Circle Image

خواجہ امید محی الدّین

@150247

نیدرلینڈ

جیت گئے مظلوم وہاں کے آخر ظالم ہار گیا
تیرا تکبّر تجھ کو مودی دوزخ اندر گاڑھ گیا
بی جے پی نے تجھ سے مل کر کتنے لاشے بچھوائے ہیں
آنکھ اُٹھا کر دیکھ اُدھر بھی لاشوں کا انبار گیا
ہاتھوں میں کشکول اٹھائے گائے گا جھولی پھیلائے
اس سے اچھّی چائے تھی اب وہ بھی کاروبار گیا

0
7
اس طرح روٹھ کے جاؤ گے تو مشکل ہوگی
طعنِ اغیار میں رسوائی بھی شامل ہو گی
دن گزر جاتا ہے پر رات بہت خَوف زدہ
کیا خبر آج بلا کونسی نازل ہو گی
صبح ہو لینے دو رات بھی کالی ہے ابھی
بے سبب تیرہ شبی رستوں میں حائل ہو گی

0
6
مجھکو خدشہ ہے مجھے چھوڑ نہ جاؤ اک دن
ورنہ اتنا تو کرو پیار سے چاہو اک دن
وہ جو اک گیت مرے پیار میں گایا تھا کبھی
آؤ اور آ کے مرے سامنے گاؤ اک دن
مونہہ پہ لاتے ہوئے ڈرتے ہو اگر دل کی زباں
اچھّا چوری سے کبھی آنکھ ملاؤ اک دن

0
4
کب سے ہے مرے دل میں اسی بات کا ڈیرا
گر رات پہ جوبن ہے تو کیوں بُوڑھا سویرا
آ جاؤ مرے ساتھ سبھی مل کے صدا دیں
جو میرا ہے اے دوست وہی دکھڑا ہے تیرا
جو شخص تمہیں دیتا ہے ہر روز دلاسے
آدم کے لبادے میں ہے انسان لٹیرا

0
1
تُو جو نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ہے
یہ مانا کہ محفل جواں ہے حسیں ہے
اگر کوئی رُوٹھے تو جا کر مناؤں
کہاں تجھ کو ڈھونڈوں کہاں تجھ کو پاؤں
وہی آسماں ہے وہیں پر زمیں ہے
تُو جو نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ہے

0
10
87
بھول جانے پر بھی مجھ کو یاد آ جاتے ہو تُم
سامنا ہو جائے تو مِلنے سے کتراتے ہو تم
گر اچانک راہ میں مل جائیں تو پھر یک بیک
چھوڑ کر میری ڈگر راہوں سے ہٹ جاتے ہو تم
زندگی گزری تری لیلائے شب میں ہم وطن
اس لئے خورشید کی کرنوں سے گھبراتے ہو تم

0
6
یہاں غم مفت ملتے ہیں خوشی کے دام لگتے ہیں
مری باتوں میں سچ ہے آپ کو ابہام لگتے ہیں
محبتّ میں جنہیں دکھ جھیلنے آتے نہیں شاعر
مجھے ہر گام ہر منزل پہ وہ ناکام لگتے ہیں
یہ کیسی مسکراہٹ ہے کہ آنکھیں ہو گئیں پُر نم
مجھے ایسی ہنسی میں درد کے آلام لگتے ہیں

0
8
دیکھتی آنکھوں کوئی زہر کو پینے سے رہا
پھٹ گیا عرش تو آدم اسے سینے سے رہا
ہر طرف جُرم کا ناداری و افلاس کا زور
ایسے حالات میں کب کوئی قرینے سے رہا
جس نے ساحل پہ کھڑے رہ کے سمندر دیکھا
علم کیا اس کو کہ وہ دُور سفینے سے رہا

0
6
جو راز اس کے مونہہ سے اچانک نکل گیا
میرے شک و شکوک کو یکسر بدل گیا
کرتے تھے سب دعائیں اٹھا کر فلک کو ہاتھ
اب آسماں ہی قصۂ آدم نگل گیا
دیتے ہیں درسِ صبر مساجد میں شیخ جی
یہ صبر کہاں بے بسی ہے جو بھی مل گیا

0
4
25
اکتفا ہر بات پر ممکن نہیں
کیونکہ ہر برسات بھی ساون نہیں
چھپ گئی تصویر ہم دونوں کی ساتھ
ان کو ہو تو ہو مجھے الجھن نہیں
آج تو دیدار ہو گا بالضرور
ورنہ دروازہ نہیں چلمن نہیں

0
2
16
دل کی آواز بجا نقش بہ دیوار بھی دیکھ
مال و دولت ہی نہیں صاحبِ کردار بھی دیکھ
عین ممکن ہے کسی بات میں کچھ جھُول بھی ہو
ہاں مگر دوست کسی دوست کا ایثار بھی دیکھ
ابر آلود نہیں مطلع ابھی دُور تلک
خسِ گرداب میں طوفان کے آثار بھی دیکھ

2
15
جامۂ عقل و خِرد کی نازبرداری کا عشق
تیسری دنیا کی بربادی پہ تیّاری کا عشق
تاخت و تاراج کر کے آدھی دنیا کا سکوں
اور کچھ مقصد نہیں ہے محض سرداری کا عشق
لُوٹ کر کمزور قوموں کا عروج و سلطنت
ان ضعیفوں کی ضعیف المال ناداری کا عشق

0
6
جو بات اپنی اصل میں حد سے گزر گئی
لب پر اگر نہ آئی تو دل میں اتر گئی
پوچھا تھا آج موت سے کب تک ہے زندگی
کہنے لگی حیات ہی بے مَوت مر گئی
کیا حشر میں غریب سے بھی ہو گی گفتگو
جب زندگی بھی حشر کی صورت گزر گئی

0
16
کہہ رہے ہیں ہم نوا اشعار کہنا چھوڑ دے
تیرنا مشکل ہے تو دریا میں رہنا چھوڑ دے
یا کسی ساحل پہ جا کر اپنا چھپّر ڈال لے
یا تلاطم خیز بن گلیوں میں بہنا چھوڑ دے
یا روا و ناروا کی بحث میں الجھا نہ کر
یا شکم پرور نہ بن اور آب و دانہ چھوڑ دے

2
82
روٹھنا چاہو تو بے شک روٹھ جاؤ شوق سے
مجھ کو بھی پرواہ نہیں ہے آزماؤ شوق س
اس سے بڑھ کر اور کس کو نام دوں صبرِ جمیل
سب رقیبوں کو سرِ محفل بلاؤ شوق سے
رات کے دامن میں جسموں کی نمائش کی وجہ
پیٹ کی مجبوریاں ہیں گھر چلاؤ شوق سے

0
11
وہ جس سے پیار ہے مجھ کو اسی بستی میں رہتی ہے
ہوا کے دوش پر ہر بات سنتا ہوں سناتی ہے
وحی تو ہو نہیں سکتی مگر الہام باقی ہے
جو میرے لب پہ آ جائے وہی وہ گنگناتی ہے
کبھی دیکھا نہیں مجھ کو کبھی چاہا نہیں مجھ کو
کسی محفل میں مِل جائے تو یوں آنکھیں چراتی ہے

0
16
نوائے درد بڑھ جائے تو آخر نوحہ بنتی ہے
یہی وہ موجِ دریا ہے جو گِر کے پھر مچلتی ہے
جنم سے قبر تک کا فاصلہ از بس کہ چھوٹا ہے
یہ شمع شام سے صُبحِ منوّر تک ہی جلتی ہے
ادھر انسان لمبے لمبے منصوبے بناتا ہے
اُدھر تقدیر اس کی خواہشوں پر ہاتھ ملتی ہے

0
10
زباں پر آئی باتیں کس نے روکی ہیں بتاؤ تو
مجھے تم اچھےّ لگتے ہو ذرا نزدیک آؤ تو
بڑی دلکش ہیں رعنا ہیں دلوں کی بستیاں ہمدم
عیاں ہو جائے گا خود ہی کسی کو دل میں لاؤ تو
بہت مغموم لگتے ہو کہو کیا بات ہے جاناں
کسی کو مان کر اپنا جلے دُکھڑے سناؤ تو

0
20
بھُول کر شکوے غموں کے راحتوں کا کر شمار
صحت اور ایمان ہے اک بحرِ نا پیدا کنار
دولت و شوکت کے لالچ میں گنوا کر عِزّ و جاں
اپنی اصلیت کو انساں کر رہا ہے داغدار
کتبہ پڑھتے ہی کہا شاید وہی جانباز ہے
پھر دعا کو ہاتھ اٹھائے دیکھ کر میرا مزار

0
21
غم بیچتا ہوں کوئی خریدار گر ملے
امن و سکون وار دوں لاچار گر ملے
گر ہو سکے نہ تیرے غموں کا کوئی علاج
خوشیوں کے مول تول دوں غمخوار گر ملے
رنج و الم سے کیا گِلہ مجھ کو بایں ہمہ
کر لوں قبول شوق سے اک بار گر ملے

21
ریت کی دیوار تھا مَیں گِر گیا تو کیا ہؤا
بے وفا کی دوستی میں باوفا رُسوا ہؤا
چھوڑ کر رستے میں مجھ کو ناخُدا کہنے لگا
ڈھونڈھ لینا راہ میں تِنکا کوئی بہتا ہؤا
وہ لڑکپن کی بہاریں مستیاں شور و شغب
کس طرح بھولے گا دل سے دَور وہ گزرا ہؤا

1
33
نعیم عارف ادب کا رازداں ہے
کہانی گو نہیں خود داستاں ہے
خودی کے رازداں سے آشنائی
کرے باتیں تو لفظوں سے عیاں ہے
مکمّل دسترس ہے اپنے فن میں
زبانِ ڈچ کا بھی بحرِ رواں ہے

0
10
جو دل سے اتر جائے وہ اچھّا نہیں لگتا
ہر بات جو حلفاً کہے سچّا نہیں لگتا
گو عمر تو چھوٹی ہے مگر بات کی تہہ تک
اس طرح وہ پہنچا ہے کہ بچّہ نہیں لگتا
معصوم پہ یوں ظلم و تشدّد کا اعادہ
بیگانہ تو ہو سکتا ہے چچّا نہیں لگتا

0
1
27
عجب اُلٹا سفر ہے تیرے گھر کا
کہ منزل ہے کہیں رستہ کدھر کا
کڑی افتاد دیکھی دل لگی میں
کہ دل کے ساتھ ہی سودا جگر کا
کوئی تحفہ کروں ارسال ان کو
عنایت کر دیں گر سائز کمر کا

0
14
کل بھی گزرا تھا انہی رستوں سے اب تک یاد ہے
آج بھی دل کا نگر کل کی طرح برباد ہے
اس کو پا کر کھو دیا جس کے لئے پیدا ہؤا
ایک بد قسمت کی یارو اس قدر روداد ہے
جو کبھی سوچا نہ تھا وہ کام کرنا پڑ گیا
یہ زمانہ بالیقیں سب سے بڑا استاد ہے

0
11
اپنی شریکِ حیات کے نام
جو
زندگی کے ہر نشیب و فراز میں
میرے ہم قدم رہیں

0
9
بادیہ پَیما ہے تو بستی میں رہنا چھوڑ دے
ہمسفر شاہیں کا ہے تو گھر بنانا چھوڑ دے
بے سبب اُلجھا نہ کر بحرِ تلاطم خیز سے
دوستی دریا سے رکھ گلیوں میں بہنا چھوڑدے
ہم نفس کوئی بھی ہو اپنی محبّت سے نواز
سب کے دل کا درد بن اپنا فسانہ چھوڑ دے

0
20
ماں
یہ مرا ایمان میری روح کا احساس ہے
گو تجھے دیکھا نہیں پر ماں تُو میرے پاس ہے
کیسی ہو گی شکل تیری کیا سراپا تھا ترا
ناک آنکھیں ہونٹ چہرہ کیسا ہے ماتھا ترا
آج موقع ہے تو سُن غافل کھڑا پچھتائے گا

0
16
برگ و گُل ہے چاند ہے تارا مرا شایان ہے
ہرکسی کو ہر جگہ پیارا مرا شایان ہے
خوب صورت پھول ہیں مہکار سے مہکے ہوئے
کوئی اس جیسا کہاں نیارا مرا شایان ہے
سارے بچّوں میں اُسے پہچاننا مشکل نہیں
تھُوک میں لِتھڑا ہؤا سارا مرا شایان ہے

0
23
بتائی عمر ساری اس گلی میں
ابھی عمروں کی عادت ہو گئی ہے
*
جھاڑیوں کی اوٹ میں پچھلے پہر کا آفتاب
جیسے مفلس کا بڑھاپا جیسے بیوہ کا شباب
*

0
27
اب یادِ رفتگاں کے سوا کچھ نہیں بچا
چنگ و رباب و نغمہ سرا کچھ نہیں بچا
بیٹے کی جان کے لئے ماں بھینٹ چڑھ گئی
آنکھوں کی شرم رنگِ حنا کچھ نہیں بچا
محشر میں فرقِ ادنیٰ و اعلیٰ ہؤا عیاں
شاہ و گدا و زِلّہ ربا کچھ نہیں بچا

0
15
بیچ کر اپنا مکاں جب بے مکاں ہونا پڑا
اچھّے خاصے آدمی کو خستہ جاں ہونا پڑا
سنتے آئے تھے کہ وہ کافی تلوّن خیز ہیں
جب ذرا پالا پڑا تو ہم زباں ہونا پڑا
کل سرِ محفل کسی نے بات کچھ ایسی کہی
روک تو سکتا تھا لیکن بے زباں ہونا پڑا

0
18
مری سوچوں کو اندازِ نمُو دے
خِرد کو دِل دے دِل کی آرزو دے
جو تِیرہ ہیں انہیں کر دے منوّر
منوّر کو رہِ یثرب کی خُو دے
ممیزّ کر مرے صِدقِ عمَل کو
عَمَل کو عِلم کا جام و سبو دے

0
22
ہزار طوفان بحر و بر میں مزاجِ دریا بھی پر خطر ہے
مجھے ضرر کیوں ہو رنج و غم سے کہ ربِِّ کعبہ کو سب خبر ہے
اگرچہ راہِ وفا سے ہٹ کے مَیں تھک گیا تھا غمِ شرر سے
مَیں مطمئن ہوں زمانے والو کہ قلب و جاں میں نبی کا گھر ہے
اے مومنو حِرزِ جاں بنا لو محمّدّی ہیں نشاں بنا لو
چھٹیں گے بادل ضرور اک دن یہ وعدۂ سیدُّ البشر ہے

0
61
یا تو وقفِ آرزو یا مبتلائے خُو رہے
ہم وہ عاقل ہیں جو دریا میں تلاشِ جُو رہے
زندگی موج و تموّج ہے تو کیوں اس پر ملال
یہ کسی چھپّر کی ہو یا بزمِ رنگ و بُو رہے
آؤ ان گم گشتہ راہوں پر ملیں پھر ایک بار
مَیں جہاں پر مَیں نہ ہوں تُو بھی نہ دلبر تَو رہے

0
37
مجھے چھوڑ کر یونہی راہ میں وہ چلے گئے ہیں تو کیا ہؤا
یہ تو ان کی مرضی ہے جو کریں ولے مَیں نہ اُن سے جدا ہؤا
ہیں جو ماہ و سال رکے رکے یہ گزر ہی جائیں گے ایک دن
یہاں وصل و قرب کا کام کیا یہاں کس کا وعدہ وفا ہؤا
شبِ ہجر گر چہ طویل تھی چلیں جیسے تیسے گزر گئی
یہاں دن کا سورج بھی بارہا رہا بادلوں میں چھپا ہؤا

25
جب ملے تو اتنے قریب کہ غمِ دو جہاں سے گزر گئے
جب الگ ہوئے تو مجھے لگا ترے آستاں سے گزر گئے
رہ حُسن کیا ہے صنم مجھے تری دوستی نے سکھا دیا
جہاں وصل و ہجر میں ٹھن گئی وہاں درمیاں سے گزر گئے
یہ بقائے عشق کا راز ہے رہیں شک شکوک سے ماورا
جہاں ایسا ہونے کو آگیا وہاں رازداں سے گزر گئے

17
مجھے جب سے مُحبّت ہو گئی ہے
بدن سے جان رخصت ہو گئی ہے
جھُکایا سر کو دِل کی آرزو پر
ارے پاگل عبادت ہو گئی ہے
کبھی گر مِل گئے تو طعنے شکوے
عجب ان کی طبیعت ہو گئی ہے

27
ایک عرصے سے مجھے یہ وہم دامن گیر ہے
جو ترے کمرے میں رکھی ہے مری تصویر ہے
سن کے میری داستاں گویا ہوئے مجھ سے خطیب
خواب تو اچھٖا تھا یہ کس خواب کی تعبیر ہے
رات تو گھُپ تھی ہی لیکن کمرہ بھی تاریک تھا
تیرے آنے سے لگا ہر چیز پر تنویر ہے

0
20
جھاڑیوں کی اوٹ میں پچھلے پہر کا آفتاب
جیسے مفلس کا بڑھاپا جیسے بیوہ کا شباب
دور صحرا میں کسی رہرو کو پانی کی تلاش
رات کی ڈھلتی جوانی بدلیوں میں ماہتاب
تنگدستی کی گھٹن سے زخم خوردہ نازنیں
اور پھر حجرے کے اندر مستیاں کارِ ثواب

0
17
لاکھ پردہ کرو چاہے اوجھل رہو میری نظروں سے بچ کر کہاں جاؤ گے
ایسی دیوار اب تک بنی ہی نہیں جسمیں حُسنِ مجسّم چھپا پاؤ گے
اپنے گھر سے نہ یوں بے حجابا چلو کیا عجب راستے میں ملیں شیخ بھی
اک نظر کی اجازت تو ہے شیخ کو کب تلک اپنا دامن بچا پاؤ گے
راستے میں رقیبوں کے گھر آئیں گے یہ بڑے مفسدی ہیں بڑے تند خُو
ہیلو ہائے پہ مجھکو شکایت نہیں بات آگے بڑی تو ستم ڈھاؤ گے

0
15
آج پھر اپنے رقیبوں سے ملاقات کا خوف
اپنے ہم پیشہ و ہم مشرب و ہم ذات کا خوف
ہر کسی بات میں آتے ہیں نشیب اور فراز
باتیں کرتے ہوئے ہر چیز کا ہر بات کا خوف
پھر کہیں تلخ مباحث سے ہو تکرار مزید
گزرے ایاّم سے وابستہ خیالات کا خوف

0
19
ڈھونڈتے رہتے ہو کچھ اُن راستوں کے درمیاں
زندگی بیتی تھی جن پر حسرتوں کے درمیاں
تھک کے آ بیٹھا پرندہ پھر اسی دیوار پر
جس پہ اک عرصہ گزارا دوستوں کے درمیاں
کاش مل جائیں وہ ساتھی دوست ہم راہی کبھی
درد بانٹا کرتے تھے جو عسرتوں کے درمیاں

0
28
میری تصویر گرا کر جو اٹھائی اس نے
مجھ کو لگتا ہے مری خاک اڑائی اس نے
سب رقیبوں نے مری خوب اچھالی عزت
بات جب ختم ہوئی گرہ لگائی اس نے
مَیں نے اب تک تو کوئی چیز نہ مانگی اس سے
پھر بھی ہر بار دیا دردِ جدائی اس نے

0
17
مجھ سے ناراض ہیں وہ اور بتاتے بھی نہیں
تشنگی بڑھنے لگی پیاس بجھاتے بھی نہیں
یوں تو ہر بات پہ کہتے ہیں بھئی راز ہے یہ
گر یہی سچ ہے تو پھر راز چھپاتے بھی نہیں
گر مری بات پہ شک ہے تو انہیں کال کریں
فون پکڑے ہوئے بیٹھے ہیں گھماتے بھی نہیں

0
17
غیروں نے دُکھ دئے ہیں تو اپنے بھی کم نہیں
گھاؤ لگے ہیں ایسے کہ لفظوں میں دم نہیں
چھُریوں سے جسم کاٹتا ہے پیشہ ور قصاب
میرے لئے تو تیرے بہانے بھی کم نہیں
سب کچھ لُٹا کے آج بھی اُف تک نہیں کیا
ایسا نہیں کہ درد نہیں آنکھ نم نہیں

0
16
روک سکتے ہو تو روکو روکنا ممکن نہیں
رات میری ہی سہی تیرے لئے بھی دن نہیں
گھُپ اندھیروں میں چمکتی بجلیاں ہیں رہنما
شورشِ طوفاں ہیں ہم معصوم کی دھڑکن نہیں
ہر چمن کے رنگ و بُو میں لازماً ہے اختلاط
جس چمن میں پھول ناہوں وہ مرا گلشن نہیں

0
16
جل گئی بستی تو سب کہتے ہوئے پائے گئے
یہ وہی شعلے ہیں جو پہلے بھی بھڑکائے گئے
چھوڑ دو رہنے بھی دو کیوں پوچھتے ہو بار بار
ہم وہی مضمون ہیں جو بارہا آئے گئے
یہ تعلّق پارسائی کا نہیں قربت کا ہے
ہم جہاں پہنچے ہمارے ساتھ ہَمسائے گئے

0
17
جب تجھے یاد کیا پاس ہی پایا تجھ کو
روٹھے خوابوں میں تو سپنوں میں منایا تجھ کو
قربتیں بڑھنے لگیں تو غیر بھی بڑھتے گئے
میرے رستے سے رقیبوں نے ہٹایا تجھ کو
بھوک و بیماری کی شدّت میں اضافہ اتنا
کیوں نظر آتا نہیں ظُلم خدایا تجھ کو

0
9
ماضی کے جھروکوں سے نکل جائیں تو اچھّا
صدمات کے نشتر سے سنبھل جائیں تو اچھّا
جس آگ نے ہر بار جلایا ہے تن و توش
اس آگ میں اک بار ہی جل جائیں تو اچھّا
حالات کے دھاروں کو بدلنا نہیں آساں
اب سوچا ہے ہم خود ہی بدل جائیں تو اچھّا

0
11
راستوں کی گرد میں کچھ بھی نظر آتا نہیں
ہر صدف کی گود میں لعل و گُہر آتا نہیں
پہلے سارے راستے تھے میرے گھر کے آس پاس
اب کسی بھی راستے پہ میرا گھر آتا نہیں
یوں تو ہر اک کام میں اُن کو ہے کامل دسترس
جو کسی کو شاد کردے وہ ہنر آتا نہیں

0
21
سب آج کی رَو میں بہتے ہوئے وہ دَور پرانا بھُول گئے
وہ اپنی کہانی لے بیٹھے اور میرا فسانہ بھول گئے
جن لوگوں سے تھوڑا ملتے ہیں جب پرکھا اچھّے لوگ ملے
جب جب بھی وفا کا ذِکر چلا کنّی کترانا بھول گئے
دنیا کے جھمیلوں میں ہم سب اس طرح سے غرقِ ناب ہوئے
جینے کی دعائیں یاد رہیں مرنے کا ترانہ بھول گئے

0
14
اے ساقئی لاہوت نئی شمع جلا دو
الفت کی لطافت سے کوئی جام پلا دو
بڑھتے ہوئے آلام سے ہر گز نہیں شکوہ
اک طبقہ ہی مخصوص ہے کیوں اتنا بتا دو
عادل کی عدالت میں کھڑا شک زدہ ملزم
ثابت نہیں الزام مگر جیل کرا دو

0
19
گزاری ہے جہاں جیسی شبِ ہجراں میں گزری ہے
کبھی دنیا کی آندھی میں کبھی طوفاں میں گزری ہے
نہ کوئی کارنامہ ہے نہ کوئی داستاں اپنی
جو سچ کہہ دوں تو لگتا ہے کسی زنداں میں گزری ہے
کسی کو ساتھ لے لیتا کسی کے سنگ ہی چلتا
ادھیڑ و بُن کی دلدل میں غمِ انساں میں گزری ہے

0
19
اگر وہ آسماں ہوتے تو مَیں اُن کی زمیں ہوتا
اگر ایسا نہ کر سکتا تو پھر زیرِ زمیں ہوتا
ارادے باندھتا ہوں سوچتا ہوں توڑ دیتا ہوں
کبھی ایسا نہ کر سکتا اگر پُختہ یقیں ہوتا
تقابل کا کروں دعویٰ یہ ہمّت ہے کہاں میری
اگر ایسا ہی ممکن تھا تو پھر تم سے حسیں ہوتا

0
19
شاخوں پہ پھول ہیں نہ طلب باغبان کو
روتی رہی نسیمِ سحر آسمان کو
کرتے ہیں قتل و خون سے دھرتی لہو لہو
بہتان باندھ دیتے ہیں خنجر سنان کو
مایوسیوں اداسیوں کا طوق الاماں
پہنچے گی کب زمیں کی خبر آسمان کو

0
23
مجھ کو شبِ فراق سے ہرگِز گِلہ نہیں
وصل و فراق داستاں ہے فاصلہ نہیں
اس پیڑ کے نیچے ہے کسی بے گنہ کی لاش
شاید اسی لئے کوئی پتّا ہرا نہیں
صحرا سے آ رہی ہے کسی فاقہ کش کی گونج
دنیا میں زندہ رہنے سے بڑھ کر سزا نہیں

19
جب وہ محفل میں بے نقاب آیا
واللّہ ہر چیز پر شباب آیا
چہرہ زلفوں میں یوں جھلکتا ہے
جیسے بدلی میں ماہتاب آیا
ہوئی عنقا وفا کتابوں سے
نئے ٹیچر نیا نصاب آیا

13
زندگی جتنی مختصر دیکھی
اس سے بھی بڑھ کے بے خبر دیکھی
وصل کی رات اتنی چھوٹی کہ
آن کی آن میں سَحَر دیکھی
شہر میں بستیوں میں گلیوں میں
اتنی غربت کہ سر بسر دیکھی

0
18
بھول کر اپنا تخلّص نام تیرا لکھ دیا
شاعری احقرنے کی پیغام تیرا لکھ دیا
ہر گھڑی تیرا تخیّل ہر زماں تیرا گداز
لکھتے لکھتے لفظوں نے اندام تیرا لکھ دیا
عمر بھر کی جمع پونجی کاروبارِ زندگی
جو اثاثہ ہے مرا مادام تیرا لکھ دیا

26
بک گئے دیوار و در تو سب نے پوچھا کیا ہؤا
اس طرح میرے سبھی رشتوں کا پردہ وا ہؤا
تین دن پہلے بھی تھے اور چار اس کے بعد کے
اس طرح ان سے ملے کو ہم نوا ہفتہ ہؤا
بھوک کے ہاتھوں کئی معصوم جانیں چل بسیں
نہ کسی نے آہ کھینچی نہ کہیں سکتہ ہؤا

18
جہاں جس راہ پر وہ پاؤں اپنے مہ جبیں رکھتا
مرے بس میں اگر ہوتا وہاں اپنی جبیں رکھتا
کہیں پر کھو گیا گُم ہو گیا بیتا ہؤا ماضی
اگر پہلے خبر ہوتی خزانے میں کہیں رکھتا
خدا کا شکر ہے جو بچ گیا ان نازنینوں سے
نہ جانے حشر کیا ہوتا اگر ان پر یقیں رکھتا

18
پانی کی لہروں میں چہروں کے تھِرکتے خدّوخال
جس طرح مفلس کی بانہوں میں تڑپتے نَو نہال
اس طرف پیرانہ سالی کی نقاہت کا بخار
اس طرف بچّوں کے شِکمِ جبر کی زندہ مثال
کٹ گئی ہے عمر ساری این و آں کی دوڑ میں
نہ کوئی شغل و لطافت نہ کوئی زہرہ جمال

19
یہ کیسا دَور ہے ہر موڑ پر مشکل سے گزرے ہیں
انہیں رستہ نہیں ملتا جو ہر منزل سے گزرے ہیں
جسے پا کر طبیعت اور بھی بے چیَن ہو جائے
اسے کھو کر سمجھ آئی عجب حاصِل سے گزرے ہیں
گئے گزرے زمانوں کا تسلسل یاد جب آئے
تو پاگل دِل سمجھتا ہے تری محفل سے گزرے ہیں

0
19
ریگ زاروں میں گزاری زندگی
کس نے بھیجی کب اتاری زندگی
بچّوں کی فیسیں کتابیں ادویات
اتنی مشکل اتنی بھاری زندگی
اس قدر دعوے غرور و تمکنت
کاش ہوتی انکساری زندگی

22
روٹھ جائیں تو منانے نہیں آتا کوئی
بات سننے یا سنانے نہیں آتا کوئی
رات تاریک تھی اتنی کہ سَحَر ہو نہ سکی
ان اندھیروں کو مٹانے نہیں آتا کوئی
جب تلک چلتے رہے گرتے رہے اٹھتے رہے
وقت بدلا تو اٹھانے نہیں آتا کوئی

0
26
کبھی مل گئے جشنِ عیدتھا
ورنہ محض وعدہ وعید تھا
انہی پیر قبلہ نے جُل دیا
کبھی جن کا پکّا مرید تھا
کئے بند تم نے وہ در سبھی
کبھی مَیں ہی جن کی کلید تھا

0
21
رات تاریک ہے تو شمع جلائے رکھنا
قافلے والو ذرا ربط بنائے رکھنا
جانتا ہوں کہ مرے آنے میں تاخیر ہوئی
اتنی سی بات پہ بس مُوڈ بنائے رکھنا
غمزہ و مژگاں کے افسوں سے ذرا پہلو تہی
ان پری زادوں سے دامن کو بچائے رکھنا

0
24
خاک سے پیدا ہؤا اور دفن بھی ہے خاک میں
ہیں وہی اجزائے ترکیبی زمیں کی راکھ میں
یہ گُل و لالہ کے نغمے سبزیاں دالیں فروٹ
اس زمیں سے اُگ کے پھر شامل ہوئے خوراک میں
خاک سے انساں بنا انسان سے ہی خورونوش
دونوں کے اجزا ہیں شامل دونوں کی خوراک میں

0
26
نہ گھائل ہوں نہ زخمِ سینہ کاری
بس آشوبِ جہاں نے مت ہے ماری
وہ کیسے پھرتے ہیں سینہ پھلائے
کوئی نالش نہ حدِّ فوجداری
مسائل نے جکڑ رکھّا ہے سب کو
مگر اک کوششِ پیہم ہے جاری

23
زمیں چھوٹی گناہ حد سے زیادہ
پلینٹ چاہئے قد سے زیادہ
ہمیں خطرہ نہیں ہے دشمنوں سے
کہ ہم دشمن ہیں سرحد سے زیادہ
عجب الجھے ہیں دامِ رنگ و بُو میں
دھیاں گنبد کا مسجد سے زیارہ

0
21
جادۂ ختمِ نبوّت کا امیں رخصت ہؤا
عارضی مسکن سے جنّت کا مکیں رُخصت ہؤا
چلتا تھا جو ساتھ لے کر اپنے سارے ہم نوا
ہائے وہ اطہر مکرّم ساتگیں رخصت ہؤا
حافظِ قُرآن تھا شیخ الحدیث اور مجتہد
چھوڑ کر مِلّت سلیمانی نگیں رُخصت ہؤا

0
22
اقرار و عہد و پیماں پہ جب گفتگو چلی
آواز آئی غیب سے شبّیر بن علی
گر ہو یقیں کہ قافلہ سالار ہیں حسین
پھر دیکھ لینا کس طرح آئی بلا ٹلی
بخشی حیاتِ سرمدی نانا کے دین کو
کٹوا کے اپنے باغ کا ہر پھول ہر کلی

0
21
ہر طرف صحرا ہے یا محمل ہے ریگستان ہے
راستوں کی گرد میں بھٹکا ہؤا انسان ہے
وادئی عقل و خِرد میں منفعت پر زور ہے
قلب و رُوح کی پرورش کا راستہ انجان ہے
رشتوں کے دامن میں پیہم نکبت و افلاس ہے
من و تُو کے شور میں شہر و نگر ویران ہے

0
21
دیکھ کر آنکھوں سے ویرانی مری
شکل دانستہ نہ پہچانی مری
آج پھر ان کی گلی کا عزم ہے
دیکھئے گا حشر سامانی مری
کر دیا ہے خط مرا واپس مجھے
دیکھ کر باہر سے پیشانی مری

0
28
بند کر لو سبھی کواڑوں کو
کَون آئے گا ملنے جھاڑوں کو
جہاں اندر کوئی نہیں جاتا
چھوڑو رہنے دو ایسی غاروں کو
صرف اندھیرے ہیں اور سنّاٹا
کوئی دیکھے کہاں شراروں کو

35
یہ ضروری تو نہیں مَیں ہی تمہیں یاد کروں
زخمِ دل چاک کروں نالہ و فریاد کروں
عزّتِ نفَس بھی نیلام کروں تیرے لئے
خود رہوں قَیدِ قَفَس میں تجھے آباد کروں
نہیں اے میرے صنم ایسا نہیں ہو سکتا
تیری چاہت کے لئے کانٹے نہیں بو سکتا

2
33
کوئی جب جی کو بھانے لگ گیا ہے
مرا دل مسکرانے لگ گیا ہے
بے چا ری فاختائیں قید کر کے
خدا کو آزمانے لگ گیا ہے
دلوں کو کر دیا تھا دُور جس نے
دوبارہ آنے جانے لگ گیا ہے

34
ساری دنیا خوف سے اندرونِ خانہ ہوگئی
چھوت کی بیماریوں کا شاخسانہ ہو گئی
کس قدر اپنے تئیں بنتا ہے تُو چالاک و چُست
ایک کیڑے نے کیا کیسے ترا حُلیہ درست
باخدا کہتے ہوئے کچھ باک ہے اعراض ہے
پر یہی سچ ہے زمیں سے آسماں ناراض ہے

19
میکدے کا نام جب بگڑا تو میخانہ بنا
جس طرح حَسنِ تغزّل حُسنِ جانانہ بنا
زندگی کی سختیوں سے مت ہو دل آزار تُو
کہتے ہیں دنیا بنی تو پہلے ویرانہ بنا
سادگی میں اس نے اپنے گھر کی کھڑکی کھول دی
مَیں نے دادِ حُسن دی تو اور افسانہ بنا

0
24
جب بھی کوئی دوست زخموں کی دوا دینے لگا
میرا دل موہوم شعلوں کو ہوا دینے لگا
مے گساروں سے بچا تو زاہدوں میں پھنس گیا
جب ذرا قربت بڑھی ہاتف صدا دینے لگا
مجھ کو مال و زر سے تُو نے تب نوازا اے خدا
جب مرا افلاس بھی مجھ کو مزا دینے لگا

20
عُمریں گزر گئی ہیں اِسی اِحتِمال میں
بن جائیں ہم نشین کسی ماہ و سال میں
تاخیر سے سہی مگر اب جانتے ہیں شیخ
کچھ فائدہ ہؤا نہ ہے جنگ و جدال میں
دنیا کی تند و تیز ہواؤں سے لڑ سکے
ناپیَد ہیں وہ خوبیاں اس نو نہال میں

0
25
واللّہ بڑی مصروف ہے مصروفِ کار ہے
یہ زندگی نہیں ہے ازل کا ادھار ہے
اُڑتی ہیں آسماں پہ پرندوں کی ٹولیاں
بھُوکوں کی سر زمیں پہ کسے اعتبار ہے
مِل کے رہے گا تجھ کو جو تیرا نصیب ہے
خالق بھی ہے عجیب عجب شاہ کار ہے

0
19
کیوں قلم چلتا نہیں تیرا حزیں حالات پر
صِنفِ نسواں ہو گئی حاوی ترے جذبات پر
کیا یہی اک خواب ہے تیرے جزیروں کی امیں
اس سے آگے بڑھ کے تیری سوچ جا سکتی نہیں
ہر گھڑی زلفوں کی باتیں ہر زماں سیمیں جمال
چشم و ابرو پر مقالے صبر و ایماں خال خال

0
19
رَوند کر معصوم کلیاں چھانٹ لی کانٹوں کی باڑ
تجھ پہ لعنت صد ہزار و صد ہزار و صد ہزار
شیر خواروں کو کیا قربان شہوت کے لئے
تیرے جیسے لعنتی کردار پر اللہّ کی مار
مائیں تو قربان ہو جاتی ہیں بچّوں کے لئے
مامتا کے نام کو تُم نے کیا ہے داغدار

0
14
نقضِ وفا کے داغ تھے دل پر لگا لئے
لوہے کے تار پر نئے کپڑے سکھا لئے
درزی سے لے کے آئی ہوں کُترن کی پوٹلی
گھر آکے اپنے بچّوں کے کپڑے بنا لئے
مجبور و بے نوا کی تو پہچان ہے یہی
ہر جرم ہنس کے سہہ لیا آنسو بہا لئے

0
28
چھوڑ کر مجھ کو صنم تو نے بڑا کام کیا
میری بے کیف جوانی کو مرے نام کیا
مجھ کو لَوٹائے مرے گزرے زمانے کے خیال
مرے خوابوں کے دریچوں کو سرِ بام کیا
مجھ کو سمجھایا کہ دنیا کی حقیقت کیا ہے
بے زر و زر کے تفاوت کو سبک گام کیا

38
جتنے مجرم یہاں پہ آتے ہیں
جیل جاتے ہیں چھُوٹ جاتے ہیں
چھوڑ کر مجھ کو جانے والے کے
میرے دُشمن سے گہرے ناتے ہیں
یہ خرابی مری نظر میں ہے
بے وفا ہی نظر کو بھاتے ہیں

0
43
جھوم کے چھائی گھٹا زور سے آیا بادل
شہر جل تھل ہوا پانی میں نہایا بادل
فصل مزدُور کی پانی کو ترستی ہی رہی
تُو نے آجر کی زمینوں پہ گرایا بادل
کھیت کھلیان سبھی سُھوکھے پڑے ہیں اب بھی
والئی شہر بتا کس نے چرایا بادل

0
41
دوستوں کو جانچ کر اب دشمنوں پر دھیان ہے
سوچ کی گہرائیوں میں بس یہی عنوان ہے
پیار کے اِظہار پر اس نے رقیبوں سے کہا
میری نظروں میں وہ اک بہکا ہؤا انسان ہے
ان کے آنے پر وہی گھر بہتر و بر تر لگا
جس کے گوشے گوشے سے لگتا تھا قبرستان ہے

0
21
کیا کہوں صحرا نوردی یا نشاطِ جُستجو
چھلنی کر دیتی ہے مفلس کی مچلتی آرزو
خواب میں آنے کا وعدہ کر لیا اس نے مگر
نہ کسی وعدے کی خواہش ہے نہ کوئی جستجو
کیا کِیا کالج میں جا کر کیا ملا محنت کا پھل
کاش اس ڈگری کی بھی ہوتی کہیں تو آبرو

0
29
تیرہ و تاریک راہیں ہیں نگاہیں خیرہ کن
وعدۂ فردا پہ زندہ ہیں عزیزانِ وطن
ساکنانِ حسرت و درماندگی واللّہ نہ پوچھ
آنسوؤں سے پیاس بُجھتی ہے غذا رنج و محن
اشتہائے بھُوک سے مغلوب ہو جب نازنیں
میری نظروں میں اسی کا نام ہے دَورِ فتن

0
30
کٹی رات ساری فراق میں تو شعاعِ نُور کو کیا کروں
کبھی وصل جانِ حزیں بنے تو اسی سے کسبِ ضیا کروں
نہیں پارسائی کا اِدّعا پہ جبینِ سجدہ نیاز ہوں
ہو اگر اشارہ قبول ہیں تو کہاں مجال قضا کروں
جو کہ کِبر و ناز و غرور تھے جئے کب تلک وہ جہان میں
سبھی ایسے رزقِ زمیں ہوئے کہ سنیں اگر تو صدا کروں

0
21
یہ عہد تھا اک دوجے سے شکوہ نہ کریں گے
جیتے رہے اک ساتھ تو اک ساتھ مریں گے
جو بات کسی دوست نے منسوب کی ہم سے
اس بات پہ مِل بیٹھیں گے اقرار کریں گے
عادت ہے زمانے کی صنم روزِ ازل سے
الزام اُٹھائے ہیں تو الزام دھریں گے

0
17
گوروں سے تو ملی آزادی پر کالوں نے لَوٹا
یعنی اس بازار کے باسی دلّالوں نے لُوٹا
کسے دکھائیں دل کے دکھڑے کون لگائے مرہم
مجھے عمامہ پگڑی ننگے سر والوں نے لُوٹا
جس کو ہو مقصود بچانا اسے کریں مقفّل
کون بچائے ایسا گھر جس کو تالوں نے لُوٹا

23
لَوحِ نصیب کیسی عجب چال چل گئی
رستے کی ابتدا میں ہی منزل نکل گئی
دیکھا مجھے جو راہ میں شرما کے رہ گئی
پہلے وہ لڑکھڑائی گِری پھر سنبھل گئی
جھُک کر کیا سلام بڑے احترام سے
مَیں کچھ نہ کہہ سکا تو چھُری دل پہ چل گئی

0
16
تُو نے گالی ماں کو دی ہے تجھ پہ لعنت صد ہزار
را کی دلّالی نے تجھ کو کر دیا ہے آشکار
تُو نے برگ و غنچہ ہو گُل کو کیا بے آبرو
تُو نے دستُورِ گلستاں کر دیا ہے تار تار
ظاہراً کالا ہے تُو اور اندروں کالا سیاہ
اب ہمیں تیری قیادت پر نہیں ہے اعتبار

0
16
اے مرے پیارے وطن تو تا ابد زندہ رہے
جب تلک دنیا ہے تیرا نام تابندہ رہے
کچھ ہی کم آدھی صدی مَیں نے گزاری ہے یہاں
نسلِ انسانی کی اصلاً آبیاری ہے یہاں
مجھ پہ تیرے اتنے احسانات ہیں اے سر زمیں
بھُولنا چاہوں بھی تو ہر گز بھُلا سکتا نہیں

0
22
نیدرلینڈ۔ Nederlands
Vertaling door Naeem Arif
O mijn geliefde land, moge jij voor eeuwig bestaan
Moge jouw naam voor altijd hoog in het vaandel staan
Ik heb een krap eeuw hier doorgebracht
De mensheid gedijt hier, dat is jouw kracht

0
18
وہ زمانہ اور تھا جب کھودنی پڑتی تھی نہر
اب کہیں شیریں نہیں تو کس لئے فرہاد ہو
بھوک سے سہمے ہوئے مدقوق چہروں کی زباں
جس طرح کوٹھے پہ بوڑھی نائکہ ناشاد ہو
آسمانوں سے اتر کر سن بنی آدم کا حال
روک لینا جب کہیں تازہ ستم ایجاد ہو

0
31
موت کو پروا ہو کیوں کہ زندگی ویران ہے
ہر نئے طوفان کے دامن میں اک طوفان ہے
علم ہو جائے گا جب تاریخ لکھّی جائے گی
حضرتِ انسان کا دشمن بھی خود انسان ہے
آگ کی ہاتھی کی سونے چاندی کی پوجا روا
تیرے بُت خانے کے گوشے گوشے میں بھگوان ہے

0
22
لد گئی خوشیاں سبھی آلام باقی رہ گئے
کاش پہلے سوچتا انجام باقی رہ گئے
نازک اندامی تری ہوگی کبھی ہو گی ضرور
اب نزاکت چل بسی اندام باقی رہ گئے
رہبرِ ملک و وطن تاویل کرتا رہ گیا
کوئی شے واضح نہ تھی ابہام باقی رہ گئے

27
بجا کہ تم کو گِلے ہیں شکایتیں ہم سے
مگر نہ یوں کہ فسانے کہو ملازم سے
جنابِ آدم و حوّا کی ہی نہیں غلطی
کوئی تو پوچھتا جا کر کبھی یہ گندم سے
مرے وطن کا ہر اک آدمی گداگر ہے
فقیر ترکِ وطن کر رہے ہیں اس غم سے

19
روز ہوتے ہیں گنہ اور کانپتا بھی روز ہوں
چاک رہتا ہے گریباں کیسا بخیہ سوز ہوں
دُکھ دئے اتنے تو یارب دل بھی دینے تھے کئی
کل بھی دل زخمی ہؤا تھا آج بھی دل سوز ہوں
میرے ماضی نے ابھی پیچھا نہیں چھوڑا مرا
کل بھی مَیں امروز تھا اور آج بھی امروز ہوں

16
جنہیں دھڑکا نہیں سُود و زیاں کا
کہے گا کیا انہیں موسم خزاں کا
عجب وحشت ہوئی انساں پہ طاری
زمیں خطرے میں ہے غم آسماں کا
گرہ کھُلتی چلی جائے مسلسل
تہوّر دیکھنا شعلہ بیاں گا

0
30
اگر ناراض ہو میری بلا سے
کہ گِر جاتے ہیں پتّے بھی ہوا سے
کرو اپنی مشقّت پر بھروسہ
یا جاؤ چھین لو روٹی خدا سے
جو آئے ہیں تو جانا بھی پڑے گا
کوئی جیتا نہیں اب تک قضا سے

42
فصیلِ نَو پہ منقّش کئی ترانے ہیں
یہی الاپ ہیں جو سب کو مِل کے گانے ہیں
کبھی بہارِ چمن تھی کھلے تھے غنچہ و گُل
یہ کب کی بات ہے یہ کون سے زمانے ہیں
قریب آ کے سنو کیسے دل دھڑکتا ہے
اسی نظیر سے اب ساز بھی ملانے ہیں

2
34
سوچے تھے جتنے خواب وہ کب کے ہوا ہوئے
دنیا کے رمز و ایما پہ سجدے ادا ہوئے
ناپید تو نہیں ہیں یہاں سارے با وفا
اک مَیں ہی تھا کہ جس سے سبھی بے وفا ہوئے
ہر اک کی زندگی میں نشیب و فراز ہیں
ایسے بھی ہیں یہیں پہ جو دائم گدا ہوئے

0
18
صدمے میں ہوں اس وقت تو کچھ کہہ نہیں سکتا
آنکھوں سے یونہی سیلِ رواں بہہ نہیں سکتا
آئینے کو ضد ہے کہ اسے سامنے لاؤ
چہرے کو حیا آتی ہے دکھ سہہ نہیں سکتا
کیوں زندہ ہے تُو آج بھی اے جھوٹے فریبی
تُو کہتا تھا مَیں تیرے بنا رہ نہیں سکتا

1
39
چھوڑ کر بزمِ ترنّم نغمہ خواں جاتا رہا
گلستاں باقی ہے لیکن گُل فشاں جاتا رہا
روز کرتا تھا اشارے روز دیتا تھا خبر
چھوڑ کر رنگِ بہاراں ہم عناں جاتا رہا
گلشنِ ہستی کہاں سب نیستی کا کھیل ہے
سب کو روتا چھوڑ کر گریہ کناں جاتا رہا

23
دہلی کے فسادات کا وڈیو کلپ
لُٹ گئی حوّا کی بیٹی اِبنِ آدم مرگیا
ایک کا بازو کٹا اور دوسرے کا سر گیا
کیا ہوئی غالب تری دِلّی خدارا کچھ توبول
مضطرب مضطر بھی ہیں جاوید اختر ڈر گیا
ہرطرف لاشیں ہیں یا کچھ جلتی بُجھتی لکڑیاں

27
دامن کو جھاڑ کر تری محفل سے چل دئے
ہم ریت کے بگولے تھے محمل سے چل دئے
رستوں کی گرد میں ہمیں منزل نہیں ملی
منزل قریب آئی تو منزل سے چل دئے
طُوفانِ بادوباراں میں کشتی اُلٹ گئی
جو دوست لینے آئے تھے ساحل سے چل دئے

41
یہاں وہ آسماں ہوتا وہاں یہ سر زمیں ہوتی
نہ بڑھتے ہاتھ دامن تک نہ رسوا آستیں ہوتی
اگر ابلیس کے پنجے سے دائم سُرخرو رہتے
کہاں انگور کی بیٹی کہاں زہرہ جبیں ہوتی
اگر لعل و زر و مال و جواہر بے ثمر ہوتے
یہی دنیا اے میرے ہم نشیں خُلدِ بریں ہوتی

0
50
خواہشِ محفل ہے نا سرو و سمن کی آرزو
مجھ کو ہے شاعر تری بزمِ سخن کی آرزو
نہ کہیں بلبل نہ رنگ و بُو نہ گُلچیں کا وجود
کس کو ہوگی اب وہاں ایسے چمن کی آرزو
التفاتِ دوستاں رُخصت ہؤا ایسا کہ اب
شہر سے بڑھکر ہمیں صحرا و بَن کی آرزو

1
39
کئی دنوں سے مرے تخیّل میں ایک چہرہ ہی آ رہا ہے
یہ تُو نہیں کوئی اور ہے جو کھڑے کھڑے مسکرا رہا ہے
جو کرنا چاہو تو بند کرلو کواڑ سارے بھی کھڑکیاں بھی
گلی کا بھی کچھ خیال رکھنا کوئی جنازہ بھی جا رہا ہے
نہ اِس نے نوچا نہ اُس نے نوچا وجود پھر بھی لہو لہو ہے
کوئی تو ہے وہ حرام زادہ جو تجھ کو اندر سے کھا رہا ہے

34
رُخِ خوباں بھی آخر ایک دن تو ڈھل ہی جائے گا
کہاں روکے رکے گا بالیقیں وہ دن بھی آئے گا
سبھی عیش و نشاط و دل لگی بس چندے مہماں ہیں
یہ ایسا بحر ہے جسمیں سفینہ ڈُوب جائے گا
تہہ و بالا کرے گا محفلِ دنیا کی رنگینی
پھر اسکے بعد بھی وہ اک نئی بستی بسائے گا

18
دیکھ کر نمبر مرا اس نے کنارہ کر لیا
دیکھا جائے گا کبھی کہہ کر گوارا کر لیا
جتنا جی چاہو چھپاؤ پردہ داری میں رہو
زاویوں کی اوٹ میں ہم نے نظارہ کر لیا
روٹیاں تھیں تین جبکہ کھانے والے چار تھے
بیٹا مَیں بھُوکی نہیں ماں نے گوارا کر لیا

31
وہی غم جو تیرے فراق میں غمِ دو جہاں سے گزر گیا
اسے اب بھی مجھ پہ ملال ہے کیوں نہ آسماں سے گزر گیا
شبِ وصل عینِ مراد تھی پہ کیا کریں کہ گزر گئی
اسے کیا خبر کوئی رات بھر ترے درمیاں سے گزر گیا
کیا ہے ہجرو وصل کی داستاں کہ بیاں کروں تو نِرا زیاں
یہاں ایسا کرب ہے جانِ جاں جو ترے گماں سے گزر گیا

51
یہ قبر کا منظر ہے قیامت کی گھڑی ہے
کھول آنکھ ذرا دیکھ تری مَوت کھڑی ہے
سب چھوڑ کے جانا ہے اکیلے ہی یہاں سے
ہر شے جو بنائی تھی یہیں مردہ پڑی ہے
کوشش تو بہت کی ہے ترے جسم نے لیکن
ہر سانس تری مَوت سے تا دیر لڑی ہے

0
22
اگر زُلفوں کے پیچ و تاب کا سامان ہو جائے
تو شاید زندگی کا درد بھی آسان ہو جائے
فقیرِ بے نشیں بیٹھا ہؤا ہے تیری چَوکھٹ پر
کبھی تو اس کا بھی پُورا کوئی ارمان ہو جائے
نہ بیڑی کے لئے پیسہ نہ روٹی کے لئے آٹا
کہیں ایسا نہ ہو پھرحشر کا چالان ہو جائے

0
38
لڑ کھڑائی رات تو دن کو پسینہ آ گیا
آ پ آ پہنچے تو ساون کا مہینہ آگیا
مے کشو ساقی کے اندازِ تکلّم پر نہیں
جام اس کا ہے جسے محفل میں پینا آگیا
عشق کی وادی میں عقل و خرد کی بے چارگی
حُسن کی محفل میں جینے کا قرینہ آگیا

0
28
زہر میں بجھتی ہوئی بیل ہے دیوار کے پاس
جس طرح نائکہ بیٹھی ہو گنہ گار کے پاس
مجھ سے ملنا ہے تو یہ قید نہیں مجھ کو پسند
ہر ملاقات مقیّد رہے اتوار کے ساتھ
ایک ہی وار میں مرنے سے کہیں بہتر ہے
ایک اک سر کہ جو کٹتا رہے تلوار کے ساتھ

27
غمِ عشق ہی مرا دکھ نہیں کہ اسی پہ عمر گزار دوں
مجھے اور بھی کیٔ کام ہیں سب اسی بلا پہ ہی وار دُوں
یہ اجاڑ چہرے یہ وحشتیں چھپی حسرتیں دبی خواہشیں
کبھی کاش ان میں سے اے خدا کوئی اک ہی چہرہ سنوار دوں
یہی نفرتوں کا کمال ہے کہ محبّتوں پہ زوال ہے
مرے چارہ گر کو جنون ہے جو قبا بچی ہے اتار دوں

0
24
نیرنگئی خیال پہ لفظوں کا پیرہن
فکرِ رسا کی اُپچ پہ یادوں کا بانکپن
وہ شوخیٔ جمال کہ اُٹھتی نہیں نظر
دریا کی تہہ میں جیسے کہ لہریں ہوں مَوجزن
موجِ خرامِ ناز کا قصّہ بیان ہو
راتوں کی چاندنی میں لگے چاند کو گہن

0
16
کل جہاں لوگوں کو میری ہر کہی سستی لگی
اب اسی بستی میں میرے نام کی تختی لگی
زندگی سبکو ہے پیاری الجھنوں کے باوجود
ڈوبنے والوں کو بپھری موج بھی کشتی لگی
بھوک کی شدّت سے بیچارہ مسافر گِر پڑا
دیکھنے والوں کو اسکی اور ہی مستی لگی

0
18
دریا سے اُٹھّ کے موج پھر دریا میں رہ گئی
صحرا کی ریت جیسے کہ صحرا میں رہ گئی
مجھکو غریب جان کے سب ٹوکتے رہے
ہربار میری بات یوں اثنا میں رہ گئی
اُٹھّے ہیں ہاتھ دونوں کے اللہ کے حضور
مفلس کی التجا ہی کیوں اخفا میں رہ گئی

22
بجلیوں کی گونج سے جلنے لگا دہقاں کا من
دور صحرا میں اکیلے قیس کا تپتا بدن
بے ثمر ہونے لگے اجڑے ہوئے سر و سمن
پھر چراغِ لالہ سے روشن ہوئے کوہ و دمن
دیکھ کر آہیں مری جلتا ہے رخ تصویر کا
کر سکے دعویٰ کہاں کوئی مری تنکیر کا

0
54
آؤ پرانے دَور میں جا کر رہیں امید
سب کی سنیں اور اپنی بھی اُن سے کہیں امید
کیوں نا تراش لیں کسی پتھّر سے وہ صنم
روئیں تو اسکی آنکھ سے آنسو بہیں امید
بچّوں کی فیسیں کپڑے کتابیں اداسیاں
تنہائیوں کے زہر بھی آ کر ڈسیں امید

33
ہائے ری قسمت تری تصویر نے دھوکہ دیا
خواب تک تو ٹھیک تھا تعبیر نے دھوکہ دیا
ان اجالوں سے تری قسمت چمکنے کی نہیں
یہ اندھیرے ہیں تجھے تنویر نے دھوکہ دیا
پھول ہی چنتے رہے ماں باپ بچّوں کے لئے
بعد ازاں عقدہ کھلا تقدیر نے دھوکہ دیا

19
رندوں کی محفلوں سے اگر مجتنب رہا
پیرانِ باصفا میں بھی مقبول کب رہا
دیکھا اسے ہر ایک نے مُٹھّی میں کچھ لئے
پوچھا نہیں کسی نے کبھی کیا سبب رہا
اُٹھّو کہ وقت لے رہا ہے تازہ کروٹیں
جاگو زمانہ وقت کا محتاج کب رہا

33
دست و بازو کہیں سر کہیں دھر گئے
کتنی ماؤں کے لختِ جگر مر گئے
پورے شہرِ پشاور پہ اک نُور ہے
سیّد ا لا نبیا آج گھر گھر گئے
ننّھی خولہ کو کیسے مناصب ملے
بابِ جنّت پہ لینے ابوذر گئے

29
عشق کی پُر پیچ راہوں پر عجب عنواں پڑھے
قربتیں اتنی نہیں تھیں فاصلے جتنے بڑھے
دل کے آئینے میں یوں پیوست ہے تصویرِ یار
جس طرح تسبیح کے دانوں میں ہوں موتی جڑے
مجھ کو بھی دھوکہ سرابِ ریت نے ایسا دیا
جیسے محبُوبہ سے دھوکہ کر گئے کچّے گھڑے

0
20
نظریں جھکی ہوئی ہیں پہلو بدل رہے ہیں
میرا گماں ہے ان کے ارماں مچل رہے ہیں
ساقی نے میکدے میں کیا ایسی بات کہہ دی
بے ہوش سونے والے اٹھ کر سنبھل رہے ہیں
ماں باپ کی وراثت بچّوں نے مِل کے بانٹی
وہ چل بسے ہیں مرتے یہ مرتے چل رہے ہیں

0
47
اُٹھتی ہوئی ساون کی گھٹا دیکھ رہا ہوں
چڑھتے ہوئے بادل کا نشہ دیکھ رہا ہوں
سورج کی تمازت نے کئے گال گلابی
لیتا رہا خورشید مزا دیکھ رہا ہوں
چھُپتے رہو دنیا کی فسوں ساز نظر سے
کیا اس نے کہاتُم نے سنا دیکھ رہا ہوں

0
34
کچھ روبرو تو کچھ پسِ دیوار کر گئے
جو کام کوئی کر نہ سکا یار کر گئے
وہ خیر جس سے پارسا نا آشنا رہے
کرنے پہ آگئے تو گنہ گار کر گئے
بولی لگی تو سارے سرِ عام بِک گئے
جو با ضمیر تھے وہ سرِ دار کر گئے

0
23
مقصُودِ تمنّا ہے کہ آشفتہ سری ہے
ہر راہ گزر درد کے کانٹوں سے بھری ہے
تم نےمجھے چھوڑا نہ کبھی مَیں ہؤا بد دل
حالات کی گردش میں نصیبوں کی بلی ہے
پیرانِ حرم بر سرِ پیکار ہیں باہم
اس شہر میں نفرت کی عجب رسم چلی ہے

33
کیا پوچھتے ہو حال دلِ خستہ زار کے
دیکھی ہے مَوت زندگی کے دن گزار کے
وہ نازشِ دوام کہ خِیرہ ہوئی نگاہ
دیکھا ہے ان کو خواب میں نذریں اتار کے
گر مل گئے تو پھیر لی نفرت سے چشمِ ناز
تدفین پر دکھاوے کو بوسے مزار کے

0
25
روٹھنا چاہو تو اب ہرگز منانے کا نہیں
دل کو قائل کر لیا آنسو بہانے کا نہیں
راستے دھندلا گئے ہیں روشنی والو سنو
وعدہ جلنے کا کیا تھا ٹمٹمانے کا نہیں
کشتیاں گرداب میں ہیں ناخدا ناراض ہیں
آسمانوں سے کہو بجلی گرانے کا نہیں

21
تھم ذرا وقتِ اجَل دیدارِ جاں ہونے لگا
آخری ہچکی پہ کوئی مہرباں ہونے لگا
کس ستم گر نے اڑا لی یاد ماضی کی بیاض
ہر گلی ہر موڑ پر قصہ بیاں ہونے لگا
جانے کس گل نے چمن کی حرمتیں پامال کیں
موسمِ فصلِ بہاراں بھی خزاں ہونے لگا

23
جب تک سکُوتِ لالہ و گُل پر نظر رہی
دنیائے رنگ و بُو سے مری آنکھ تر رہی
اس زندگی کا کیا ہے گزر جائے گی کبھی
گزری سکون سے تو کبھی دربدر رہی
نوچی گئی ہیں راہوں پہ سب دُخترانِ قوم
پھر اشتہائے ظُلم و زنا رات بھر رہی

0
26
کئی دنوں سے مرے تخیّل میں ایک چہرہ ہی آ رہا ہے
یہ تُو نہیں کوئی اور ہے جو کھڑے کھڑے مسکرا رہا ہے
جو کرنا چاہو تو بند کرلو کواڑ سارے بھی کھڑکیاں بھی
مگر گلی کا دھیان رکھنا کوئی جنازہ بھی جا رہا ہے
نہ اِس نے نوچا نہ اُس نے نوچا وجود پھر بھی لہو لہو ہے
کوئی تو ہے وہ حرام زادہ جو تجھ کو اندر سے کھا رہا ہےُُُ

0
28
کوئے بتاں میں زندگی کی شام ڈھل گیٔ
رستہ شروع ہؤا نہ تھا منزل نکل گئی
یادوں کے پیرہن کو مقفّل کیا مگر
تیری گلی میں جب بھی گئی سر کے بل گئی
پیشہ ورانِ علم سے اکتا چکا تھا مَیں
اقبال کے حضور طبیعت سنبھل گئی

0
21
یہ سب کی تیرہ بختی تھی جو تُم سرکار بن بیٹھے
جو سارے چور ڈاکو تھے وہ پہرے دار بن بیٹھے
قیامت ہے کہ جن کو فرقِ بَّر اور بِرّ نہیں آتا
وہ اب اپنے مریدوں میں شہہِ ابرار بن بیٹھے
مرا مدّمقابل مجھ پہ سبقت لے گیا آخر
کہ میرے ہم نشیں اس کے رفیقِ کار بن بیٹھے

39