Circle Image

خواجہ امید محی الدّین

@150247

نیدرلینڈ

مجھ کو خموشیوں کا بڑا مشورہ دیا
اور آپ اپنے راز سے پردہ اُٹھا دیا
کوئی نہیں وہ اور بس ربِّ قدیر ہے
اُس کو گرایا اِس کو پکڑ کر اُٹھا دیا
جس کی اساس پانی کی اک بُوند ہے اسے
لوگوں نے مکر و فن سے سروں پر بٹھا دیا

7
49
عارضے بڑھتے گئے اور نیند کم ہونے لگی
دیکھ کر اپنا سراپا آنکھ نم ہونے لگی
جن اجالوں پر بنی آدم کو تھا فخرو غرور
وہ ضیائے نور تاریکی میں ضم ہونے لگی
مَیں نے دلبر کی نہ تھی تیری شکایت حشر میں
میری حالت سے کہانی خود رقم ہونے لگی

0
19
تَوسنِ فکر پہ مہمیزِ سخن آیا نہیں
ایسا مہتاب ہے تُو جس پہ گہن آیا نہیں
آندھیاں آڑ بنیں راستے دیوار ہوئے
عزم ایسا کہ کبھی رنج و محن آیا نہیں
دولت و حشمت و ثروت سے رہا بالا مقام
حدّ ِفاصل میں کبھی لعلِ یمن آیا نہیں

0
29
اُس نے بھُلا کے مجھ پہ یہ احسان کر دیا
سفرِ حیات کو بہت آسان کر دیا
لگتی رہیں ہر ایک سے خوش گپیاں مگر
دیکھا مجھے تو جان کر انجان کر دیا
کوٹھی بنائی کہنے لگے آپ کے لئے
پھر مجھ کو واں پہ حاجب و دربان کر دیا

2
23
بند کمرے میں چلی آئی مَیں کچھ نہ کہہ سکا
مَوت آ پہنچی تو ہر تدبیر نے دھوکہ دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیٹے کی جان کے لئے ماں بھینٹ چڑھ گئی
آنکھوں کی شرم رنگِ حنا کچھ نہیں بچا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

0
28
تم نے بھلا دیا تو کیا سارا جہان ہے
تیری زمین ہے نہ ترا آسمان ہے
جو چوٹ تیرے ہجر میں کھائی تھی یاد ہے
تم کو نظر نہ آئے گی دل پر نشان ہے
جو پیڑ سایہ دار تھا وہ خشک ہو گیا
مجھ کو جنون تھا وہ مرا سائبان ہے

0
1
28
نائبِ یزداں ہوں لیکن کیا کہوں
ہو چُکا ناپید واللہ سب سکوں
ظلم و استبداد کا عالم کہ اب
فطرتِ آدم ہوئی خوار و زبوں
بیچتے ہیں لوگ اپنی بیٹیاں
پیٹ میں روٹی ہے نا جسموں میں خوں

0
16
تھوڑا انصاف کرو غلطیاں معاف کرو
پہلے بھی کرتے رہے آج بھی الطاف کرو
مَیں بھی دنیا میں ہوں دنیا کے رواجوں کی طرح
زخمِ بھی تُم نے دئے ہیں تو تمہی صاف کرو
لُوٹ کر قوم و وطن ڈھیر لگائے زر کے
باپ کا مال ہے دل کھول کے اسراف کرو

0
10
جو آج ہے آواز وہ شاید نہ سنوں پھر
اور اپنی بھی آواز کو پہنچا نہ سکوں پھر
اک بار ہی سننے کی سزا جھیل رہے ہیں
اک بار اگر اور کہا کُن فیکوں پھر
سپنے میں انہیں دیکھ کے گھبرا سا گیا مَیں
گر سامنے آ جاتے تو کیا کرتا جنوں پھر

0
15
چھوڑا ہے جس نے راستے میں اس کا کیا قصور
میرے نصیب میں ہی ازل سے رہا فتور
یہ اشتہا ہی تھی تجھے سر پر بٹھا لیا
ورنہ تو سچ یہی ہے تُم بھی نا پری نا حُور
مشہور ہو گئے ہو تو مُوسیٰ کو دو دعا
ورنہ کوئی نہ جانتا تجھ کو اے کوہِ طُور

0
26
اللہ کا کرم ہے تری محنت کا صِلہ ہے
بھارت کے تکبّر کا جگر چیر دیا ہے
اک دن تجھے بابر نے ہی مغلوب کیا تھا
اب بابر اعظم کا مزہ چکھ ہی لیا ہے
چھ سات کی میدان سے ہی چھُٹیّ کرائی
جو شیر تھا میدان میں بھی شیر رہا ہے

0
27
مرے بچّے مرے دل کے ارادے جان لیتے ہیں
مَیں دن کو رات کہہ دوں رات کو دن مان لیتے ہیں
انوکھا راج ہے تیرا نرالی سلطنت تیری
ترے چمچے ہر اک مسلم پہ خنجر تان لیتے ہیں
کسی سے مانگنے سے عزّت و توقیر گھٹتی ہے
بہت کم ہیں جو دانستہ کوئی احسان لیتے ہیں

0
21
لکھ رہے ہو کب سے لیکن کیا ہؤا حاصل امید
راستے مسدود ہوں تو پھر کہاں منزل امید
وہم لگتا ہے کہ ہم سارے بنی آدم ہیں دوست
گلستاں ویران ہے اب رہ گئے جنگل امید
چاک کر ڈالی نَفَس نے نسلِ آدم کی قبا
پھنس گئے گرداب میں اور دُور ہے ساحل امید

0
88
جس نے دیکھا تجھے وہ فنا ہو گیا
حُسن والوں کا صدقہ ادا ہو گیا
مجھ کو ہر گام پر سجدے کرنے پڑے
کیا کریں جب زمانہ خدا ہو گیا
بیٹا کہتے ہوئے جس نے آواز دی
مَیں اسی ماں پہ دل سے فدا ہو گیا

0
23
انہیں ناراض ہونا ہو تو مجھ کو خواب آتا ہے
کہ جس کمرے میں رہتا ہوں وہ زیرِ آب آتا ہے
تری محفل میں سنتے ہیں اسی کی آمد آمد ہے
وہ جس کی دید کو ہر آدمی بے تاب آتا ہے
شناساؤں نے گو ترکِ تعلق کر لیا مجھ سے
مرے حسنِ غزل کو دیکھنے مہتاب آتا ہے

0
27
مجھ سے عجیب ہاتھ مرا پِیر کر گیا
میری زمیں پہ اپنا گھر تعمیر کر گیا
رہتا ہے اس گلی میں جسے ڈھونڈتے ہیں آپ
آ کر کسی نے موڑ پے تحریر کر دیا
ٰذی مرتبہ حسین تھے ذی مرتبہ رہے
جو کوئی بھی نہ کر سکا شبّیر کر گیا

0
31
چھیڑو نہ فسانے محمل کے اور بات کرو انسانوں کی
چپُّو نہ چلاؤ ساحل پر اور فکر کرو طوفانوں کی
بھگوان کے پاس تو وقت نہیں انسان بھی گونگے بہرے ہیں
یہ دَور ہے پتھّر کا لوگو یاں کس کو قَدَر ارمانوں کی
وہ دیکھو کُٹیا کے اندر اک جانِ سوختہ لیٹی ہے
جو رام کے واسطے دیتی رہی پر کون سنے بھگوانوں کی

61
روکتی ہیں عمر کی مجبوریاں
ورنہ خاطر میں نہ لاتا دوریاں
خواب میں بھی یہ کبھی سوچا نہ تھا
مجھ سے پہلے پونچیں گی بیساکھیاں
بے سبب تجھ کو گلہ ہے پھول سے
نا ہی ویسے پھول ہیں نا تتلیاں

0
37
مرے خیال میں اب تک وہ بات ہے باقی
کہا تھا چاند نے جس وقت رات ہے باقی
عبور کر لئے کتنے ہی پُل زمانے کے
سنبھل اے دل کہ ابھی پُل صراط ہے باقی
جو ڈرنے والے تھے ہر لغو سے بچے ہی رہے
کہا سرور نے عیش و نشاط ہے باقی

0
20
آ رہی ہے رات تو کچھ غم نہیں
وہم ہے اس کو کہ ہم آدم نہیں
جن کے پہلو میں گزارے رات دن
ساتھ ہی رہتے ہیں پر باہم نہیں
کیوں کسی کی برملا تحقیر ہو
ابنِ آدم آدمی سے کم نہیں

0
33
کچھ نہیں میرے لئے اب اُن کے پاس
اِلّا یہ کہ اور کر جائیں اداس
کیا کبھی سوچا ہے تم نے جانِ مَن
کون ہیں یہ لوگ تیرے آس پاس
زندگی جس کی کٹی خُدّام میں
جھونپڑی کیسے اسےآئے گی راس

0
48
شرارت کی تھی آنکھوں نے سزا پائی مرے دل نے
مجھے مبہوت کر ڈالا ترے نینوں کے کاجل نے
کناروں سے نکلتی مضطرب موجوں کی جولانی
بہت زوروں پہ ہے پانی دیا پیغام ساحل نے
بہت سے منزلوں کی جستجو میں عمر بھر بھٹکے
بہت تھوڑے ہیں جن کو آ کے خود ڈھونڈا ہے منزل نے

0
96
بھُولنا چاہتا ہوں لیکن اتنا بھی آساں نہیں
جتنے شکوے ہیں مرے لفظوں میں اتنی جاں نہیں
مَیں یہی سمجھا تھا اُن سے ختم ہوں گی رنجشیں
پر مرا ادراک ہے اب اس کے بھی امکاں نہیں
جس نے بچّوں کے لئے بے لَوث قربانی نہ دی
وہ ولی اللہ تو ہو سکتی ہے لیکن ماں نہیں

0
36
کیا حُسنِ مجسّم ہے عجب زہرہ جبیں ہے
اس عمر میں بھی دیکھ لو ویسی ہی حسیں ہے
قسمت کے جلَو میں ہیں تغیّر کے مباحث
ہاتھوں کی لکیروں کو غَرَض اس سے نہیں ہے
قرآن کا اطلاق گر آدم پہ ہے پھر تو
فردوسِ بریں دَور بہت دِور کہیں ہے

0
36
پھول رنگیں نہ سہی خوشبو ضروری ہے امید
ابرُو کالے ہوں نہ ہوں گیسُو ضروری ہے امید
دھیان سیرت پر بھی ہو لیکن نہ واللہ اس قدر
اندروں کی خیر ہے خوش رُو ضروری ہے امید
ہاتھ تو اُٹھے ہیں سائل پر دعاؤں کے لئے
صرف چشمِ تر نہیں آنسو ضروری ہے امید

0
25
وہ پوچھتے ہو جس کا مجھے علم نہیں ہے
جن گلیوں میں رہتا ہوں صنم تُو بھی وہیں ہے
وہ جس کو کبھی حُسنِ خداداد پہ تھا زعم
وہ آ کے یہاں دیکھ لے ہر چیز حسیں ہے
مسند سے رہی دیر تلک جس کی رقابت
اب خود بھی بڑی شان سے سجّادہ نشیں ہے

0
142
شام و عراق و افغان
مَیں اکیلا ہی نہیں سب ابنِ آدم ہیں یہاں
اُٹھ رہا ہے ہر مکاں ہر قصر سے کالا دھواں
اب سروں کو جوڑ کر بیٹھے ہوئے ہیں ساتھ ساتھ
لاشوں پر تعمیر کرنے شہر کوچے بستیاں
گر کبھی دیکھے نہیں ہیں لشکرِ اِبلیس تو

0
29
سب پُوچھتے ہیں نام کبھی کام نہ پُوچھا
آگاہ تھے آغاز سے انجام نہ پُوچھا
ہیں یاد مجھے آج بھی یارانِ قدح خوار
مَیں بھول گیا نام کبھی نام نہ پُوچھا
لا عِلم رہا رشتوں میں دولت کے عَمَل سے
شاعر ہوں اسی واسطے سے دام نہ پُوچھا

58
گلشن ہے باغ ہے نہ چمن پر نکھار ہے
جس سمت دیکھتا ہوں فضا سَوگوار ہے
کل تک جنہیں ہر آن تھا بس میرا ہی جنوں
اب تو انہیں کو شکل مری ناگوار ہے
پھولوں پہ رنگ ہے نہ ہے کلیوں پہ تازگی
یہ کیسا باغبان ہے کیسی بہار ہے

0
15
اب کے اُس نے جو نہ ملنے کی قسم کھائی ہے
وہ سمجھتا ہے مری جان پہ بن آئی ہے
دیلھ کر میری ہتھیلی کی لکیریں قسمت
ان گِنَت بار مرے خواب میں شرمائی ہے
ایک فانی پہ دل و جان لُٹانے کا صِلہ
اس سے اچھّی تو کسی قبر کی تنہائی ہے

0
40
تُم غَلَط سمجھے وہاں پر مَیں نہ تھا
مجھ پہ غُصّہ ہے تمہارا بے وجہ
وہ جنہیں تم سے کدورت ہے صنم
میرا اُن لوگوں سے کیسا واسطہ
خبرِ بد چھوڑی رقیبوں نے کہیں
اور تُم نے پڑھ لی میری فاتحہ

0
107
چھین کر دل کا سکوں کہتے ہو تیری خَیر ہو
کاش سمجھائے کوئی اپنے ہو تُم یا غَیر ہو
دیکھ کر ان کا سرِ محفل نگاہیں پھیرنا
یوں لگا مجھ کو ہمارے درمیاں کچھ بَیر ہو
میرے منہ میں خاک پر اکثر ہیں ان میں دھوکے باز
چاہے وہ بت خانہ ہو مسجد ہو چاہے دَیر ہو

0
28
مجھ کو برباد کسی اور کو آباد کیا
اب مجھے بھُول جا جاتے ہوئے ارشاد کیا
دولت و جاہ ہی کیا کم تھی جو اک اور بھی فرق
مجھ کو اک عام سا اور اس کو پری زاد کیا
ڈال کے زنداں میں معصوموں کے پر کاٹ دئے
پھر کہا مالی نے جاؤ تمہیں آزاد کیا

0
30
اُجڑی ہوئی محفل کے سِتَم دیکھ رہا ہوں
کیا لکھتے رہے اہل قَلَم دیکھ رہا ہوں
کیا عادتِ بد میرے وَطَن کی ہے خدایا
ہر بات پہ کھاتے ہیں قَسَم دیکھ رہا ہوں
اک باپ کے کندھوں پہ جواں بیٹے کی میّت
اُٹھتے ہوئے مایوس قَدَم دیکھ رہا ہوں

128
کس طرح غزلیں لکھوں مضمون سےرغبت نہیں
اس زمیں پر گھر نہیں ہے آسماں کی چھت نہیں
دیکھ کر افلاس غُربت عسرتیں حِزن و ملال
کیا کروں واللہ کہ ان صدموں سے ہی فرصت نہیں
امتیازِ غربت و دولت ہے اک ایسی خلیج
جس کو کم کرنے کی شاید اب کوئی صورت نہیں

0
27
آپ شافع ہیں اور مَیں گنہ گار ہوں
سخت عاصی ہوں مولا خطا کار ہوں
عمر کاٹی ہے جیسے سرِ دار ہوں
معترف ہوں کہ واللہ سیاہ کار ہوں
یہ بھی احساس ہے کہ سزاوار ہوں
اپنے عصیاں پہ لیکن شرم سار ہوں

0
37
درد و غم ہے عسرتیں آلام ہیں
اس زمیں پر بس یہی انعام ہیں
کامیابی چند لوگوں کے لئے
باقی سارے با خدا ناکام ہیں
پل رہی ہیں اشتہا کی گود میں
عصمتیں ہر چوک پر نیلام ہیں

0
26
اے تلخئی ایّام مَیں کچھ سوچ رہا ہوں
جینا ہؤا الزام مَیں کچھ سوچ رہا ہوں
کل تک تو بھرے شہر میں چرچا رہا جس کا
اب ہو گیا گمنام مَیں کچھ سوچ رہا ہوں
جس در پہ پدھاری ہیں وہ نا چیز کا گھر ہے
رُک جائیے مادام مَیں کچھ سوچ رہا ہوں

0
32
اے لوگو ہم کو دوش نہ دو کیا ہم نے عشق ایجاد کیا
ہم سیدھے سادے لوگ تھے بس اک صورت نے برباد کیا
یہ عاشق بُلبل و فاختہ ہیں خود جال کے اندر پھنستے ہیں
جب پنجرے تک بات آ جائے پھر ہم دم کو صیّاد کیا
یاں اور بھی مشغلے ہیں یارو یاں اور بھی کام ہیں کرنے کے
کیوں اس چکّر میں پڑ کے اپنے آپ کو یوں ناشاد کیا

0
33
اس شہر کے ہر گھر میں عجب آگ لگی ہے
جس کو بھی ٹٹولو گے اسے اپنی پڑی ہے
ہر چند کہ خورشید و قمر جلوہ نما ہیں
آدم کے مقدّر میں وہی تیرہ شبی ہے
خائف ہیں ابھی اس لئے تالے ہیں زباں پر
اک آگ ہے جو وقت کے سینے میں دبی ہے

0
81
چل رہے ہیں جس ڈگر پر اس کی منزل ہی نہیں
ایسی ضد کا فائدہ کیا جس کا حاصل ہی نہیں
کیا کوئی ایسے سمندر سے بھی رکھّے گا امید
جس سمندر کا جہاں میں کوئی ساحل ہی نہیں
چھوڑ کر کشتی بھنور میں ناخدا کہنے لگا
ڈوبتی ہے ڈوب جائے میَں تو شامل ہی نہیں

146
تھم گئی ہیں وقت کی نبضیں قیامت آ گئی
ابنِ آدم کی مجھے لگتا ہے شامت آ گئی
کون ہوں کس دیس سے آیا ہوں مَیں کس کو پتہ
آپ آئے تو مرے قد میں بھی قامت آ گئی
ابتدائے عشق میں تھا کچھ تلوّن آشنا
ٹھوکریں پڑتی گئیں تو استقامت آ گئی

34
پھول ہیں کلیاں ہیں لیکن باغباں کوئی نہیں
ہم سفر ہیں ہم نوا ہیں رازداں کوئی نہیں
جیت لی توپوں نے بازی مار کر انسان کو
بچ گیا بارود لیکن بستیاں کوئی نہیں
کیا ہؤا ہے آسماں کو رنگ پھیکا پڑ گیا
چاند ہے تارے بھی ہیں پر کہکشاں کوئی نہیں

0
21
دیکھ آ کر ماں کہ تیری قبر پر آیا ہے کون
قلب و جاں کے ساتھ آنسو درد کے لایا ہے کَون
چھوڑ کر تُم کیوں بھلا اک ننّھے سے معصوم کو
کر گئیں ہر پیار سے نا آشنا محروم کو
مجھ سے پہلے بھی مرے بھائی بہن پیدا ہوئے
وہ بھی تو ایسے ہی تیرے پیار کے شیدا ہوئے

0
82
ہو گئے ایسے پشیمان کہ بس
لے گئیں تہمتیں یوں جان کہ بس
میزباں بننے سے توبہ کر لی
اس قدر آئے ہیں مہمان کہ بس
شین اور قاف کی چونچ پر
آکے یوں بیٹھ گئی عین کہ بس

0
50
کوزہ گری کا شوق تھا پورا نہ ہو سکا
مِٹّی تو جاندار تھی دانے نہ بو سکا
ماضی کی یادیں زندگی کا روگ بن گئیں
کل بھی کچھ ایسی رات تھی پل بھر نہ سو سکا
اوپر تلے کے حادثے بے حِس بنا گئے
مرگِ جوان پر بھی دل مطلق نہ رو سکا

0
44
دیکھ کر مجھ کو انہیں یکدم پسینہ آ گیا
اپنی حالت یہ کہ اک مُردے کو جینا آ گیا
عشق کی دشوار گھاٹی پر پھٹے ملبوسِ تن
گرچہ ہم درزی نہ تھے پر چاک سینا آ گیا
یہ ہماری کم نصیبی تھی کہ رندوں کی دعا
کل ہی چھوڑی تھی کہ ساون کا مہینہ آگیا

0
28
ہر گھڑی مجھ کو یہی اک وہم دامن گیر ہے
یہ جہاں اس کا ہے جس کے خواب کی تعبیر ہے
چند سِکّوں کے عوض کیوں بیچ ڈالا وہ بدن
جو کبھی شوہر کا تھا اب غیر کی جاگیر ہے
خال کے تِل سے من و تُو کا تصوّرمِٹ گیا
یہ ہے واحد تیرگی جو سب کو ہی اکسیر ہے

0
28
تم نہیں آئے مگر سارا زمانہ آ گیا
بجلیوں کی زد میں میرا آشیانہ آ گیا
جو بُنا کرتے تھے لوگوں کی کہانی رات دن
آج اخباروں میں ان کا بھی فسانہ آ گیا
رنگے ہاتھوں چوریاں کرتے ہوئے پکڑے گئے
ایک دو کا ذکر کیا سارا گھرانہ آ گیا

0
55
روک لیتا ہوں زباں کو دل نہ دُکھ جائے کہیں
جس طرح کا مَیں مکیں ہوں وہ بھی ایسے ہی مکیں
عمر ہے باسٹھ برس کی لیکن اپنے آپ کو
پیش کرتی ہیں کسی محفل کی شمعِ نازنیں
بات کرنے پر جو آ جائیں تو رُکنے کے نہیں
کتنا ہی شور و شغب کرتے رہیں گو سامعیں

0
131
تصویرِ یار یوں مرے دل میں رہا کرے
انگشتری میں جیسے نگینہ جڑا کرے
جس عاشقِ جاں باز کی جاں ہو عذاب میں
وہ کوئے یار جا کے اذانیں دیا کرے
روشن کرو تو عالمِ تیرہ کو اس طرح
جیسے ردائے صبح کو روشن ضیا کرے

0
78
میری زبان بند ہے ہر ایک کی نہیں
لوگوں کے لب پر آ گئی تو پھر رکی نہیں
اک عرصے بعد دیکھ کر ان کو مری نظر
ٹھٹکی تھی چند ساعتیں لیکن جُھکی نہیں
رندانِ بادہ خوار ہوں یا مفلس و غریب
سارے ستم رسیدہ ہیں کوئی سُکھی نہیں

0
25
روک لے اللہ مری کُٹیا پہ بجلی کا جلال
تیرے وعدوں پرگزارے زندگی کے ماہ و سال
لے گئے تثلیث کے فرزند میراثِ خلیل
اور مَیں راہوں میں آوارہ جنونی خستہ حال
اچھّا ہے عاشق نہیں ہوں کیا ملا عشّاق کو
دیکھ لو کیسی درخشندہ ہے رانجھے کی مثال

2
135
مرے وجود پہ نقشِ کہن کے لاشے ہیں
مری زبان پہ تشنہ لبی کے افسانے
مرے غنیم کو عقل و خِرد کا ہیضہ ہے
اسے خبر نہیں کس حال میں ہیں دیوانے
مَیں رات ہوں مری تقدیر میں ہے تیرہ شبی
کبھی چڑھے گا دِن یا نہیں سحر جانے

0
33
رات تو تیرہ تھی لیکن دن بھی اب تاریک ہے
یا اگر کچھ فرق باقی ہے تو بس باریک ہے
بے سبب غیروں کی باتوں میں نہ یوں آیا کرو
مَیں تو ہوں نزدیک تر تُو اور بھی نزدیک ہے
جب کبھی غُصّہ انہیں آئے تو واللہ صبر کر
کیونکہ یہ غُصّہ نہیں ہے چاہتوں کی بھیک ہے

0
31
ریت کی دیوار تھا مَیں گِر گیا تو کیا ہؤا
بے وفا کی دوستی میں باوفا رُسوا ہؤا
چھوڑ کر رستے میں مجھ کو ناخُدا کہنے لگا
ڈھونڈھ لینا راہ میں تِنکا کوئی بہتا ہؤا
وہ لڑکپن کی بہاریں مستیاں شور و شغب
کس طرح بھولے گا دل سے دَور وہ گزرا ہؤا

2
129
وہ وفائیں مری آزماتے رہے
ہم بھی دانستہ ہر زخم کھاتے رہے
مَیں ادھر قصۂ غم سناتا رہا
وہ اُدھر زیرِ لب مسکراتے رہے
ہم تو اپنی وفاؤں پہ نازاں رہے
وہ بھی اپنی جفائیں نبھاتے رہے

0
60
آواز دے رہا ہوں اجالوں کو دیر سے
گزرے ہوئے مہینوں کو سالوں کو دیر سے
تم کون ہو کہاں سے ہو کیا ذات پات ہے
فرسودہ و بے کار سوالوں کو دیر سے
کوئی نہیں جو تیری صدائوں کو سُن سکے
سُب جانتے ہیں تیرے خیالوں کو دیر سے

0
51
اے گردشِ زمانہ مری بات مان لے
اب آخری لبوں پہ ہے یہ جان جان لے
جس نے کبھی خود اپنے لئے کچھ نہیں کیا
تم ہی کہو کیوں اس کی خبر آسمان لے
جو اپنے دل کی بات کسی سے نہ کہہ سکے
وہ غم گسار خالقِ اعلیٰ کو مان لے

0
52
آیا تھا پھر سے خواب دکھا کر چلا گیا
مَیں نیند میں تھا مجھ کو جگا کر چلا گیا
کن حسرتوں سے مَیں نے بنایا تھا جھونپڑا
کتنا بے داد گر تھا گرا کر چلا گیا
دنیا ترے فریب کا پردہ ہؤا ہے چاک
اس وقت جب تُو بجلی گرا کر چلا گیا

0
23
دیکھ کر تصویر میری پھیر لی اس نے نظر
خیریت گزری وہاں پر مَیں نہ تھا بارِ دِگر
غیر کے کہنے پہ مجھ سے بے سبب ناراض ہو
جبکہ مَیں ایسا نہیں جس نے چلائی تھی خبر
چل رہی ہے نسلِ نَو اُس خاص طرزِ فکر پر
نا کوئی منزل ہے جس کی نہ کوئی رستہ نہ گھر

0
30
کب سے ہے مرے دل میں اسی بات کا ڈیرا
راتوں پہ جوانی ہے تو کیوں بُوڑھا سویرا
آ جاؤ مرے ساتھ سبھی مل کے صدا دیں
جو میرا ہے اے دوست وہی دکھڑا ہے تیرا
جو شخص تمہیں دیتا ہے ہر روز دلاسے
آدم کے لبادے میں وہ انساں ہے لٹیرا

0
78
کون کہتا ہے کہ ہم سایۂ دیوار میں ہیں
سچ تو یہ ہے کہ سبھی دشمنِ آزار میں ہیں
حضرتِ شیخ کو ہے ایک فضیلت حاصل
رام کر سکتے ہیں کہ صاحبِ گفتار میں ہیں
سارے عشّاق میں ہے جانے رقابت کیسی
ایک منزل کے مسافر ہیں رہِ خار میں ہیں

0
79
کسی کروٹ نہیں ہے چین یارو
سنائی دے رہے ہیں بَین یارو
بڑی روشن ہیں گو سُورج کی کرنیں
مگر ہر سُو اندھیرا رَین یارو
تکلّف ہے سراسر رشتے داری
بناوٹ آ گئی مابَین یارو

0
52
ہے انتظار کب سے چاہے دن ہو رات ہو
وہ وقت آئے جب ترے ہاتھوں میں ہاتھ ہو
ماضی میں جھانکنے دے مجھے تیز گامِ زیست
شاید کہیں سلیٹ ہو تختی دوات ہو
جس بد نصیب ماں کی کہیں جیب کٹ گئی
ممکن ہے اسکی صرف یہی کائنات ہو

43
مِنّتیں کرنے سے اس کو بھول جانا ٹھیک ہے
تاکہ وہ بھی جان لے پیچھا چھڑانا ٹھیک ہے
روٹی کھانے کو نہیں اور برتھ ڈے کا شوق ہے
ان کو پیدائش نہیں برسی منانا ٹھیک ہے
گرچہ پہلی سی رفاقت تو نہیں پھر بھی ذرا
گاہے گاہے راہ میں ملنا ملانا ٹھیک ہے

0
26
جیت گئے مظلوم وہاں کے آخر ظالم ہار گیا
تیرا تکبّر تجھ کو مودی دوزخ اندر گاڑھ گیا
بی جے پی نے تجھ سے مل کر کتنے لاشے بچھوائے ہیں
آنکھ اُٹھا کر دیکھ اُدھر بھی لاشوں کا انبار گیا
ہاتھوں میں کشکول اٹھائے گائے گا جھولی پھیلائے
اس سے اچھّی چائے تھی اب وہ بھی کاروبار گیا

0
32
اس طرح روٹھ کے جاؤ گے تو مشکل ہوگی
طعنِ اغیار میں رسوائی بھی شامل ہو گی
دن گزر جاتا ہے پر رات کچھ خَوف زدہ
کیا خبر آج بلا کونسی نازل ہو گی
صبح ہو لینے دو رات بھی کالی ہے ابھی
بے سبب تیرہ شبی رستوں میں حائل ہو گی

0
40
مجھکو خدشہ ہے مجھے چھوڑ نہ جاؤ اک دن
ورنہ اتنا تو کرو پیار سے چاہو اک دن
وہ جو اک گیت مرے پیار میں گایا تھا کبھی
آؤ اور آ کے مرے سامنے گاؤ اک دن
مونہہ پہ لاتے ہوئے ڈرتے ہو اگر دل کی زباں
اچھّا چوری سے کبھی آنکھ ملاؤ اک دن

0
36
تُو جو نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ہے
یہ مانا کہ محفل جواں ہے حسیں ہے
اگر کوئی رُوٹھے تو جا کر مناؤں
کہاں تجھ کو ڈھونڈوں کہاں تجھ کو پاؤں
وہی آسماں ہے وہیں پر زمیں ہے
تُو جو نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ہے

0
10
283
بھول جانے پر بھی مجھ کو یاد آ جاتے ہو تُم
سامنا ہو جائے تو مِلنے سے کتراتے ہو تم
گر اچانک راہ میں مل جائیں تو پھر یک بیک
چھوڑ کر میری ڈگر راہوں سے ہٹ جاتے ہو تم
زندگی گزری تری لیلائے شب میں ہم وطن
اس لئے خورشید کی کرنوں سے گھبراتے ہو تم

0
118
یہاں غم مفت ملتے ہیں خوشی کے دام لگتے ہیں
مری باتوں میں سچ ہے آپ کو ابہام لگتے ہیں
محبتّ میں جنہیں دکھ جھیلنے آتے نہیں شاعر
مجھے ہر گام ہر منزل پہ وہ ناکام لگتے ہیں
یہ کیسی مسکراہٹ ہے کہ آنکھیں ہو گئیں پُر نم
مجھے ایسی ہنسی میں درد کے آلام لگتے ہیں

0
40
دیکھتی آنکھوں کوئی زہر کو پینے سے رہا
پھٹ گیا عرش تو آدم اسے سینے سے رہا
ہر طرف جُرم کا ناداری و افلاس کا زور
ایسے حالات میں کب کوئی قرینے سے رہا
جس نے ساحل پہ کھڑے رہ کے سمندر دیکھا
علم کیا اس کو کہ وہ دُور سفینے سے رہا

0
26
جو راز اس کے مونہہ سے اچانک نکل گیا
میرے شک و شکوک کو یکسر بدل گیا
کرتے تھے سب دعائیں اٹھا کر فلک کو ہاتھ
برہم ہے آسمان کہ انساں بدل گیا
دیتے ہیں درسِ صبر مساجد میں قبلہ شیخ
یہ صبر نہیں بے بسی ہے جو بھی مل گیا

0
4
84
اکتفا ہر بات پر ممکن نہیں
کیونکہ ہر برسات بھی ساون نہیں
چھپ گئی تصویر ہم دونوں کی ساتھ
ان کو ہو تو ہو مجھے الجھن نہیں
آج تو دیدار ہو گا بالضرور
ورنہ دروازہ نہیں چلمن نہیں

0
2
41
دل کی آواز بجا نقش بہ دیوار بھی دیکھ
مال و دولت ہی نہیں صاحبِ کردار بھی دیکھ
عین ممکن ہے کسی بات میں کچھ جھُول بھی ہو
ہاں مگر دوست کسی دوست کا ایثار بھی دیکھ
ابر آلود نہیں مطلع ابھی دُور تلک
خسِ گرداب میں طوفان کے آثار بھی دیکھ

2
89
جامۂ عقل و خِرد کی نازبرداری کا عشق
تیسری دنیا کی بربادی پہ تیّاری کا عشق
تاخت و تاراج کر کے آدھی دنیا کا سکوں
اور کچھ مقصد نہیں ہے محض سرداری کا عشق
لُوٹ کر کمزور قوموں کا عروج و سلطنت
ان ضعیفوں کی ضعیف المال ناداری کا عشق

0
41
جو بات اپنی اصل میں حد سے گزر گئی
لب پر نہ گرچہ آئی پہ دل میں اتر گئی
پوچھا تھا آج موت سے کب تک ہے زندگی
کہنے لگی حیات ہی بے مَوت مر گئی
کیا حشر میں غریب سے بھی ہو گی گفتگو
کہ زندگی بھی حشر کی صورت گزر گئی

0
48
کہہ رہے ہیں ہم نوا اشعار کہنا چھوڑ دے
تیرنا مشکل ہے تو دریا میں رہنا چھوڑ دے
یا کسی ساحل پہ جا کر اپنا چھپّر ڈال لے
یا تلاطم خیز بن گلیوں میں بہنا چھوڑ دے
یا روا و ناروا کی بحث میں الجھا نہ کر
یا شکم پرور نہ بن اور آب و دانہ چھوڑ دے

2
161
روٹھنا چاہو تو بے شک روٹھ جاؤ شوق سے
مجھ کو بھی پرواہ نہیں ہے آزماؤ شوق سے
اس سے بڑھ کر اور کس کو نام دوں صبرِ جمیل
سب رقیبوں کو سرِ محفل بلاؤ شوق سے
رات کے دامن میں جسموں کی نمائش کی وجہ
پیٹ کی مجبوریاں ہیں گھر چلاؤ شوق سے

0
86
وہ جس سے پیار ہے مجھ کو اسی بستی میں رہتی ہے
ہوا کے دوش پر ہر بات سنتا ہوں سناتی ہے
وحی تو ہو نہیں سکتی مگر الہام باقی ہے
جو میرے لب پہ آ جائے وہی وہ گنگناتی ہے
کبھی دیکھا نہیں مجھ کو کبھی چاہا نہیں مجھ کو
کسی محفل میں مِل جائے تو یوں آنکھیں چراتی ہے

0
60
نوائے درد بڑھ جائے تو آخر نوحہ بنتی ہے
یہی وہ موجِ دریا ہے جو گِر کے پھر مچلتی ہے
جنم سے قبر تک کا فاصلہ از بس کہ چھوٹا ہے
یہ شمع شام سے صُبحِ منوّر تک ہی جلتی ہے
ادھر انسان لمبے لمبے منصوبے بناتا ہے
اُدھر تقدیر اس کی خواہشوں پر ہاتھ ملتی ہے

0
39
زباں پر آئی باتیں کس نے روکی ہیں بتاؤ تو
مجھے تم اچھےّ لگتے ہو ذرا نزدیک آؤ تو
بڑی دلکش ہیں رعنا ہیں دلوں کی بستیاں ہمدم
عیاں ہو جائے گا خود ہی کسی کو دل میں لاؤ تو
بہت مغموم لگتے ہو کہو کیا بات ہے جاناں
کسی کو مان کر اپنا دلی دُکھڑے سناؤ تو

0
115
بھُول کر شکوے غموں کے راحتوں کا کر شمار
صحت اور ایمان ہے اک بحرِ نا پیدا کنار
دولت و شوکت کے لالچ میں گنوا کر عِزّ و جاں
اپنی اصلیت کو انساں کر رہا ہے داغدار
کتبہ پڑھتے ہی کہا اچھّا بچارا مر گیا
پھر دعا کو ہاتھ اٹھائے دیکھ کر میرا مزار

0
50
غم بیچتا ہوں کوئی خریدار گر ملے
امن و سکون وار دوں لاچار گر ملے
گر ہو سکے نہ تیرے غموں کا کوئی علاج
خوشیوں کے مول تول دوں غمخوار گر ملے
رنج و الم سے کیا گِلہ مجھ کو بایں ہمہ
کر لوں قبول شوق سے اک بار گر ملے

61
نعیم عارف ادب کا رازداں ہے
کہانی گو نہیں خود داستاں ہے
خودی کے رازداں سے آشنائی
کرے باتیں تو لفظوں سے عیاں ہے
مکمّل دسترس ہے اپنے فن میں
زبانِ ڈچ کا بھی بحرِ رواں ہے

0
28
عجب اُلٹا سفر ہے تیرے گھر کا
کہ منزل ہے کہیں رستہ کدھر کا
کڑی افتاد دیکھی دل لگی میں
کہ دل کے ساتھ ہی سودا جگر کا
کوئی تحفہ کروں ارسال ان کو
عنایت کر دیں گر سائز کمر کا

0
57
کل بھی گزرا تھا انہی رستوں سے اب تک یاد ہے
آج بھی دل کا نگر کل کی طرح برباد ہے
اس کو پا کر کھو دیا جس کے لئے پیدا ہؤا
ایک بد قسمت کی یارو اس قدر روداد ہے
جو کبھی سوچا نہ تھا وہ کام کرنا پڑ گیا
یہ زمانہ بالیقیں سب سے بڑا استاد ہے

0
29
بادیہ پَیما ہے تو بستی میں رہنا چھوڑ دے
ہمسفر شاہیں کا ہے تو گھر بنانا چھوڑ دے
بے سبب اُلجھا نہ کر بحرِ تلاطم خیز سے
دوستی دریا سے رکھ گلیوں میں بہنا چھوڑدے
ہم نفس کوئی بھی ہو اپنی محبّت سے نواز
سب کے دل کا درد بن اپنا فسانہ چھوڑ دے

0
168
ماں
یہ مرا ایمان میری روح کا احساس ہے
گو تجھے دیکھا نہیں پر ماں تُو میرے پاس ہے
کیسی ہو گی شکل تیری کیا سراپا تھا ترا
ناک آنکھیں ہونٹ چہرہ کیسا ہے ماتھا ترا
آج موقع ہے تو سُن غافل کھڑا پچھتائے گا

0
47