٹ کر ایک قالب ہو گئے
چاہتوں کی بارشوں میں بھیگنا اچھا لگا
بعد بارش وہ ٹھٹھرنے کا بہانہ خوب تھا

0
62
غزل
جی چاہتا ہے آپ سے فرصت میں بات ہو
بیٹھوں قریب آپ کے قربت میں بات ہو
ہاتھوں میں ہاتھ تھام کہیں دور جا پڑیں
دنیا سے دُور پیار کی جنت میں بات ہو
بیٹھیں بدن سُکیڑ کے پھر ایک ساتھ ہم

0
33
غزل
شراب شیشے سے پینا خراب ہے پیارے
کوئی نظر سے پلائے ثواب ہے پیارے
ابھی جوانی ہے زورِ شباب ہے پیارے
ذرا سنبھل کے زمانہ خراب ہے پیارے
قدم قدم پہ سہانا فریب ہے دُنیا

0
54
غزل
میں ترے روپ کی تصویر بناتا کیسے
حسن تصویر کے پردے پہ سماتا کیسے
دیکھ کمبخت تری قید میں خوش ہے کتنا
دل ستمگر ترے چنگل سے چھڑاتا کیسے
میں نے ہر طور وفاؤں کی نگہبانی کی

0
23
غزل
حسیں رُخسار پہ رُخسار ٹیکوں اور سو جاؤں
تِرے مخمل بدن سے تن لپیٹوں اور سو جاؤں
دہکتی آگ سے شعلے لپکتا ہے بدن تیرا
چَلو آوٴ ذرا کچھ ہونٹ داغوں اور سو جاؤں
تِری قربت سبھی آزار جیون کے بھلا ڈالے

0
30
غزل
مُسکراتے ہوئے پیغام وہ کیا دیتے ہیں
آنکھ مِلتی ہے تو شرما کے جُھکا دیتے ہیں
لاکھ مُشتاق نظر سے وہ تغافل برتیں
رَنگ رُخسار کے سچ بات بتا دیتے ہیں
روز آتے ہیں سرِ بام وہ سج کر لیکن

0
62
غزل
مدوا تری آنکھوں سے چھلکتی ہے ابھی بھی
پُروا تری زلفوں سے الجھتی ہے ابھی بھی
شوخی ہے شرارت ہے وہ مستانہ نظر میں
بجلی کی طرح دل پہ لپکتی ہے ابھی بھی
بیٹھی ہو تو گل دستے کی مانند سمٹ کر

0
33
غزل
مجبور لوگ نقل مکانی میں چل پڑے
جب بن پڑا نہ راستہ پانی میں چل پڑے
ڈر سے ٹھٹک گیا تھا قلم کار کا قلم
کردار ِچند ایسے کہانی میں چل پڑے
سوچا نہ تھا کہ خیر سے جائیں گے ہم کہاں

0
22
غزل
شیخ ڈرنے کی عمر ہے اپنی
عشق کرنے کی عمر ہے اپنی
مل کے بچپن کے بچھڑے یاروں سے
رقص کرنے کی عمر ہے اپنی
خواب خاکوں میں خوب فرصت سے

0
33
غزل
کلیوں کے جیسی نازکی قربان جائیے
رنگیں لبوں کی چاشنی قربان جائیے
پھُولوں کِیطرح کِھل اُٹھیں نازک ہتھیلیاں
رنگِ حِنا کی دِلکشی قربان جائیے
چَھن چَھن کے جھانکنے لگی نازک لباس سے

0
67
غزل
محسوس کی ہے پیار کی حدت کبھی کبھی
نکلی ہے میرے دل کی بھی حسرت کبھی کبھی
جس جا وفا ملے اسے بڑھ کر سمیٹ لیں
ملتی ہے زندگی میں یہ دولت کبھی کبھی
ہم کو وہ التفات سے دیکھیں مگر کہاں

0
92
غزل
شوخ میرے ساتھ ہے پر دِل سنبھلتا ہی نہیں
مختصر سی رات ہے پر دِل سمجھتا ہی نہیں
وصل کی شب ہجر کے صدمے سناتا ہے کوئی
سامنے کی بات ہے پر دِل سمجھتا ہی نہیں
ناز نخرے سب دکھاتے ہیں توجہ کے عوض

0
64
غزل
نخرے سے جب وہ ہاتھ چُھڑائیں بھلی لگیں
چَھن چَھن یہ چُوڑیوں کی صَدائیں بھلی لگیں
دونوں جہان جن کی محبت میں لٹ گئے
اب بھی وہ شوخ شوخ نگاہیں بھلی لگیں
پُوچھو نہ چَشمِ یار کی جَادُو نِگاہیاں

2
92
غزل
نشتر پکڑ کے خار کو دل سے نکال دوں
سوچا خیالِ یار کو دل سے نکال دوں
دل کو مرے بدل دیا اک لالہ زار میں
اس بے مزہ بہار کو دل سے نکال دوں
آتش کدہ بنا دیا اس دل کا خاک داں

0
61
غزل
دوستوں میں جب باہم فاصلے نکلتے ہیں
آڑ میں چھپے دشمن سامنے نکلتے ہیں
زندگی کے عقدوں کا حل کوئی نہیں آساں
الجھنوں کے بیچوں بیچ راستے نکلتے ہیں
خوف جاہلیت کی طے شدہ علامت ہے

0
69
غزل
آنکھوں کے مے کدؤں کا بھی صدقہ اتارنا
کھلتے ہوئے لبوں کا بھی صدقہ اتارنا
خوشبو اُڑاتی پھرتی ہیں ہر سو فضاؤں میں
زُلفوں کی بدلیوں کا بھی صدقہ اتارنا
پھولوں سی سج رہی ہیں جو رنگِ حنائی میں

0
76
غزل
چندا کو دیکھ بام پہ پردہ گرا لیا
دانستہ ان کی یاد سے دامن چھڑا لیا
بڑھ چڑھ کے ہر رقیب نے پھر تبصرے کئے
موضوع شوخ نے ہمیں جب سے بنا لیا
آوارگی کا آپ نے طعنہ دیا ہمیں

0
46